ماہ صفرالمظفر نحوست سے پاک
از قلم: محمد طاسین ندوی
ماہ صفر المظفر میں ہماری زندگی رواں دواں ہے اسلامی کلینڈر کے مطابق اس ماہ کو اسلامی مہینوں میں دوسرا مقام حاصل ہے یہ ایک مہتم بالشان مہینہ ہے لیکن جہالت کے زمانہ میں اس زمانے کو بدشگونی و بدفالی کے لئے خاص کرلیا گیا تھا جہالت کی چادر تلے اس دور میں بھی جو اپنی زندگیاں تمام کررہے ہیں وہ ان جاہلین سے کچھ کم نہیں وہ بھی بلائیں اور مصائب وآلام سے پر ماہ ماہ صفر کو گرداننے میں پیچھے نہیں جبکہ فرمان نبوی اس گمراہ کن افکارو نظریات کی تردید یوں کرتا ہے .
عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللہُ عنہ قال:قال النبيُّ ﷺ :”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ" حضرت امام بخاری نے اپنی جامع میں نقل کیا کہ مرض متعدی نہیں مگر اللہ کے حکم سے ماہ صفر بالکل منحوسیت سے پاک اور کسی پرندہ سے فال بد اور بدشگونی سراسر جہالت پر مبنی عمل ہے
حدیث بالا سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کے ہم جس اوھام و خرافات کے دلدل میں پھنسے ہیں اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں اور دین اسلام میں اس طرح کے باطل عقائد ونظریات کی رتی برابر گنجائش نہیں .
قارئین کرام!
ماہ صفر کے تعلق سے بے شمار توھمات و موضوع اور من گڑھت باتیں ہمارے معاشرے میں زباں زد خاص و عام ہے جس کا کوئی ثبوت ودلیل موجود نہیں ایسے موقع سے ہمیں اپنے علماء اور ائمہ سے رابطہ کرکہ اس کی حقیقت سے روسناش ہونے کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئیے تاکہ ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل میں پھنسنے سے بچانے کی فکر کر سکیں اور جو اس رو میں بہے جارہے ہیں ان کو راہ راست پر لانےکی سعئ پیہم کرکہ پکا سچا مؤمن بنانے کی جتن کرسکیں جو ہمارے وجود کا اولین مقصد ہے اور تعاون على البر والتقوي بھی ہے
فرمان باری تعالی ہے" کنتم خیر امة أخرجت للناس " اور "تعاونوا علی البر والتقوی " ان نصوص سے ہمیں یہی آگاہ کیا جارہا ہیکہ ہم اصول خداوندی پر رہکر اپنی زندگی کی صبح و شام کریں اور اپنے گردونواح کا بھی جائزہ لیں کہ ہماری قوم کہاں جارہی ہے تاکہ تعاون علی البر والتقوی اور خیر امت کا خطاب ہم پر منطبق ہوسکے
دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی اس کار خیر کا زریں موقع عنایت کرے. آمین
وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین
