ہفتہ، 30 مئی، 2020

جس نے زبان روک لی وہ پاگیا نجات

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 *جس نے زبان روک لی وہ پا گیا نجات* ★★★★★★★★★★★★★★★★
                             از. محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک تعالی نےحضرت انسان پر جہاں بے شمار بیش بہاانعام واحسان فرمایا ہے ان میں سے ایک عظیم وگراں نعمت لسان و زبان ہے جو دیکھنے میں چند انچ کی لیکن اگر اس سے  کارخیر انجام دیاجائےتوبہت عمدہ اور شریعت ،سماج، معاشرہ، رفیق وعدو ہرخاص و عام کےنزدیک مقام ومنزلت کے اعلی منازل طےکرتی ہےاور اسکی صدائے بازگشت سن کر روح وقلب کو جو فرحت و انبساط میسر ہوتی ہے اس کا اندازہ فرمان نبوی سےلگایاجا سکتا ہے :
عَنْ سَهْلِ بنِ سعْدٍ قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بيْنَ رِجْلَيْهِ أضْمنْ لهُ الجَنَّة"متفق عليه
جس شخص نے مجھے گارنٹی دی زبان اور شرمگاہ کی تو میں اسکے لیےجنت کی گارنٹی لیتا ہوں.
یہ ہے قبولیت عندالناس و عنداللہ اگر ہماری زبان اپنےحدودو ودائرہ میں رہتی ہے تو معاشرہ.، خاندان، قبیلہ،  اعزہ واقارب،  ہمسایہ،  رفیق و رقیب، الغرض سبہوں کی نگاہ میں -باوجود اختلاف رائے - عزت و احترام ملحوظ رہتی ہے اور اگر ہم نے اپنی زبان کو شتر بے مہار بنالیا تو یاد رکھئیے مجتمع، دوست وعدو کیا احکم الحاکمین بھی ہم سے نالاں ہوکر اس کا نوٹس لیتا ہے فرمان باری تعالی ہے "مَّا یَلۡفِظُ مِن قَوۡلٍ إِلَّا لَدَیۡهِ رَقِیبٌ عَتِیدࣱ"سورة ق ۱۸
 انسان جو بھی بولتا اللہ تبارک و تعالی اسے اپنے فرشتوں کے ذریعہ نوٹ کرواتے ہیں آیا اس بندۂ خدا نے ابھی زبان کھولی ہے تو کیا یہ مناسب و موزوں اور جائز مقام ہے یا بے محل اپنی زبان کو حرکت دی ہے 
یہی زبان ہے جو ایک کسوٹی کی مانند ہے جس سے باشعور اور بے شعور شخصیت کی پہچان عمل میں آتی ہے اگر ہم نے اپنی زبان؟ کو لگام دیا اسکو حدود وقیود کا پاپند بنایاتو اللہ کی بے شمار نعمتوں سے سرفراز ہوسکتےہیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو غور کیجئے  قیامت کے دن انسان و زبان  کا کیا حال ہوگا  ارشاد باری تعالی ہے "ٱلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰۤ أَفۡوَ ٰ⁠هِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَاۤ أَیۡدِیهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ یَكۡسِبُونَ"سورة يس ٦٥
 آج ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے کہ یہ لوگ کیا کیا کررے تھے. تفسیر ماجدی 
غرض یہ کہ پوری روداد زندگی ہاتھ اور پیر پیش کریں گے اور زبان پر باری تعالی تالا ڈالدیا ہوگا
اے باشعورمسلمانوں ہمیں تو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا از حد ضروری ہے کیونکہ اس زبان ہی کیوجہ سے لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے فرمان نبویﷺ ہے 
ألا أخبرك برأس الأمر وعموده وذروة سنامه؟ قلت : بلى يا رسول الله قال : رأس الأمر الإسلام  وعموده الصلاة ، وذروة سنامه الجهاد  ثم قال:ألا أخبرك بملاك ذلك كله ؟ قلت بلى يا رسول الله فأخذ بلسانه  قال : كف عليك هذا قلت : يا نبي الله وإنا لمؤاخذون بما نتكلم به؟ فقال : ويحك يا معاذ  وهل يكب الناس في النار على وجوههم أو قال على مناخرهم إلا حصائد ألسنتهم رواه الترمذي  وقال : حديث حسن صحيح 
 آپ ﷺ نے فرمایا’’کیا میں تجھے ایسی بات نہ بتلاؤں؟ جس پر ان سب کادارومدار ہے ‘‘ میں نے کہا کیوں نہیں؟ اے رسول الله ﷺ پھر نبی ﷺ  نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ’’اس کو روک لے لگا م دے  میں نے دریافت کیا کیا ہم زبان سے جو گفتگو کرتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’تیری بربادی ہو جہنم میں لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی کھیتیاں ہی اوندھے منہ گرائیں گیں‘‘جامع ترمذی کتاب الایمان باب ماجاء فی ‏حرمۃالصلاۃحدیث٢٦٦١
یہ زبان اگر حق کی آواز بلند کرتی ہے  اور موزوں ومناسب جگہ کھلتی ہے تو باعث داد وتحسین اور اگر ناحق کھلتی ہے تو دنیا میں بھی ذلت و خواری اور آخرت میں بھی رسوائی و بربادی.  
 *قارئین کرام!* زبان ایک ایسی دھار دار تلوار ہے جس کے بارےمیں عربی شاعر نے کہا ہے
جِراحات السِّنانِ لها التِئامٌ -- وَ لا يلتامُ ماجَرَحَ اللسانُ 
تلوار کی کاری ضرب تو مندمل ہوسکتی ہے 
لیکن زبان کا زخم مندمل نہیں ہوتا اس کی ضرب نہایت ہی کاری ہوتی ہے 
اسی زبان کے بارےمیں کہا ہے 
الفاظ ہی ایسے ہوتے ہیں دل جیت بھی لیتے ہیں دل چیر بھی دیتے ہیں 
زبان ہی کی جادو گری سر چڑھ کر بولتی ہے 
اگر الفاظ سائشتہ اور مہذہب ہوں تو بولنے والے کی تہذیب اور ثقافت کا آئینہ دار ہوتے ہیں 
اگر زبان پھسلی تو شخصیت بھی معتوب اور مطعون ہوکر رہ جاتی ہے کتنے زن وشو کی زندگیاں تباہ وبرباد ہوگئیں اور نہ جانے کتنے رشتے ناطے  اسی زبان کی وجہ سے تہس نہس ہوگئے .
 *قارئین کرام!*  
اگر ہم نے اپنی زبان کو اپنے نفس کے تابع کرلیا تو ہم اپنے نفس کی ہر  کچی پکی بات، وساس ،اور برائی پر کان دھرنے والے ہوجائیں گے کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے.
" وَمَاۤ أُبَرِّئُ نَفۡسِیۤۚ إِنَّ ٱلنَّفۡسَ لَأَمَّارَةُۢ بِٱلسُّوۤءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۤۚ إِنَّ رَبِّی غَفُورࣱ رَّحِیمࣱ"سورة يوسف ٥٣
میں اپنے نفس کو بھی بَری نہیں بتلاتا بے شک نفس تو بُری ہی بات کا بتلانے والا ہوتا ہے 
.تفسیر ماجدی
یہ حال ہے نبی کے نفس کا تو ہمہارا اور آپ کا کیا حال ہے اس سے ہم  بخوبی واقف ہیں 
اب ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہماری زبان پابند اصول و ضوابط ہے یا نہیں اگرجواب ہاں میں ہے تونورعلی نور 
اور اگر جواب نفی میں ہے تو قبل اس کے کہ ہمیں مجرم بننا اپنی زبان کیوجہ سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے اور ہماری زبان پر تالے لگادیئے جائیں ہم عہد جدید کریں کہ ہمیں اپنی زبان کو قابو میں کرنا ہے اور اسے بے جا استعمال سے پرہیز کرنا ہے فرمان رسول اللہﷺ ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من كان يؤمن بالله واليوم الآخر، فليقل خيرًا أو ليصمت" الحديث متفق عليه
 جو شخص اللہ عز وجل اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے تو چاہئیے کہ اچھی و بھلائی کی  بات کہے یا سکوت اختیار کرے .
اور اللہ کہ رسول نے فرمایا جو خاموش رہا، بکواسیات و لغویات سے اجتناب کیا تو نجات پانے والا ہوگیا 
کسی شاعر نےکیا عمدہ عکاسی کیا ہے 
نشتر سے تیزتر ہے جراحت زبان کی
جس نے زبان روک لی وہ پا گیا نجات
اللہ تعالی ہمیں بھی قرآن و سنت کے اصول و ضوابط کے پاسداری کہ ساتھ اپنی زبان کو  کھولنے والا بنائےکیونکہ زبان بھی انسان کی عظمت و پذیرائی کا آئینہ دار ہے.
          _وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین_ 
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

نیپال اور نیپالی مسلمان جائزہ تجویز


 
جامع مسجد

  بسم اللہ الرحمن الرحیم
  نیپال اور نیپالی مسلمان ،جائزہ وتجویز 
     ★★★★★☆★★★★
      از: محمد طاسین ندوی
نیپال جغرافی اعتبار سے ایک چھوٹا سے ملک ہے اس کی سرحدیں شمال میں چین، جنوب، مشرق اور مغرب میں ہندوستان ہے نیپال کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہے
یہاں زرخیز میدانی زمین،جنگلاتی پہاڑ اور دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑ بھی نیپال میں ہی ہے  ماونٹ ایورسٹ کی سب سے اونچی چوٹی بھی نیپال ہی میں واقع ہے نیپال کا پایۂ تخت کاٹھمنڈو ہے اور یہی ملک کا بڑا شہر بھی ہے نیپال میں مختلف نوع کےنسل  رہتے ہیں جبکہ نیپالی زبان یہاں کی سرکاری زبان ہے
پہاڑی علاقہ میں سفید چمڑے والے نیپالی عموما رہتے بستے ہیں اور 
زرخیز و ترائی علاقہ میں آبادی نیپالی مسلم اکثریت ہے اور ان کا رہن سہن تہذیب و ثقافت عموما ہندوستانی کلچر سے ملتی جلتی ہے تاریخ بتاتی ہیکہ اسلام ہندوستانی تجار کے توسط سے نیپال پہنچا اسلئے نیپال میں  ہندوستانی تہذیب غالب رہی 
یہاں رہنے والے مسلمان عموما پسماندہ اور ان پڑھ اور اپنے ملکی وسرکاری  زبان "نیپالی زبان" سے بھی نابلد ہیں گذشتہ کچھ سالوں تک یہ خالص ایک ہندو ملک تھا لیکن وہ۲۰۰۸ء کے شنگھرس اور انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک بن کر افق عالم پر اپنا نام زد کیا ہے ان ساری چیزوں کے باوجود بھی یہ ملک اپنے پہلے آئین و قانون میں کوئی خاصی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے مسلمان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے نہ عیدین کی چھٹی اور نہ کوئی اور حقوق دیے گئے ہیں اگر نیپالی آئین کے رو سے مسلمان کی حیثیت ملک نیپال میں دیکھی اور سمجھی جائے تو بالکل کم سے کم ہے اگر صفر کہیں تو غلط نہ ہوگا 
یہ کمیاں ہمارے ہی وجہ سے ہیں کیونکہ ہمارے پاس نہ نیپالی زبان ہے نہ ہی ہمیں قائدین ایسےملے ہیں اور نا ہی کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، ناہی کوئی مناسب لائیبریری  جسکو مرجعیت حاصل ہو اور نہ اسلامی سینٹر اور ناہی ایک ہی بہت ہی اہم شئی میڈیا اور نیوز چینل جو کو ملک کا ستون کہا جاتا ہے اور کوئی بھی قوم ان سب چیزوں سے ملکر اپنی شناخت اور اپنی پہچان بناتی ہے. اور ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ہمارے اندر اس فقدان کی کمی تک  محسوس نہیں ہورہی ہیکہ ہم اس کی تلافی کریں 
اگر ہم ایسے خواب خرگوش میں مست رہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا حشر -اللہ نہ کرے- بوسنیا،  چیچینا، برما،.روہنگیہ کے جیسا ہوجائے ابھی وقت ہے اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا حکومت سے اپنے مطالبات کا اور اچھے نسل نو کی آبیاری کا نیپالی جو سرکاری زبان اس پر عبور پانے کا اگر ہم نے اس زبان پر اپنی گرفت مضبوط نہ بنائی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے دور رکھا تو ہمارے قائدیں ایسے ہی ہونگے کہ جس کو یہ بھی نہ پتہ کہ دین اسلام اور بنیاد اسلام کیا ہے میں تو کہتا ہوں اور برملا کہتا ہوں مدارس کے طالبعلموں کو کہ آپ جسطرح اپنے عربی اردو کو پڑھنا لکھنا جزء حیات سمجھتے ہیں تو اسی طرح ملکی نیپالی زبان اور انگریزی زبان پر عبورپائییے  گاؤں میں معاشرہ و سماج اور ملک میں اپنے علم و ادب تہذیب بیان اور زبان کا لوہا منوایے ابھی عمر ہے کرنے کہ یہی کام ہیں کیجئے ضرور کیجئے اور اپنی کامیاب اور سرخروئی کو اپنے نام کیجئے تاکہ جب کبھی سرکاری آفس، بینک اور کوئی ایسی جگہ جائیں تو آپ شرم سے پانی پانی نہ ہوں یہ نہ جھجھکیں نہ سوچیں کہ لب کھولوں تو کیسے بولوں تو کیا بولوں نہ زبان آتی ہے اور نہ تحریر تو اس ذلت و خواری اور لوگوں کے ذہن میں جنم دینےوالے سوالات سے بچنے کہ لئے اپنے کو اس لائق بنانےکی فکر اوڑھ لیں تاکہ ہمارا مستقبل تابناک و درخشاں ہواور اپنا منھ چھپانے سے محفوظ رہ سکیں 
تو آئیے ہم مسلمانان نیپال اب عہد جدید کریں اور نیپال کے آئین و قانون کو پڑھنے کی فکر نیپالی زبان پر عبور حاصل کر کریں اور اپنے حقوق اور آزادی کا پرزور مطالبہ کریں کے صاحب اقتدار سمجھ لے کہ اب نیپالی مسلمان نے ہوش کا ناخن  لے لیا ہے کیونکہ تعلیم ہی ایسی چیز ہے جس کے سامنے بڑے بڑے عیاروں او مکاروں نے گھٹنے ٹیکے ہیں 
بقول علامہ اقبال علیہ الرحمہ 
"تعلیم کے تیزاب میں ڈال اپنی خودی کو 
ہوجاٰے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر "
میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی مدارس مکاتب اور عام مسلمانوں کو یہ سوچ سمجھ دے کہ ملکی اور سرکاری زبان کو سیکھنے سیکھانے کی جہد پیہم ہوسکے تاکہ ہمارا مستقبل کا ستارہ اپنے آب و تاب کے ساتھ چمکتا اور دمکتا رہے .آمین 
                  ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
۹ مئی ـ۲۰۲۰ ء




ظلم پھرظلم ہےبڑھتاہےتومٹ جاتا ہے

    
  ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا     ✧✧★✧✧★✧✧★  
محمد طاسين ندوی         
روئے زمین پر رہنے بسنے والے نوع بنوع کے انسان مختلف نظریات، اطوار،عادات کے حامل ہیں یہاں بود وباش کرنے والے کے افکار  وسوچ بھی بہت مختلف ہیں  
اللہ کی زمین پر چلنے پھرنے والوں میں مختلف انواع واشکال کے فرشتہ صفت انسان بھی ہیں اور اس کے برعکس کچھ درندہ کی صفت سے متصف انسان بھی اگر انسان اپنے من کی کرنے پر آمادہ ہوتاہے  تو نسلیں تباہ  ہوجاتی ہیں زمین اپنی تمام ترکشادگی، رعنائی ،حسن ،دلکشی وجذابیت کے باوجود بہت تنگ ہوجاتی ہے. جیتے جی انسان مردہ ہوجاتا ہے سوچنے، سمجھنے،کی طاقت و صلاحیت ختم ہوجاتی ہے خوف و ہراس ذلت، بے چارگی دامن تھام لیتی ہے انسان انسان سے خوف کھاتا ہے 
ظلم سر چڑھ کر بولتا ہے ارباب اقتدار ، چودھری،سرپنچ، مکھیا،پردھان الغرض یہ کہ جو بھی کسی نہ کسی درجہ میں ذمہ دار کی فہرست میں ہوتے ہیں یا ذمہ دار باور کرتے ہیں اپنے رعایا، ماتحتین،کم فہم وکم گو، غریب و نادار لوگوں کا استحصال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اوریہ ہوتا اس لئے کہ  کچھ تو کرسی کے نشے میں دھت ہوکر بدمست اپنے ذیلی لوگوں پر اپنی طاقت و پاور کا رعب اور اپنا سکہ دلوں میں بیٹھانے کی بے جا کوشش کرتا ہے بالفاظ دیگر نعوذ باللہ صاحب اقتدار اپنے کو مالک،رازق، کہلوانے کے چکر میں پڑ جاتےہیں باوجود یہ کہ انہیں معلوم ہوتا ہیکہ مالک و رازق وہ ذات عالی صفات ہے  جس کے برکات عام ہیں  یہ جاننتے ہوئے بھی اگر انادار،مسکین اور اس زمرے کے لوگ اس پر عمل نہ کرے تو اسے اس دنیا میں رہنے کا حقدار ہی نہیں سمجھا جاتا طرح طرح کے اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ظلم و تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے اگر گاؤں اور سماج کا غریب ونادارطبقہ ہے تو اس کی آمدو رفت نشست و برخاست خوردو نوش پر بھی پابندی لگانے کی فکر میں چودھری اور اپنے کو اس سے بلندسمجھنے والے کر گزرتے ہیں .
اگر ماتحت نوکر، ملازم، اسٹاف ہے تو ارباب و ذمہ داران انکے ساتھ بھی ظلم کرنے سے نہیں چوکتے ...
اور مختلف النوع مظالم مفاسد ہیں کہاں تک گنایا جائے .
البتہ یہ بات ذہن نشین رپے کہ رسول اللہ کا فرمان ہے الله تعالى  نےحديث قدسي میں فرمایا   "ياعبادي أني حرمت الظلم فلاتظالمو " رواه مسلم 
اے میرے بندو میں نے ظلم کو حرام کیا ہے تو تم سب ظلم سے رک جاؤ باز آؤ
آپ صلی اللہ نے مزیدفرمایا"اتقوا الظلم فان الظام ظلمات یوم القیامۃ" رواه مسلم 
اے ظالمو اپنے ظلم و جبر سے  ڈرو باز آؤ ظلم ظالم وجابر کے لئے روز قیامت  تاریکی بن کر سامنے آئیگا .
 *قارئین کرام!*  ہمیں قیامت کامنظر  ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اس دن  ہماری زبان پر اللہ تعالی تالا لگادیں گے اور زبان کے علاوہ ہر اعضاء جسمانی اللہ کے حضور گویا ہوگا اور اپنا کچا چٹھا سامنے لائے گا چنانچہ فرمان باری تعالی ہے 
"اليوم نختم على أفواههم وتكلمنا أيديهم وتشهدأرجلهم بماكانوا يكسبون"سورةيسين٦٥
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہمارے ساتھ ان کے ہاتھ بولیں گے اور ان کے پاؤں شہادت دیں گے اس پر جو وہ کیا کرتے تھے
علماء تفسير نے لکھا ہیکہ روز قیامت لوگ گونگے ہوجائیں گے نہ بات کرسکیں گے اور نہ اپنے اعمال جو انہوں نے انجام دیئے ہیں اس سے مکر ہی سکیں گے 
مختصر یہ کہ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف ظلم کی حرمت و نحوست کو بیان کیا ہے اور اس کے برے انجام پر متنبہ کیا ہے بلکہ ظالم و مظلوم  کی مدد کرنے کی تعلیم دی ہے فرمان نبوی ہے "أنصر أخاك ظالما أومظلوما"رواه البخاري
اپنے ظالم بھائی کا ہاتھ روک کر اس کی مدد کرو اور مظلوم کی مدد  ظالم کے چنگل سے  نکال کر کرو
 اور مظلوم کی آہ وبکا ردنہیں ہوتی یہ
 مظلوم اور باری تعالی کے درمیاں کوئی پردہ نہیں ہوتا .ظالم کا دیرپا نہیں رہتا ایک نہ ایک دن اس کے شوکت کو زوال آنا ہے 
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں 
ناؤکاغد کہ سدا چلتی نہیں  
دین اسلام کے علاوہ بھی دنیا کےسارے مذاہب نے بلاکسی تفریق کہ ظلم 
کو روا اور درست نہیں کہا بلکہ دنیاوی قوانین و ضوابط نے بھی اس کی روک تھام کی ہے ناروا کہا ہے لیکن آئیے طائرانہ نظر ڈالتے ہیں دنیاوی ضوابط اور قوانین ساز اقوام پر  تو یہ معلوم ہوگا کہ امن کے ٹھیکدار خود ہی ظلم و جبر سے اپنا دامن بچانے میں ناکام ہیں باتیں تحریرتو ضرور ظلم کی مخالفت  میں کرتے ہیں لیکن عمل ندارد اگر مدعیان امن شتر بے مہار حکومت و مملکت کو لگام دینے کی کوشش کرتے تو اس دور افتاد جس میں ایک طرف تو دنیا اپنی خیر منانے  کی فکر میں سر کھپا رہی جان توڑ کوششیں کررہی تو دوسری طرف نفرت کی گرم بازاری ہے واقعی اگر مدعیان امن وامان،  شانتی بنائے رکھنے کی تگ دو کرتے اور ظالم کو اس عمل کے پاداش میں عبرتناک سزادیتے تو جو حالات اقوام و ملل کے ہوگئے ہیں وہ نہ ہوتے اور افکار،نظریات، قبائل، مذہب و مسلک،  رنگ ونوع کے اختلاف کے ساتھ یہ دنیا امن کا گہوارہ ہوتی جس میں ہر زندگی گزارنے والے اپنی زندگی اپنے مذہب ودین کے دائرے میں رہ کر آزادانہ  گزار تے آپس میں شیروشکر ہوتے فرحت وانبساط دکھ و کلفت کو ساتھ ساتھ پار لگاتے.
لیکن نہ جانے ایسا کب ہو کہ متحد ہوں ملنساری کا جذبہ موجزن ہو اور آپس میں ہندو، مسلم ،سکھ، عیسائی سب مل جل کر رہیں اور ظلم ہم سے گبھرائے .اور یاد رکھیں 
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے 
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ اللہ ہم مسلمانون کو بنھی درست سوچ دے اور ظالم کے ظلم سے نجات کا سامان مہیا فرمادے. *آمين ياربنا الرحمن الرحيم*  ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏





مسلمانان نیپال اور انکی ذمہ داری

                       

