بسم اللہ الرحمن الرحیم
حالات حاضرہ اور مسلمان
تحریر : عبداللہ ندوی
حضرات قارئین کرام! آج مسلمانان عالم گوناگوں مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں، نت نئے بےشمار مصائب و آلام میں گھرے ہوئے ہیں، پے در پے مسائل و مشکلات نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی ہے ان کو شکست و ریخت میں مبتلا کر دیا ہے، لیڈران قوم کی متعصبانہ ذہنیت، جانبدارانہ سیاست، گندی پالیسیاں، فرقہ پرستانہ فیصلے، و فرقہ بندیاں نے مسلمانوں کو اندر سے نہایت ہی خستہ،کمزور، اور کھوکھلا کر دیا ہے، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے، اتحاد و اتفاق، یکجہتی واتحاد، مودت و محبت، خلوص و اپنائیت، عدل و انصاف کا خون کردیا گیا ہے، خود غرضی، عیش پرستی،ہوس رانی اور دنیا طلبی نے ایسا ڈیرہ جمالیا ہے کہ ہر آن، ہرلحظہ, ہرلمحہ ایک کو دو اور دو کو چار کرنے کی کوشش اور فکر دامنگیر رہتی ہے، نہایت ہی کم مدت میں ڈھیر ساری دولت دنیا حاصل کرنے اور سمیٹنے کی حرص، طمع،آز اور لالچ حد سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، راتوں رات غربت و افلاس کی دنیا سے باہر نکل کر امیری کے خواب سجانے میں مست ہیں، جائز وناجائز کا جنازہ اٹھ گیا ہے چند دنوان میں اچھی خاصی دولت سے مالا مال ہو کر سماج و معاشرہ میں ظالم و جابر کی دبیز چادر زیب تن کرلیتے ہیں الغرض یہ کہ قلیل عرصہ میں دنیا کے امیر ترین شخص کی فہرست میں شامل ہو نے جاتے ہیں . چاہے طریقہ کار جو بھی ہو، تڑپتی، بلکتی، سسکتی، جاں بلب، سوختہ، شکستہ خاطر انسانیت سے انہیں دور دور تک کوئی واسطہ اور سروکار نہیں،اور ان کا یہ نعرہ مستانہ ہوتا ہے ,ہمیں کسی سے کوئی مطلب نہیں، ہمیں مطلب ہے تو صرف اور صرف اپنی ذات سے اور داد عیش سے اسی لئے" بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست " کا منظر اور مظہر انکی زندگی سے جھلکتا نظر آرہا ہے، یہی وہ مرض و گھن ہیکہ ہم کثرت کے باوجود دنیا کے ہر خطے، ہر گوشے اور ہر میدان میں حیران و پریشان ہیں،ششدر و درماندہ اپنی حیثیت و وقعت کھو چکے ہیں، غلامی، پستی، اور رذالیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، حالانکہ اللہ تعالٰی نے مسلم قوم کو بے انتہا مال و دولت، بےشمار قیمتی اور نایاب خزانوں, بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، باوجود اسکے ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا، حقیر اور کمتر بن چکے ہیں، ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی ہر ممکن کوششیں ہو رہی ہیں، باطل فرقہ پرست اور طاغوتی طاقتیں پھن پھیلائے بیٹھے ہوئے ہیں، ساری دنیا کو چھوڑیں ہم اپنے ملک، سماج، سوسائٹی، اور معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائیگی کہ ہمارے ہی درمیان بھیڑیا صفت کچھ ایسے لوگ رہتے بستے ہیں جن کی داداگیری اور ظلم و جبر سے انسانیت تڑپتی اور کراہتی نظر آرہی ہے ، اخوت و مساوات کا گلا گھونٹا جارہا ہے، آہ و بکاء ,نالہ وفریاد، کرب و اضطراب سے پورا ماحول و معاشرہ مکدر ہوچکاہے، انسانیت ہانپتی اور دم توڑتی نظر آ رہی ہے ، عدل و انصاف کا خون ہو رہا ہے ، مختصریہ کہ معاشرے کا سارا نظام درہم برہم ہوتا نظر آ رہا ہے ، جو قوم تعلیمات نبوی سے دور اور جس قوم میں مفاد پرستی، خود غرضی، مطلب پرستی، اور دنیا طلبی کا مرض پیدا ہو جائے یقینا وہ قوم نکمی اور کمزور ہو جاتی ہے، اس کے اقبال کا ستارہ غروب ہوجاتا ہے، اس کا ڈوبنا اور زوال مقدر ہو جاتا ہے،
اور پوری انسانیت بے بسی، بے چینی، اور درد و الم کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، طاقتور اور صاحب اقتدار غریبوں، بیکسوں، کمزورں،اور محتاجوں کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے، اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے ساتھ ظلم و ستم، جبر و قہر، اور بربریت نہایت ہی قبیح، دلدوز، دلخراش اور قابل مذمت اقدام ہے، اور یہ جاہلانہ و احمقانہ حرکت انسان عام طور پر ہوس پرستی اور سیم و زر کی پوجا کی وجہ سے کرتا ہے، اور دولت و اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر ایسی غلیظ حرکتیں کر بیٹھتا ہے جس سے ساری انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے، اسوقت ضرورت ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسے صاحب اقتدار اور صاحب ثروت کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ وہ ان گھنونے اور انسانیت سوز مظالم سے باز آجائیں، اور تڑپتی، کراہتی، سسکتی انسانیت کو راحت و آرام میسر ہو جائے،
دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کی حفاظت فرمائے اور راہ راست پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔07 جولائی 2020

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں