جمعرات، 16 جولائی، 2020

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں؟

باسمہ تعالی

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں ؟

ازقلم:  محمد طاسین ندوی
ڈاکٹر کفیل خان بھی ہمارے ہی طرح ایک بشر ہیں انہوں نےاپنی زندگی کی مختلف بہاریں دیکھی، مخلتف ادوارگزارے، کبھی خوشیاں نے قدم بوسی کی تو کبھی مصائب و آلام نے ستایا ،کبھی جہد پیہم کے پیکر ہوکر عرق میں ڈوبے ہوئے پائے گئے،تو کبھی سیلاب زدگان کے علاج و معالجہ کی فکر نے ان کی نیند اڑادی، کبھی صوبۂ بہار جاکر ہندوستانی پیر و جوان بچے و بچیاں، ان پڑھ اور تعلیم یافتہ کی داد رسی کی ،تو کبھی گورکھپور کے  ہاسپیٹل میں دم توڑتی انسانیت کو اپنے نحیف و ناتواں کندھے سے سہارا دیا اور سسکتی بلکتی ماؤں کو دلاسہ دیا اور ان کے بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کیا یہان تک کہ اپنی کار پر آکسیجن کے سیلینڈر لاد لاد کر لائے اور ان بے گناہ، معصوم، نونہالوں کی جان بچانے کی فکر میں سر گرداں و پریشان رہے، اورجب ہندوستانی کی بی جے پی حکومت نے CAA,NRC,NPRجیساکالا و زہریلا قانون لاکر  اپنا پھن پھیلایا تو اس پھن کو توڑنے کی کوشش تقریبا ہندوستان کی ساری جنتا نے کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ساز چھیڑا اور پورے ہندوستان نے یہ باور کروایا کہ ابھی بھی زندہ دل افراد باقی ہیں جنہیں سکون اس وقت ملتا ہے جب قوم و ملت کو سکون میسر ہو ،ادھر مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ  کے اسٹوڈینٹ یونین نے اس کالے قانون کے خلاف اپنا جمہوری حق کا استعمال کیا تو جناب ڈاکٹر کفیل خان- جن کی زندگی امن و امان، غریبوں کی فکر، بچوں کے علاج و معالجہ،  رفاہی سرگرمیاں اور دیگر کام سے عبارت ہے - انہوں نے بھی اس کالے قانون کی بھر پور مذمت و مخالفت کی اور انہوں نے ملک و دیس کے خلاف کوئی نفرت و ہنسا کی بات بالکل نہیں کیابلکہ اپنا جمہوری حق کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کا  اس کے باوجود وہ پس  زندان کئے گئے جہاں  اپنی زندگی کے شب و روز بہت ہی تکلیف و پریشانی کے عالم میں گزار رہے ہیں ایسا اسلئے ہواکہ یوگی حکومت ان پر شکنجہ سخت کرنے کے تگ ودو میں ہر لمحہ وہر آن کوشاں تھی.جبکہ اس حادثہ جانکاہ سے پہلے بھی انہیں پس زنداں کیا گیا تھا یوگی جیسی بدمعاش، بدباطن،بدخصلت وبدطینت حکومت کی وجہ سے دوبارہ انہیں پھر جیل میں ڈالا گیا اور جب عدالت کی شنوائی کے بعد ان کو ضمانت ملی تو اس ناپاک اور خبیث حکومت نے سخت ترین دفعہ لگا کر انہیں  یاس و قنوطیت کا دوبارہ شکار کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن واہ  رے مرد قلندر ڈاکٹر کفیل خان، اللہ  تمہیں خوب ہمت وحوصلہ  دے،  مرد خرد مند نے جیل سے ایک پیغام عام کیا  جس میں لکھا کہ جیل میں انہیں کن چیزوں کا سامنا ہے، کیا فیس کرنا پڑرہا ہے، انہوں نے یہ بھی لکھا کہ  کیا ڈاکٹر کفیل خان ایک کمزور طبیعت کا بزدل انسان ہے جو خودکشی کرلیگا یا راز کچھ اور ہے . انہوں نے ان دو چند صفحات پر جیل کے حالت زار کے ساتھ یہ بھی تحریر کیا ہیکہ انہیں خدشہ ہیکہ  ان کا انکاؤنٹر کردیا جائے ،اور راقم کو  یوگی سرکار کی نیت پر شک ہے کیونکہ کتنے ایسے بے گناہ یا جو سرکار کی قلعی کھولنے والے ہوں ان کو صفحۂ ہستی سے چلتا کیاجا چکا ہے ابھی حالیا واقعہ وکاس دوبے کانپور والا سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں ایسا کھیل کھلاگیا.
قارئین کرام: ہمیں  اچھی طرح واقفیت ہیکہ ڈاکٹر کفیل خان نہ تو کوئی دہشت گرد ہیں اور نا ہی ڈکٹیٹ و لٹیرے بلکہ وہ ایک بری،  بے گناہ اور غریب و فقیر انسانوں کے مسیحا, داد رس،  جس مسیحائی وداد رسی  کے پاداش میں بطور صلہ کے انہیں جیل کی کال کوٹھری ملی ہے، کیا ہم حضرت انسان انہیں یونہی چھوڑدیں یا اس ظلم و سفاکیت و بربریت مرکزی و یوگی حکومت کے خلاف آوز حق بلند کرکہ انہیں حق و انصاف دلائیں ، کیونکہ یہ ظلم و ستم صرف ڈاکٹر کفیل خان پر نہیں بلکہ پوری انسانی برادری پر کیا جارہا ہے حق بولنے والوں کے گلے کو گھونٹنے کی پالیساں ایوان میں بیٹھنے والے بنارہے ہیں کیا اس کے اس پالیسی کا پردہ چاک نہیں کیاجائےگا؟ ہاں بالکل کیا جائےگا، تو اب ضروت ہے اس بات کی کہ ہم بلاتفریق دین و ملت، مذہب و مسلک،جوان و پیر سمبیدھان کے حدود میں رہ کر ڈاکٹر کفیل اور ان جیسے بےشمار بے گناہ اور سجن لوگوں کی رہائی کے لئے اپنی طاقت بھر بستی بستی، قصبہ قصبہ  بھر پور انداز میں جمہوری حق کو ملحوظ رکھتے ہوئے آواز بلند کریں کہ ایوان بالا اور یوگی حکومت لرزہ بر اندام ہوجائے اور ان بے گناہوں کو رہا کرنا ہی پڑے پھر اس حکومت کی عقل ٹھکانےپر آئے گی اور سمجھے گی کے عوام اور جمہور کیا چیز ہے.
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ اللہ ڈاکٹر کفیل خان اور ان جیسے بے شمار انسان جو پس زنداں ہیں ان کے گلوخلاصی کا سبیل نکال دے جو انسانی برادری ان کے لئے دعائیں کررہے ہیں ان کو قبول کرلے،  کیونکہ تیری ہی ذات عالی صفات ہر چیز پر قادر ہے.وما توفیقی الا باللہ

بدھ، 15 جولائی، 2020

رسم جہیز اور ہمارا معاشرہ

رسم جہیز اور        ہمارا معاشرہ        
 محمد طاسین ندوی
جس سماج میں ہم نے پروش پائی ہے، رہتے, بستے ہیں وہ یقینا ایک محترم، معزر، عظیم،مجتمع اور سماج ہے اللہ نے دین اسلام کے پیرو کار ہی کو دنیا کی اعلی و ادنی، بیش بہا و ارزاں ہر چیز سے مہتم بالشان ، معزز،محترم بناکر اس دنیاء آب و گل میں وجود بخشا اور کھرا و کھوٹا،حق وباطل،جائزومباح،حرام و حلال کے بارے میں بہت ہی ارفع و اعلی دستور سے نوزا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما : كتاب الله وسنتي " رواه مالك 
 میں نے تمہارے مابین دوچیزیں چھوڑی ہیں تم ان دونوں کو تھامے رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے. وہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور احادیث رسول مجتبی ہیں ,ہاں اگر اس اصول نبوی کو بھلادیاجائیگا،احادیث کی کتابوں میں ہی بند کردیا جائیگا تو یقینا وہ ساری کمیاں، خرابیاں،بگاڑ،بدامنی،ہمارے سماج،مجتمع،ومعاشرے میں لاعلاج بیماریاں کی طرح عریاں اپنی بزم سجائیں گی ،نہ جانے کتنے لوگ اس کے لقمۂ تر ہوجائیں گے، 
کیونکہ نکاح انسانی فطرت کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے  سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر اس جائز طریقے پر رکاوٹیں عائد کی  جائیں روڑے اٹکائے جائیں یا اس کو مشکل بنایا جائے تو  اس کا  لازمی نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے  جائز راستے مسدود  پائے گا تو اس کے دل میں ناجائز راستوں کی طلب پیدا ہوگی،  جو انجام  کار معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بنے گی حدیث رسول ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا‘‘رواہ الترمذی
 اور ہم بحیثیت ایک مثقف و مھذب، تعلیم یافتہ و عالم فرمان رسول فرد کے مجتمع بھی اس لاعلاج بیماری سے بچ سکیں گے ؟ذہن میں ضرور سوال پیدا ہورہا ہوگا وہ بیماری ہے کونسی، اور کیسی تو صرف طائرانہ نظر ڈالیں اپنا جاں بلب معاشرہ پر، سسکتی بلکتی والدین پر جن کے گھروں میں صنف نازک ہیں کیا پوزیشن ہیں ایسے افراد مجتمع کی، اگر صاحب ثروت ہیں اور ان کے پاس بیٹاں ہیں تو وہ کیا کچھ نہیں دیتے اپنے ہونے والے داماد کو اور اگر ایک غریب و لاچار فرد جس کے پاس بیٹاں ہیں وہ کیا کرے اپنی ساری جائداد جو بہت مختصر ہوتی ہیں ان ناعاقبت اندیش بھیکھاری پر بھینٹ چڑھادے یا شادی کے بعد مفلوک الحال، محتاج و درماندہ ہوکر کاسئہ گدائی لیے اپنے بچوں کی پروش و پرداخت، تعلیم و تعلم کے لئے چندہ بٹورے.   ہم تو یہ ضرور کہیں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن کیا ہماری اس بول سے یا اتنا کہ دینے سے یہ بدامنی ختم ہوجائیگی؟ نہیں ہرگز نہیں.  اور یہ  یاد رکھئیے! صاحب ثروت ہوں یا فقیرو مسکین اپنے ہونے والے داماد کو یونہی نہیں دیتے بلکہ یہ بھیکاری سمدھی،  داماد ،یا ان کے متعلقین مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے یہ یہ سامان تعیش چاہئیے، اتنے مال و زر چاہئیے پھر جاکر رشتہ پکا ہوگا،اورجب اس طرح کے بھیک منگے کی مانگ پوری نہیں ہوتی یا کچھ کسررہ جاتی ہے تو اس وجہ سےیا تو رشتہ نہ ہو پاتا ہے اگر ہوگیا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے اخباروں کی یہ خبرسرخیاں بنی رہتی ہے کہ فلاں نےاپنی بیوی فلانۃ کوصرف گاڑی یا بھرپورجہیزنہ ملنےپر قتل کردیا،اوراس بےچاری کو ان کےسسرال والوں نےمار پیٹ کر بدحال کردیا تو کہیں آگ میں جلادیا. روزمرہ  اس طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں ،کتنی پشیمانی کی بات ہے کیا یہی شادی و نکاح ہے جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ہے "إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة" رواه النسائي ٩٢٢٩
سب سے عمدہ بہتر نکاح برکت کے اعتباروہ جو اسراف ابذار سے پاک ہو  
جن رسموں سے ہمارامعاشرہ دوچار ہے اسکی شریعت میں کوئی نظیر و دلیل نہیں بلکہ 
اس معاشرہ کو جہنم بنانے والے، شادیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنادینے والے ڈکیٹ، اچکے ،بدمعاش نےکبھی یہ سوچا کہ اگر ہم نے جہیز کے لئے دست درازی کیا تو معاشرہ کہاں تک بدحال ہوگا، نہیں بالکل نہیں اگر یہ دوسروں کے ٹکڑے پرجینے والے، دست سوال دراز کرنے والے ناسور، بھیگ منگے   اپنے بارے میں بھی سوچا ہوتا تو معاشرہ کی بیٹاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کی اکثر دہائیاں یونہی نہ بتاتیں.  ایک  بڑا المیہ یہ کہ جاہل و ان پڑھ تو درکنار اب علماء دین،مفتیان شرع متین، مدعیان عالمِ قرآن وحدیث  بھی ان کے سُر میں سُر اور تال میں تال ملانے کی جہد میں سرگرادں و حیراں ہیں پیشکش کرتے ہیں کہ اگر فلاں ابن فلاں جو کہ ڈاکٹر،انجنئیر،بزنس مین ہے ہمارے جگر پارہ سے شادی کریگا تو فلاں فلاں گراں قدر سامان کے ساتھ ساتھ فور ولیر گاڑی میں ھدیہ کرونگا. افسوس صد افسوس ہے ایسے مدعیان علوم نبوت پر کہ آخر سماج کو قعر مذلت تک ڈھکیلنے اور شادیاں جو بالکل آسان تھی سخت ترین بنانے میں ان پڑھ بھیکاری اور ہم علماء بھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں. ہمیں بھی بس اتنی فکر ہوتی ہیکہ کسی طرح میری بیٹی و جگر پارہ کا مناسب اور عمدہ رشتہ لگے اچھی جگہ شادی ہوجائے جو دینا لینا ہوگا دیکھا کر یا چھپا کر کیا جائیگا.
قارئین کرام!  کیا یہی دین پسند اور دیندار لوگوں کا طرہ امتیاز ہیکہ سماج اور سوسائٹی کے افراد کا رخ جہیز کے طرف کریں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارا شیوہ ہی
یہ ہوکہ  اس کے رخ موڑنے کی بھر پور کوشش کریں اور ایسی شادیاں جس میں شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط روندے جارہے ہوں اسکا بائیکاٹ کریں لوگوں کو سمجھائیں دین کی تعلیم عام کریں اور شادی جو آج کل بہت ہی بھاری بھرکم چیز بن گئی ہے اسے آسان بنانے کی سعئ پیہم کریں کیونکہ یہی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علماء وارثین انبیاء ہیں ان حضرات نے جو اعمال و افعال انجام دیے اب ان کی ساری ذمہ داری ہمارے ناتواں اور نحیف ولاغر کاندھے پر ہیں اگر ہم نے درست و صحیح باتوں کی ترویج کیا, لوگوں تک پہنچانے کی جتن کی تو ہم کامیاب ہیں ورنہ ہم بھی مجرموں کی فہرست سے باہر نہیں ہوسکیں گے.
اللہ تعالی ہمیں جہیز جو ایک ہندوانہ اور جاہلانہ رسم اور رشوت جیسی لعنت اس سے دور رکھے، معاشرہ و سماج کو بھی اس ناسور سے نجات دے، حفاظت فرمائے تاکہ نکاح وشادی آسان ہوسکے. وماذلک علی اللہ بعزیز.

