جمعرات، 16 جولائی، 2020

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں؟

باسمہ تعالی

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں ؟

ازقلم:  محمد طاسین ندوی
ڈاکٹر کفیل خان بھی ہمارے ہی طرح ایک بشر ہیں انہوں نےاپنی زندگی کی مختلف بہاریں دیکھی، مخلتف ادوارگزارے، کبھی خوشیاں نے قدم بوسی کی تو کبھی مصائب و آلام نے ستایا ،کبھی جہد پیہم کے پیکر ہوکر عرق میں ڈوبے ہوئے پائے گئے،تو کبھی سیلاب زدگان کے علاج و معالجہ کی فکر نے ان کی نیند اڑادی، کبھی صوبۂ بہار جاکر ہندوستانی پیر و جوان بچے و بچیاں، ان پڑھ اور تعلیم یافتہ کی داد رسی کی ،تو کبھی گورکھپور کے  ہاسپیٹل میں دم توڑتی انسانیت کو اپنے نحیف و ناتواں کندھے سے سہارا دیا اور سسکتی بلکتی ماؤں کو دلاسہ دیا اور ان کے بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کیا یہان تک کہ اپنی کار پر آکسیجن کے سیلینڈر لاد لاد کر لائے اور ان بے گناہ، معصوم، نونہالوں کی جان بچانے کی فکر میں سر گرداں و پریشان رہے، اورجب ہندوستانی کی بی جے پی حکومت نے CAA,NRC,NPRجیساکالا و زہریلا قانون لاکر  اپنا پھن پھیلایا تو اس پھن کو توڑنے کی کوشش تقریبا ہندوستان کی ساری جنتا نے کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ساز چھیڑا اور پورے ہندوستان نے یہ باور کروایا کہ ابھی بھی زندہ دل افراد باقی ہیں جنہیں سکون اس وقت ملتا ہے جب قوم و ملت کو سکون میسر ہو ،ادھر مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ  کے اسٹوڈینٹ یونین نے اس کالے قانون کے خلاف اپنا جمہوری حق کا استعمال کیا تو جناب ڈاکٹر کفیل خان- جن کی زندگی امن و امان، غریبوں کی فکر، بچوں کے علاج و معالجہ،  رفاہی سرگرمیاں اور دیگر کام سے عبارت ہے - انہوں نے بھی اس کالے قانون کی بھر پور مذمت و مخالفت کی اور انہوں نے ملک و دیس کے خلاف کوئی نفرت و ہنسا کی بات بالکل نہیں کیابلکہ اپنا جمہوری حق کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کا  اس کے باوجود وہ پس  زندان کئے گئے جہاں  اپنی زندگی کے شب و روز بہت ہی تکلیف و پریشانی کے عالم میں گزار رہے ہیں ایسا اسلئے ہواکہ یوگی حکومت ان پر شکنجہ سخت کرنے کے تگ ودو میں ہر لمحہ وہر آن کوشاں تھی.جبکہ اس حادثہ جانکاہ سے پہلے بھی انہیں پس زنداں کیا گیا تھا یوگی جیسی بدمعاش، بدباطن،بدخصلت وبدطینت حکومت کی وجہ سے دوبارہ انہیں پھر جیل میں ڈالا گیا اور جب عدالت کی شنوائی کے بعد ان کو ضمانت ملی تو اس ناپاک اور خبیث حکومت نے سخت ترین دفعہ لگا کر انہیں  یاس و قنوطیت کا دوبارہ شکار کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن واہ  رے مرد قلندر ڈاکٹر کفیل خان، اللہ  تمہیں خوب ہمت وحوصلہ  دے،  مرد خرد مند نے جیل سے ایک پیغام عام کیا  جس میں لکھا کہ جیل میں انہیں کن چیزوں کا سامنا ہے، کیا فیس کرنا پڑرہا ہے، انہوں نے یہ بھی لکھا کہ  کیا ڈاکٹر کفیل خان ایک کمزور طبیعت کا بزدل انسان ہے جو خودکشی کرلیگا یا راز کچھ اور ہے . انہوں نے ان دو چند صفحات پر جیل کے حالت زار کے ساتھ یہ بھی تحریر کیا ہیکہ انہیں خدشہ ہیکہ  ان کا انکاؤنٹر کردیا جائے ،اور راقم کو  یوگی سرکار کی نیت پر شک ہے کیونکہ کتنے ایسے بے گناہ یا جو سرکار کی قلعی کھولنے والے ہوں ان کو صفحۂ ہستی سے چلتا کیاجا چکا ہے ابھی حالیا واقعہ وکاس دوبے کانپور والا سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں ایسا کھیل کھلاگیا.
قارئین کرام: ہمیں  اچھی طرح واقفیت ہیکہ ڈاکٹر کفیل خان نہ تو کوئی دہشت گرد ہیں اور نا ہی ڈکٹیٹ و لٹیرے بلکہ وہ ایک بری،  بے گناہ اور غریب و فقیر انسانوں کے مسیحا, داد رس،  جس مسیحائی وداد رسی  کے پاداش میں بطور صلہ کے انہیں جیل کی کال کوٹھری ملی ہے، کیا ہم حضرت انسان انہیں یونہی چھوڑدیں یا اس ظلم و سفاکیت و بربریت مرکزی و یوگی حکومت کے خلاف آوز حق بلند کرکہ انہیں حق و انصاف دلائیں ، کیونکہ یہ ظلم و ستم صرف ڈاکٹر کفیل خان پر نہیں بلکہ پوری انسانی برادری پر کیا جارہا ہے حق بولنے والوں کے گلے کو گھونٹنے کی پالیساں ایوان میں بیٹھنے والے بنارہے ہیں کیا اس کے اس پالیسی کا پردہ چاک نہیں کیاجائےگا؟ ہاں بالکل کیا جائےگا، تو اب ضروت ہے اس بات کی کہ ہم بلاتفریق دین و ملت، مذہب و مسلک،جوان و پیر سمبیدھان کے حدود میں رہ کر ڈاکٹر کفیل اور ان جیسے بےشمار بے گناہ اور سجن لوگوں کی رہائی کے لئے اپنی طاقت بھر بستی بستی، قصبہ قصبہ  بھر پور انداز میں جمہوری حق کو ملحوظ رکھتے ہوئے آواز بلند کریں کہ ایوان بالا اور یوگی حکومت لرزہ بر اندام ہوجائے اور ان بے گناہوں کو رہا کرنا ہی پڑے پھر اس حکومت کی عقل ٹھکانےپر آئے گی اور سمجھے گی کے عوام اور جمہور کیا چیز ہے.
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ اللہ ڈاکٹر کفیل خان اور ان جیسے بے شمار انسان جو پس زنداں ہیں ان کے گلوخلاصی کا سبیل نکال دے جو انسانی برادری ان کے لئے دعائیں کررہے ہیں ان کو قبول کرلے،  کیونکہ تیری ہی ذات عالی صفات ہر چیز پر قادر ہے.وما توفیقی الا باللہ

بدھ، 15 جولائی، 2020

رسم جہیز اور ہمارا معاشرہ

رسم جہیز اور        ہمارا معاشرہ        
 محمد طاسین ندوی
جس سماج میں ہم نے پروش پائی ہے، رہتے, بستے ہیں وہ یقینا ایک محترم، معزر، عظیم،مجتمع اور سماج ہے اللہ نے دین اسلام کے پیرو کار ہی کو دنیا کی اعلی و ادنی، بیش بہا و ارزاں ہر چیز سے مہتم بالشان ، معزز،محترم بناکر اس دنیاء آب و گل میں وجود بخشا اور کھرا و کھوٹا،حق وباطل،جائزومباح،حرام و حلال کے بارے میں بہت ہی ارفع و اعلی دستور سے نوزا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما : كتاب الله وسنتي " رواه مالك 
 میں نے تمہارے مابین دوچیزیں چھوڑی ہیں تم ان دونوں کو تھامے رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے. وہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور احادیث رسول مجتبی ہیں ,ہاں اگر اس اصول نبوی کو بھلادیاجائیگا،احادیث کی کتابوں میں ہی بند کردیا جائیگا تو یقینا وہ ساری کمیاں، خرابیاں،بگاڑ،بدامنی،ہمارے سماج،مجتمع،ومعاشرے میں لاعلاج بیماریاں کی طرح عریاں اپنی بزم سجائیں گی ،نہ جانے کتنے لوگ اس کے لقمۂ تر ہوجائیں گے، 
کیونکہ نکاح انسانی فطرت کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے  سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر اس جائز طریقے پر رکاوٹیں عائد کی  جائیں روڑے اٹکائے جائیں یا اس کو مشکل بنایا جائے تو  اس کا  لازمی نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے  جائز راستے مسدود  پائے گا تو اس کے دل میں ناجائز راستوں کی طلب پیدا ہوگی،  جو انجام  کار معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بنے گی حدیث رسول ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا‘‘رواہ الترمذی
 اور ہم بحیثیت ایک مثقف و مھذب، تعلیم یافتہ و عالم فرمان رسول فرد کے مجتمع بھی اس لاعلاج بیماری سے بچ سکیں گے ؟ذہن میں ضرور سوال پیدا ہورہا ہوگا وہ بیماری ہے کونسی، اور کیسی تو صرف طائرانہ نظر ڈالیں اپنا جاں بلب معاشرہ پر، سسکتی بلکتی والدین پر جن کے گھروں میں صنف نازک ہیں کیا پوزیشن ہیں ایسے افراد مجتمع کی، اگر صاحب ثروت ہیں اور ان کے پاس بیٹاں ہیں تو وہ کیا کچھ نہیں دیتے اپنے ہونے والے داماد کو اور اگر ایک غریب و لاچار فرد جس کے پاس بیٹاں ہیں وہ کیا کرے اپنی ساری جائداد جو بہت مختصر ہوتی ہیں ان ناعاقبت اندیش بھیکھاری پر بھینٹ چڑھادے یا شادی کے بعد مفلوک الحال، محتاج و درماندہ ہوکر کاسئہ گدائی لیے اپنے بچوں کی پروش و پرداخت، تعلیم و تعلم کے لئے چندہ بٹورے.   ہم تو یہ ضرور کہیں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن کیا ہماری اس بول سے یا اتنا کہ دینے سے یہ بدامنی ختم ہوجائیگی؟ نہیں ہرگز نہیں.  اور یہ  یاد رکھئیے! صاحب ثروت ہوں یا فقیرو مسکین اپنے ہونے والے داماد کو یونہی نہیں دیتے بلکہ یہ بھیکاری سمدھی،  داماد ،یا ان کے متعلقین مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے یہ یہ سامان تعیش چاہئیے، اتنے مال و زر چاہئیے پھر جاکر رشتہ پکا ہوگا،اورجب اس طرح کے بھیک منگے کی مانگ پوری نہیں ہوتی یا کچھ کسررہ جاتی ہے تو اس وجہ سےیا تو رشتہ نہ ہو پاتا ہے اگر ہوگیا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے اخباروں کی یہ خبرسرخیاں بنی رہتی ہے کہ فلاں نےاپنی بیوی فلانۃ کوصرف گاڑی یا بھرپورجہیزنہ ملنےپر قتل کردیا،اوراس بےچاری کو ان کےسسرال والوں نےمار پیٹ کر بدحال کردیا تو کہیں آگ میں جلادیا. روزمرہ  اس طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں ،کتنی پشیمانی کی بات ہے کیا یہی شادی و نکاح ہے جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ہے "إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة" رواه النسائي ٩٢٢٩
سب سے عمدہ بہتر نکاح برکت کے اعتباروہ جو اسراف ابذار سے پاک ہو  
جن رسموں سے ہمارامعاشرہ دوچار ہے اسکی شریعت میں کوئی نظیر و دلیل نہیں بلکہ 
اس معاشرہ کو جہنم بنانے والے، شادیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنادینے والے ڈکیٹ، اچکے ،بدمعاش نےکبھی یہ سوچا کہ اگر ہم نے جہیز کے لئے دست درازی کیا تو معاشرہ کہاں تک بدحال ہوگا، نہیں بالکل نہیں اگر یہ دوسروں کے ٹکڑے پرجینے والے، دست سوال دراز کرنے والے ناسور، بھیگ منگے   اپنے بارے میں بھی سوچا ہوتا تو معاشرہ کی بیٹاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کی اکثر دہائیاں یونہی نہ بتاتیں.  ایک  بڑا المیہ یہ کہ جاہل و ان پڑھ تو درکنار اب علماء دین،مفتیان شرع متین، مدعیان عالمِ قرآن وحدیث  بھی ان کے سُر میں سُر اور تال میں تال ملانے کی جہد میں سرگرادں و حیراں ہیں پیشکش کرتے ہیں کہ اگر فلاں ابن فلاں جو کہ ڈاکٹر،انجنئیر،بزنس مین ہے ہمارے جگر پارہ سے شادی کریگا تو فلاں فلاں گراں قدر سامان کے ساتھ ساتھ فور ولیر گاڑی میں ھدیہ کرونگا. افسوس صد افسوس ہے ایسے مدعیان علوم نبوت پر کہ آخر سماج کو قعر مذلت تک ڈھکیلنے اور شادیاں جو بالکل آسان تھی سخت ترین بنانے میں ان پڑھ بھیکاری اور ہم علماء بھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں. ہمیں بھی بس اتنی فکر ہوتی ہیکہ کسی طرح میری بیٹی و جگر پارہ کا مناسب اور عمدہ رشتہ لگے اچھی جگہ شادی ہوجائے جو دینا لینا ہوگا دیکھا کر یا چھپا کر کیا جائیگا.
قارئین کرام!  کیا یہی دین پسند اور دیندار لوگوں کا طرہ امتیاز ہیکہ سماج اور سوسائٹی کے افراد کا رخ جہیز کے طرف کریں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارا شیوہ ہی
یہ ہوکہ  اس کے رخ موڑنے کی بھر پور کوشش کریں اور ایسی شادیاں جس میں شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط روندے جارہے ہوں اسکا بائیکاٹ کریں لوگوں کو سمجھائیں دین کی تعلیم عام کریں اور شادی جو آج کل بہت ہی بھاری بھرکم چیز بن گئی ہے اسے آسان بنانے کی سعئ پیہم کریں کیونکہ یہی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علماء وارثین انبیاء ہیں ان حضرات نے جو اعمال و افعال انجام دیے اب ان کی ساری ذمہ داری ہمارے ناتواں اور نحیف ولاغر کاندھے پر ہیں اگر ہم نے درست و صحیح باتوں کی ترویج کیا, لوگوں تک پہنچانے کی جتن کی تو ہم کامیاب ہیں ورنہ ہم بھی مجرموں کی فہرست سے باہر نہیں ہوسکیں گے.
اللہ تعالی ہمیں جہیز جو ایک ہندوانہ اور جاہلانہ رسم اور رشوت جیسی لعنت اس سے دور رکھے، معاشرہ و سماج کو بھی اس ناسور سے نجات دے، حفاظت فرمائے تاکہ نکاح وشادی آسان ہوسکے. وماذلک علی اللہ بعزیز.

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...