 بسم اللہ الرحمن الرحیم
               مسلمانان نیپال اورانکی ذمہ داری 
                                        ✍️محمد طاسين ندوي
ہم مسلمانان نیپال اگر اپنا جائزہ لیتے ہیں تو سوائے حسرت و ندامت کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا اور یہ کیوں نا ہو ؟ہم تومٹھی بھر مسلمان ہوکر بھی اپنی اپنی الگ پہچان بنانے اور سکہ جمانے کی تگ و دو اور فکر میں سرگردان، حیران و پریشان ہیں لیکن ان کوشش کے باوجود بھی ہماری کوئی پہچان نہیں تو ہم کیوں نہ ایک جوٹ ایک ساتھ اور ایک جان ہوکر اپنی پہچان بنانے کی فکر اوڑھیں تاکہ مختلف مزاج و دماغ کوئی عمدہ اور بہتر لائحہ عمل لاکر ہماری نسل نو کی آبیاری کریں اور اسکے مستقبل کی تابناکی میں چار چاند لگائیں  جیل جدید  اس طرف اپنے کان نگاہ لگائے انتطار میں ہے کہ کب آئے وہ دن کہ ہمارے علماء،  مصلحین، قائدین،دانشوران ،تنظیمات و جمعیات ہمیں کہنہ مشق بنانے ہماری خوابیدہ صلاحتیوں کو مہمیز لگانے اور اس کو جلا بخش کر مسلمانان نیپال کو سربلندی عطا کرے ۔ ایسا ہونا ایک امر مسلم ہے ہر چھوٹا، طالبعلم، اپنے بڑوں اور استاذ کی راہ پر خود کو گامزن کرنے کی سعئ پہیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر اس کی اس مثبت فکر، تازگی،  رعنائی،  دلکشی میں یکسانیت ہوجاتی ہے تو افق عالم پر کمندیں ڈالتا ہے اور حوصلہ پاتا ہے جس میدان میں بھی اپنے کو اتارتا ہے اسے سیر کرکے ہی دم لیتا ہے. اس زبوں حالی و مسلمانان نیپال کی حالت زار میں ہمیں ضرورت ہے ایسے راہبر،رہنماء، پیش رو کی
جو ہماری نسل نو کے زخم کا مرہم کرنے والا ہو اور نمونہ و آئیڈیل ہو اسے مرجعیت حاصل ہو۔ 
جو ان چھوٹوں اورمسقبل کے معماروں کو نیپال کے حق اور ہمارے معاشرہ کے انسجام و اتحاد ملک نیپال ، نیپالی قوم و مسلمان کے لئے مؤثر بنائے، ضرورت اس بات کی ہیکہ ہمارے علماء دانشوران مسلمان طلبہ وطالبات کی رخ کو ملکی و سرکاری زبان و قواعد کی طرف موڑے اس کی ترغیب دے اور اس کی افادیت سے روشناس کرائے اور اس کے لئے  اسکول،  کالج، ڈگری کالج ،ایسے  جامعات  عمل میں لائے جائیں کہ ہمارے بچے دینی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ ایڈوکیٹ ہوں ، پروفیسیر اورلکچرر ہوں نیپال کے آئین و قوانین کو پڑھ کر سمجھے، پرکھے، بولے، لکھے اور اپنے حقوق کا مطالبہ میں شرمندگی نہ محسوس کرے کیونکہ ان کے پاس بھی زبان وایجوکیشن ہے ۔
اگر ہم جائزہ لیں تو ہم سمیت اکثر علماء فضلاء نیپالی زبان سے کوسوں دور ہیں ، کسی آفس یا سرکاری دفاتر جائیں تو یہ فکر رہتی کہ کوئی آئے میری ترجمانی کردے اسلئے کہ ہم خود تو نابلد ہیں۔
ہم فکر کریں سوچیں ہم تو  جیسے تیسے اپنی زندگی کے بھاگم بھاگ سے نکل گئے نکلنے کی کوشش ہورہی لیکن ہمارا کل کا معمار کو یہ دن نہ دیکھنا پڑے بلکہ وہ فراٹے سے اپنی باتیں نیپالی آئین و قوانین کے حدود میں رہ کر کر سکیں اور مسلمان جسے ابھی پسماندہ  سمجھا جاتا ہے ایک باغیرت مہذب شہری کا لیبل لگے ۔ناخواندگی ،اجڈ پن  دور ہو  سنجیدگی،  متانت، دانشمندی اس کی قدم بوسی کرے اور وہی لوگ جو انگشت نمائی کرنے والے تھے آج دادو تحسین اور خراج عقیدت پیش کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھے ۔
یہ ساری چیزن ممکن ہیں مگر ان کو حاصل کرنے کے لئے اپنی فکر کے اندر وسعت بحر عطاء کرنی ہوگی اور جو بہتر اور مناسب ہو اسے اخذ کرلو اور جو بے کار و نقصان دہ اس سے باز رہو کو حرز جان بنانی ہوگی پھر ملاحظہ کریں گے کہ  ہمارا اقبال کا ستارہ کتنی بلندی پر پہنچ کر باتیں کرتا اور میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو لوہے کا چنا چبواتا ہے ان سب کو حاصل کرنے کے لئے ہم سب کی قربانیاں درکار ہیں جو بے سروسامنی  کے عالم میں ہم سانس لے رہے ہیں اسی میں اس لائحہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے
ہمیں بحیثیت ایک نیپالی شہری ہونے کہ اپنی بقاء اور روشن مستقبل کے لئے قربانیاں پیش کرنی ہونگی پھر جاکہ میدان سر کرنے کے لائق ہونگے.
مت سہل ہمیں جانو پھرتا فلک برسوں، 
تب خاک کے پردہ سے انسان نکلتا ہے۔ 
اللہ تعالی ہمیں بھی عمل کی توفیق دے.آمین یارب المستضعفین
ــــــــــــــــــــــــ
۱۰ مئی ۲۰۲۰ء

جمہوری ملک نیپال

           بسم اللہ الرحمن الرحیم
            *جمہوری ملک نیپال اور
           نیپالی مسلمان جائزہ و تجویز*
                                ✍️محمد طاسين ندوي  
نیپال جغرافی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے اس کی سرحدیں شمال میں چین، جنوب، مشرق اور مغرب میں ہندوستان ہے نیپال کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہے
یہاں زرخیز میدانی زمین،جنگلاتی پہاڑ اور دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑ بھی نیپال میں ہی ہے  ماؤنٹ ایورسٹ کی سب سے اونچی چوٹی بھی نیپال ہی میں واقع ہے نیپال کا پایۂ تخت کاٹھمنڈو ہے اور یہی ملک کا بڑا شہر بھی ہے نیپال میں مختلف نوع اور نسل و زبان کے لوگ رہتے ہیں ،جبکہ نیپالی زبان یہاں کی سرکاری زبان ہے،
پہاڑی علاقہ میں سفید چمڑے والے نیپالی عموما رہتے بستے ہیں اور
زرخیز و ترائی علاقہ "مسطح علاقہ"  میں آبادی نیپالی مسلم اکثریت کی ہے اور ان کا رہن سہن تہذیب و ثقافت عموما ہندوستانی کلچر سے ملتی جلتی ہے تاریخ بتاتی ہیکہ اسلام ہندوستانی تجار کے توسط سے نیپال پہنچا اسلئے نیپال میں  ہندوستانی تہذیب غالب رہی
یہاں رہنے والے مسلمان عموما پسماندہ اور ان پڑھ اور اپنے ملکی وسرکاری  زبان "نیپالی زبان" سے بھی نابلد ہیں گذشتہ کچھ سالوں تک یہ خالص ایک ہندو ملک تھا لیکن وہ۲۰۰۸ء کے شنگھرس اور انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک بن کر افق عالم پر اپنا نام زد کیا ہے ان ساری چیزوں کے باوجود بھی یہ ملک اپنے پہلے آئین و قانون میں کوئی خاصی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے مسلمان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے نہ عیدین کی چھٹی اور نہ کوئی اور حقوق دیے گئے ہیں اگر نیپالی آئین کے رو سے مسلمان کی حیثیت ملک نیپال میں دیکھی اور سمجھی جائے تو بالکل کم سے کم ہے اگر صفر کہیں تو غلط نہ ہوگا
یہ کمیاں ہمارے ہی وجہ سے ہیں کیونکہ ہمارے پاس نہ نیپالی زبان ہے نہ ہی ہمیں قائدین ایسےملے ہیں اور نا ہی کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، ناہی کوئی مناسب لائیبریری  جسکو مرجعیت حاصل ہو اور نہ اسلامی سینٹر اور ناہی ایک بہت ہی اہم شئی میڈیا اور نیوز چینل جسے جمہوریت کاچوتھا ستون شمار کیاجاتا ہے  اور کوئی بھی قوم ان سب چیزوں کو بروئے کار لاکرہی  اپنی شناخت اور اپنی پہچان بناتی ہے. اور ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ہمارے اندر اس فقدان کی کمی تک  محسوس نہیں ہورہی ہیکہ ہم اس کی تلافی کریں
اگر ہم ایسے خواب خرگوش میں مست رہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا حشر -اللہ نہ کرے- بوسنیا،  چیچینا، برما،.روہنگیہ کے مسلمانوں  جیسا ہوجائے ابھی وقت ہے اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا حکومت سے اپنے مطالبات کا اور اچھے نسل نو کی آبیاری کا نیپالی جو سرکاری زبان اس پر عبور پانے کا اگر ہم نے اس زبان پر اپنی گرفت مضبوط نہ بنائی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے دور رکھا تو ہمارے قائدیں ایسے ہی ہونگے کہ جس کو یہ بھی نہ پتہ کہ دین اسلام اور بنیاد اسلام کیا ہے میں تو کہتا ہوں اور برملا کہتا ہوں مدارس کے طالبعلموں کو کہ آپ جسطرح اپنے لئے عربی اردو زبان کو پڑھنا لکھنا جزء حیات سمجھتے ہیں تو اسی طرح ملکی نیپالی زبان اور انگریزی زبان پر عبورپائییے  گاؤں،  معاشرہ و سماج اور ملک میں اپنے علم و ادب تہذیب و بیان اور زبان کا لوہا منوایے ابھی عمر ہے کرنے کے یہی کام ہیں کیجئے ضرور کیجئے اور اپنی کامیاب اور سرخروئی کو اپنے نام کیجئے تاکہ جب کبھی سرکاری آفس، بینک اور کوئی ایسی جگہ جائیں تو آپ شرم سے پانی پانی نہ ہوں  نہ جھجھکیں نہ سوچیں کہ لب کھولوں تو کیسے، بولوں تو کیابولوں نہ زبان آتی ہے اور نہ تحریر تو اس ذلت و خواری اور لوگوں کے ذہن میں جنم لینے والے سوالات سے بچنے کہ لئے اپنے کو اس لائق بنانےکی فکر اوڑھ لیں تاکہ ہمارا مستقبل تابناک و درخشاں ہواور ہم اپنا منھ چھپانے سے محفوظ رہ سکیں
تو آئیے ہم مسلمانان نیپال اب عہد جدید کریں اور نیپال کے آئین و قانون کو پڑھنے کی فکر، نیپالی زبان پر عبور حاصل کریں اور اپنے حقوق اور آزادی کا پرزور مطالبہ کریں کہ صاحب اقتدار سمجھ لے کہ اب نیپالی مسلمان نے ہوش کا ناخن  لے لیا ہے کیونکہ تعلیم ہی ایسی چیز ہے جس کے سامنے بڑے بڑے عیاروں او مکاروں نے گھٹنے ٹیکے ہیں
بقول علامہ اقبال علیہ الرحمہ
"تعلیم کی تیزاب میں ڈال اسکی خودی کو
ہوجاٰے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر 
تاثیر میں اکثیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب 
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ایک ڈھیر  "
میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ارباب  مدارس ومکاتب اور عام مسلمانوں کو یہ سوچ سمجھ دے کہ ملکی اور سرکاری زبان کو سیکھنے سیکھانے کی جہد پیہم ہوسکے تاکہ ہمارا مستقبل کا ستارہ اپنے آب و تاب کے ساتھ چمکتا اور دمکتا رہے .آمین                
ـــــــــــــــــــــــــ
      