بدھ، 8 جولائی، 2020

कादियानियत को पिडा र सोझो पहाडी मुस्लिम

 कादियानियत को पिडा र सोझो पहाडी
मुस्लिम
        लेखक : मोहम्मद तासीन नदवी
अनुवादक: मोहम्मद मुजाहिदुल ईस्लाम नदवी 
एकातिर नेपाल यस समय धेरै समस्याहरूको सामना गरिरहेको छ भने अर्को तिर नेपालको पहाडी मुस्लिमहरु कादियानिहरुबाट पिडीत छन् ।  हो, उही कादियानि जो ईस्लामबाट पुर््ण रुुपमा बाहिर छ ।किनकि उनले मिर््जा गुलाम अहमद कादयानिलाई नबी मान्दछन  जबकि इस्लामिक कानूनले त्यस्तो समूहलाई इस्लामबाट बाहिर घोषणा गरेको छ। यस पहाडमा बसोबास मुस्लिम हरु लाई भ्रममा पार्ने र उनीहरूबाट इस्लामको अमुल्य  गहना खोस्ने प्रयास गरेेेको छ।  के त्यहाँ कुनै अहले-ए-सुन्नत र जमात इकाई, केन्द्र, समाज, एकेडेमी, जमीयत,  लगायत युवाहरु ले यसलाई गम्भीर रुपमा हेर्ने छैनन्?
हो ! यदि हाम्रो भित्र आस्था  (ईमान), जसमा खिया लागी लागेको छ, पुनः पालिश गरियोस्  भने यो सम्भव छ, अन्यथा, हामी खत्तमे नबुवतको (अन्तिम सन्देेशटा)  सुरक्षाको गीत गाउनेछौं तर के हामी यसमा सफल हुन सक्छौ त ?
हामी सबैको हृदयले भन्नेछ, "यदि हामीले आफैंको ख्याल गर्न सकेन भने अर्को  मानवहरुको कसरी हेरचाह गर्न सक्छिन् ? अल्लाहले हामीलाई यस्तो सम्मान र श्रेष्ठता प्रदान गर्नुभयो जुन असाधारण छैन।"  तर हामी ती हौं जसले हाम्रो आफ्नै गौरव, सम्मान र मर्यादालाई आफ्नै हातले काटिदिएका छौं। हाम्रा नवजात शिशु, युवा र बुढाले आफूलाई कहाँ सम्म इस्लामको गहनाले सुशोभित गरेका छन् कि कादियानवाद भनेको के हो? हामी जस्तै  सेतो पोषाक लगाउने उही अज्ञानता र उदासीनताको कारण आज कादियानियाले आफ्नो खुट्टा मुस्लिममा परिणत गरेका छन भने भोलि यसका प्रतिनिधिहरू राजनीति सभामा देख्न सकिन्छ, र किन छैन?  उन्ले मिहिनेत गरियो, कोरियो, जलाइयो, मर्मत गरियो र त्यसपछि उसले यो गलत झल्काउन सक्षम भयो कि यदि आज छैन भने भोली उसले हामीलाई प्रस्तुत गर्नेछ र हामी अहले-ए-सुन्नत र जमात घुमन्ते भएका छौ। घरेलु कलहले मलाई छोड्दैन।  नक्कल, नक्कलको पर्दामा हामी आफैंलाई यस्तै ढाल्यौं कि इस्लाम धर्मले पनि हामीलाई त्यागेको जस्तो देखिन्छ। كل حزب بما لديهم فرحين  "हामी माथी एक सय प्रतिशत फिट देखिन्छ , त्यसैले हामीले इस्लामको शिक्षामा बढी ध्यान दिनु आवश्यक छ र अल्लाहको  वचनको वाहक हुनु पर्छ।"
प्रिय पाठकहरु!  अल्लाह सर्वशक्तिमानले हामीलाई  मार्गगदर्शक समुुदायको रूपमा पठाएको छ। अहिलेसम्म हामीले आफ्नो  बारेमा सोचेको पनि छैनौं,  कसरी कालो  रातमा भट्किएक मानवतालाई सहयोग गर्र्छौ त? हामीसँग कहिले सोच्ने बुद्धि हुन्छ कि हामी आँफु संगै मुुस्लिमहरुु जस्ललाई मिठो सपना देखााएर धनको लोभ दिएर इस्लाम धर्मबाट अलग पारिएको छ र ट्रेडमार्कमा यो राखिएको छ कि हामी सही मार्गमा छौ र बाँकी मानिसहरु काँढा र बाँझो भएका छन्।  त्यहाँ मरुभूमिमा खुट्टा तापिरहेका छन्।  अल्लाहको सामुन्ने   के जवाफ दिने होला र? हामी लज्जित हुनेछैनौं, तब सर्वशक्तिमान्‌को आदेश कार्यान्वयन हुनेछ।
हाम्रो धर्म र मुस्लिम मानवताको बचाउ र संरक्षणको बारेमा सोच्न अहिले पनि समय छ। हाम्रो प्यारा मातृभूमिमा बसोबास गर्नेहरू आफ्नो भोकापनको कारण कादियानवादको सिकार भइरहेका छन्, तिनीहरूले आफ्नो धर्मको समर्थन गर्नुपर्दछ र आफ्नो आस्थाको रक्षा गर्नुपर्दछ।   र यो समयको आवश्यकता छ।
अल्लाह मेरो ईमान र मुसलमानहरुको ईमान को रक्षा गर्नुस् र कदियानि को टाउको कुचोल्नुस जो फेरि आफ्नो टाउको उठाइरहेछ।आमीन .ذلك على الله يسير

منگل، 7 جولائی، 2020

حالات حاضرہ اور مسلمان

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
حالات حاضرہ اور مسلمان 
تحریر : عبداللہ ندوی
حضرات قارئین کرام!  آج مسلمانان عالم گوناگوں مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں، نت نئے بےشمار مصائب و آلام میں گھرے ہوئے ہیں، پے در پے  مسائل و مشکلات نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی ہے ان کو شکست و ریخت میں مبتلا کر دیا ہے، لیڈران قوم کی متعصبانہ ذہنیت، جانبدارانہ سیاست، گندی پالیسیاں، فرقہ پرستانہ فیصلے، و فرقہ بندیاں نے مسلمانوں کو اندر سے نہایت ہی خستہ،کمزور، اور کھوکھلا کر دیا ہے، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے، اتحاد و اتفاق، یکجہتی واتحاد، مودت و محبت، خلوص و اپنائیت، عدل و انصاف کا خون کردیا گیا ہے، خود غرضی، عیش پرستی،ہوس رانی اور دنیا طلبی نے ایسا ڈیرہ جمالیا ہے کہ ہر آن، ہرلحظہ, ہرلمحہ ایک کو دو اور دو کو چار کرنے کی کوشش اور فکر دامنگیر رہتی ہے، نہایت ہی کم مدت میں ڈھیر ساری دولت دنیا حاصل کرنے اور سمیٹنے کی حرص، طمع،آز اور لالچ حد سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، راتوں رات غربت و افلاس کی دنیا سے باہر نکل کر امیری کے خواب سجانے میں مست ہیں، جائز وناجائز کا جنازہ اٹھ گیا ہے چند دنوان میں اچھی خاصی دولت سے مالا مال ہو کر سماج و معاشرہ میں ظالم و جابر کی دبیز چادر زیب تن کرلیتے ہیں الغرض یہ کہ قلیل عرصہ میں دنیا کے امیر ترین شخص کی فہرست میں شامل ہو نے جاتے ہیں . چاہے  طریقہ کار جو بھی ہو، تڑپتی، بلکتی، سسکتی، جاں بلب، سوختہ، شکستہ خاطر انسانیت سے انہیں دور دور تک کوئی واسطہ اور سروکار نہیں،اور ان کا یہ نعرہ مستانہ ہوتا ہے ,ہمیں کسی سے کوئی مطلب نہیں، ہمیں مطلب ہے تو صرف اور صرف اپنی ذات سے اور داد عیش سے اسی لئے" بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست " کا منظر اور مظہر انکی  زندگی سے جھلکتا نظر آرہا ہے، یہی وہ مرض و گھن ہیکہ ہم  کثرت کے باوجود دنیا کے ہر خطے، ہر گوشے اور ہر میدان میں حیران و پریشان ہیں،ششدر و درماندہ اپنی حیثیت و وقعت کھو چکے ہیں، غلامی، پستی، اور رذالیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، حالانکہ اللہ تعالٰی نے مسلم قوم کو بے انتہا مال و دولت، بےشمار قیمتی اور نایاب خزانوں, بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، باوجود اسکے ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا، حقیر اور کمتر بن چکے ہیں، ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی ہر ممکن کوششیں ہو رہی ہیں، باطل فرقہ پرست اور طاغوتی طاقتیں پھن پھیلائے بیٹھے ہوئے ہیں، ساری دنیا کو چھوڑیں ہم اپنے ملک، سماج، سوسائٹی، اور معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائیگی کہ ہمارے ہی درمیان بھیڑیا صفت کچھ ایسے لوگ رہتے بستے ہیں جن کی داداگیری اور ظلم و جبر  سے انسانیت تڑپتی اور کراہتی نظر آرہی ہے ، اخوت و مساوات کا گلا گھونٹا جارہا ہے، آہ و بکاء ,نالہ وفریاد، کرب و اضطراب سے پورا ماحول و معاشرہ مکدر ہوچکاہے، انسانیت ہانپتی اور دم توڑتی نظر آ رہی ہے ، عدل و انصاف کا خون ہو رہا ہے ، مختصریہ کہ معاشرے کا سارا نظام درہم برہم ہوتا نظر آ رہا ہے ، جو قوم تعلیمات نبوی سے دور اور جس قوم میں مفاد پرستی، خود غرضی، مطلب پرستی، اور دنیا طلبی کا مرض پیدا ہو جائے یقینا وہ قوم نکمی اور کمزور ہو جاتی ہے، اس کے اقبال کا ستارہ غروب ہوجاتا ہے، اس کا ڈوبنا اور زوال مقدر ہو جاتا ہے، 
اور پوری انسانیت بے بسی، بے چینی، اور درد و الم کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، طاقتور اور صاحب اقتدار غریبوں، بیکسوں، کمزورں،اور محتاجوں کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے، اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے ساتھ ظلم و ستم، جبر و قہر، اور بربریت نہایت ہی قبیح، دلدوز، دلخراش اور قابل مذمت اقدام ہے، اور یہ جاہلانہ و احمقانہ حرکت انسان عام طور پر ہوس پرستی اور سیم و زر کی پوجا کی وجہ سے کرتا ہے، اور دولت و اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر ایسی غلیظ حرکتیں کر بیٹھتا ہے جس سے ساری انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے، اسوقت ضرورت ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسے صاحب اقتدار اور صاحب ثروت کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ وہ ان گھنونے اور انسانیت سوز مظالم سے باز آجائیں، اور تڑپتی، کراہتی، سسکتی انسانیت کو راحت و آرام میسر ہو جائے،
 دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کی حفاظت فرمائے اور راہ راست پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔07 جولائی 2020

ہفتہ، 4 جولائی، 2020

فتنئہ قادیانیت اور سادہ لوح پہاڑی مسلمان

               
                     بسم اللہ الرحمن الرحیم
      فتنئہ قادیانیت اورسادہ لوح پہاڑی مسلمان    ¤∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽¤ 
               از قلم:  محمد طاسین ندوی
چھوٹا سے جمہوری ملک نیپال اسوقت جہاں بہت ساری پریشانیوں سے دوچار ہے وہیں نیپال کے اسوقت  پہاڑی مسلمان فتنئہ قادیانیت سے نبرد آزما ہے ،ہاں وہی قادیانیت جو ملت اسلامیہ سے بالکلیہ خارج ہے کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی قرار دینے والا بزعم خود ایک مسلم جماعت ہے جبکہ شریعت اسلامیہ نے ایسی جماعت کو خارج از ملت اسلامیہ قراد دیا ہے ،پہاڑ میں رہنے بسنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور ان سے زیور اسلام کو چھین لینے کی کوشش اور تگ ودو میں شب و روز گزار کرنے والی یہ ناعاقبت اندیش جماعت کا کیا کوئی اہلسنت والجماعت کی  یونٹ،مرکز،سوسائٹی،اکیڈمی،جمعیت،الغرض مسلم نوجوان خبر لینے والے نہیں؟ ہاں !
اگر ہمارے اندر کا ایمان جو زنگ آلود ہوگیا ہے دوبارہ صیقل ہوجائے تو یہ ممکن ہے ورنہ تحفظ ختم نبوت کا راگ تو ہم ضرور الاپیں گے لیکن کیا ہم اس میں کامیاب ہیں ؟
تو ہم میں سے ہر فرد و بشر کا دل یہ ضرور کہے گا کہ تم نے اپنی فکر بھی نہ کی تو اپنے دوسرے برادران کی کیونکر کرو، اللہ تعالی نے ہمیں ایسی سر بلندی اور برتری عطاء کیا ہے جس کی نظیر نادر ہی نہیں نایاب ہے لیکن ہم ہیں کے اپنی ساری شان و شوکت،عزت و ناموس،رعب و داب کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا ہے، ہمارے نونہالان، جوان وپیر نے کہاں تک دین اسلام کے زیور تعلیم سے اپنےکو آراستہ و پیراستہ کیا ہیکہ وہ سمجھیں قادیانیت ہے کیا.اسی جہالت اور ہم سفید پوش باریش مولویان عظام کی بے اعتنائی کیوجہ سے  آج قادیانیت نے اپنے پاؤں کو مسلم روپ دھار کر ایسا جمایا ہیکہ کل اس کے نمائندے اور ممثل ایوان سیاست میں بھی نظر آسکتے ہیں ، اور ایسا کیوں نہ ہو اس نے اپنے کو تپایا،کھپایا،جلایا،سنواراہے تب جاکر وہ اس قابل ہوسکا کہ آج نہیں تو کل وہ ہماری غلط نمائندگی کرے گا اور ہم اہلسنت و الجماعت کے افراد خانہ بدوش بنے بیٹھے ہیں  خانگی جھگڑے ہی نے ابھی مجھے نہیں چھوڑا ہے مسلک، مذھب،تقلید، عدم تقلید کے دبیز پردے میں ہم نے اپنے کو ایسا لپیٹ رکھا ہیکہ دین اسلام بھی ہم سے رخصت ہوتا نظر آرہا ہے تعصب کی بدبو ایس پھوٹ رہی ہے کہ "کل حزب بمالدیہم فرحین "صد فیصد فٹ نظر آرہا ہے، تو ہمیں چاہیئے کہ اسلام کی تعلیمات کی طرف ازسر نو دھیان دیں اور اعلاء کلمۃ اللہ کا علمبردار بنیں.
قارئین کرام! اللہ تعالی نے ہمیں امت دعوت بنا کر بھیجا ہے اب تک ہمیں اپنی فکر بھی پیدا نہ ہوئی چہ جائیکہ شب دیجور میں بھٹکتے انسانیت کی دستگیری کریں آخر ہماری عقل  کب عقل ہوگی کہ ہم اپنی فکر کے ساتھ ان سادہ لوح انسانوں کی بھی فکر کریں گے جسے  حسین خواب دیکھا کر مال و منال کا لالچ دیکر دین اسلام سے دور کرکہ مسلمانوں کو عریاں کیا جارہا ہے  اور اس کہ اوپر یہ ٹریڈ مارکہ لگایا جارہا ہے کہ ہم ہی حق پرست اور حق پر ہیں باقی سارے لوگ  میدان خار دار اور بےآب و گیاہ ریگستان میں آبلہ پاہورہے ہیں ،
کیا اللہ تعالی کے حضور جب ہم داد عیش دینے والے مسلمانان، علماء،صلحاءاور دانشوران کی  پیشی یوگی  تو ہم سے یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ تمہارے درمیان کفرو شرک الحادو لادینی قادیانیت و عیسائیت اپنا سر ابھارتا نظر آرہا تھا اور تم سارے تعلیمات نبوی کوعمدہ جزدان میں رکھ کر طاق نسیاں کی نذر کرکہ  دنیا طلبی میں سرگرداں و حیراں تھے، تو کیا جواب بن پڑیگا اسوقت ؟یہی نا کہ مارے شرم کے ہم پانی پانی ہونگے ،پھر باری تعالی کا جو حکم ہوگا اسے سر انجام دیا جائیگا.
ابھی بھی وقت ہے اپنی اور مسلم انسانیت کے دین کی بقاء و تحفظ کے بارے میں سوچنے اور فکر لینے کا ہمارے وطن عزیز کے پہاڑی باشندگان سادہ لوحی کی وجہ سے قادیانیت کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں انہیں اپنے دین پر قائم رکھنے اور انکے عقائد کو تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت اور وقت کا اہم تقاضہ ہے .
اللہ تعالی  میرے اور عام مسلمانوں کےایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے اور فتنئہ قادیانیت جو پھر سر اٹھا رہا ہے اس کا سر کچل دے آمین  ..إن ذلك على الله يسير.



جمعرات، 25 جون، 2020

نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار

محمدطاسين ندوی

     نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار 
ازقلم: محمدطاسین ندوی 
انسان جب کسی بھی عمل و فن اورتعلیم کاآغاز کرتاہےتوایسے ماہر، باذوق،باکمال شخصیت کی تلاش کرتا ہے جس سے نونہالان بھر پور استفادہ کرے اور ہر طرح کا گُر اس سے اخذ کرے نیز ایسی شخصیت جس کاانتخاب بچوں کی تعلیم و تربیت، یا فنکاری کے لئے کیا جاتا ہے  وہ استاد کہلاتے ہیں.
استاذ اگر مخلص،نیک دل،محنتی ہوتے ہیں تو اس سے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے بھی  خوش گفتار،خوش کردار، باغیرت،
خوددار،محنتی، ماہر اور اچھے اخلاق کے  حامل ہوتے ہیں کیونکہ اس نیک اور بااخلاق کی مثال اس عطر فروش کی ہے کہ اگر کوئی اس کے پاس جائیگا کچھ نہیں خریدے گا پھر بھی خوشبوہی  لیکرواپس آئیگا.
اگر استاذ ان صفات مذکورہ سے متصف نہیں تو پھر وہ استاذ تو ہوگا لیکن اپنے شاگردان کو اسی سے لیس کرے گا جو وہ دانستہ یا نادانستہ انجام دے رہا ہوگاکیونکہ اکثر چھوٹے اپنے بڑوں کی نقل کرتے ہیں
وقاص اعوان رقمطراز ہیں کہ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے.خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آ جاتے ہیں۔ ایک معمولی سی نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں 
قارئیں کرام! استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنےکو آج  قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے
کسی بھی انسان کے والدین اس
پیدا کرنے کا ذریعہ و توسط  توہیں  لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں  اور اس کی شخصیت کو نکھار نے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔
دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی  ایک عمدہ و مخلص اور مثالی استاذ بنائے آمین یارب العالمین

پیر، 22 جون، 2020

نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت


  بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت 
  تحریر : عبداللہ ندوی 
 ہمارا وطن عزیز نیپال جغرافیائی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے، یہاں کے ہرے بھرے اور گھنے جنگلات، بلند پہاڑ، پوری دنیا میں معروف و مشہور ہے، دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیوں میں سے ماونٹ ایورسٹ ( Mount Everest ) سب سے بلند اور اونچی چوٹی ہے، جو ہمارے وطن عزیز ملک نیپال میں واقع ہے، ملک نیپال میں مختلف نوع نسل و رنگ اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ رہتے بستے ہیں، حالانکہ نیپالی زبان یہاں کی "سرکاری"زبان ہے، یہاں کی اقتصادی اور معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور کمزور ہے، جس وجہ سے یہاں کے اکثر و بیشتر لوگ بیرون ملک سعودی عرب، قطر، دبئی، بحرین، کویت، اسلامی و غیر اسلامی ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں، تاکہ اپنی اقتصادی و معاشی حالات کو بہتر اور مضبوط بناسکیں، مختصر یہ کہ نیپال چند عرصہ قبل تک ایک ہندو "راسٹ" دیش تھا مگر 2008ء کے انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک میں تبدیل ہو گیا، مگر پھر بھی یہاں کے آئین و قوانین میں کوئی خاص ترمیم اور بدلاو نہیں آیا، مسلمانوں کے حقوق و مطالبات جس طرح راجا مہاراجہ کے دور میں پامال ہورہے تھے وہ ہنوز  ابھی بھی بدستور جاری ہے، یہاں بود و باش اختیار کر نے والے مسلمان عموما نا خواندہ و پسماندہ ہیں، جو یہاں کی سرکاری زبان "نیپالی زبان" سے بالکل ناآشنا اور نابلد ہیں، ان کا اپنا کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، معیاری لائبریری، اسلامی سینئر، میڈیا، نیوز چینل کچھ بھی تو دستیاب نہیں جن سے ان کی اولادیں خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کر سکیں اور نئی نسل کی آبیاری بروقت کر سکیں اور انہیں کوئی مثبت فائدہ مند سوغات یا پیغام دے سکیں، ابھی بھی وقت ہے کہ نیپالی زبان کی  نشر و اشاعت کی جائے اپنی بول چال میں اس کا استعمال کیا جائے سیکھنے اور سکھانے کا ماحول پیدا کیا جائے اپنے افکار و خیالات و نظریات کو بلند کیا جائے، ارباب حل و عقد، ذمے داران مدارس و مکاتب، ذی شعور حضرات، قوم و ملت کے دانشوران و رہنما حضرات، اور اسلامی لیڈران و قائدین بروقت ان باتوں پر توجہ مرکوز کریں، ان شاء اللہ العزیز کامیابی مقدر ہو کر رہیگی، کیونکہ نیپالی زبان کو "سرکاری زبان" ہوئے کے اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جس کا سیکھنا اور سکھانا وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ ہمیں کسی بھی سرکاری دفاتر، بینک، عدالت، مالپوت ،پولیس اسٹیشن، اور دیگر کسی بھی مقامات پر پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور ہم بلا جھجک ٹیبل ٹھوک کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم نیپالی زبان پر مکمل دسترس حاصل کر یں،تاکہ ہم زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں یہاں کے آئین و قوانین کے مطابق کامیابی حاصل کرسکیں، اہل مدارس طلبہ و طالبات پر خوب محنت کریں بالخصوص نیپالی اور انگریزی زبان میں ان کو ماہر بنائیں، تاکہ وہ پست ہمتی اور حوصلہ شکنی کا شکار نہ ہوں، بلکہ بلند خیالات و نظریات کے حامل و مالک ہوں، اور روز افزوں ترقی کے منازل طے کرتے رہے، جس ملک میں ہم رہتے بستے ہیں وہاں کی زبان سے شناسائی وطن پرستی کی دلیل اور علامت ہے، اور اس سے لاعلمی، بے تعلقی، بے فکری، بے خیالی، بے توجہی و بے التفاتی،اور عدم دلچسپی جاہلانہ اور احمقانہ فعل ہے، اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں اپنی زبان سیکھنے سکھانے اور اس کی ترویج و اشاعت کی لگن اور محنت شروع کر دینی چاہئے تاکہ ہم اپنی شناخت اور ملی تشخص کو برقرار رکھ سکیں، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین

جمعرات، 18 جون، 2020

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ


ازقلم :محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کو پیدا فرماکر انکو زندگی گزارنے اور رہنے سنہے کا سلیقہ بتایا اور ساری تخلیقات اسی حضرت انسان کے لئے فرمائی تاکہ روز بروز انسان راہ ارتقاء کی طرف گامزن رہے ، اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی حساس اور پرآشوب دور ہے، جہاں ٹکنالوجی کی ترقیاں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حضرت انسان اپنی دنیا و عاقبت کو چند کوڑی کے عوض فروخت کرنے پر تلے ہیں ۔
اگر ہم اس وقت کارگہ عالم کا جائزہ لیں تو یقینا یہ روز روشن کی طرح عیاں  ہوجائیگا کہ کونسا گھرانہ و کنبہ اور خاندان ایسا نہیں ہے جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون -دجالِ وقت- نہ ہو اور اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو گویا اس کی دنیا تاریک تر ہے اور وہ اپنا وجود کو کوستے اور لعن طعن کرتے ہیں کہ تم کہاں ہو اس دور ترقی میں ایک اسمارٹ فون تیرے پاس نہیں ؟ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہے اور وہ یومیہ کمائی سے اپنا اور اپنے اہل وعیال کے خورد ونوش کا انتظام کرتا ہے وہ بھی موبائیل و انٹرنیٹ میں ایسا مستغرق ہیکہ کمائی میں سے ایک بڑی رقم اسی پر صرف کرتا ہے اور جو خوشحال و فارغ البال ہے اسکا کیا کہنا دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے انکے کم سن بچے اور بچیاں کے ہاتھ برانڈیڈ اسمارٹ فون سے نیچے نہیں ہوتے اور یہ ایک یہودی پالیسی ہیکہ انسان کو کیسے الجھاکر اپنا الو سیدھا کریں چنانچہ وہ اپنے حربے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے.
ہمارے چھوٹے اور کم سن بچوں کے پاس  موبائیل,انٹرنیٹ نت نئے ایجادات ہیں وہ کرتے کیا ہیں اس نئی ایجادات و اسمارٹ فون کے ذریعہ تو آئیے میں بتاتا ہوں اکثرو بیشتر بچے حیاسوز،اخلاق سوز یہاں تک کے ایمان سوز سیریل و مسلسلات کی طرف اپنا قدم بڑھاتے ہیں اور نہ جانے اس کا یہ قدم بڑھتا ہوا کس قعر مذلت و رذالت میں جاگرتا ہے اس کا مشاہدہ اس روئے زمین پر رہنے بسنے والے خوب کرتے ہیں اور آئے دن ایسے واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، یہ اوراس جیسے ڈھیرسارے نقصانات ہیں جس کا شمار اس مختصر مضمون میں محال ہے.
البتہ جدید ٹکنالوجی اور سماجی ویب سائٹس کی منفعت سے آنکھیں بند کرلینا تقاضۂ انصاف نہیں۔
*تو اس کے فوائد پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں* ۔۔۔۔۔۔۔
اگر سماجی سائٹس کا صحیح استعمال سکھایا جائے تو وہی نو عمر اور کمسن بچے اس سے بہت استفادہ کر سکتےہیں, چونکہ اسوقت دنیا بالکل بیت عنکبوت کی طرح مربوط ہے اس لئے اس سے جان چھڑانا بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے البتہ  اپنے کم سن بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے اور اپنی نگرانی میں اسے نیٹ وموبائیل کے استعمال کی اجازت دی  جائے. اس کے مثبت و اچھے استعمال سکھائے جائیں کیونکہ نئی ایجادات کے فوائد سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا نیز  اسکے فساد و منفی اثرات اسکے فائدے سے زیادہ ہیں لیکن اس وقت یہ دنیا کی اہم ترین ضرورت ہیکہ ہم اسے استعمال کریں ۔ اس کے اندر کی خوبیاں اخذ کریں اور اسکو اپنی زندگی کے اندر اپنانے کی مساعئ  جمیلہ کریں کیونکہ کوئی بھی چیز دو پہلووں کاحامل ہوتی ہے منفی و مثبت اب اس کے استعمال کرنے اور کروانے والے کو چاہئیے کہ اس کے ذریعہ ایسے پھول سے اپنا دامن بھرے جس سے دامن نہ الجھے اور نہ داغدار ہوں
یہی جدید ٹکنالوجی ہے جس کی وجہ سے انسان کےسالوں، مہینوں اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہورہے ہیں، ایک تار جو ہفتوں اور مہینوں بعد منزل مقصود تک پہنچتا تھا اب وہ چشم زدن میں آپ کی نگاہوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ انٹرنیت کے فوائد بھی بے شمار اور نقصانات بھی ان گنت ہیں البتہ جو صارف جسطرح کا ہوتا ہے اس سے اسی قدر کسب فیض کرتا ہے اور اس پر تربیت اور تہذیب و ثقافت کا خاصا اثر ہوتا اب یہاں مربیان و اساتذہ اور والدین کاامتحان بھی درپیش ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے نونہالان کی کیا اور کیسی تربیت کی ہے اور ایسا بالکل نہیں کہ کوئی بھی سرپرست، والدین اور ذمہ داران اپنے آل و اولاد کی اچھی تربیت کی فکر نہیں کرتے یقینا کرتے ہیں ان بچوں کی فکر ہمیشہ انہیں دامن گیر رہتی ہے البتہ انسانی نفس ہے جس کہ بارے میں خود باری تعالی نے فرمایا .. وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء
نفس امارة انسانوں تو برائیوں پر بر انگیختہ کرتا ہے جس کی وجہ سےاکثر انسان اسمیں مبتلا ہوتے ہیں سوائے ان نفوس قدسیہ کے جس پر اللہ کا رحم و کرم ہوجائے.
اللہ ہمارے نونہالان کو مثبت فکر، نفس مطمئنہ اور جدید ٹکنالوجی کا مثبت استعمال کرنے والا بنائے. آمین وماتوفیقی الا باللہ رب العالمین۔

منگل، 16 جون، 2020

خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟


 خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟؟
دراصل دنیا کی کشش انسان کو خواہ اپنی جانب کھینچ لے جائے اور اسے خواہشات کی وادی کا شہزادہ بنا کر پرواز کرادے، اسے یہ بھی محسوس کرادے کہ دنیا اس کی جاگیر ہے، وہ سب کا مالک و آقا ہے، دو عالم اس کی ہیبت سے رائی ہے، پہاڑ ذرہ اور دریا قطرے کے مانند ہے، اسے ہر لمس پر جہاں کی خوشیاں نصیب ہو، کھوٹا کھرا بن جائے، مٹی سونا ہوجائے، چمک دمک کی چوندھیا دینے والی روشنی اس کی آنکھوں کو گھیر لے، زندگی کی رمق اور نبض حیات پر اسے کنٹرول لگنے لگے، اسے یہ بھی باور کرایا جائے کہ اب زمین کی سطح اس کے پیروں کی محتاج ہے، آسمان کی بلندی اس کے سر کو لگتی ہے اس کے بازوؤں قوتوں کا کرنٹ دوڑتا ہے، وہ چلے تو دنیا تھم جائے، نظام عالم پر وہ قابض ہے، وہ ہاروت و ماروت سا جادو پالے، وہ مسیحائی بھی رکھ لے، کرشماتی طاقت اور بالخصوص جوانی کا جوش، گرم خون کی کاوش، تعلیم کی ہوشمند، دم گرم اور دمساز بھی پالے، اپنے ارد گرد شہرت و دولت کا انبار لگا لے، دنیا کی نعمتیں اس کے اشارے کی محتاج ہوں، اسے یہ بھی لگتا ہو کہ اب دنیا اس کے ہاتھوں کی لونڈی ہے، قرب و جوار کی بھیڑ، لوگوں کا ہجوم، اس کی ہر بات پر داد، اس کی مسکان پر چہک، اس کے انداز پر قربان اور اس کی ادا پر مر مٹنے والے ہوں، جسم کی قوت، ذہانت و ذکاوت اور صلاحیت و قابلیت کا ڈھیر ہو، اپنی مرضی سے دنیا کو جو چاہیں پیغام دیں، حسن ادا سے سب کو مسحور کردیں اور خود پر اعتماد بحال کئے بغیر نہ رہیں، اور یہ لازمی بن جاتا ہو کہ اپنی بہتر پیشکش اور اعلی انداز سے ہر کسی کو موہ لیتے ہوں، دنیا کی عمارتیں ان کے نام سے مزین ہوں، کتابوں میں ان کے چرچے ہوں، لوگ تاریخ کو بھی ان سے پہچانتے ہوں، غرض یہ کہ موجودہ دور میں جو کچھ انسانی زندگی کا اعلی ترین معیار ہو اور جسے عوام ایک بہتر زندگی سمجھتی ہو وہ سب کچھ ان کے پاس ہو تب بھی وہ خودکشی کرلے تو اسے کیا کہیں گے؟ زندگی کو ایسے موڑ پر ختم کردینا جب جینے کی توقع ہو تو اسے کس طرح تعبیر کیا جائے؟ دنیا کے سامنے صحیح و غلط کا سبق پڑھاتے ہوں مگر خود ہی زندگی کو دشمن مان کر پھانسی کے پھندے پر لٹادے تو اسے کیا کہیں گے؟*
اب ان سب پر غور کرنے کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھئے:الذين آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (رعد:٢٨) " وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی یاد سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سکون ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے، اسے دکھ سکھ میں جینے کا ہنر بتاتی ہے، زندگی کو ایک امانت اور رب کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتی ہے، اسے یہ یقین کرواتی ہے کہ اس کی زندگی رائیگاں نہیں ہے، وہ مصائب میں الجھ کر اسے ضائع نہیں کر سکتا، امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتا، دنیا فانی ہے، روشنیاں مٹ جائیں گی، چراغ بجھ جائیں گے مگر خالق و مالک کا تذکرہ باقی رہے گا، اور وہی دلوں کو تھامے رکھے گا، ذرا سوچئے! اگر کسی کے اندر یہ جذبہ ہو تو وہ کیوں کر خود کشی کر سکتا ہے، لیکن افسوس دنیا کی تیز و تند ترقی اور مصنوعی دل نے انسان کو سب کچھ دینے کے باوجود یاد الہی سے محروم کردیا، جو سب سے بڑی دولت تھی، جو مقصد اور زندگی کا لب لباب ہے، استاد گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے بہت خوب لکھا ہے: " عام طور پر مادی سہولتوں کو سکون و اطمینان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اطمینان دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ جس میں انسان کو قرار آجائے اور آگے کی لالچ باقی نہ رہے، جیسے ایک شخص کو کسی خاص شہر تک جانا ہے تو اس شہر کو پہونچنے کے بعد وہ مطمئن ہوجاتا ہے، اس سے پہلے خواہ اسے اچھے سے اچھا اور خوبصورت سے خوبصورت شہر نظر آجائے، انسان بے اطمینانی سے دوچار رہتا ہے، اور اپنی منزل پہنچنے کیلئے طبیعت مضطرب رہتی ہے، مادی چیزوں کی حرص جن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتی ہے، ان کی منزل کبھی آتی ہی نہیں، وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ پر یقین ہوتا ہے، اللہ کی یاد سے ان کے دلوں کوطمانینت حاصل ہوجاتی ہے، اگر اس نے کم دولت بھی حاصل کی تو یہ سوچ کر کہ چونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور ہم اس پر راضی ہیں، اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے__" (آسان تفسیر قرآن مجید)

✍ محمد صابر حسین ندوی ۔

پیر، 15 جون، 2020

کیوں زیاں کار بنوں....

کیوں زیاں کار بنوں.....                                      

   ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
                                    ☜ محمد طاسين ندوي
باری تعالی نے امت محمديہ کو  برپافرمایا اور یونہی نہیں چھوڑدیا بلکہ دستور حیات سے نواز کر اپنی اجتماعی معاشرتی و خانگی زندگی گزارنے کا ایسا سیلقہ وطریقہ  دیا جس کی نظیر کسی ادیان قدیمہ میں موجود نہیں پہلا قران مجید جو مکمل گائڈ لائن ہے  اور دوسرا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قران مجید کی توضیح و تشریح ہے  اسی حدیث رسول میں ان بنیادوں کا ذکر بھی فرمایا جو دین اسلام کے اصل و جڑ ہے، چنانچہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے " بني الإسلام على خمس شهادة لاإله إلاالله وأن محمد رسول الله  وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة ..."الحديث. متفق عليه
اسلام کی بنیاد پانچ عمودو ستون پر ہے ..جن میں سے سب سے پہلا اور عظیم الشان کلمہ شھادت کی گواہی ہے دوسرا عظیم شیئ نماز پنج گانہ کا قیام  اور تیسرا زکاۃ کی ادائیگی ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں جس کاحدیث رسول میں ذکر ہے چونکہ یہ تحریر زکاۃ ہی پر ہے اس لئے آئیے اس سے روشناس ہوتے ہیں

