جمعہ، 12 جون، 2020

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں


باسمہ تعالی
فردقائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں
از: محمد طاسین ندوی 
ــــــــــــ ـــــــــ ـــــــــــــــ   ـــــــــــ ـــ.
اس دنیائے دنی ورنگا رنگ میں  ہر فردو بشر کو ہماری  ناک بلند رہے ہماری باتیں سب پر غالب ہوں کی فکر ہمیشہ دامنگیر ہی نہیں  رہتی ہے  بلکہ اگر بس چلے تو اپنے علاوہ کو اپنی فکر و نظر کا قائل کرنے  اور اپنے نطریہ کا حامل بنانے کی ہر سعئ ممکن کر بیٹھتا ہے اسوقت اسے بالکل پرواہ نہیں ہوتا کہ ہم اس جوش بے ہوش میں کیا کچھ کرنے کی جسارت و جرأت کر رہے ہیں فی الوقت  ایک خبر اکثر نیوز چینلوں شوشل وسماجی سائڈس اور پرنٹ میڈیا میں ہیڈ لائن بنی ہے کہ کورونا وائرس کی وباء ہندوستان میں پھیلانے کی ساری ذمہ داری تبلیغی جماعت کے مرکز کے ساتھ ساتھ  اس فکر کے حامل لوگوں پر ہے لیکن اس کی اصلیت کیا ہے اس س ہر ذی شعور واقف ہے البتہ سردست یہ سپرد کرتے ہوئے دل ہلکان ہوا جاتا ہے آنکھیں اشک بہانے کے درپے ہے کہ اپنے کو مسلک اعلی حضرت کا پیرو کار و جنت الفردوس کا ٹھکیدار گرداننے والے احباب کا ترجمان نے  ہندوستانی وزیر داخلہ کو تحریر ارسال کیا ہیکہ چہار دانگ عالم کی فکر لیکر حیراں و سرگرداں اپنے سروں پر  بوریا بسترا اٹھائے مسلمانوں کوبھولا بسرا سبق یاد دلانے  اور  انسانیت کو سب کچھ اللہ سے ہونے اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کی باتیں سیکھانے اور یقین پیدا کرانے والی جماعت تبلیغ پر پابندی عائد کرنے کی درد مندانہ درخواست کی ہے تو یادر ہے کہ ایسے ہی کسی موقع سے کسی شاعر نے کہا تھا
منتشر ہوتو مرو شور مچاتے کیوں ہو
کیا ان مدعیان اسلام کو یہ پتہ نہیں یاوہ اس  سے آگاہ نہیں کہ آٹا کہ ساتھ گھن بھی پسا جاتا ہے وہ نااہل و ناہنجار کیا کرنے جارہے اسے کیا خبر کل جب وزیر داخلہ و ہندتوا کا تیروتفنگ و  نشتر  چلے گا تو درخواست دہندنگان بھی اس صف و زمرہ میں نظر آئیں گے جس میں تبلیغی جماعت اور اس فکر کے حاملین ہونگے پھر انکا غرور ونخوت کا کیا ہوگا اس کا علم عنداللہ تو ہے ہی لیکن اس کا انا ضرور التماس میں بدلیگا
خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے
انا کو بنتے ہوئے التماس دیکھوں  میں
اور جس فسطائی طاقت و قوت کے پس پردہ اپنے کو بچانے کی سوچ رہے ہیں جب کوڑے پڑیں گے تو انکا بھرم طشت ازبام ہوگا اس وقت وہ خون کا رونا روئیں گے اور سوائے کف افسوس ملنے کہ اور کچھ نہ ہوگا
میں  اس تحریر کے توسط سے دردمندانہ اپیل کرتا ایسے منفی مفکرین اور متبعین مسلک اعلی حضرت سے کہ اس دور افتاد میں اب بھی ہوش کا ناخن نہ لیا تو وہ دن دور نہیں کی آپ کی بھی اینٹ سے اینٹ بجائی جائیگی. ورنہ ابھی بھی وقت ہے اپنے کو سنبھالیں مثبت سوچ پیدا کریں دوہرائیں کے آپ کہاں سرگرداں نکلے چلے جارہے ہیں آئیں متحد ہو کر باطل پاور و طاقت کا سنجیدگی سے مقابلہ کریں اور دندان شکن جواب دیں  اور اتحاد و اتفاق کے ذریعہ اس فسطائی نظام کا ڈٹ مقابلہ کریں
متحد ہوتو بدل ڈالو نظام عالم
منتشر ہوتو مرور شور مچاتے کیوں ہو
اور یہ بھی یاد رکھیں کے آپ اور  ہم نے اور لوگوں نے  گرچہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد مدرسہ الگ الگ لئے بیٹھیں ہے لیکن ہم اپنوں کے علاوہ کی نگاہ میں ایک ہی ہیں تو ان کے اس زعم کو حقیقت کر دیکھائیں اپنی ساری رنجشیں عناد کو لپیٹ کر رکھدیں
اوفرد ملت ربط باہم سے ہے تنہا کچھ نہیں کا حقیقی پرتو ہوجائیں. بس اتنا ہی
اللہ ہمیں  بھی عمل کی توفیق دے. آمین
ـــــ ـــــــ ــــــــــ ـــــ ـــ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...