چل رے خامہ بسم اللہ

 باسمہ تعالی
چل رے خامہ بسم اللہ
از: محمد طاسین ندوی 
اللہ رب العالمین نے دنیا کو وجود میں لانے کے بعد یونہی نہیں رکھا بلکہ اس دنیاوی دسترخوان کو انواع واقسام کے گل و لالہ سے مزین فرماکر بنی نوع انسان کو اس برپا کیا اور  کنتم خیر امۃ أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر کا درس دیا کہ اے آدم زادو تمہیں اللہ عز وجل نے زمین پر برپا فرماکر بلا کسی مسؤلیت و ذمہ داری کہ آزاد نہ چھوڑا بلکہ تمہارے کندھوں پر ایک بہت عظیم المرتبت اور مہتم بالشان کام کا بار گراں بھی رکھا وہ یہ تم ہی بہترین امت ہو اس عالم رنگا رنگ میں اللہ تمہیں اوروں کی فکر کے لئے بھی وجودمیں لایا تو انہیں بھلی باتوں  کا حکم دو اور  منکرات سے روکو 
اب ہمیں بحیثیت خیر امت کہ یہ جائزہ لینا ہیکہ آیا ہم اس فرمان باری تعالی پر کھرے اتر رہے ہیں یا ہم بھی اس بے حس و ناسمجھ و بعقل چوپایوں کہ فہرست میں اپنا شمار کروا رہے ہیں واقعی اس دور میں ہر بشر کو بس اپنی ہی فکر ہے اور اسی میں صبح و شام ہورہی عمر کا اکثر حصہ نکلا چلا جارہا ہے یہاں تک کہ ہم نے اپنے ہمسایہ جس کی فضیلت اور اہمیت سے  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ عظام کق روسناش کریا تو کئی صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمہیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے میراث میں ان ہمسایوں کا نصیبہ نہ متعین فرمادے اور کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں گویا ہوئے کہ جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی کا مقدار زیادہ کردو اور اپنے پڑسیوں کو ضرور بھیجو گرچہ پڑوس میں رہنے والے مسلمان کہ علاوہ ہی لوگ کیوں نہ ہو.
قارئین کرام. پڑھا آپ نے کہ ہمسایہ کے کیا فضائل و اہمیت ہیں لیکن افسوس اور صد افسوس کے ہم میں سے اکثر اگ تعلیم نبوی سے بالکل ہی روگرداں ہی‍ں بلکہ ہم نے تو اس کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اپنے ہمسایہ کو بات بات پردانستہ یا نادانستہ  انواع و اقسام
 کی اذیت و تکلیف دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے .
تو آئیے تعلیم نبوی کو سیکھیں سمجھیں اور اسکی یاد دہانی ہوکہ ہم اپنے ہمسایہ اور انسایت کی دل آزاری سے باز آنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر کوئی صاحب ثروت ہوں اور اسکا کا پڑوسی  مسلم ہو یا کافر حاجت مند مفلوک الحال مفلس یا مسکین ہی کیوں نہ ہو اس کی دل آزاری سے حتی المقدور اجتناب کی سعی پیہم کریں تاکہ عنداللہ جب جب ہم سب اکٹھا ہونگے تو اپنا اپنا منھ چھپاتا نہ پھریں بلکہ بے ضرر بننے کی کوشش کریں اگر نفع نہ پہنچاسکتے ہوں تو انکو نقصان پہچانے کی بھی نہ سوچیں اگر کنجائش ہوتو انکا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں.
اللہ رب العالمین ہمیں بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق دے. آمین 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محمد طاسین ندوی 
۳ اپریل ۲۰۲۰ء 

مدارس اسلامیہ اورمالی بحران


   بسم اللہ الرحمن الرحیم
     مدارس اسلامیہ اور مالی بحران
از:  محمد طاسین ندوی 
ہم صاحب ایمان کو اس بات سے بخوبی واقف ہونا چاہئیے  کہ ہمارے درمیان مدارس اسلامیہ کا کیا مقام و مرتبہ کیا ہے یہی وہ  مدارس نہیں ہیں جو ہمارے وجود کی بنیاد ، اسلام کے پاور ہاؤس اورہمارے قیمتی اثاثے و شعائر ہیں جہاں سے علم کی بجلی پیدا ہوتی ہے جہاں سے ہم مسلمان اپنے دین پر گامزن رہنے کا صحیح سلیقہ و ڈھنگ سیکھتے ہیں  اگر یہ مدارس نہ ہوں تو ہمارے نونہالان نہ جانے کیا کچھ کربیٹھے کیوں؟ امور دینیہ نماز،  زکاۃ، روزہ، حج، نکاح و طلاق جنازہ  الغرض ہر وہ میدان جہاں ادنی یا اعلی دینی امر پیش آیا وہاں  اسلامی علوم کے علمبردار اور طالبان علوم بنوت کی تلاش کی ابتداء ہوتی ہے اگر کوئی اس معاشرہ اور سماج میں دینی علوم سے ہم آہنگ ہے تو بہتر ورنہ کہیں دوسرے علاقے سے انہیں لانے اور بلانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے غور کیجئے اگر مدارس کا فقدان ہو تو یہ علماء اور اسلامی اسکالرس کہاں سے آئیں گے کون ہوگا جوہمیں بھولا بسرا سبق کی یاددہانی کروائیگا ،صراط مستقیم پر چلنے  ہنر دیگا فسق و فجور اور لایعنی چیزوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کریگا اور کون ہوگا جو ہمارے دینی اور ملی شعائر کی بدرجہ اتم حفاظت کریگا کیا یہی وہ مدارس نہیں جہاں کے فیضیافتہ انسانیت کو عموما اور امت محمدیہ کو خصوصا ان ہولناک اور پر خطر راہوں سے رخ موڑ کر ایک خوشگوار اورپر بہار زندگی کی نوید مسرت سناکر حیات ابدی کی فکر پیدا کردیتے ہیں .
قارئین محترم!  ہم بچشم خود ملاحظہ کررہے ہیں کہ عالمی منظر نامہ کیسا بدلتا ہوا نظر آرہا پے، ایسے پر فتن ، ناساز گار حالات و ماحول میں  عالمی آبادی کو مشاکل سے گھری ہے ہی اس کے ساتھ مدارس اسلامیہ بھی مالی بحران وزبوں حالی کا یکسر شکارہے اور ایسا ہو کیوں نہ کیونکہ اسکا بھروسہ اور تکیہ اللہ تعالی کے بعد مخیرین متبرعین  اور اصحاب الخیرات والصدقات پر ہوتا ہے.اور یہ روز روشن کیطرح عیاںو بیاں کہ مدارس کے خزانے خالی ہورہے ہیں ذمہ داران اور منسوبین سب کی زبان زد ہیکہ کے آنئدہ سال مدارس کا کیا ہوگا اور یہ بشری تقاضہ ہیکہ ایسے سوالات اور باتیں پیدا ہوں کیونکہ بظاہر سارے راستے مسدود نظرآرہے ہیں.اور جن پر تکیہ کئے بیٹھے تھے وہ ایام بھی ہاتھ سے نکلتے چلے جارہے ہیں  دنیاکے حالات نے ایسا یوٹرن لیا ہیکہ غریب تو غریب امیروں اور صاحب مال و زر کے بھی بھی ہوش اڑتے نظر آرہے ہیں لیکن کیا ہمارے دین کے قلعے یونہی واہی تباہ کا شکار ہوکر رہ جائیں گے یا اس چمن لالہ زار کی آبیاری کی فکرتمام امت محمدیہ کو ہوگی؟  یقینا جواب اثبات میں ہوگا کیونکہ ابھی اسلام کا رمق باقی ہے تو آئیے ملکر مدارس کو اس بھنور سے نکالنے کی فکر اوڑھیں اور کوئی ایسا لائحہ عمل لائیں جس سے مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے نادار، غریب، مفلس،یتم طالبان علوم نبوت کا کچھ بھلا ہوسکے جہاں ہم ہزار دوہزار سے تعاون کرتے حالات حاضرہ کے تناظر میں اس کم ہی سہی لیکن ضرور یاد رکھیں اور اپنا مال اور اپنی قربانی مدارس کو فروغ اور تحفظ فراہم کرنے
لگائیں کیونکہ فرمان باری تعالی  " ماعندكم ينفد وما عندالله باق" سورۃالنحل۹٦ 
يعنی جو مال و دولت ہمارے پاس ہے یقینا وہ ختم ہونے والا ہے جو اللہ کے کھاتہ میں جمع ہوگیا وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے 
تو آئییے ہم عہــد کریں کے اپنے غریب و نادار اعزہ و اقارب اور ہمسایہ کا خیال کرتے ہوئے
مدارس کو بھی مالی بحران اور زبوں حالی سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ اگر پڑوس سماج اسلامی قلعے کی ہر طرح کی دیکھ ریکھ نہیں کریگا خیال نہ رکھے گا   تو دور دراز والے کتنا خیال رکھیں گے یہی ہماری نسل نو جو ہمارے قیمتی سرمایہ ہیں انکو بال وپر دینے پرواز کی تعلیم دینےوالے مدارس ہیں نہ کہ ان دور دراز کے مخیرین  متبرعین کے نونہالان کوجو شاید کبھی اگر توفیق الہی سے آجائیں اور مشاھدہ کرلیں 
اللہ تعالی ہمیں مدارس اسلامیہ جس کی ہمارا تشخص قائم ہے اسکا قدرداں بنائے اور اسکے لئے کار آمد بنائے.
إن الله لايضيع أجرالمحسنين