علماء لغت زکاۃ کے معنی اضافہ،پاکی،بڑھوتری اور نما کے بتائےہیں
شریعت اسلام میں زکاۃ کی تعریف ہے: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ  کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا،
زکاۃکو صدقہ بھی کہتے ہیں امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تحریر فرمایا ہے
صدقہ کو صدقہ اسلیئے کہتے ہیں کے اسکا دینے والاگویایہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں صادق ہے.معارف القرآن ۳۹۵
زکاة کی فرضیت سن ۲ ہجری میں ہوئی
جس معاشرے میں ہم سانس لیتے ہیں اس میں دو طرح کے افراد ہیں ایک صاحب ثروت اور مال و منال والا جسے شریعت کی اصطلاح میں صاحب نصاب کہتے ہیں  اور دوسرا ایسے افراد جو صاحب ثروت کے زمرہ سے خارج ہوں جسے شریعت کی اصطلاح میں۔غیر صاحب نصاب کہتے ہیں
البتہ ہر صاحب نصاب مردو زن پر زکاۃکی ادائیگی اپنے حدود قیود کے ساتھ واجب ہوگی
زکاۃ کو زکاۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے تو اس کا دل میں  مال کی محبت جاگزیں ہوجاتی ہے دل کے اس جھکاؤ اور میلان  کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے اورمال کے ساتھ اس درجہ مشغولیت و محبت  کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے مثلامال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکاۃ و صدقات کو مقرر کیا گیا ہےاس کے علاوہ زکاۃ سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکاۃ  کا نام زکاۃ رکھا گیا آیا کیا زکاۃ ہر کس و ناکس پر فرض ہے یا مخصوص افراد پر شریعت نے اس کی بھی حد بندی کی ہے ادائیگی زکاۃکے فرض ہونے کی کچھ شرائط بتائے ہیں.جو مندرجہ ذیل ہیں
1 مسلمان ہوناکافر پر زکاۃ واجب نہیں
۲۔ بالغ ہونا نابالغ پر زکاۃ فرض نہیں
۳۔ عاقل ہونامجنون و دیوانہ پر زکاۃ فرض نہیں جبکہ اسی حال میں سال گذر جائے اور کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے تو فرض ہے
٤۔ آزاد ہوناغلام پر زکاۃ نہیں اگرچہ اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو
٥۔ مال بقدرِ نصاب اس کی ملکیت میں ہونا اگر نصاب سے کم ہے تو زکاة نہیں
٦۔ پورے طور پر اس کا مالک ہونا یعنی اس پرمکمل قابض ہونا " تملیک کا پایا جانا"
۷۔ نصاب کا  قرض سے زیادہ ہونا
۸۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے زیادہ ہونا
۹۔ مال کا نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقتہً ہو یاحکماً.
۱۰۔ نصاب پر ایک پورے  سال "حولان حول " کا گذر جانا 
اگر سماج میں ایسے افراد ہوں جو ان شرائط پر اتر رہے ہوں تو ان کے اوپر واجب ہیکہ اپنے  مال میں سے اموال زکاۃ"سونا چاندی نقد پیسہ مال تجارت جانور کاایک متعیں مقدار زکاۃ نکال کر مصارف زکوٰۃ تک پہنچائیں
       اور جو لوگ اس رکن کے منکر ہیں وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس نے  دینے میں سستی وکاہلی اور بخل سے کام لیا اور اس فریضہ کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا  اس کے سلسلے میں بڑی سخت وعید ہیں اللہ رب العزت کا فرمان ہے" یَوۡمَ یُحۡمَىٰ عَلَیۡهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡ هَـٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُون َالقرآن"التوبة ۳۵
جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس دن ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغے جائیں گی اوران سے کہا جائے گا یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو.
مزید یہ کہ زکاۃ ادا نہ کرنے اور اس کی فرضیت کا انکار کرنے والوں کے لئےسب سے سنگین وعید یہ ہے کہ ایسے انسان کے اموال کو طوق کی شکل دی جائے گی اورپھر قیامت کے دن وہ طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا.چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘ آل عمران ۱۸۰
یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ نواز رکھا ہےوہ اس میں کنجوسی کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے حددرجہ بدتر ہے، عنقریب قیامت کے دن جس میں کنجوسی سے کام لیا ہے اسکاطوق پہنائے جائیں گے.
زکاۃ تو ایک ایسا امر ہے جو اپنے تمام تر شرائط و ضوابط کے ساتھ سماج کا صاحب ثروت طبقہ ہی پر واجب ہے جس پر عمل کرنا ہر کس و ناکس پر ضروری نہیں.
لیکن جہاں شریعت نے بہت چیزوں کو فرض  واجب،  سنت کے درجہ میں رکھا ہے وہیں اس پر بھی امت مسلمہ کو برانگیختہ کیا اور ابھارا "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ" آل عمران ٩٢
تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو.
مفسرین نے لکھا ہیکہ اس آیت میں بھلائی سے مراد تقوی اور فرمانبرداری ہے اور خرچ کرنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ’’ یہاں خرچ کرنے میں واجب اور نفلی تمام صدقات داخل ہیں.
امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اسے رضائے الہی کے لیے خرچ کرنے والا اس آیت کی فضیلت میں داخل ہےخواہ وہ ایک کھجورہی ہو. تفسیرخازن
کیونکہ ہمارے اموال میں شریعت نے صرف زکاۃ واجبہ ہی نہیں بلکہ اور بھی حقوق وابستہ کیا ہے جسکو صدقہ یاخیرات کہا جاتاہے
چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے وأما السائل فلاتنهر ..سوالی دست سوال اسلئے دراز کیا ہیکہ ان کا بھی ہمارے اس اموال ـ چاہے ہم صاحب ثروت ہوں یا نہ ہوں ـ میں ان کا حق اللہ نے دے رکھا ہے اسلئے ہمیں سوچنا، سمجھنا،اورغور کرناچاہئیے کہ اگر کوئی بھی سائل حاجت مند آئے مانگے تو انکی حاجت روائی ہو ان کے قلوب کو اپنے مال سے ٹھنڈا کرنے کی سعی پہیم کریں کل جب  مالک ارض و سماء کے دربا میں پیشی ہو اور ہم سے کہا جائیگا
"یہ گھڑی محـشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کا غافل عمل گر کوئی دفتر میں "
تو اگر کوئی ایسا عمل ہمارے کشکول گدائی میں ہوگا جو عنداللہ قابل عنایت و توجہ و مقبول ہو تو ان شاء اللہ ہماری کشتی گرداب سے محفوظ رہیگی .
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
اللہ ہمیں اور ہمارے معاشرے کے افراد کو دین کا ذوق ومذاق عنایت فرما تاکہ کار خیر و فلاح میں لذت و ذائقہ محسوس کریں اور اس کےثواب سے لطف اندوزہوسکیں.
      وماذلك على الله بعزیز..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
۳۰ اپریل ۲۰۲۰ ء

ہفتہ، 13 جون، 2020

سماج کا بڑا المیہ


 سماج کا بڑا المیہ
از قلم:  محمد طاسین ندوی 
اللہ تعالی کی بے شمار کھیتیاں ہیں ان میں بنی آدم باری تعالی کی سب سے افضل و اشرف کھیتی ہے، ہم حضرت انسان کی آسائش و آرام کے لئے ہر وہ چیز پیدا کیا جسکی ہمیں احتیاج ہوتی ہے ایک بہت ہی معمولی سے لیکر بہت غیر معمولی چیز کو وجود بخشا 
رہنے سہنےکا ڈھنگ بتایا چھوٹے پر شفقت کرنے کا اور بڑوں کی عزت ،پاس ولحاظ کا مکمل درس دیا معاشرہ و مجتمع میں کس طرح سے اپنے زندگی کی صبح و شام ہو، کونسی جگہیں بےخوف وخطر جائیں کن متعلقین رشتہ داران سے کس درجہ احتیاط سے ملاقات ،نششت و برخاست ہو کون ہمارے محرم اور کون نامحرم ہیں الغرض زندگی گزارنے کا مکمل دستور سے اللہ تعالی نے ہم امت محمدیہ کو سرفراز کیا.ایسا اس لئے کیا گیا کہ اللہ تعالی بڑا رحیم و کریم ہے اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے راہ راست پر رکھنا چاہتا ہے ایسی جنت جس کے بارے میں حدیث میں ہے"مالا عین رأت ولاأذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر " اس امت کے نام کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا سے تھک ہار کر ہماری مرضیات کو ترجیح دے کر جب ہماری بارگاہ قدم رکھے تو ساری دنیاوی کلفت و مصیبت سب کہ سب ایک ہی آن میں ختم ہوجائے . 
ان  بے شمار وان گنت نعمتوں کے بعد کیا ہم انعام دینے والے کے احکام ،گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہر فرد و بشر، مجتمع و سماج،عالم و جاہل، سرمایہ دار و مفلوک الحال،کو دینا ہوگا اور حساب چکانا ہوگا تب ہی جاکر ہماری کشتی پار اتر سکتی ہے.
قارئین کرام ! اب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو یہ ہواس باختہ،بے رحم،بے حیا معاشرہ  نظر آتاہے،ہم احکام الہی کو یکسر بھلا کر اپنی دنیا سنوارنے اور دنیا کی رنگ ریلیاں میں مصروف ہیں جب کہ ہمیں دنیا کے مرغوبات سے روگردانی کرنے کو کہا گیا ہے اسی قدر اس عالم رنگ و بو سے فیضاب ہونے کی اجازت ہے جس سے ہمارے اندر ہر وہ چیزیں نہ جنم لے جو کفار کہ اندر ہیں لیکن ہم ہیں کہ سارے ضوابط و قوانین کو طاق نسیان پر رکھ کر دینا کے خون سے ہولی منا رہے ہیں اس کے رنگ میں اپنے کو رنگ لیاہے، اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ غیبت، چغل خوری،حسد،زناکاری،چوری جیسے مہلک مرضِ مُزْمِن و مُقْعِد میں مبتلا ہے، نوجوان چھپی آشنائی کرتے ہیں اور اسکی ویڈیو بناکر یوٹیوب اور سوشل ویب سائڈ پر اپلوڈ کرتے ہیں اور یہ بھی احساس نہیں کہ ہم نے تو نہایت ہی غلط اقدام کیا ہے نہیں بالکل نہیں اگر بات گاؤں اور محلوں کے چودھری، سرپنچ تک پہنچتی تو وہاں دوگروپ میں لوگ تقسیم ہوتے ہیں اور مجرم و مفسد جس کی سرزنش ضروری تھی وہ چند ہزار روپیے کے عوض اپنے کو جرم سے دھولیتا ہے اور پھر دندناتا چوکڑیاں بھرتا پھرتا ہے، اس عمل سے ماحول کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہوتی ہے غلطی کے عوض پیسے اور اس کے بعد جرم کا صفایا ،
اس عمل سے دوسرے نوجوان عبرت نہیں لیتے بلکہ ان نوجوانوں کی شیطانیت مزید آگے بڑھتی ہے کل جاکر کوئی دوسرا جوان اسی عمل کو دھرا تا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے نسب محفوظ نہیں، عـزت و ناموس سر عام رسوا ہوکر معاشرہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور اسکا سد باب بمشکل تمام ہوپاتا ہے .
اے امت مسلمہ اب بھی ہم نہ جاگ سکے اور  ہمارا یہی حال رہا تو ابھی تو ہم کورونا سے پریشان ہیں کل چل کر نہ جانے اللہ تعالی کن آزمائش وامتحان میں ڈالے گا کیونکہ ہم نے دستورالہی اور تعلیمات نبوی کو حرف غلط کی طرح اپنے ذہن دماغ سے مٹانے کی کوشش کی ہے شادی کو مشکل ترین کردیا ہے زنا،سود خوری،حسد، چغل خوری، فریب، مکاری عام ہوگئی ہے ،آداب و پاس لحاظ کا جنازہ پڑھ دیا گیا ہے.
اللہ تعالی سے دعاء گو ہوں کہ اللہ ہمارے معاشرے کو کتاب و سنت والا معاشرہ بنا کر ہر آزمائش و امتحان سے محفوظ فرمادے اور ہمیں درست سوچ و سمجھ نصیب فرما. آمین 

جمعہ، 12 جون، 2020

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں


باسمہ تعالی
فردقائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں
از: محمد طاسین ندوی 
ــــــــــــ ـــــــــ ـــــــــــــــ   ـــــــــــ ـــ.
اس دنیائے دنی ورنگا رنگ میں  ہر فردو بشر کو ہماری  ناک بلند رہے ہماری باتیں سب پر غالب ہوں کی فکر ہمیشہ دامنگیر ہی نہیں  رہتی ہے  بلکہ اگر بس چلے تو اپنے علاوہ کو اپنی فکر و نظر کا قائل کرنے  اور اپنے نطریہ کا حامل بنانے کی ہر سعئ ممکن کر بیٹھتا ہے اسوقت اسے بالکل پرواہ نہیں ہوتا کہ ہم اس جوش بے ہوش میں کیا کچھ کرنے کی جسارت و جرأت کر رہے ہیں فی الوقت  ایک خبر اکثر نیوز چینلوں شوشل وسماجی سائڈس اور پرنٹ میڈیا میں ہیڈ لائن بنی ہے کہ کورونا وائرس کی وباء ہندوستان میں پھیلانے کی ساری ذمہ داری تبلیغی جماعت کے مرکز کے ساتھ ساتھ  اس فکر کے حامل لوگوں پر ہے لیکن اس کی اصلیت کیا ہے اس س ہر ذی شعور واقف ہے البتہ سردست یہ سپرد کرتے ہوئے دل ہلکان ہوا جاتا ہے آنکھیں اشک بہانے کے درپے ہے کہ اپنے کو مسلک اعلی حضرت کا پیرو کار و جنت الفردوس کا ٹھکیدار گرداننے والے احباب کا ترجمان نے  ہندوستانی وزیر داخلہ کو تحریر ارسال کیا ہیکہ چہار دانگ عالم کی فکر لیکر حیراں و سرگرداں اپنے سروں پر  بوریا بسترا اٹھائے مسلمانوں کوبھولا بسرا سبق یاد دلانے  اور  انسانیت کو سب کچھ اللہ سے ہونے اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کی باتیں سیکھانے اور یقین پیدا کرانے والی جماعت تبلیغ پر پابندی عائد کرنے کی درد مندانہ درخواست کی ہے تو یادر ہے کہ ایسے ہی کسی موقع سے کسی شاعر نے کہا تھا
منتشر ہوتو مرو شور مچاتے کیوں ہو
کیا ان مدعیان اسلام کو یہ پتہ نہیں یاوہ اس  سے آگاہ نہیں کہ آٹا کہ ساتھ گھن بھی پسا جاتا ہے وہ نااہل و ناہنجار کیا کرنے جارہے اسے کیا خبر کل جب وزیر داخلہ و ہندتوا کا تیروتفنگ و  نشتر  چلے گا تو درخواست دہندنگان بھی اس صف و زمرہ میں نظر آئیں گے جس میں تبلیغی جماعت اور اس فکر کے حاملین ہونگے پھر انکا غرور ونخوت کا کیا ہوگا اس کا علم عنداللہ تو ہے ہی لیکن اس کا انا ضرور التماس میں بدلیگا
خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے
انا کو بنتے ہوئے التماس دیکھوں  میں
اور جس فسطائی طاقت و قوت کے پس پردہ اپنے کو بچانے کی سوچ رہے ہیں جب کوڑے پڑیں گے تو انکا بھرم طشت ازبام ہوگا اس وقت وہ خون کا رونا روئیں گے اور سوائے کف افسوس ملنے کہ اور کچھ نہ ہوگا
میں  اس تحریر کے توسط سے دردمندانہ اپیل کرتا ایسے منفی مفکرین اور متبعین مسلک اعلی حضرت سے کہ اس دور افتاد میں اب بھی ہوش کا ناخن نہ لیا تو وہ دن دور نہیں کی آپ کی بھی اینٹ سے اینٹ بجائی جائیگی. ورنہ ابھی بھی وقت ہے اپنے کو سنبھالیں مثبت سوچ پیدا کریں دوہرائیں کے آپ کہاں سرگرداں نکلے چلے جارہے ہیں آئیں متحد ہو کر باطل پاور و طاقت کا سنجیدگی سے مقابلہ کریں اور دندان شکن جواب دیں  اور اتحاد و اتفاق کے ذریعہ اس فسطائی نظام کا ڈٹ مقابلہ کریں
متحد ہوتو بدل ڈالو نظام عالم
منتشر ہوتو مرور شور مچاتے کیوں ہو
اور یہ بھی یاد رکھیں کے آپ اور  ہم نے اور لوگوں نے  گرچہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد مدرسہ الگ الگ لئے بیٹھیں ہے لیکن ہم اپنوں کے علاوہ کی نگاہ میں ایک ہی ہیں تو ان کے اس زعم کو حقیقت کر دیکھائیں اپنی ساری رنجشیں عناد کو لپیٹ کر رکھدیں
اوفرد ملت ربط باہم سے ہے تنہا کچھ نہیں کا حقیقی پرتو ہوجائیں. بس اتنا ہی
اللہ ہمیں  بھی عمل کی توفیق دے. آمین
ـــــ ـــــــ ــــــــــ ـــــ ـــ

