جمعرات، 25 جون، 2020

نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار

محمدطاسين ندوی

     نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار 
ازقلم: محمدطاسین ندوی 
انسان جب کسی بھی عمل و فن اورتعلیم کاآغاز کرتاہےتوایسے ماہر، باذوق،باکمال شخصیت کی تلاش کرتا ہے جس سے نونہالان بھر پور استفادہ کرے اور ہر طرح کا گُر اس سے اخذ کرے نیز ایسی شخصیت جس کاانتخاب بچوں کی تعلیم و تربیت، یا فنکاری کے لئے کیا جاتا ہے  وہ استاد کہلاتے ہیں.
استاذ اگر مخلص،نیک دل،محنتی ہوتے ہیں تو اس سے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے بھی  خوش گفتار،خوش کردار، باغیرت،
خوددار،محنتی، ماہر اور اچھے اخلاق کے  حامل ہوتے ہیں کیونکہ اس نیک اور بااخلاق کی مثال اس عطر فروش کی ہے کہ اگر کوئی اس کے پاس جائیگا کچھ نہیں خریدے گا پھر بھی خوشبوہی  لیکرواپس آئیگا.
اگر استاذ ان صفات مذکورہ سے متصف نہیں تو پھر وہ استاذ تو ہوگا لیکن اپنے شاگردان کو اسی سے لیس کرے گا جو وہ دانستہ یا نادانستہ انجام دے رہا ہوگاکیونکہ اکثر چھوٹے اپنے بڑوں کی نقل کرتے ہیں
وقاص اعوان رقمطراز ہیں کہ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے.خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آ جاتے ہیں۔ ایک معمولی سی نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں 
قارئیں کرام! استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنےکو آج  قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے
کسی بھی انسان کے والدین اس
پیدا کرنے کا ذریعہ و توسط  توہیں  لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں  اور اس کی شخصیت کو نکھار نے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔
دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی  ایک عمدہ و مخلص اور مثالی استاذ بنائے آمین یارب العالمین

پیر، 22 جون، 2020

نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت


  بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت 
  تحریر : عبداللہ ندوی 
 ہمارا وطن عزیز نیپال جغرافیائی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے، یہاں کے ہرے بھرے اور گھنے جنگلات، بلند پہاڑ، پوری دنیا میں معروف و مشہور ہے، دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیوں میں سے ماونٹ ایورسٹ ( Mount Everest ) سب سے بلند اور اونچی چوٹی ہے، جو ہمارے وطن عزیز ملک نیپال میں واقع ہے، ملک نیپال میں مختلف نوع نسل و رنگ اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ رہتے بستے ہیں، حالانکہ نیپالی زبان یہاں کی "سرکاری"زبان ہے، یہاں کی اقتصادی اور معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور کمزور ہے، جس وجہ سے یہاں کے اکثر و بیشتر لوگ بیرون ملک سعودی عرب، قطر، دبئی، بحرین، کویت، اسلامی و غیر اسلامی ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں، تاکہ اپنی اقتصادی و معاشی حالات کو بہتر اور مضبوط بناسکیں، مختصر یہ کہ نیپال چند عرصہ قبل تک ایک ہندو "راسٹ" دیش تھا مگر 2008ء کے انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک میں تبدیل ہو گیا، مگر پھر بھی یہاں کے آئین و قوانین میں کوئی خاص ترمیم اور بدلاو نہیں آیا، مسلمانوں کے حقوق و مطالبات جس طرح راجا مہاراجہ کے دور میں پامال ہورہے تھے وہ ہنوز  ابھی بھی بدستور جاری ہے، یہاں بود و باش اختیار کر نے والے مسلمان عموما نا خواندہ و پسماندہ ہیں، جو یہاں کی سرکاری زبان "نیپالی زبان" سے بالکل ناآشنا اور نابلد ہیں، ان کا اپنا کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، معیاری لائبریری، اسلامی سینئر، میڈیا، نیوز چینل کچھ بھی تو دستیاب نہیں جن سے ان کی اولادیں خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کر سکیں اور نئی نسل کی آبیاری بروقت کر سکیں اور انہیں کوئی مثبت فائدہ مند سوغات یا پیغام دے سکیں، ابھی بھی وقت ہے کہ نیپالی زبان کی  نشر و اشاعت کی جائے اپنی بول چال میں اس کا استعمال کیا جائے سیکھنے اور سکھانے کا ماحول پیدا کیا جائے اپنے افکار و خیالات و نظریات کو بلند کیا جائے، ارباب حل و عقد، ذمے داران مدارس و مکاتب، ذی شعور حضرات، قوم و ملت کے دانشوران و رہنما حضرات، اور اسلامی لیڈران و قائدین بروقت ان باتوں پر توجہ مرکوز کریں، ان شاء اللہ العزیز کامیابی مقدر ہو کر رہیگی، کیونکہ نیپالی زبان کو "سرکاری زبان" ہوئے کے اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جس کا سیکھنا اور سکھانا وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ ہمیں کسی بھی سرکاری دفاتر، بینک، عدالت، مالپوت ،پولیس اسٹیشن، اور دیگر کسی بھی مقامات پر پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور ہم بلا جھجک ٹیبل ٹھوک کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم نیپالی زبان پر مکمل دسترس حاصل کر یں،تاکہ ہم زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں یہاں کے آئین و قوانین کے مطابق کامیابی حاصل کرسکیں، اہل مدارس طلبہ و طالبات پر خوب محنت کریں بالخصوص نیپالی اور انگریزی زبان میں ان کو ماہر بنائیں، تاکہ وہ پست ہمتی اور حوصلہ شکنی کا شکار نہ ہوں، بلکہ بلند خیالات و نظریات کے حامل و مالک ہوں، اور روز افزوں ترقی کے منازل طے کرتے رہے، جس ملک میں ہم رہتے بستے ہیں وہاں کی زبان سے شناسائی وطن پرستی کی دلیل اور علامت ہے، اور اس سے لاعلمی، بے تعلقی، بے فکری، بے خیالی، بے توجہی و بے التفاتی،اور عدم دلچسپی جاہلانہ اور احمقانہ فعل ہے، اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں اپنی زبان سیکھنے سکھانے اور اس کی ترویج و اشاعت کی لگن اور محنت شروع کر دینی چاہئے تاکہ ہم اپنی شناخت اور ملی تشخص کو برقرار رکھ سکیں، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین

اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب

  اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب از :محمد طاسین ندوی  ​دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری ...