ہفتہ، 15 مئی، 2021

اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے




 اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

اس کرۂ ارضی پر جتنے بھی ذی روح رہتےبستے ہیں سب کو ایک دن لقمۂ اجل ہونا ہے اور یہی نظام الہی ہے اور تاقیامت یہ نظام جاری وساری رہیگا لیکن کچھ ایسے افراد امت جو گمنام ہوکر بھی بہت ہی نامور اور معروف ہوتے ہیں اور انکی ناموری سے امت مسلمہ کا ایک خاص گروہ اور طبقہ واقف ہوتا ہے اور انکی زبانیں اس فرد و بشر کی رحلت کے بعد انکے ذکر اور یاد سےرطب اللسان رہتی ہیں خود کو چلے گئے لیکن انہوں نے لوگوں کے دل و دماغ پر ایسی مہر ثبت کیا ہیکہ کہ صبح و شام ان کا چرچہ اور ان ہی کا تذکرہ .اسی کی ایک کڑی ہمارے استاذ مکرم جناب مولانا عبدالقدیر ندوی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ کی اہلیہ مرحومہ تھی جو نہایت ہی خلیق. ملنسار ,ہنس مکھ کسی سے ملتی تو خندہ پیشانی اور تپاک سے میں بھی اسی محلہ کو رہنے والا ہوں جس میں مولانا محترم کا دولت کدہ ہے لیکن مجھے قطعا اس کا علم نہ تھا لیکن ان کی اہلیہ کی وفات کے بعد چند ایسے مردو خواتین سے میری گفتگو ہوئی کہ جب میں نے ان کی صفات سے آگاہ ہواتو  دل سے آواز آئی اچھے افراد بہت جلد رحلت کرجاتے ہیں اور طبیعت نے آمادگی ظاہر کی کہ ان کے محاسن کو سپرد قرطاس کیا جائے کیونکہ فرمان نبوی ہے" أذكروا محاسن موتاكم " الله تعالى مرحومہ کی مغفرت فرمائے. بشر تھی کچھ نہ کچھ کمی کوتاہی ہوئی ہونگی اس سب کو دور فرماکر انبیاءو صالحین اور اتقیاء کے زمرے میں شامل کردے. آمین یارب العالمین .

قارئین کرام ! یہ تو پہلی کڑی تھی جس کا ذکر کیا گیا اب آئیے آپ کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو بہت فعال, متحرک مدرسۃ الحرمین کاٹھمنڈو کے بانی و مہتمم اور سینکڑوں لوگوں کے دل میں بسنے والے نہایت ہی بااخلاق مہمان نواز غریبوں کا بھر پور خیال رکھنے والا  جناب الحاج حافظ حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے جس کے بارے میں ایک صاحب نے فون پر  بتایا غریبوں کا مسیحا جاتا رہا یقین جانئیے مجھے قطعا اس کا اندازہ نہیں کہ کون کس بھیس میں کونسا کارہائے نمایاں انجام دینے کے لئے سرگرداں و کوشاں ہے ابھی بھی عیدالفطر کے لئے ضرورتمندوں اور بیواؤں کے لئے سامان عید و پوشاک کا انتظام اس بندہ خدا نے کروایا تھا 

اللہ تعالی ان کو اس کا اجر جزیل عطاء فرمائے.


حافظ حسین صاحب مرحوم .مزاح پسند تھے اگر ان کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھتے تو مجلس اختتام تک ہر بھری رہا کرتی تھی .

بہر حال موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کس کو رستگاری ہے لیکن موت العالم موت العالم یہ بھی ایک حقیقت ہے 

مرحوم کئی دہائیوں سے مدرسۃ الحرمین کاٹھمانڈو جس کے بانیان میں سےتھے اور اس کے اہتمام کے منصب پر فائز بھی تھے سینکڑوں نونہالان اسلام تک فیض پہنچایا جو انکے لئے صدقہ جاریہ ہیں .

بہت صبر آزما مصائب و آلام نے بھی دستک  دیا جس کا اس شیر دل شاہیں صفت مرد آہن نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے وجود کو منوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑا لیکن ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیکہ موقت شئی برحق ہے اور اس کا وقت متعین 

موت نے انہیں آپنے آغوش میں لے لیا ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے انمٹ نقوش ہیں کہ انسانوں کو انکے ذکر پر برانگیختہ کرتے ہیں اور ان کے تذکرے سے دل بھر جاتا ہے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور بے ساختہ دل سے یہ نکلتا ہیکہ 

"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے"

اللہ حافظ حسین صاحب کےسییئات کو حسنات سے بدل دے اور جنت الفردوس نصیب فرمائے آمین.

اخیر میں سبہوں سے یہ درخواست ہے کہ حالات بہت ہی پر خطر ہیں .ہر طرف  شور وگل ہے. موت ہی موت کی صدائے بازگشت کانوں سے ٹکرارہی ہے اپنوں اور پرائیوں کو دفن کررہے ہیں ہم حراساں نہ ہوں بلکہ   ایسے واقعات و حالات میں ہمیں کمربستہ ہونے کی اشد ضرورت ہے  اور اپنے کو  سفر آخرت کے لئے تیار رکھنے کی طرف توجہ دینے کی نہ  جانے اگلی باری کس کی ہو . بہت ہی پر آشوب حالات ہیں .کرونا نے وبائی شکل اختیار کرلیا ہے سینکڑوں افراد لقمۂ اجل ہورہےہیں. اب بھی ہمیں ہوش کا ناخن لینا چاہئیے 

اے مالک ارض و سماء اس آزمائش و امتحان سے ہم سبہوں کو محفوظ رکھ ہم نہایت ہی کمزور ہیں تو ہی سراپا طاقت و قوت والا ہے اپنے حکم سے اس وباء کو ختم فرما سکتا ہے. اس کو ختم کردے.آمین یارب المستضعفین

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...