اس دنیائےآب و گل کی عجیب کہانی ہے صبح ہورہی، شام ہورہی ہے اور عمر عزیز تمام ہورہی ہے، کوئی جارہا ہے کوئی آرہا ہے وہ سینہ کوبی کررہا ہے یہ قہقہے کی مجلس سجائے رقص و سرود میں مست و مگن ہے،
ادھر انفاس قدسیہ کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے تو ادھر سارے نام نہاد اپنے ڈیل مکمل کرنے کی تگ و دو میں حیران و سرگرداں ہیں، کبھی ہاں میں ہاں ملا کر بھی فہرست کی زینت بن رہے ہیں تو کبھی مصلحت و مفاد کی دبیز چادر سے اپنے کالے کرتوت اور ضمیر فروشی کو مکمل ڈھانپنے کی جان توڑ کد وکاوش میں جٹے ہیں، اللہ رب العزت نے اگر کسی صاحب قلب و نظر اور بصیرت کے لئے یہ کام ارزاں کردیا کہ ان کے تعاون ومساعدہ کے لئے صف بستہ ہو جائیں تو دوسرے ہم نوالہ و ہم پیالہ نے ایسا دے پٹکا کہ وہ چاروں شانے چت ہوتے نظر آئے،
*قارئین کرام:*
شش و پنج میں مبتلا نہ ہوں کہ کونسی کہانی اور کیسا افسانہ ہے جو سپرد قلم ہورہا ہےایسا بالکل نہیں ہے بلکہ فلسطینی صاحب ایمانِ کامل اور یقین غیر مضمحل کی حالت زار کو کیسے اور کس پیرائے میں قلم بیان کریں اس پر اسے سکوت طاری ہے نوک قلم جنبش میں آنے سے گریزاں ضرور ہے، لیکن دل ناداں نے اسے ایسا مہمیز کیا ہیکہ اپنی کمیاں، کمزوریاں اور کوتاہیاں کے باوجود زبان نہ کھولے تو خدشہ ہیکہ ایمان قلب سے کوچ کرجائے اور ہم ویسے ہی دینا طلب ,مفاد پرست ,کوتاہ نظر اور عجب وتکبر سے سرشار ہوکر رہ جائیں قضیۂ فلسطین ایمان و کفر کا قضیہ ہے، معرکۂ حق و باطل ہے مسلمانان عالم کے قبلۂ اول کا شرف اللہ جل جلالہ اسی سرزمین کو بخشا ہے بہتیرا انیباء عظام کی آرام گاہ، مسرئ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا شرف عظیم بھی اسی سر زمین کے نصیبے میں آیا ہے،.
چشم فلک نے دیکھا کہ آئے دن کیسے حادثات و واقعات سے ہمارے ایمانی برادران دوچار ہیں، کیسے کیسے کشنجے کسے جارہے ہیں، کیا ہماری غیر ت کو آنچ آتی ہےکہ ہم فرمان مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم *"مثل المؤمنیین في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد "* کا عکس جمیل ثابت ہوسکیں اگر ایسا نہیں چہ ماند مسلمانی؟
اسد اللہ خان غالب نے درست وبجا کہا ہے
*رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف*
*آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے*
اتنے نام نہاد مسلم حکمراں کس بل میں دم دبا کر بیٹھے ہیں کیا انہیں سانپ نے سونگھ لیا ہے کس چشمہ سے قضیہ فلسطین کو دیکھ رہے ہیں کہ انہیں معرکۂ حق و باطل محض ایک خانہ جنگی سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھ میں آرہا کہیں دلوں سے ایمان کے رخصت ہونے کا وقت تو نہیں آن پہنچا؟ہمیں بحیثیت ایک مسلمان کے عالمی اور آفاقی فکر کا حامل ہونا چاہیے اور ہمیں اللہ سے اسکی توفیق مانگنی چاہئیے کہ اے اللہ رب العزت ہمارے خانہ دل میں جو بت پروان چڑھ رہا اسے ہمارے تابع فرمان کر دے تاکہ یوم الحساب آپ کی گرفت سے ہمیں نجات مل سکے اگر ایسا نہ ہوا تو کہیِں اللہ کی ذات اس ہولناک، پیپ و خون سے لبالب کھائی میں منھ کے بل گھسیٹ کر نہ ڈال دے جو نہایت ہی باعث ننگ و عار ہو ،، اللہ ولي التوفیق
