بدھ، 10 جون، 2020

ماہ شعبان المعظم اور ہم












              بسم اللہ الرحمن الرحیم         
         ماہ شعبان المعظم اور ہم
قسط اول
محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت جب دنیا کو وجود بخشا اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے بنائے اور ہر مہینہ الگ الگ خصوصیات سے نوزا فرمان باری تعالی ہے، "إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرࣰا فِی كِتَـٰبِ ٱللَّهِ یَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَاۤ أَرۡبَعَةٌ حُرُمࣱۚ ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُوا۟ فِیهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكِینَ كَاۤفَّةࣰ كَمَا یُقَـٰتِلُونَكُمۡ كَاۤفَّةࣰۚ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِینَ"   سورة التوبة 36
ان مہینوں میں سے ایک ماہ شعبان المعظم ہء اس ماہ مقدس کے فضائل پیغمبر اسلام سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی عمدہ و دلنشین انداز میں یوں بیان فرمایا "الشعبان شهري " شعبان ميرا مہینہ ہے .حدیث بالا سے ماہ شعبان کی فضیلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ کو اپنا مہینہ قرار دیاہے.
جس مہینے کی نسبت آپ کی ذات عالی صفات نے اپنی طرف کیا ہو تو اسکی عظمت و شان کا بکوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کونکہ نسبت سے شئی کی حقیقت بدل جاتی ہے.
اس ماہ کی فضیلت و عظمت اس سے بھی کیا جاسکتا ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے  کے اکثر حصے میں روزے رکھا کرتے تھے .چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام کے ساتھ رمضان مبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کا روزہ رکھے ہوں.
اور فرماتی ہیں کہ:  میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھے ہوں.
 عن عائشة رضي الله عنها قالت "ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان، وما رأيته في شهرٍ أكثر صياماً منه في شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلاً” رواه الشيخان
دوسري روايت میں ہیکہ "رسول اللہ کو تمام مہینوں سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان مبارک سے ملا دیتے.  "كانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شعبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ برَمَضَانَ"رواه الإمام أحمدوصحَّحه ابنُ خزيمة.

شب براءت کی فضیلت:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ماہ شعبان کی پندرہویں شب شب براءت کہلاتی ہے "براءت" کے معنی چھٹکارا  و رستگاری کے ہیں، شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: شب براءت کو شب براءت اسلئے کہتے ہیں کہ اس رات میں دو قسم کی براءت ہوتی ہے.
۱ـ ایک براءت تو بدبختوں کو اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتی ہے.
۲ـ دوسری براءت اللہ جل جلالہ کے دوستوں کو ذلت خواری سے ہوتی ہے. غنیۃ الطالبین  ۴۵۶
مزید یہ فرمایا کہ جس طرح مسلمانوں کے لئے اس روئے زمین پر عید کے دو دن ہیں اسی طرح فرشتوں کہ لئےبھی آسمان پر دو رات ہیں ایک شب براءت  اور دوسری شب قدر عید کی راتیں ہیں  کیونکہ وہ رات میں سوتے ہیں اور فرشتوں کی عید رات میں رکھی گئی کیونکہ وہ سوتے نہیں ہیں .غنیۃ الطالبین ۴۵۷

احادیث مبارکہ میں شب براءت کی بہت فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہیں جس میں سے یہ کہ اس شب کو اللہ جل جلالہ و عم نوالہ بے شمار لوگوں کی مغفرت کردیتے ہیں.
چنانچہ حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا؛: اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں.
عَنْ عَائِشَةَ قالت :فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا ہُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ ترمذی 
۱/۱۵۶ابن ماجہ ص۹ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...