رحمتوں کے سائے میں

                  بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
             *رحمتوں کے سائے میں* 
                         *🖋️محمد طاسین ندوی* 
ماہ رمضان جو ابھی کچھ دن پیشتر اپنے تمام تر خوشیاں، رحمت، فرحت و انبساط لئے سایۂ فگن ہوا   اسکے اکثر روزے ہم رکھتے چلےجارہے ہیں عشرہ اولی اپنی تمام رعنائی دلکشی
جذابیت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا عشرہ ثانیہ کے بھی اکثر ایام اپنے رحمت بکھیرے اپنے منزل مقصود تک پہنچا چاہتا ہے .
اب ہمیں اندازہ اور محاسبہ اس کا کرنا ہیکہ ان مہتم بالشان لمحات و ساعات میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا اسلئے کہ یہ لمحات بارہ مہینے میں صرف اور صرف ایک بار عالم میں جلوہ فگن ہوتا ہے اور زبان حال سے یہ کہتا ہیکہ لے میں تمہارے مابین ہوں اٹھالے فیض بھرلے اپنے کشکول گدائی کو   پھر کس سے میری ملاقات ہو  اورکس سے نہ ہو خدا معلوم، ہماری عظمت سے بھر پور استفادہ کر اپنے رب کو کرلے راضی بے شمار و ان گنت فوائد ہیں میرے پاس حاصل کر لے سکت بھر،
اگر ہمارےاندر ایمانی رمق تھوڑا بھی زندہ ہے تو نفس ہماری غیرت کو للکار کر کہتا ہے اپنے کشکول کو بھر لے ہر آن و ہر لحظہ ایسے مواقع میسر نہیں
    اٹھ کہ اب بزم.جہاں کا اور ہی انداز ہے 
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے ۔
پھر یہ التفات دل دوستاں رہے نہ رہے کیونکہ بہت کم اور محدود وقت کے ساتھ اپنے فوائد سے امت مسلمہ کو بہرہ مند کرنے کی مساعئ جمیلہ کررہا ہے۔ 
اگر دریچۂ عقل کھلا ہوتا ہےتو فورا اپنے کو سنبھالا دیتا اور اسکی آواز پر لبیک و سعدیک کہتا ہوا دیوانہ وار ہاتھ مین قرآن مجید، زبان پر ذکرو اذکار اور تسبیحات کے ساتھ گوشہ نشینی کرکے اپنے رب سے سر گوشیاں شروع کرتا ہے اور اپنے اعمال کے کالم میں ثواپ کا بلینس جمع کرتا ہے اور پھر کامیابی کی منزل طے کرتے ہوئے اپنے شب وروز کو تمام کرکہ عنداللہ ماجور ہوتا ہے.
اگر بے غیرت نام نہاد مسلمان جو ایسے روح پرور،  خوشگوار،  عطر بیز فضا سے کنارہ کشی اور روگردانی کرتا ہے تو اللہ کی ناراضگی کوددعوت دیتا اور اپنے لئے اپنی ہلاکت کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔اللہ تعالی ہم سبہوں کی حفاظت فرمائے.
 *قارئین کرام!*  ان سالف الذکر عشرہ کےعلاوہ ایک نہایت ہی عظیم المرتبت، عشرہ اخیرہ ہے جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے بیش بہا و افضل  ہے جس کہ بارے میں قرآن مجید نے کہا
"لیلۃالقدر خیر من الف شھر  "جس میں اعتکاف کے ایام ہوتے ہیں  فرشتوں کے خصوصی دستے کا نزول ہوتاہے اللہ تعالی مغفرت کا دہانہ کھول دیتا ہے اور کہتاہےہے سمیٹنے والے سمیٹے بٹورے  اپنے دانستہ و نادانستہ کئے گئے گناہوں سے توبہ کرےاور اپنی زندگی کو قرآنی بنائے جو حیات جاودانی میں کام آئے ،اور اس خوشگوار فضا سے نکلے تو اس کے اثرات ابواب زندگی میں نظر آئے گذشتہ زندگی جیسے تیسےگزری اسے چھوڑ کر راہ ست اختیار کرے اور سکون اطمینان کا سانس لیکر اپنی زندگی ازسر نو شروع کرے پھر دیکھے کہ جینے کا مزہ کیا ہے.
جب ہم نے رمضان کے ایام صوم، صلاۃ کےساتھ مکمل کرلیا تو اللہ کا انعام عید کی شکل میں ہمیں دیا گیا اب ہم عید کی خوشیاں منائیں ایک دوسرےکو مبارکباد دیں لیکن رواں سال یہ یاد رہے کہ اپنی عید میں کچھ تبدیلی لائیں کیونکہ ساری انسانیت ایک حقیر سی کورونا وائرس کی وبا سے دوچار ہے کتنے دنوں سے نظام زندگی متأثر ہے  کسی سے مخفی نہیں روزانہ مزدوری سے گھر چلانے والے افراد پریشان تو ہیں ہی صاحب ثروت بھی پریشان خاطر ہیں کہ یہ کیسی مصیبت آن پڑی ہے انسانوں کی سمجھ سے  بالاتر ہے. 
آیا یہ کوئی آفت ناگہانی ہے یا آفت سیاسی 
اس پر بھی قلمکار حضرات نے خامی فرسائی کی البتہ جو بھی ہو لیکن ہے انسان دشمن.کتنی انجمن ویران ہوئی کتنے تعلقات میں دڑاڑ پیدا ہوا معیشیت تباہ، ملکی نظام درھم برھم ہوگیا یہ ساری چیزیں ہم بچشم خود مشاہدہ کررہے ہیں ان ہی ایام میں  ہمارے لئےمسرت وانبساط پرکیف وعظمت والا دن رونق افروز ہونے والا ہے  
اسی لئے مسلمانان عالم سےیہ گزارش ہیکہ اگر آپ کو اللہ نے نوازہ ہے  آپ نئے کپڑے،  نئی ٹوپییاں ،  نئے جوتے  خود اور آل و اولاد اہل وعیال کو زیب تن کروارہے ہیں تو یہ ملحوظ خاطر رہے  کہ جن کو نہیں میسر ہوگا انکے دل کا عالم کیا ہوگا .؟ بچے اپنے والدین کو کہیں گے فلاں کے ابو نے ایسا جوڑا سلوایا اور فلاں نے ایسی ٹوپی اوڑھی الغرض بچوں کا دل رنجور ہوگااور اپنے والدین کے بارےمیں طرح  طرح کی باتیِ بنائیں گے سوال کا بازار گرم ہوگا  اور اپنے وجود پر لعن طعن کریں اسلئے کہ انہیں کچھ بھی نہیں معلوم بس ایک  رٹ نئی شرٹ چاہیے جیسے اور جہاں سے ہو  ۔
تو آئیے ہم سوچیں غور کریں کہ اب کی عید سادگی کی عیدہو، ہم لوگ فقیروں،  مسکینوں مفلوک الحال پریشان  ہرکس و ناکس کا خیال رکھتےہوئے عید کا دن گزاریں گے ہماری ذات ، ہمارے  لباس و پوشاک سے  کسی کو اذیت نہ پہنچےاور  اس کی فکر کریں  کہ ہمارے اعمال بہتر سے بہتر ہو کہ جوحالات جو طاری ہیں اللہ تعالی اسے جلد دور فرمادے پھر ہم اپنی قبائلی، ملی، معاشرتی زندگیاں نہایت پاسداری کے ساتھ گزاریں۔ 
اللہ ہم سب کا  حامی و ناصر ہو۔ آمین 
                                      ▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️
۱۲ مئی ۲۰۲۰ء 

ماہ رمضان اور محاسبۂ نفس

                بسم اللہ الرحمن الرحیم
            ماہ رمضان اورمحاسبۂ نفس
                 از قلم: محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ماہ رمضان المبارک میسر فرمایا اس مہینے کے فضائل و برکات سے ہم بخوبی واقف بھی ہیں کہ یہ ایک مہتم بالشان، جلیل القدر،عظمتوں،برکتوں سے پر ماہ محترم ہے ایک فرض کا ثواب دس فرض کے بقدر نفل کا ثوب فرض کی طرح حتی کہ سات سو گنا ثواب کا ذکر حدیث رسول میں ملتا ہے
ماہ مبارک اپنی تمام تر رعنائیوں اوربخششوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے، جن کے اکثر ایام بیت چکے ہیں، آخری ساعات و لمحات بھی جلد ہی منزل مقصود کو پہنچنے ہی والے ہیں ،
غور طلب امر یہ ہیکہ ان گزرے ہوئے گھڑیاں کو ہم نے کس عمدگی اور خوش اسلوبی سے اپنے انتہا کو پہنچایا آیا شب قدر کے نام سے ہم نے اپنےکو عام رَت جگوں کی طرح گپ شب، خورد و نوش، طنزومزاح،ذلت وتحقیر،انٹرنیٹ وموبائیل کی بھٹی میں جھونک کر ذات باری تعالی کی بے شمار نعمتوں سے اپنے کو دور رکھا یا ہم نے اپنے اوقات کو قیمتی بناکر عبادت،دعاء،ذکر،تلاوت،تہجدوقیام اللیل میں گزار ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا اس کا صحیح اندازہ ہم خود لگاسکتے ہیں اگر ہم نے ان برکات و انعام کی گھڑیوں کی قدر کی تو ان شاءاللہ ضرور اللہ قبول فرمائےگااور مغفرت کے دہانے کو ہم کور چشم ، کوتاہ بین بندوں کے لئے کھول دے گا کیونکہ فرمان نبوی ہے"الصوم لی انا اجزی بہ" روزہ  میرے لئے ہےاورمیں ہی اس کا بدلہ دوں گا ،اور مزید فرمایا"من قام لیلۃالقدر ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ " جو شخص ایمان اورثواب کی نیت سے شب قدر میں عبادت کرےگا اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے،شب قدر کی بڑی فضیلت واردہوئی ہے بہت ہی نیک بخت ہیں وہ شخص جوآخری عشرہ کی طاق راتوں میں اہتمام کےساتھ عبادت کرلے ،اس ایک رات کی عبادت پوری زندگی کی عبادت سے بہتر ہے اس لئےاگر ہم نے سستی برتی وقت کو ہم نے بیجا استعمال کرکے اس ماہ مقدس کی قدر نہ کی تو آئیے اب بھی رمضان کے چند ایام ہیں اسکو کار آمد اورقیمتی بنانے کی فکر اوڑھیں  اوران چند ایام  میں عبادت، صدقات و خیرات کو اپنا وطیرہ بنائیں غرباء، فقراء. ایتام،مساکین و بیوہ سبہوں کا خیال رکھیں . جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے روزے داروں کو ایک گھونٹ پانی یا لسی یاشربت ہی پلادیا تو قیامت کے دن اللہ رب العزت ان کو میری حوض کوثرسے ایساپانی پلائےگا کہ پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اس لئے اس مبارک مہینہ میں دل کھول صدقات وخیرات کریں اور اللہ کے انعامات سے لطف اندوز ہوں کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کے آئندہ ماہ رمضان جب جلوہ نما ہو تو ہم میں سے کون اس کار گہ عالم میں ہو اور کون داعئ اجل کو لببیک کہ چکا ہو تو آئیے ہم  اپنےنفس کامحاسبہ کریں اورعہد کریں کہ گنتی کےجو چند ایام ہیں اس کو بیش قیمت، بیش بہا بنائیں اور  اعمال صالحہ کو بجالائیں اورگریۂ زاری کے ساتھ اللہ سے معافی مانگ کر عبد اور معبودکا رشتہ کو مضبوط کریں تاکہ جو مانگیں وہ مل جائے اور ہماری جائز امیدیں، تمنائیں،خواہشات کو اللہ پوری فرمادئے. آمین
وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین
ــــ ـــــــ ـــــ ــــــ ـــــ ــــــ
۱۷مئی ۲۰۲۰ ء

