منگل، 16 جون، 2020

خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟


 خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟؟
دراصل دنیا کی کشش انسان کو خواہ اپنی جانب کھینچ لے جائے اور اسے خواہشات کی وادی کا شہزادہ بنا کر پرواز کرادے، اسے یہ بھی محسوس کرادے کہ دنیا اس کی جاگیر ہے، وہ سب کا مالک و آقا ہے، دو عالم اس کی ہیبت سے رائی ہے، پہاڑ ذرہ اور دریا قطرے کے مانند ہے، اسے ہر لمس پر جہاں کی خوشیاں نصیب ہو، کھوٹا کھرا بن جائے، مٹی سونا ہوجائے، چمک دمک کی چوندھیا دینے والی روشنی اس کی آنکھوں کو گھیر لے، زندگی کی رمق اور نبض حیات پر اسے کنٹرول لگنے لگے، اسے یہ بھی باور کرایا جائے کہ اب زمین کی سطح اس کے پیروں کی محتاج ہے، آسمان کی بلندی اس کے سر کو لگتی ہے اس کے بازوؤں قوتوں کا کرنٹ دوڑتا ہے، وہ چلے تو دنیا تھم جائے، نظام عالم پر وہ قابض ہے، وہ ہاروت و ماروت سا جادو پالے، وہ مسیحائی بھی رکھ لے، کرشماتی طاقت اور بالخصوص جوانی کا جوش، گرم خون کی کاوش، تعلیم کی ہوشمند، دم گرم اور دمساز بھی پالے، اپنے ارد گرد شہرت و دولت کا انبار لگا لے، دنیا کی نعمتیں اس کے اشارے کی محتاج ہوں، اسے یہ بھی لگتا ہو کہ اب دنیا اس کے ہاتھوں کی لونڈی ہے، قرب و جوار کی بھیڑ، لوگوں کا ہجوم، اس کی ہر بات پر داد، اس کی مسکان پر چہک، اس کے انداز پر قربان اور اس کی ادا پر مر مٹنے والے ہوں، جسم کی قوت، ذہانت و ذکاوت اور صلاحیت و قابلیت کا ڈھیر ہو، اپنی مرضی سے دنیا کو جو چاہیں پیغام دیں، حسن ادا سے سب کو مسحور کردیں اور خود پر اعتماد بحال کئے بغیر نہ رہیں، اور یہ لازمی بن جاتا ہو کہ اپنی بہتر پیشکش اور اعلی انداز سے ہر کسی کو موہ لیتے ہوں، دنیا کی عمارتیں ان کے نام سے مزین ہوں، کتابوں میں ان کے چرچے ہوں، لوگ تاریخ کو بھی ان سے پہچانتے ہوں، غرض یہ کہ موجودہ دور میں جو کچھ انسانی زندگی کا اعلی ترین معیار ہو اور جسے عوام ایک بہتر زندگی سمجھتی ہو وہ سب کچھ ان کے پاس ہو تب بھی وہ خودکشی کرلے تو اسے کیا کہیں گے؟ زندگی کو ایسے موڑ پر ختم کردینا جب جینے کی توقع ہو تو اسے کس طرح تعبیر کیا جائے؟ دنیا کے سامنے صحیح و غلط کا سبق پڑھاتے ہوں مگر خود ہی زندگی کو دشمن مان کر پھانسی کے پھندے پر لٹادے تو اسے کیا کہیں گے؟*
اب ان سب پر غور کرنے کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھئے:الذين آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (رعد:٢٨) " وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی یاد سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سکون ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے، اسے دکھ سکھ میں جینے کا ہنر بتاتی ہے، زندگی کو ایک امانت اور رب کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتی ہے، اسے یہ یقین کرواتی ہے کہ اس کی زندگی رائیگاں نہیں ہے، وہ مصائب میں الجھ کر اسے ضائع نہیں کر سکتا، امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتا، دنیا فانی ہے، روشنیاں مٹ جائیں گی، چراغ بجھ جائیں گے مگر خالق و مالک کا تذکرہ باقی رہے گا، اور وہی دلوں کو تھامے رکھے گا، ذرا سوچئے! اگر کسی کے اندر یہ جذبہ ہو تو وہ کیوں کر خود کشی کر سکتا ہے، لیکن افسوس دنیا کی تیز و تند ترقی اور مصنوعی دل نے انسان کو سب کچھ دینے کے باوجود یاد الہی سے محروم کردیا، جو سب سے بڑی دولت تھی، جو مقصد اور زندگی کا لب لباب ہے، استاد گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے بہت خوب لکھا ہے: " عام طور پر مادی سہولتوں کو سکون و اطمینان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اطمینان دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ جس میں انسان کو قرار آجائے اور آگے کی لالچ باقی نہ رہے، جیسے ایک شخص کو کسی خاص شہر تک جانا ہے تو اس شہر کو پہونچنے کے بعد وہ مطمئن ہوجاتا ہے، اس سے پہلے خواہ اسے اچھے سے اچھا اور خوبصورت سے خوبصورت شہر نظر آجائے، انسان بے اطمینانی سے دوچار رہتا ہے، اور اپنی منزل پہنچنے کیلئے طبیعت مضطرب رہتی ہے، مادی چیزوں کی حرص جن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتی ہے، ان کی منزل کبھی آتی ہی نہیں، وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ پر یقین ہوتا ہے، اللہ کی یاد سے ان کے دلوں کوطمانینت حاصل ہوجاتی ہے، اگر اس نے کم دولت بھی حاصل کی تو یہ سوچ کر کہ چونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور ہم اس پر راضی ہیں، اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے__" (آسان تفسیر قرآن مجید)

✍ محمد صابر حسین ندوی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...