جمعرات، 11 جون، 2020

حیراں ہوں کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں


حیراں ہوں کہ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومیں
 ـ ـ ـ ـــــ ـ ـ ـ ـــــ ـ  ـ ـ ــــــــــ ـ ـ ـ ـــ    
آہ! اس چمنستان  مونگیری شبلی و سیلمانی کی حالت زار کیا بیان کروں مصلحت کی اتنی دبیز چادر میں ارباب ندوہ نے اپنی عقل کو لپٹ رکھا ہیکہ جس ندوہ سے توحید خالص و رسالت مآب کی گلکاریاں روزو شب سنائی دیتی تھی ہمیشہ  باطل کے سامنے سینہ سپر ہوتا تھا اس کے سپوت باطل کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر ایسا دندان شکن جواب دیتے تھے کہ باطل اور فسطائی پاور اپنے آپ کو سیلینڈر کئے بغیر نہ رہ سکتا. اس کو کس کی نظر لگ گئی 
کہاں گئی باغِ بوالحسن کی وہ جرأت رندانہ وہ بے باکی وہ دین کی رعنائی اور دوربینی وہ دوررسی،کیا ندوہ کے مؤسسین و بانیان  نے اپنے اصول و ضوابط میں یہ رقم کیا تھا کہ جب جب کوئی ایسے ظالم  و مشرک حکمراں- جس نے ہندوستان کی پوری مسلم برادری کو بےکل و  بے چین کر رکھا ہے - کی ہاں میں ہاں ملانا عین مصلحت ہے.؟
وہ عظیم دانشگاہ جسے عالمی شہرت حاصل ہے جس کے فضلاء وعلماء نے ہمیشہ توحیدِ خالص و رسالت مآب پر گفتگو کی ہےاور الجمع بین قدیم الصالح والجدید النافع کا راگ الاپا ہے ، آج وہاں کے زمام کار سنبھالنے والے کو ہوا کیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی- اللہ اسے ہدایت دے -نے یہ کیا کہا کہ دیس باسیوں۵اپریل کو رات نو بجے نو منٹ تک سارے لوگ اپنے گھروں کے لائٹس بند کر کہ دیا ، موم بتیاں، ٹارچیز ،فلاش جلا کر رکھنا تاکہ کورونا جو ایک وبائی وائریس ہے ہندوستان سے بھاگ نکلے گا. 
پھر کیا تھا جس کا ایسا کرنا عین مذہب و دین تھا اسی کے ساتھ ذمہ داران ندوہ نے بھی رخت سفر باندھا اور ندوہ کو بھی  مودی ٹوٹکے کا بھینٹ چڑھایا اور یہ نہ سوچا کہ اگر ہم نے اس عمل کو انجام دیا تو ہمارے برادران اسلام، ہماری قوم، ہم سے بحیثیت علماء فضلاء دین کے سوالات کہ لامتناہی سلسلہ شروع کر بیٹھیں گے جسکا جواب سوائے حسرت اور منھ چھپانے کے اور کچھ نہ ہوگا .
اور ایسا محسوس ہورہا کہ ندوہ جو گہوارۂ علم و عرفاں تھا بے جا مصلحت کیوجہ سے اکھاڑا ہوتا جارہا ہے. 
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں 
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
یکے از فرزند ندوہ 
٦ اپریل ۲۰۲۰ء

नेपाली मुसलमान शिक्षा र प्रशिक्षण


*नेपाली मुसलमान शिक्षा र प्रशिक्षण*
 *मुहम्मद तासिन नदवी*
नेपाल एउटा सुन्दर र सानो राष्ट्र हो।अल्लाह ताआलाले हिमालयको सबैभन्दा ठुलो चुचुरो नेपालमा अवस्थित बनाइदिनुको कारणले नेपाल पुरै पृथ्वीजगतमा प्रसिद्ध रहेको छ। यो अल्लाह ताआलाको एउटा कृपा हो कि जगतमा अवस्थित मनुष्यहरु नेपाल देखि परिचीत छन किनभने नेपाल  गरिब राष्ट्र मध्यको एउटा राष्ट्र हो। एक प्रकारले धनहिनता नेपालको भाग्यनै देखिन्छ । आउनुस हामी नेपालमा अवस्थित मुस्लिम समुदायको मुल्यांकन गरौं । के यहाँका मुस्लिमहरु दीनि (धार्मिक )वा दुनियावी (संसारिक) सैद्धान्तिक माथी किर्यावान छ्न । शिक्षा जो कुनै पनि समाजको विकास,उन्नति,प्रगति र सभ्यता र शिष्टताको दर्पणकार हुन्छ सो हाम्रा बालबालिकाहरु ईस्लाम देखि कति नगिच रहेका छन। यदि उल्लेखित कुरा माथी अध्यन गर्नी हो भने हाम्रा युवावर्गहरु र स्वयम् हामी जिम्मेवार तथा अभिभावकहरु पनि ईस्लामि शिक्षा दीक्षा देखि अतिनै टाढा रहेका छौ भनेर बडो दुखको साथमा उल्लेख गर्ने बाध्यता रहेको छ। हामीहरुको चिन्ता भनेको वाकेवल कसरी आफ्ना सन्तानलाई  उमेर बडाएर होस अथवा घुस खुवाएर होस व अरु कुनै उपाय लगाएर होस चाडै भन्दा चाडै नागरिकता राहदानी प्राप्त गरेर रोजगारीको लागी विदेश पठाउन सक्छौं भन्ने रहेको छ। ती केटाकेटीहरु जसको शिक्षा दिक्षाको जिम्मेवारी आमा बुबाको थियो आज उनिहरु सबै रियाल दिर्हम दिनार डलर पाउन्डको भेंट भएका छन। फेरि जब हामी बुबा आमा बृद्धअबश्था तथा अशक्त अबस्थामा पुग्छौं अनि आफ्ना यिनै अशिष्ट असभ्य सन्तान देखि सत्कार आदर सेवाको आस लगाउछौ। आजको दिनमा आमा बुबाको सेवा आदर सत्कार गर्ने सन्तानहरु समाजमा धेरै भन्दा धेरै  १० देखी  २० %  मात्र रहेको छ। सोही कारण आज समाजमा वैर शत्रुता आघातता निराशा असफलता जस्ता चिजहरुको जन्म भैरहेको छ जो साधारणता समाजमा अशिक्षा तथा असभ्यताको कारणले उत्पन्न हुने गर्छ जसको जिम्मेवार हामी अभिभावकहरु हुन। किनभने शिक्षाकेवल पठन पाठनलाई सर्वव्यापक गर्ने नाग मात्र होइन शिक्षा एउटा यस्तो कार्यहो जसको माध्यमले एक व्यक्ति देखि लिएर पुरै समुदायले जानकारी प्राप्त गर्छ  भने यो कार्यले समुदायको आकृति दिने व्यक्तिलाई संवेदना विवेक निखार्ने एउटा माध्यम पनि हो। यश,यो एउटा नयाँ पीढीको त्यो शिक्षा दीक्षा प्रशिक्षण हो जो उसलाई जीवन बिताउने सहि विवेक प्रदान गर्दछ र जिबनको लक्ष्य गन्तव्य र आफ्नो कर्तव्यको भावना दिलाउछ। शिक्षाको माध्यमलेनै कुनै पनि समुदाय आफ्नो सांस्कृतिक  मानसिक दायलाई आगामी पीढी सम्म पुर्याउछ र उनीहरुलाई जिबनको लक्ष्य सङ्ग लगाउ बडाइदिन्छन जसलाई उसले अप्नाएको छ। शिक्षा एउटा मानसिक शारीरिक र नैतिक प्रशिक्षण हो उसको मुल उदेश्य उच्च शिष्टवान र नैतिकतावान पुरुष महिलाको अस्तित्व हो जो राम्रा मानवको हैसियतले कुनै पनि देशमा जिम्मेवार नागरिक हैसियतले आफ्नो कर्तव्यलाई पूरा गर्न सक्क्षम होस। हरेक युगका शिक्षाविदहरुको यहीँ सिद्धान्त रहेको छ। अन्तमा हामी सबै नेपाली मुसलमानहरु शिक्षालाई कुनै विभाजन नगरी प्रतिज्ञा गरौं हामी आफ्ना सन्तानलाई कमाउने माध्यम बनाउने छैनौं  उनिहौलाई सर्वप्रथम उच्च शिक्षाको व्यवस्था गर्नेछौं फेरि इन्शाअल्लाह एउटा एउटा नयाँ समाजको अस्तित्व सिर्जना  हुनेछ... واللہ علی کل شیئ قدیر
अनुवादक अबुबकर नदवी

بدھ، 10 جون، 2020

تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب




بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
  ـــــــــــــــــ  ـــــــــــــ ــــــــــــــ ـــــــــــ
اسوقت دنیا پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پروپگنڈہ دعایات و الزامات اپنی ناک اونچی رکھنے اور ایک کو دوسرے سے کمتر و رذیل  دیکھانے کا سیل رواں ٹھاٹھیں مارتا ہوا رواں دواں ہے چلیے اس کی ایک تازی مثال آپ کے سامنے تحریر کرتا ہوں ابھی آج یا کل کی خبریں اور سماجی ویب سائڈس اورکچھ لوگوں کی تحریریں گردش میں ہے کہ ہندوستان کے اندر کورنا وائرس کو بڑھاوا دینے  اور اس کے پیر پسارنے کا اہم وجہ بنگلہ والی مسجد "مرکز تبلیغی جماعت نظام الدین دہلی "ہے 
یہ بات گوش گزار کردوں کے ہر شئی کے دو پہلو ہوتے ہیں مثبت و منفی جہاں تک بات مرکز تبلیغی جماعت کی ہے تو یہ یاد رہے کہ اس کو نشانہ بنانا الکفر ملۃ واحدہ کا عکس جلی ہے البتہ کچھ ہمارے مسلم برادران بھی اس سے کچھ کم نہیں اور ایسا  کیوں؟  
تو اس کا جواب اگر یہ دیا جائے کہ کچھ مسلم برادران نے بھی اس دور پر آشوب و پر فتن میں اپنی آنکھوں سے مسلک و مذھب سلفیت و قاسمیت و ندویت و بریلویت کا عینک کو طاق نسیاں پر رکھنے سے گریزاں ہیں تو اے ہمدردان امت محمدیہ آپ کو ہو کیا گیا کیا اب بھی آپ کی سمجھ سے یہ کوسوں دور ہیکہ کے جو لوگ اخوت و محبت کا دم بھرتے ہیں اوراسکا راگ الاپتے ہیں وہ ہمارے حقیقی دوست نہیں کیونکہ ہماری آنکھوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا ہمارے ذلیل و خوار ہونے میں ہمارے بالمقابل نے کیساجتن کیا اور وہ سب کچھ کر ڈالا جس کی توقع ایک  جمہوری ملک سے نہیں کی جاسکتی تو آئیے ہم یکجا ہوجائیں اعتصام حبل اللہ کا درست عکاسی کریں اور اس موقع سے اپنی ساری رنجش و شکر رنجی کو بھلا کر اور آپسی صلاح و مشورہ سے ایک جوٹ ہوکر مرکز پر جو الزام عائد کیے جارہے ہیں اسے نگلٹ کریں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ اسلام کے علمبردارن ہی اولو العزم اور اپنے دین متین کے حقیقی پاسبان ہیں جب انکے بارے میں منفی خیالات پنپے تو وہ چھینپ جائے کہ ہم نے سوچا کیا ہے. اللہ ہمارا حامی ہو    رہے نام اللہ کا 
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  محمد طاسین ندوی
یکم اپریل ۲۰۲۰ء 

ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

ہم خوار ہوئےتارک قرآں ہوکر     
๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
        محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت نے بہت سارے صحیفے اپنے نیبوں پر نازل فرمایا کبھی توریت تو کبھی زبور کبھی انجیل یہ سارے منزل  صحیفے ایک قوم، جماعت،گروہ اور طبقہ کے خاص تھے.  
لیکن ایک اور منزل صحیفہ ہے جس کو ہم قران مجید کے نام سے موسوم کرتے اور جاتنے  ہیں ، اس کتاب کو اللہ عز وجل نے جناب  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا، اسکی بے شمار خصوصیات ہیں کبھی یہ ایسی کتاب جس کے اندر ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تو کبھی شفاءللناس، کبھی نور، كبهی ذکر،کبھی کتاب ہدایت وغیرہ ان جملہ صفات و خصوصیات کے ساتھ ایک بہت ہی اہم خاصیت یہ کہ یہ کسی خاص گروہ،جرگہ، قبیلہ، خاندان کے لئے نہیں نازل کیا گیا بلکہ یہ عالمگیر کتاب رشد وہدایت ہے، اور اس کی بقاء کی ایک خاص مدت کی تعیین نہیں بلکہ رہتی دنیا تک یہ جیسے اللہ رب العزت نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اسی حال میں جوں کا توں رہیگا اور کوئی اس کے اندر رتی بھر بھی کمی و زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
 *"إنَّاْنَحْنُ نَزَّلْنَاالذِكْرَ وإنّالَهُ لَحَافِظُوْنَ* "الحجر٩
ذات باری نے فرمایا ہم نے ہی قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں 
جس چیز کی حفاظت کی  ذمہ داری اللہ تعالی خود اپنے سر لے لے بھلا اس کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے. بہت فاشسٹ طاقتیں ابھریں آئیں اور اس نے تگ ودو کیا کہ اس محفوظ کتاب کے اندر اسی طرح تحریف و تبدیل کیا جائے جسطرح اسے پہلے نازل شدہ صحیفوں کے اندر کی تھی لیکن وہ ایسانہ کرسکے خائب و خاسر اپنا سا منھ لیکر پیچھے بھاگے .
اور ایسا ہوناہی تھا اسلئے کہ ان طاقتوں نے غیرت خداوندی کو للکار نے کی کوشش کی تھی جس سے ان کا ذلیل و رسوا اور ناکام ہونا مستحیل نہ تھا 
مندرجہ تمہید کے بعد ہم بحیثیت اس کتاب مبین کے امین ہونے کہ باوجود .ہم نےاسے کے فرامین واحکام پر کتنا عمل کیا اور کررہے ہیں آئیے اسکا جائزہ لیتے ہیں
کتنے فیصد ہم مسلمان اس کے احکام ھدایت کے پابند ہیں؟
کیا ہمارےبام ودر اس کی روح پرور آیات کی تلاوت سے مشام جاں کو معطر کررہی ہے؟
یا صرف کسی کی موت پر قبائلي جھگڑے کےوقت قسم کھانے کے لئے ہم قرآن مجید کو جزدان سے باہر لاتے ہیں 
یا کبھی کبھار شیطان و جن کے ستانے پر ہم اپنے بچوں کے گلے میں اس کی آیت کو بشکل تعویذ لٹا کر اسکا اپمان کرتےہیں؟
یہ وہ چند نکات ہیں جس سے دل کے اندر کھٹکا پیدا ہوتا ہے. 
اگر میں اپنا تجزیہ پیش کروں تو شاید ہمارے معاشرے و سماج میں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو حرز جاں بنایا ہو تو ان پڑھ اور جاہل کی باتیں کیا تحریر کیجائے.
اگر  ہمارا یہی حال رہا تو ہم اپنے کو  قعر مذلت کے بھیانک اور تاریک ترین گڑھے میں  گرانے والے ہونگے کیا خوب کہا کہنےوالے نے.
 *وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر* 
  *اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر* 
ابھی بھی وقت ہے ازسر نو اپنی زندگی کی آغاز کرنے کا ہم قرآنی زندگی کی شروعات کی فکر کریں اگر سوال پیدا ہوکہ قرآنی زندگی ہے کیا؟ تو غور کریں کہ ہم کس دِشا پر کھڑے ہیں ہمارا نوجوان طبقہ "مستقبل کی آس جس پر ہے" کہاں سرکھپارہا ہے اور اپنے شب و روز کہاں صرف کرنے میں کوشاں ہے یاد رکھئیے کہ نوجوان کو سماج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے 
اگر یہ طبقہ لایعنی باتوں، بے تکی مجالس، ٹھیٹر، سینما گھروں، عیاشی اور زناکاری کے اڈوں،موبائیل وانٹرنیٹ کا غلط اور سراپا غلط استعمال الغرض اس ڈگر سے کافی دور رہ کر اپنی زندگی کو گزار رہے ہیں تو یقینا آپ قرانی زندگی کی راہ پر رواں دواں اور گامزن ہیں اور اگر اس کے بر خلاف اپنی زندگی جی رہے ہیں تو سمجھ لیں کے وہ دن دور نہیں کہ ہماری  رسوائی، ذلت، پسپائی،بربادی، آفات ناگہانی اور نہ جانے کیسے کیسے امتحانات کے ایام شروع ہونگے جسکا تاب لاناہم ناتواں امت مسلمہ کے لئے بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے.
 *قارئین کرام* ! اگرجہاں آب و گل کے مسلم اکثریت واقلیت ممالک کا جائزہ لیا جائے تو نتائج بہت شرم کن اور حیران کن آئیں گے اور ایسا ہو کیوں نہ جب کہ سب کہ سب اس دنیافانی  کے پیچھے دیوانہ وار ڈورے چلے جارہے ہیں نہیں پتہ کے کہاں جارہے اور کس راستے سے جارہے ہیں کہیں دوشیزائیں زینت محافل ہیں تو کہیں سنیما اور کلب اور ٹھیٹر کا دور عروج پر ہے ایسے نازک حالات میں 
ہمارے اوپر غضب الہی کیوں نہیں بھڑکے گا آسمان کیوں نہ پھوٹے گا زمین کیوں نہ پھٹے گی ہروہ چیزیں جو تصورات سے بالاتر تھیں وہ  رونما ہورہی ہیں ہمیں جس سے دل لگانا تھا،جس کے مرتب کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوناتھا ہم نے اسے یکسر بھولا دیا اور جن چیزوں سے دوری بنائے رکھنا تھا اسے بہت قریب کرلیا ہم نے کہیں اپنی ذات کے بڑائی و پذیرائ کے لئے تو کہیں اپنے گھرکی ناموری کےلئے تو کہیں اپنے خاندان کی ناک اونچی کرنے اور نام و نمود کے لئے. اس لئے ذلت و خواری رسوائی ہماری مقدر ہوئی اور بزدلی نے ہمارے اندر اپنا ڈیرہ ڈال دیااور اگر اب بھی نہ جاگے تو خدا معلوم ہمارا حشر کیاہو 
اسلئے جو باقی ماندہ وقت زندگی ہے اسے کام میں لایا جائے اور ذلت و رسوائی کا کلنک  جس سے  ہماراماتھا داغدار ہے اس کو صاف ستھرا کرنے کی سعی پیہم کریں اگر ہم نے اپنی عادت و خصلت بدلی تو ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ ہمارا بول بالا ہوگا اسلام دشمن اپنا منھ اٹھاکر نہیں چل سکتا اور دنیا ہمارے لئے جنت کا نمونہ ہوگی. شاعر نے کیا اچھے انداز میں کہا ہے :
 *خدا نےآج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی* 
 *نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا* 
 *تو ہم عہد کریں کے* اپنی زندگی من چاہی نہیں رب چاہی گزاریں گے پھر جاکر موسم بہار کا مزہ لے پائیں گے ورنہ خزاں رسیدہ چمن خزاں ہی میں مرجھاکر فنا ہوجائیگا.  
  ※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
  ٤ مئی ٢٠٢٠ء

ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں




باسمہ تعالی 
      ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں
        ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
                   از قلم: محمد طاسین ندوی 
اعتماد و یقین کو دنیا کہ ہر میدان و محاذ پر کلید کی حیثیت حاصل ہے اگر اعتماد کا فقدان ہوجائے تو  بدظنی،کدورت،نفرت، فریب، درشت کلامی، دھوکااور اس قبیل کے بے شمار چیزیں جنم لیتی ہیں ابھی حالیہ واقعہ ایک سیاہ فام امریکہ جارج فلائیڈ کی موت کاہے جس نے پورے امریکہ میں کہرام مچایا ہوا ہے  یہ محض اعتبار و اعتماد کا مجروح ہونا  ہی تھا دوکاندار اور مرنے والے کے مابین مسئلہ بیس ڈالر کا تھا کہ آیا یہ اصلی ہے یا جعلی بیس ڈالر نےامریکہ کے چھکے چھڑادیے ہیں ہر  طرف احتجاج و مظاہرہ (protest )کا بازار گرم ہے پچاس سے زیادہ شھروں کے کام کاج بالکل ہی ٹھپ پڑے ہیں سیاہ و سفید فام عنصریت و قومیت پر نبرد آزما ہیں  صدر امریکہ کی ادنی سی چوک نے امریکی ایوان کو متزلزل کررکھا ہے ٹرمپ جو فرعون وقت ہے اسکی ہوا نکلی جارہی ہے نیشنل گارڈ،خصوصی افواج و دستے اس سیل روان کے سامنے کچھ کام آنے والے نہیں، احتجاج ہے کہ تھمنے والا نہیں مظاہرہ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتا ،  یہ ہے قبائلی غیرت و حمیت  کی مثال اور ہم ہیں کہ خیر امت کہلاتے ہیں ہمارے برادران اسلام کے ساتھ کیسے کیسے نازیبا و ناروا سلوک کیے جارہے ہیں اذیت ناک سزائیں دی جارہی ہیں گاجر و مولی کی طرح کند چھریاں چلائی جارہی ہیں 
ہم ہیں کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے داد عیش دے رہے ہیں سوچنے کی بھی طاقت و قوت ختم ہوتی جارہی ہے چہ جائیکہ ہم شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلیں اپنے برادران کے لئے؟
قارئین کرام!  قابل شرم بات یہ کہ امریکہ جو سپر پاور ہے وہاں احتجاج کرنے والے یہ نعرۂ مستانہ بلند کرتے نظر آتے ہیں کہ *ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں *We are not ARABS to kill us and keep silent یہ جملہ بظاہر ایک چھوٹا جملہ ہے لیکن بہت ہی پر مغز ومعنی خیز اور ہمیں (امت مسلمہ)  یہ دعوت فکر دے رہا ہیکہ اگر اب بھی تم خواب خرگوش میں رہے اور جاگ نہ سکے تو وہ دن دور نہیں کی غیرت و حمیت کےخاتمے کے ساتھ ساتھ تمہارا وجود بھی خطرے سے باہر نہیں، ابھی تو تم سوالیہ نشان بنے ہو، یہ بات کس حد تک درست ہے؟ چلیں عالمی منظر نامہ پر توجہ مبذول کرتے ہیں .. 
دین اسلام کے علمبردار ذات باری تعالی کے بارگاہ سب سے معزز و محترم اسوقت ہیں جب دین اسلام کے مدون اصول و ضوابط، آئین و قوانین کی پاسداری کرنے والے ہوں اگر اس ڈگڑ سے منحرف ہوگئے تو پھر فرمان باری تعالی "ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس " بحرو بر میں بگاڑ تمہارے کرتوت کے نتائج ہے . بالکلیہ صادق و فٹ آتا نظر آئیگا اسوقت دنیائے فانی میں جہاں بھی ہم رہتے بستے ہیں وہاں پسپائی،ذلت، حقارت، ہمارا مقدر اس لئے بنا ہیکہ ہم نے فرامین الہی، ھدایات مصطفوی کو سینت سینت کرکے  کسی صندوق کی نذر کردیا ہے اب بھی وقت ہے اگر ہم عقل کا ناخن لیں اور لوٹیں اپنے اس مراجع و مصادر کی طرف تو کوئی بندہ خدا دم خم نہیں رکھتا کہ ہمیں مغلوب کرسکے کیوں کہ ہم ہی تو ایسے دین کے پیرو کار ہیں جو اللہ کا ہے بس کمی ہماری ہے ہمارے کرتوت ہمیں سر اٹھا کرجینے نہیں دے رہےہیں  اسوجہ سے ہم دنیا میں بھٹکتے پھر رہے ہیں کہیں ہمارا  کوئی مستقر نہیں ہے.
اللہ تعالی سے دست بستہ دعاگوہوں کہ اللہ ہمیں دین اسلام کی صحیح فہم نصیب کرے تاکہ عوام الناس ہمیں دیکھ کر دین اسلام کو گلے لگائیں اور  دنیا و آخرت دونوں جہان میں ہمیں سرفرازی وسربلندی میسر ہو.   وماتوفیقی الا باللہ .
ــــ ـــــــ ــــــــ ــــــــ ـــــــ ـــــ ــــ ــ

ماہ شعبان المعظم اور ہم












              بسم اللہ الرحمن الرحیم         
         ماہ شعبان المعظم اور ہم
قسط اول
محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت جب دنیا کو وجود بخشا اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے بنائے اور ہر مہینہ الگ الگ خصوصیات سے نوزا فرمان باری تعالی ہے، "إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرࣰا فِی كِتَـٰبِ ٱللَّهِ یَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَاۤ أَرۡبَعَةٌ حُرُمࣱۚ ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُوا۟ فِیهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكِینَ كَاۤفَّةࣰ كَمَا یُقَـٰتِلُونَكُمۡ كَاۤفَّةࣰۚ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِینَ"   سورة التوبة 36
ان مہینوں میں سے ایک ماہ شعبان المعظم ہء اس ماہ مقدس کے فضائل پیغمبر اسلام سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی عمدہ و دلنشین انداز میں یوں بیان فرمایا "الشعبان شهري " شعبان ميرا مہینہ ہے .حدیث بالا سے ماہ شعبان کی فضیلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ کو اپنا مہینہ قرار دیاہے.
جس مہینے کی نسبت آپ کی ذات عالی صفات نے اپنی طرف کیا ہو تو اسکی عظمت و شان کا بکوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کونکہ نسبت سے شئی کی حقیقت بدل جاتی ہے.
اس ماہ کی فضیلت و عظمت اس سے بھی کیا جاسکتا ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے  کے اکثر حصے میں روزے رکھا کرتے تھے .چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام کے ساتھ رمضان مبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کا روزہ رکھے ہوں.
اور فرماتی ہیں کہ:  میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھے ہوں.
 عن عائشة رضي الله عنها قالت "ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان، وما رأيته في شهرٍ أكثر صياماً منه في شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلاً” رواه الشيخان
دوسري روايت میں ہیکہ "رسول اللہ کو تمام مہینوں سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان مبارک سے ملا دیتے.  "كانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شعبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ برَمَضَانَ"رواه الإمام أحمدوصحَّحه ابنُ خزيمة.