وقت کی پکار

                         
   باسمہ سبحانہ
                       وقت کی پکار
  محمد طاسین ندوی ......نیپال
اللہ تبارک وتعالی نے ہمارے اوپر بے شمارانعامات کئے ہیں ،جسم و روح کو سلامت رکھا، ذوق سلیم ،نگاہ بلند سخن دلنواز عطاءفرمایا، فراست کی دولت سے مالا مال کیا کہاں تک تحریر کی جائے المختصریہ کہ سینکڑو ں اور ہزاروں انعامات کسے سرفراز فرمایا،فرمان باری تعالی ہے" إن تعدوا نعمة الله لاتحصوها"اے روئے زمین پر رہنے بسنے والوں اگر تم سب انعامات خدا وندی کو شمار میں لانا چاہو تو ان کو شمار میں نہیں لاسکتے. 
ان ہی  بیش بہا، مہتم بالشان نعمتوں میں سے ایک نعمت وقت بھی  ہے جب امت محمدیہ نے  اسکو غیمت جانا قدر کی تو کامیابی مقدر ہوئی بڑے بڑے سلطنت اور حکمراں اور انا پرست گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے اور اپنے کو سلینڈر کئے بغیر نہ رہ سکے ،جب سے ہم نے بےپرواہی،عدم توجہی، بے قدری کی دبیز چادر اوڑھ لیا تو ہم  بھی ایسے بزدل، ڈرپوک،کوتاہ بیں، کورچشم ہوکر رہ گئے کہ ہم نے اپنے کو ان صہیونی،فسطائی قوت وطاقت اورافکارو نظریات کے سامنے ذلیل وخوار ہونے پر مجبور کردیا. اور اس صیاد کے دام فریب میں آکر ہمارے شیر دل نوجوان، شاہین صفت  اولوالعزمان،آسمان پر کمندیں ڈالنے والے نے اپنے کو ہلاکت و رذالت کی بھٹی میں جھونک کر اپاہچ کرلیا یہ محض مغربی  پالیسی سے مرعوبیت اور اپنے وقت کو صحیح استعمال میں نہ لانے اور وقت کی بوقعتی سے ہے،
اگر ہم اپنے سماج و معاشرہ کا جائزہ لیں تو یہ کچا چٹھا بالکل اظہر من الشمس ہوکر رہ جائیگا کہ نوجوانان اسلام اپنے کو خود اپنے ہاتھوں ذبح کررہے ہیں کیونکہ ان کےپاس وقت کی کوئی قدر ،قیمت و اہمیت نہیں جب کہ وقت کی پکار ہے کہ اے فرزندان توحید و رسالت تمہیں ہوکیا گیا کہ جن اسلاف نے اس دنیا آب و گل کے تاریخ کےرخ کو بدلا سنہری تاریخ  بنایا  آج تم ان ہی سے منسوب ہو لیکن اس  کے جزبہ دیں ،الفت و محبت، انسجام واتفاق سے کوسوں دور ہو 
بنابرایں  باطل نظام و طاقت نے  اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے جس سے تمہارے لئے آزادی فی الحال مشکل نظر آرہی. 
قارئین کرام! ہمارے مدارس ومکاتب جہاں کے فیض یافتہ نہایت ہی عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ  اپنی قائدانہ صلاحیتوںکا لوہا منواتے تھے ہر میدان میں لوگوں کی نگاہیں ان پر ہی مرکوز ہوا کرتی تھیں اب انہیں ہوا کیا ہے بالکل ازکار رفتہ ہوکر رہ گئے ہیں وقت پکاررہا ہے او آفاق و انفس کی باتیں کرنے والو آسمان پر کمندیں ڈالنےوالوں ذرا اپنی عظمت رفتہ کو آواز دیناکہ مردم سازی، سماجی انسجام،اچھے اور معزز شخصیات،صاحب عمل و فضل تمہی ہوا کرتے تھے لیکن جب سےتمہارے سوج بوجھ افکارو نظریات بدل گئے اور اپنے کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا علمبردار نہ بنایا،  اللہ کی عظیم نعمت وقت کی اہمیت کو تم نے تار تار کیا تو پسپائی، رسوائی نے اپنا  پاؤں ایسا جمایا کہ ساری عظمتیں، بڑائیاں  خاک ہوکر رہ گئیں ہر میدان میں تم پیچھے رہنےلگے. 
 وقت بھی عجب چیز ہے بہتے دریا کے مانند چپ چاپ چلا جاتا ہے جو گھڑیاں گزرجاتی ہیں وہ واپس نہیں آتی  گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں، ہر وقت کے لئے کام اور ہر کام کے لئے  وقت مقر رکیا جائے نظام العمل ترتیب دیا جائے لائحہ عمل مرتب لیا جائے تاکہ اپنی باقی ماندہ مختصر زندگی  کو اسی کے مطابق بیتانےاور گزارنے کی کوشش کریں پھر جاکران شاء اللہ  کامیابی ضرور قدم بوسی کریگی اگر ہم نے خالی اوقات کو غنیمت جانا  قدر کیا تو سرخروئی، سعادتمندی ازسرے نو بحال ہوسکتی ہے فرمان نبوی ہے پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو
ان میں سے یہ بھی کی  اپنے فارغ و خالی اوقات کو اپنی مشغولیات سے پہلے غنیمت سمجھو .اب بھی وقت ہے  ہم اپنے کو اس لائق بنائیں کہ پھر سےہماری عزت و توقیر عود کر آئے.
کسی شاعر نے کیا اچھی عکاسی کیا ہے 
وقت کے سائے میں حالات بدل جاتےہیں 
دل کیا چیز ہے جذبات بدل جاتے ہیں 
وقت نے بڑ ے انا پرستوں کو بھی نہ بخشا انکے غرور کو نیست  ونابود کیا ہے فرعون وقت، قیصرو کسری کی اینٹ سے اینٹ بجا دی انکی حکمرانی اور طوائف الملوکی کو سبوتاژ کیا. 
ہمارے اسلاف نے وقت کی قدر کیا تو اللہ نے ایسے برکات و فضل  سے نوازہ کے اپنی صغر سنی میں ہی  بہت بڑے بڑے کام کر گزرے. 
اسوقت جن حالات سے دینا جوجھ رہی ہے سارے لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہیں باہر نکلنا ،ملنا ملانا سب مشکل کردیا گیا ہے ہمارے پاس بہت وقت ہے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے اپنے اچھے افکار و نظریات کو فروغ دینے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل میں کچھ کرنے کی اسکیم و پالیسی مرتب کریں جو ہمارے لئےہمارے معاشرہ وساماج کے لئے مینارۂ نور ثابت ہو. نہ کے اپنے قیمتی  اوقات کو افلام بینی، سیریل، اورڈرامہ و تمثیلچہ کے چکر میں ہلاک و برباد کردیں 
سینکڑوں ایسے ڈرامے، مسلسلات،افلام اسلامی نام سے اسلامی تاریخ اجاگر کرنے کے لئے کوشاں ہیں لیکن حقیتا یہ اسلام مخالف فکر و نظر کے  علم بردار ہیں.ہم ان سالف الذکر اشیاء کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئیے. 
اخیرمیں اللہ تعالی سے دعاگوہوں کی  ہمیں وقت کی  قدرکرنےوالا بنائے اوقات کو مرضیات الہی میں صرف کرنے ولا بنائے . *آمین یا الہ العالمین*
ـــــ ــــ ــــ ـــــــ ــــــ ـــــــ ـــــــ ــــن

عید کا پیغام مسلمانان عالم کے نام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
           عید کا پیغام مسلمانان عالم کے نام
                                         از: محمدطاسین ندوی
ہم پر اللہ تعالی کا بے پایہ احسان،انعام اور فضل وکرم ہوا کہ ماہ رمضان مبارک  زندہ و تابندہ، بہت ہی عمدگی و اہتمام کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہاہے، اب انعام باری تعالی -جس کا انتظار ماہ مقدس کی ابتداء ہی سے رہتا ہےـ دو ایک دن کے بعد بشکل عید الفطر ہم مسلمانان عالم کو ملنے ہی والا ہے. عید اللہ کا انعام اور خوشیوں پیغام ہے
عید کے دن عام طور پر ہر فرد و بشر کی یہ خواہش ہوتی ہیکہ ہم اپنے اہل و عیال اور افراد خانہ کو خوش کرنے کے لئے کوئی دقیقہ و لمحہ فروگذا شت نہ کریں حتی الوسع ان کے لئے نئے جوڑے، نئے کپڑے،نئے جوتے عمدہ اور دل کو بھانے والے برتنے  کے سامان اور اشیاء خوردو نوش کا انتظام کرے، لیکن کیا بس اتنا ہی کرلینا کافی و شافی ہے؟ یقینا نہیں اصل نکتہ اور پوئنٹ یہ کہ اپنوں ،پیاروں اعزہ واقارب کے ساتھ اگر ہمیں اپنے ہمسایوں ،پاس پڑوس میں رہنے بسنے والوں،قصبہ اور محلہ کے بیواؤں، یتیموں، غریبوں، ناداروں کی فکر دامنگیر رہے
ہم ان کی باز پرسی  کریں ان سے معلومات کریں کہ انکی عید کا  عالم کیا ہونے والا ہے کیسے وہ اپنی عید منائیں گے آیا ان کے پاس کچھ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے اہل وعیال، اہل خانہ کے دلوں میں سرور داخل کرسکیں یا وہ مفلوک الحال، مفلس، غریب و نادار ہیں،  اگر اس شخص کا  درجہ ثانی الذکر زمرہ میں ہے تو ہمارے اوپر ہماری طاقت و قوت اور حیثیت کے مطابق یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ ہم اپنی محنت کی کمائی میں سے جو میسر ہو انکے نام کریں کیونکہ "خیرالناس بما ینفع الناس " لوگوں میں سےسب سے بہتر وہ ہیں جو دوسروں کے کام آئے  اور یہ تو انکا حق ہے جو چیزین  اللہ کے حضور گئی وہ  ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی ہوجاتی اور جو ہمارے پاس رہتی ہو اسکا ختم ہونا  ایک امر یقینی ہے "ماعندکم ینفد وماعنداللہ باق " .
قارئیں محترم!  ہم نے برکتوں، رحمتوں، فضل وکرم والا مہینہ تو بتوفیق الہی حتی المقدور صدقہ و خیرات کرکے ، افطارو سحر کی فضائل سے مستفید ہوکر، فقراء و مساکین کا بھر پور خیال رکھ کر گزارا.  لیکن کیا یہ سلسلہ صرف ماہ رمضان مقدس ہی تک محدود ہوکر رہ جائیگا یا اگے آئندہ بھی اس لائحہ عمل پر گامزن رہنے کی مساعئ جمیلہ کی جائیگی.
آئیے اس بارے میں ہم فکر کرتے ہیں کہ ماہ رمضان میں ہم نے سنت،نفل،اور فرض کا غایت درجہ لحاظ و احترام کیا قیام اللیل کی بھی فکر رہی روزہ جو فرض تھا اسے بھی کماحقہ رکھنے کی جہد پیہم کیا، اب عید کے شادیانے بج چکے ہیں کیا ساری گذشتہ چیزیں شادیانے اپنے ساتھے لے گئے یا ہم نے اپنے ذی ہوش اور باشعور ہونے کا ثبوت دیکر اسکو زندہ و تابندہ رکھنے کی جہد ہیہم بھی کیا؟ اس کا فیصلہ آپ کو خود کرنا ہوگا کیونکہ ہم مسلمان ہیں  خیر امت ہمارا لقب ہے کنتم خیرامت  تم ہی سب سے بہتریں امت ہو اس روئے زمین پر  اللہ جل جلالہ نے ہم کو اس لقب سے ملقب فرمایا اور یہ لقب متقاضی ہے اس بات کا کہ ہم اپنا عمدہ اوربہتر ہونے کا ثبوت ضرور فراہم کریں تو کیا ہم اپنی عمدگی اور بہتری کا ثبوت  صرف ایک خاص  رحمت وبرکت اور فضل والا مہینہ تک  سمیٹ کر رکھ دیں گے؟
نہیں بالکل نہیں ہمیں تو اب اور زیادہ فکر کرنی ہوگی ابھی ہم سے ہمارا مہمان مکرم بہت عمدہ پیغام و ہدایات دیکر رخصت ہوا ہے ہمیں اس ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کی چکی کو چلانے کی فکر کرنی ہوگی کیونکہ باری تعالی نے ہمیں سب سے عمدہ اور بہتر کہا ہے اپنے پاس پڑوس اور اعزہ واقارب کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئیے صلہ رحمی کو حرزجان بنانا چاہئیے کیونکہ فرمان نبوی ہے لیس الواصل بالمکافی انما الواصل اذانقطع رحمہ وصلہ .. یقینا صلہ رحمی تو یہ ہیکہ ایک فرد اپنے کو دور کرے علاحدہ کرے تو دوسرا اس سے جڑے  اور قریب ہو صلہ رحمی کرے ..
ہم سے غمخواری، غمگساری کا مہینہ تو رخصت ہوا لیکن اس فعل حسن کو ہم اپنی ذات سے رخصت نہ کریں جیسے ہم نے اپنے پاؤں کو پھونک کر ماہ مقدس میں رکھا تھا اسی طرح اس کے علاوہ ایام و مہنیے میں رکھیں کیونکہ سارے مہینے اللہ تعالی ہی کے بنائے ہوئے ہیں، شیطان مردود تو ہمارے رگ و ریشے میں خون کے مانند ڈور لگاتا ہے اسے فکر ہوتی ہیکہ نیک بندہ نیکی نہ کر پائے بلکہ ہماری شیطانی مکر و فریب پر عمل پیرا ہوکراپنی عاقبت کو داؤ پر لگائے. ہم شیطان کے مکرو فریب اورچالبازی کو سمجھیں اور اس سے اجتناب کی ہر ممکن کوشش و اقدامات کریں ہم احکام خداوندی کے پابند ہوں اور نماز کے ایسے پابند ہوجائیں جیسےرمضان مقدس میں پابند تھے نماز تو ایک ایسی عبادت ہے جس کے بارےمیں فرمان باری تعالی ہے "بلاشبہ نماز فحش وغلط اور منکر باتوں سے روکتی ہے".
ہم حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی خیال رکھیں کیونکہ حقوق اللہ تو اللہ معاف فرمائیں گے لیکن حقوق العباد کی معافی اسوقت تک معلق ہو گی جب تک بندہ معاف نہ کرے، توہم حقوق العباد کا خیال کریں اپنے روز مرہ کی زندگی میں اور جہاں تک بن پڑے دوسرے کا کام آنے والا بھی بنیں، حلال وحرام کی پہچان ہو مشتبہ اشیاء سے اجتناب کریں، اپنے آل و اولاد کی تعلیم و تربیت کی فکر اوڑھیں وہی مستقبل کے قائد، راہبر،پیشوا ہیں ان کو اب محاذ سنبھالنا ہے  .کیونکہ لب بام آچکاہے آفتاب اپنا.
ہم احکام الہی فرامین رسول خدا کا پاسدار ہو کر اپنی زندگی کے ایام گزاریں اپنے اوقات کی قدر کریں ان دنوں جس درد و کرب کے دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ نہایت پر فتن، پرآشوب، دجالی دور ہے اپنے کو اور اہل و عیال کو اس کے فتنے اور  دجالی مکرو فریب سے بچا کر رکھنے کی کوشش کریں اور اللہ سے دعائیں کریں کہ اللہ اس فتنہ سے محفوظ رکھ ابھی پوری دنیا معطل اور فارغ ہے کیونکہ ایک آفت ناگہانی نے پوری دینا کو مبہوت کر رکھا ہے انسانیت خوف و ہراس کا شکار ہے  یہی موقع ہے رب سے لو لگانے اور اسکو راضی کرکے اپنے مستقبل و آخرت کو سنوارنے اور تابناک بنانے کا،  ہمیں چاہیئے ہم اپنے کو اللہ تعالی سے ایسے جوڑیں جیسے ماہ رمضان میں جوڑنے کی کوشش کی تھی . ہم اپنے دین سے اس قدر دور ہوجاتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالی کی عطاء کردہ انعامات اور خوشیاں  کی کوئی قدر نہیں ہوتی  او ر نہ ہی غضب الہی سے ڈر کر اپنے دامن بچانے کی فکر کرتے ہیں  .
اللہ ہم سبہوں کو قدرداں بنائے اور جادۂ حق پر گامزن رہنے کی توفیق دے. آمین یارب العالمین انہ ھو الموفق الی الصراط المستقیم 

حسد سماج کا ناسور

بـسم اللہ الـــرحمــن الــرحیــم
            حســـد سماج کا ناســـور 
                   •••••••••••••••••••••••••
دنيا بھی عجیب چیز ہے اس کے بارے میں امیر المؤمنین  حضرت علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا "غري غيري يادنيا"اگر انسان ایمان کامل اور عزم محکم سے خالی ہوتا ہے تو یہ دنیا اور اس کا لطف انسان کو قعر مذلت تک جا پہنچاتا ہے 
ممکن ہیکہ ذہن میں سوال پیدا ہواور دل میں یہ کھٹک ہوکہ وہ کیسے؟  تو لیجئے آپ کے سامنے ہے. ایک شخص کسی بھی سماج میں رہتا بستا ہے وہ جاہ و منصب اور حسب و نسب میں عالی مقام رکھتا ہے یا اس کا  عکس ہے 
تو سماج کے افراد اول الذکرسے اس وجہ سے دور ہوتا ہیکہ ارے ان کے تو طوطی بولتی وہ صاحب حسب و نسب اور صاحب ثروت ہے اور جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے انکی ساری باتیں لوگوں کو گائید لائن سمجھ میں آتی ہے، اگر اس کو ایک مسلمہ حقیقت کہیں تو بجا ہوگا لیکن راقم ایسا نہیں کہ رہا ہےالبتہ یہیں سے ایک مہلک جان لیوا ناسور سر اٹھاتا ہے سماج، معاشرہ، قبیلہ، خاندان،اور اپنی قوم الغرض ایک حقیقی رشتہ دار کو دوسرے سے دور اور ایک کو دوسرے کی نگاہ میں کمتر اور گھٹیا بناکر پیش کرتا اس سے میری مراد بغض،کینہ،حسد،جلن،کڑھن، ٹیس ہے یہ ایسی بیماریاں ہیں جسکا نتیجہ نہایت ہی بھیانک اور شرم کن ہوتا ہے چنانچہ ارشاد ربانی ہے  "وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ"سورالفلق٥
ترجمہ: اور حسد والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔
یعنی پناہ کا مطالبہ جہاں بہت ساری چیزوں سے کی گئی ہے ان میں ایک نہایت ہی شرمناک اور بھیانک حسد ہے 
اور آنحضرت کی تعلیمات میں سے یہ بھی ہے کہ حسد ایک ایسا ناسور ہیکہ کہ سارے اعمال کو جلا کر خاکسترکئے بغیر نہیں رہتا. 

حسد کہتے کسے ہیں اس کی علماء کرام نے متعدد تعریفیں کی ہیں .
سب سے پہلے علماء لغت کی تعریف تحریر ہے 
"حسد کا لفظ حَسَدَ سے بنا ہے جس کے معنی چیچڑی "جوں کے مشابہ قدرے لمبا کیڑا"ہے جس طرح چیچڑی انسان کے جسم سے لپٹ کر اس کا خون پیتی رہتی ہے،اسی طرح حسد بھی انسان کے دل سے لپٹ کر گویا اس کا خون چوستا رہتا ہے اس لیے اسے حسد کہتے ہیں۔‘‘ لسان العرب، باب الحاء، ج۱ص۸۲ْ٦

حسد کی اصطلاحی تعریف:
قال الراغب الأصفهاني :" الحسد تمني زوال نعمة من مستحق لها ، وربما كان مع ذلك سعي في إزالتها "
 امام راغب اصفہانی علیہ الرحمہ حسد کی تعریف بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں ’’جس شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں"المفردات في غریب القرن  ص۱۱۸ 

قارئین کرام! یہی حسد ہے جس کی ہولناکی اور تباہ کاری  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف
انداز میں بیان کیا ہے فرمان نبوی ہے  .
إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ ؛ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ ". أَوْ قَالَ : " الْعُشْبَ " رواه ابو داؤد٤٩٠٣" باب في الحسد"
ترجمہ:حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔
کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  یوں  بیان فرماتے  ہیں
.عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا "رواه مسلم ٢٥٥٩
 كِتَابٌ : الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ  بَابٌ : تَحْرِيمُ التَّحَاسُدِ وَالتَّبَاغُضِ وَالتَّدَابُرِ 
 ’’حضرت أنس سے روایت ہیکہ رسول اللہ نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی ہو جاؤ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزيد فرمايا: 
عن ضمرة بن ثعلبة قال: قال رسول صلى الله عليه وسلم "لا يزال الناس بخير ما لم يتحاسدوا"  الطبراني فی الکبیر ۷۱۵۷
ضمرہ بن ثعلبہ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ  لوگ ہمیشہ  بھلائی  سے رہیں گے جب تک وہ حسد سے  بچتے رہیں گے.
المختصر یہ کہ آنجناب حضرت  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امتی کے اعمال صالحہ کیسے باقی رہے جل کر راکھ نہ ہو اور اس مہلک بیمار سے کیسے نجات پائے جابجا مخلتف پیرایۂ میں ارشاد فرمایا ہے . کہ یہ ایک مہلک مرض ہے اجتناب کى ہر ممکن سعی کی جائے.
البتہ اس طرح کا حسد جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے "لا حسد إلا في اثنتين... الحديث "متفق عليه جائز و درست ہے اس کے بارے میں علماء نے فرمایا کہ وہ حسد اپنے حقیقی معنی میں نہیں بلکہ مجازی غبطہ و رشک کہ معنی میں ہے 
غبطہ و رشک کہتے کس کو ہیں 
الغبطة: ان تتمنى ان يكون لك مثل ما لأخيك المسلم من الخير والنعمة ولا يزول عنه خيره. وقد يجوز ان يسمى هذه منافسة ومنه قوله تعالى:" خِتَامُهُ مِسْكٌ وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ" المطففين ٢٦
یہ تمنی ہوکہ کسی بھائی کہ پاس اگر کوئی نعمت یا خیر کی چیز ہے تو تمنی کرنے والے پاس ہوجائے اور اس کے بھائی کہ پاس بھی باقی رہے 
علماء نے لکھا ہیکہ اسی رشک و غبطہ کو تنافس کا نام دیا جائے یہ جائز ہے 
شریعت میں حسد حرام اور ناجائز عمل ہے جبکہ رشک ایک حسد محمود اور جائز عمل ہے 
حسد کے نقصانات 
حسد و جلن کے بے شمار و انگنت نقصانات ہیں 
حاسد اللہ کی ذات سے بدگمان ہوجاتا ہے اسکی سوچ وفکر منفی ہوتی ہے 
حاسد کی نیکیاں خاکستر ہوتی ہیں اور اسکی محنت اکارت چلی جاتی ہے 
حاسد تعمیری ذہانت سے یکسر دور ہوکر رہ جاتا ہے  اپنی دنیا آباد کرنے بسانے کی بجائے دوسروں کی نعمتوں پر اضطراب میں رہتا ہے
  حسد کئی  نفسیاتی امراض کا ضامن ہے جیسے غصہ، ڈپریشن، احساس کمتری وغیرہ.
حسد سے کئی گناہ اور جنم لیتے ہیں جیسے  غیبت ، بہتان ، الزام ، ٹوہ تجسس،جھوٹ.
حسد سے اللہ تعالی کی ناراضگی ہوتی ہے 
ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے معاشرے میں حسد کی تباہ کاریاں سے لوگوں کو باخبر کریں اور خود بھی اس نیکیاں بھسم کرنے والا عمل سے اجتناب کریں تب جاکر ہم ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں 
قمر رعینی  نے کیا ہی عمدہ دلپذیر  بات کہی ہے
بغض اور حسد سے دل خالی رکھئے 
اپنے   کردار   کو  مثالی       رکھئے
جو داد کے قابل ہو اسے دیجئے داد
دشمن ہی سہی ظرف توعالی رکھئے
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
   محمد طاسين ندوي 
               taseennoori16@gmail.com
                             009779819321867
۱۸ اپریل ۲۰۲۰ ء

ہم اور ہمارا سماج

         بسم اللہ الرحمن الرحیم
               *ہم اور ہمارا سماج*
                ـــ ــــ ــــ ـــ ـــ ـــ ــ
اللہ تعالی نے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی ،ان کے کھانے پینے رہنے بسنے کا سارا انتظام و انصرام فرمایا، مخلتف قبائل و گروہ بنایا تاکہ ایک دوسرے کی پہچان ہوسکے، چنانچہ فرمان باری تعالی ہے .

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ"سورة الحجرات ١٣
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبررکھنےوالا ہے.
  اس دستور العمل اور دستورحیات میں  اللہ جل جلالہ نے آپسی و باہمی عداوت و منافرت کو ممنوع قراردیا، تاکہ بنی نوع انسان چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم  باہم عدم منافرت و عداوت کے ساتھ اپنی اپنی  زندگیاں جئے.
لیکن جب ہم اپنا معاشرہ اپنے سماج پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دیکھنے کو کیا ملتا ہے؟  یہی نا کہ کہیں قبیلہ اور خاندان ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں، تو کہیں مسلم اور غیر مسلم کا دنگل چل رہا ہے، ہم سبہوں نے انسانیت کہ سارے اسباق و پیغام کو بالکل بھلا دیا ہے، اسی وجہ سے آج جہاں جو اقلیت میں ہیں اکثریت ان پر بھاری ہے، اور ایسا ہو کیوں نا کیونکہ ہم مسلمان نے بھی فرمودات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرے سے اپنے دل و دماغ سے نکال کر کہیں دور دراز کھائی میں جا پھینکا ہے، ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے :اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّـٰهِ الْاِسْلَامُ.سورة آل عمران ٢٠٠
ترجمہ:بےشک دین اللہ کے ہاں فرمانبرداری ہی ہے.
اور یادرکھئے اللہ کی فرمانبرداری ہی عبادت وبندگی ہے  چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہے :
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ.سورة الذاريات٥٦
ترجمہ:اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے.
آج اس آفت ناگہانی سے دوچار عالم میں ہم بحیثیت مسلمان یہ جائزہ لیں کہ ہرچہار جانب اس جان لیوا وبائی بیماری کووڈ ۱۹ کورونا وائرس  کا کس قدر ہنگامہ برپا ہے.
آج تک بقول اطباء و حکماء اور ماہرین  اس کی کوئی مناسب دوا دریافت نہ ہوسکی ہے
اس وبا سے بچنےکا واحد حل و علاج سماجی دوری بنا کر رکھنا ہی بتایا جارہا ہے
حکومت ممالک اپنے باشندگان ملک سے باربار یہ گزارش کررہی کہ اپنے آپ کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے سماجی دوری بناکر حکومت کا ہاتھ بٹائیں بھیڑ بھاڑ جلسہ و جلوس سےبالکلیہ اجتناب کریں  اگر کوئی اس وبا سے دوچار ہوں تو اسکے بارے میں جلد از جلد حکومت کو آگاہ کریں تاکہ حکومت اس کی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے اور بیماری دوسروں تک نہ پہنچے .
عالمی و ملکی حالات کے اس تناظر میں ہمیں ایک مھذب شہری ہونے کہ ناطے حکومت کے اقدامات پر خود بھی عمل کرناچاہئیے اور اعزہ و اقارب ،ہمسایہ و دوست، ہر کس و ناکس کو اس پر عمل کی تلقین کرنی چاہیے کیونکہ حکومت کی جائز و مصلحت پر مبنی  باتوں کو سمجھنا ماننا اور اس پر عمل کرنا بھی عبادت کے مترادف ہے.
قارئین کرام!  ایسےپرآشوب وقت میں جبکہ حکومت نے اس وبا سے نمٹنے کہ لئے بالکل لاک ڈاؤن کیا ہواور اسکی تاریخ میں مزید توسیع ہوتی چلی جارہی ہے تو ہمیں اپنے گردو نواح میں رہنے بسنے والوں کا جائزہ لینا چاہئیے کہ آیا اس مہاماری میں ـ جب کہ سارے لوگ معطل بیٹھے منتظر فردا ہیں کہ کب حالت ساز گار ہو سارے لوگ اپنے اپنے کاموں پر لوٹیں ـ جو بن بڑے اشیاء خوردونوش یا اس کے علاوہ اور کوئی ضروریات زندگی کی اشیاء ان تک پہنچانے کی جتن کریں اور ضرورت مندوں تک راحت رسانی کا کام جاری رکھیں کیوں کہ اچھا  انسان وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے.
    ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
      آتے ہیں جو کام دوسروں  کے
اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر عمل کی توفیق دے  اور اس آفت ناگہانی" کرونا وائرس "سے جلد از جلد نجات نصیب  فرمائے .آمین
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 محمد طاسین ندوی
               taseennoori16@gmail.com

  • ۱۵ اپریل ۲۰۲۰ ء

شوال کے چھ روزے انعام الہی





   بسم اللہ الرحمن الرحیم 
     شوال کے چھ روزے ، انعام الہی 
                            از: محمد طاسین ندوی 
ہم نے ماہ رمضان المبارک کے روح پرور،پر کیف فضا سے باہر نکل کر عید سعید کی خوشیاں منائیں، اللہ تعالی کے انعامات و اکرام سے لطف اٹھائیں  اور محظوظ ہوئے. اللہ کی شان کریمی اور رحیمی دیکھیں ابھی ماہ شوال المکرم کا آغاز ہی ہوا کہ  جناب احمد مجتبی  محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان ہوش مند سے یہ کہلوایا  
جن حضرات مرد و خواتین نے ماہ رمضان مبارک کا مکمل روزہ رکھا اور پھر بعد عید شوال کے چھ روزے رکھا تو گویا کہ اس نے سال کا مکمل روزہ رکھاپورے سال روزہ رکھنے کا ثواب لکھا جائیگا.صحیح مسلم 
قارئین کرام!  ہم باری تعالی کی شفقت دیکھیں اور اپنی عاقبت درست کرنے کی فکر کریں  کیسی ہے وہ ذات بابرکات ،عالی صفات کے اپنے بندوں کو نوازنے اور مالا مال کرنے کے لئے اپنے فیضان وکرم کو عجیب عجیب انوکھے اور نرالے انداز میں   اپنے معزز بندوں کے لئے پیش کرتی ہے  . 
البتہ یاد رہے کہ  رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا واجب نہيں بلکہ مستحب ہے  اورمسلمانوں کے لیے یہ عمل مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس  پر   بڑا فضل اوربہت بڑا اجر و ثواب ہے. 
ہمارے ذہن میں ایک سوال پیدا ہوسکتا ہیکہ ماہ شوال کے چھ  روزے پےدرپے چھ دن رکھنا ہوگا  یا فاصلے سے رکھے جائیں گے  تو ملاحظہ کیجئے 
شوال کے چھ روزے  یکم شوال یعنی یوم عید  کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینہ کے آخر تک الگ الگ دنوں میں یا اکٹھے  یعنی لگاتار دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں لہذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے  البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع تیر و تفنگ  کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیوں کہ یہ امرِمستحب ہے جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے.
الغرض ان چھ روزوں کے فوائد میں ایک یہ کہ رمضان مبارک کے روزوں میں جو کمی اور خلل واقع ہوا ہوگا اس کے ذریعے سے اس کی تلافی ممکن ہے کیوں کہ روزے دار سے کچھ نہ کچھ نقص و کمی سرزد ہوجاتی ہے 
اور فرمان نبوی ہیکہ انسان کے فرائض کی کمی روز قیامت انکے نوافل سے پوری کی جائیگی  چانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"
ہمارا رب ‏جل جلالہ اپنے فرشتوں سے فرمائےگا اس حال میں  وہ زيادہ علم رکھنے والا ہے میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں کمی ہے  اگر  مکمل ہونگی تومکمل لکھی جائیں گی اوراگر اس میں کچھ کمی ہونگی  تواللہ تعالی فرمائے گا دیکھومیرے بندے کے نوافل ہیں اگر اس کے نوافل ہونگے تو اللہ تعالی فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرو  پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائيں گے  سنن ابوداود حدیث۷۳۳  
بارگاہ الہی میں دعاگو ہوں کہ ہمیں بھی شوال کے چھ روزے رکھنے کی توفیق دے اور آسان فر مادے تاکہ جو خلل اور نقص ماہ مقدس رمضان کے روزے میں پیدا ہوا ہو اسکی تلافی ہوسکے ..انہ ھو القادر علی ذلک

خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے

            بسم اللہ الرحمن الرحیم 
     خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے 
      ✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧✧
                           از: محمد طاسین ندوی 
اس کارگہ عالم میں اللہ تبارک وتعالی نے  بہت ساری مخلوقات پیدا فرمایا  انسان،حیوان،نباتات وجمادات اور نوع بنوع کے لیکن سب کی تخلیق  اول الذکر کے لئے ہی کی گئی کیونکہ وہ حیوان ناطق ہے اسے گاہ بگاہ ان ساری چیزوں کی احتیاج ہوتی ہے 
کیونکہ اللہ نے اسی حضرت انسان کے لئے پورے عالم کو مسخر کردیا ہے ہر ادنی و اعلی ،ارفع و ابتر میں انسان محترم کے لئے خیر پنہا ہے ،ہم انسان تو ضرور ہیں لیکن  انسانیت کسی سنار کی دوکان پر کان چھیدوا رہی ہے 
ایسا کیوں؟ اگرعالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پورا کرۂ ارض جہاں سے امن و شانتی انسانیت دوستی کی صدائے بازگشت بلند ہوتی تھی اس سرزمین پر انسانیت سوز، ہوش ربا،دل خراش، جاں گسل واقعات آئے دن رونما ہورہے ہیں کہاں تک اعداد و شمار میں لایا جائے .. سفینہ چاہئیے اس بحر بے کراں کے لئے
اور ایک دو زخم نہیں جسم ہےسارا چھلنی
یہ مصرعہ آج کے حالات پر مکمل منطبق ہوتا نظر آرہا ہے 
کورونا وائرس یہ ایک آفت ناگہانی یا خود ساختہ وبا جو بھی ہو اس کے آڑ میں  لاک ڈاؤن اورہر وہ دلدوز اعمال وجود میں آرہے 
 ہیں جس سے انسانیت ناک رگڑتی گھٹنہ ٹیکتی نظر آرہی ہے ابھی حالیہ واقعہ 
مظفر پور اسٹیشن کا کس سے مخفی ہے اور اس طرح کے متعدد واردات و واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے انسانیت بالکل عریاں نظر آرہی ہے 
بہر حال ہوا یہ ایک خاتون اور اس کے دو چھوٹے جگر پارے جو پیادہ پا اپنی منزل مقصود کے لئے نکلی چلتے چلتے تھک کر چور ہوئی اور سستانے اور آرام کی خاطر پلیٹ فارم کی فرش پر دراز ہوئی تو کسے معلوم تھا کہ یہ لیٹنا ایسا لیٹنا اور ایسا آرام ہوگاکہ  اب جگنا محال ہی نہیں مستحیل ہوگا چنانچہ وہ بے  چاری ابدی نیند سوجاتی ہے اور اس کے بچے میں سے کوئی اپنی ماں کو جگانے کے لئے سر پر پانی انڈیل رہا تو کوئی اس کی تنی چادر کو کھینچ رہا ہے کہ ان کی ماں جگ جائے اور اسے اپنے آغوش عاطفت میں لے چمکارے پیار کرے لیکن ایسا کیسے ممکن تھا وہ تو جان کی بازی ہار چکی تھی اب اسے کون جگا سکتا تھا اس نے ہمیشہ ہمیش کے لئے داعی اجل کو لبیک کہا اپنے نابالغ و نادار پیاروں کو روتا ہوا چھوڑ دیا.اور بھی ایسے بہت سے واقعات سامنے آچکے ہیں جو ذی ہوش لوگوں سے قطعا مخفی نہیں 
ایسا کیونکر ہوا اس کے بارے میں ہر خاص و عام، ہر پڑھا لکھا و ان پڑھ نے ضرور سوچا ہوگا 
تو یقینا وہ اس نتیجہ پر پہنچےہونگے کہ مانوتا کی کمی اور دل درد مند سے دوری ضرور ہے اور کیسے یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے جبکہ انسانیت مرچکی ہے حکومتیں اپنی سیاست چمکا رہی ہیں، اپنی کرسی کی فکر میں سر گرداں و حیراں ہیں لیکن یہ بھول چکی ہے کہ جس نے اسے یہ تخت و تاج عطا کیا ہے وہی ذات سیکنڈوں میں اسے تاراج و سبوتاژ کرنے پر بھی قادر ہے 
قارئیں کرام! 
 یہ کیسی دانائی،زیرکی،دانشمندی، دانشوری، کے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے  مواطن و مقیم کی جان کی کوئی قیمت نہ رہ جائے جس حکومت و قیادت نے لاک ڈاؤن کیا تھا کہ حضرت انسان کو وبا سے بچایا جاسکے لیکن کیا وہ اس پر قادر نہیں تھی کہ کام کرنے والے مزدور پیشہ مردو زن کو انکے اپنےاپنےوطن تک پہنچانے کا حکم صادر کرکہ انکا اپنا وطن پہنچنا یقینی بنایا جاسکے  یقینا حکومت ایسا کرسکتی تھی لیکن وہ حکومت جس کے اندر حس ہو انسانیت باقی ہو دوسروں کے دکھ و درد اور کرب کو اپنا دکھ درد اور کرب سمجھتی ہو ایسا کر سکتی ہے  جو حکمراں عوام الناس کے ٹیکس سے پلتے ہوں بڑے بڑے محلوں میں داد عیش دیتے ہوں اور اپنے خوردو نوش اور پہناوے پر ملکی سرمایہ کو موروثی جائداد سمجھ کر بے بےتحاشہ خرچ کرتے ہوں اس سے ایسا ممکن نہیں کے اپنے علاوہ دوسروں کا بھلا کرے .
اےاللہ تبارک وتعالی  وہ دن لا کہ ان نام نہاد قائدین اور ارباب اقتدار کے انا کو التماس سے بدل دے اورانکو اپنی اوقات یاد آجائے
خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے
اَنا کو بنتے ہوئےالتماس دیکھوں میں
   ــــــ ـــــ ـــــــ ــــــ ـــــــ ــــــــ  ــــــــ

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...