شب براءت کی فضیلت:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ماہ شعبان کی پندرہویں شب شب براءت کہلاتی ہے "براءت" کے معنی چھٹکارا  و رستگاری کے ہیں، شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: شب براءت کو شب براءت اسلئے کہتے ہیں کہ اس رات میں دو قسم کی براءت ہوتی ہے.
۱ـ ایک براءت تو بدبختوں کو اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتی ہے.
۲ـ دوسری براءت اللہ جل جلالہ کے دوستوں کو ذلت خواری سے ہوتی ہے. غنیۃ الطالبین  ۴۵۶
مزید یہ فرمایا کہ جس طرح مسلمانوں کے لئے اس روئے زمین پر عید کے دو دن ہیں اسی طرح فرشتوں کہ لئےبھی آسمان پر دو رات ہیں ایک شب براءت  اور دوسری شب قدر عید کی راتیں ہیں  کیونکہ وہ رات میں سوتے ہیں اور فرشتوں کی عید رات میں رکھی گئی کیونکہ وہ سوتے نہیں ہیں .غنیۃ الطالبین ۴۵۷

احادیث مبارکہ میں شب براءت کی بہت فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہیں جس میں سے یہ کہ اس شب کو اللہ جل جلالہ و عم نوالہ بے شمار لوگوں کی مغفرت کردیتے ہیں.
چنانچہ حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا؛: اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں.
عَنْ عَائِشَةَ قالت :فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا ہُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ ترمذی 
۱/۱۵۶ابن ماجہ ص۹ 

منگل، 9 جون، 2020

लोकतान्त्रिक देश नेपाल र नेपाली मुसलमान विश्लेषण र केही प्रस्ताव




✍️ लोकतान्त्रिक देश नेपाल र नेपाली मुसलमान विश्लेषण र केही प्रस्ताव
✍️ मुहम्म्द तासीन नदवी
नेपाल भूगोलिक हिसाबले तीन खण्डमा विभाजन गरिएको एउटा सुन्दर राष्ट्र हो जसको उत्तर तर्फ चीन अवस्थित रहेकोछ भने दक्षिण पश्चिम र पुर्ब तर्फ भारत रहेको छ।  नेपालको भूगोल अत्यन्तै बिबिध रहेको छ । यहाँ घना जङ्गलहरु उर्वर जमिन र विश्वका आठ अग्ला पहाडहरु नेपालमै अवस्थित रहेका छन। जस मध्य एक त विश्वकै सर्वोच्च सगरमाथा Mount Everset जोकि अन्तरास्ट्रिय जगतमा एउटा विशिष्ट नमुनाको रुपमा रहेको छ सो पनि नेपालमानै अवस्थित रहेको छ। नेपालको राजधानी काठमाडौं हो जो नेपालको सबैभन्दा ठुलो सहर पनि रहेको छ। हाम्रो देश नेपालमा विभिन्न जात जाति भाषा धर्म बण लिङ्ग क्षेत्र आदि बसोबास गर्ने साझा फुलवारी भनेर वर्णन गर्ने गरिन्छ। जबकि नेपालको राष्ट्रियभाषा कामकाजको भाषा एवम् सरकारी कार्यलयको भाषा नेपाली रहेको छ।
पहाडी क्षेत्रमा बसोबास गर्ने अधिकांश सामान्यता गोरा हुने गर्छन भने नेपालको अधिकांश जनसंख्या तराई क्षेत्रमा अवस्थित छ र  मुसलमानहरुको बसाई पनि तराई क्षेत्रमानै धेरै रहेको छ उनीहरुको रहनसहन लवाई खवाई परम्पराहरु भारतवासी सङ्ग मिल्दोजुल्दो छ। नेपाल भित्र ईस्लाम भारतीय व्यापारी मार्फत आएको इतिहास हामीलाई ज्ञात गराउछ सोहिकरण भारतीय सभ्यताको वर्चस्व रहेको भुझिन्छ। यहाँ अवस्थित अधिकांश मुसलमानहरु सामान्यता पिछडिएका अशिक्षित र राष्ट्रियभाषा नेपाली देखी अनविज्ञ रहेका छन। केही बर्ष अगाडी सम्म नेपालको पहिचान एउटा हिन्दु राष्ट्रको रुपमा थियो तर २०६५ सालको आन्दोलनले नेपाल हिन्दुराष्टदेखी एउटा लोकतान्त्रिक देश बनेको थियो। देशमा यो आमूल परिवर्तन पछि पनि नेपालको संविधानमा कुनै खास परिवर्तन हुन सकेन मुसलमानहरुका मौलिक हक अधिकार खोसिएको एथार्थ जगजाहेर रहेको छ भने नेपालको संविधानको हेराइ मुसलमान माथी कस्तो छ भन्ने पनि प्रष्ट हुन्छ। हामी पछाडीनुको मुल कारण पनि हामी स्वयम्नै हौ। हामी सङ्ग नेपाली भाषा छैन राम्रा नेता एवम् रह्बर छैन हामी सङ्ग स्कुल कलेज विश्वविधालय छैन यसैगरी कुनै ईस्लामिक सेन्टर छैन मिडियामा हाम्रो उपस्थिति शुन्य रहेको छ। फेरि कसरी हामी अगाडी बड्न सक्छौ ? कसरी उन्नति प्रगति गर्न सक्छौ ? मिडिया जसलाई लोकतन्त्रको चौथो अङ्ग मानिएको छ जसमा हाम्रो उपस्थिति न्यून रहेको छ ।जसको माध्यमले हामी आफ्नो हक अधिकारको लागि शसक्त रुपले आवाज उठाउन सक्छौ।अब आएर कसले हाम्रो लागी आवाज उठाईदिन्छ? हामीहरु कस्को पर्खाइमा बसेका छौ? के अब पनि हाम्रो हक अधिकारको लागि कोहि अरु आएर लडिदिन्छ्न? यदि यसो हैन भने फेरि हामिहरु किन मौन छौ?  हाम्रो दील निकैनै जटिल भैसकेको अवस्था छ हामीलाई यी कमीबारे थोरै आभास सम्म हुदैन। यदि हामीहरु यसैगरी निदाईरहेयौ भने त्यो दिन टाढा छैन जब हाम्रो अवस्था पनि ठिक त्यस्तै हुनेछ जस्तो बोसोनियावासी  चेचेनियावासी वर्मा र रोहिङ्गियाको भएको थियो र भैरहेको छ। अहिले अफ्नो अधिकारकोलागी लड्ने, सरकार सङ्ग हाम्रा मौलिक अधिकार माग्ने र हामी र हाम्रा पिढिको उज्ज्वल भबिस्यको लागी संघर्ष  गर्ने समय बितेको छैन। यदि अब पनि हामिले नेपाली भाषामा दक्षता प्राप्त गर्नको लागि प्रयास गरेनौं भने भोलिका दिनमा हाम्रा अगुवा यस्ता हुनेछन जललाई ईस्लामको आधारभुत शिक्षाको पनि ज्ञान् हुने छैन। म आह्वान गर्न चाहान्छु विषेश गरि मदर्साका विदयार्थीलाई जसरी तपाईं अरबी उर्दु भाषालाई आफ्नो जिबनको महत्त्वपूर्ण अंश मान्नुहुन्छ त्यसैगरी नेपाली र ईंग्लिश भाषामा पनि दक्षता प्राप्त गर्नुहोस्। गाउँ समाज देश बिदेशमा आफ्नो शिक्षा साहित्य सभ्यता बोलिबचन र भाषाको सिक्का जमाउनुहोस। अहिलेको तपाईंको समय भनेको  केही गर्ने र केही बन्नेको हो अवस्य पनि गर्नुस र सफलतालाई आफ्नो नाम गर्नुस। ताकी तपाईंलाई नेपालका कुनै विभागमा लज्जास्पद हुन नपरोस आफ्नो मुख खोलौ व नखोलौ भन्ने दुबिधा नपरोस् कसैले केही सोधे के जवाफ दिनेहोला भन्ने खाले जसता त्रासबाट टाढा रहनुहोस तपाईंलाई कसैको सामु मलाई राष्ट्रिय भाषा आउदैन भन्न नपरोस् । लौ अब आउनुस आज एउटा वाचा गरौँ ।  नेपालको संविधानको गहिराईको साथ अध्यन गर्नेछौ नेपाली भाषामा दक्षता प्राप्त गर्नेछौ र आफ्नो हक अधिकार स्वतन्त्रताको आवाज बुलन्द रुपले उठाउनेछौ भनेर। हामी यति सक्षम हौकि सरकारको माथिल्लो निकाय समेत हाम्रो सचेतना देखेर ऊ आफू सचेत होस। अब नेपालका मुसलमानहरु जागरुक भैसकेका छन अब उनिहरुलाई धोकामा राख्न सकिँदैन र इनिहरुको हक अधिकार हनन गर्न सकिँदैन। यो सबै चिजहरु तब सम्भव हुन्छ जब हामीले उच्च शिक्षा हासिल गर्छौ किनभने शिक्षाको अगाडी ठुला ठुला ठग धोखेबाजहरु निहुरिएका छन। अन्तमा अल्लाह सङ्ग मेरो दुवाछ अल्लाह ताआला सबै मदर्सा मक्तब र सबै मुसलमानलाई समझबुझ प्रदान होस हामीसबैलाई राष्ट्रियभाषामा दक्षता प्राप्त होस र हामी सबैको भविस्य उज्ज्वल होस।
      अनुवाद अबुबकर नदवी

اتوار، 7 جون، 2020

آدمیت اور محبت عیدکا پیغام ہے


بسم اللہ الرحمن الرحیم
   آدمیت اورمحبت عیدکا پیغام ہے     
  تحریر: محمد طاسین ندوی
                                                                 !الحمدللہ
ہم نے رمضان المبارک کے ایام جس اتحاد و انسجام کے
ساتھ گزارا وہ قابل قدر ہے آج رمضان کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچا اور یہ پیغام عام دے گیا کہ آپسی اتحادو اتفاق بنائے رکھنا ۔
 اے امت مسلمہ تم نے ایسا فریضہ انجام دیا جو اب پورے ماہ و سال کی گردش کے بعد ہی میسر ہوگا اور نہ جانے یہ حسین ایام تم میں سے کس کو میسر ہو اور کس کو نہ ہو ،تم اللہ کی ودیعت کردہ باقی ماندہ زندگی کے ایام کو اس کار گہ عالم کے خالق کی مرضیات پر ہی گامزن رکھنا اس میں تمہارہے لئے دونوں جہاں کی فلاح و بہبودی ہے۔
تم نے روزہ و سحری اور نمازوتہجد سے اپنی راتوں کو روشن کیا ،زندہ رکھا شب قدر کی برکتوں  اور رحمتوں  سے کشکول گدائی کو خوب بھرا بے کسوں، یتیموں ،بیواؤں،مفلسوں اور درماندوں کا بہت خیال رکھا تم نے لباس و پوشاک اور صدقہ وخیرات سے ان کے دلوں میں فرحت و مسرت کے شادیانے بجائے ، اب وہ ماہ مبارک رخصت ہوا ، اس کےبعد بھی اللہ پاک  تم سبہوں کو اس مہتم بالشان کام کی توفیق دیتا رہے  اور تم آپس میں اعتصام بحبل اللہ کا عملی نمونہ ہمیشہ پیش کرتےرہو اور فسطائی طاقت و قوت سے نہ گھبرا کر اس کے ایوان کو نعرۂ مستانہ سے متزلزل کردواور اتفاق و اتحاد کی ایسی مثال بن کر افق عالم پر ابھرو کےوہ  یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کے یہ اللہ کے پرستار حضرت آقائے نامدار احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے  سچے پکے متبیعن اور پیرو کار ہیں، ان کے لطیف اشاروں پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہیں جادۂ حق پر یہی لوگ ہیں سالاری کا پرچم ان کے ہاتھ میں زیب دیتا ہے ، عید تو عبارت ہے اسی اتحاد،انسجام اور اتفاق سے عیدببانگ دہل  بزبان حال یہ کہتی ہے *واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا* ... امت محمدیہ کے جیالو ایک ہوجاؤ  آپسی دوری کو ختم کرلو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو،  دنیا تھرا جائیگی اور اگر اس دستور ایزدی پر عمل پیرا نہ ہوئے تو یاد رکھو ..! پسپائی، فرقہ واریت،عنصریت،یکے بعد دیگرے سب سر اٹھائیں گے وہ  تمہیں  ہلاک وبرباد کر کہ قعر مذلت کے عمیق کھوہ میں لاگرائیں گے.
اب بھی وقت ہے جسطرح رمضان و عید میں متحد رہے اپنے نفس کو قابو میں  رکھ کراپنی اخروی ترقیوں کا سامان مہیا کیا اسے  اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی نافذ کرو اور جنت اپنے نام الاٹ کروالو .
قارئین محترم!  
ہم نے رمضان و عید کے نہایت ہی روح پرور ،پرکیف اور دلکش روز و شب کو بہت ہی خوش اسلوبی سے گزار نے کی کوشش کی، باری تعالی اپنے انعام و اکرم کے لئے  ایک گھڑی میسر کی ہے .ہرطرح کی لغویات،فحش،منکر افعال و اعمال سے اجتناب کرتے ہوئے اس دن کی رعنائی. خوبصورتی، دلکشی اور دلفریبی سے حدود و قیود میں رہتے ہوئے خاطر خواہ فائدہ اٹھائیں اور دعا کریں کے عید نے اتحادو اتفاق اور حسن عمل کا جو دلپذیر درس دیا اسکو ہمیشہ یاد رکھیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو اور آخرت میں اللہ تعالی کے حضور کم سے کم جوابدہ ہوں ..*للہ الامر من قبل ومن بعد*  .

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...