ہفتہ، 11 فروری، 2023

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

 


 روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

 از قلم:  محمد طاسین ندوی

 جب سے انسان کو اللہ تعالی نے وجود بخشا، اسی وقت سے  انسان مختلف انواع و اقسام کے قدرتی آفات و آزمائش سے دوچار ہوتا چلا آیا ہے،  جسکی وجہ سے کبھی جانی نقصانات تو کبھی مالی، کبھی املاک  تباہ اور انفاس بھی ہلاک و برباد ہوئے  گو ہر طرح کی آزمائش سے حضرت انسان دوچار ہورہے ہیں، اور یہ سلسلہ روز قیامت تک دراز رہیگا، لیکن غور طلب امر یہ ہیکہ ایسے حالات کیوں بن پڑتے ہیں؟  تو سائنسداں حضرات اپنے نقطۂ نظر سے دنیا والوں بتاتے ہیں  ، دانشوران اپنے اعتبارسے ، اور علماء اسلام آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر جنش قلم دیتے ہیں اور لوگوں کو اسی کی ہولناکی اور تباہی کے اسباب سے آگاہ کرتے ہیں.    *قارئین عظام!*  اسلام ایک منظم و مستحکم ہمہ جہت انقلاب  کے ساتھ ساتھ دین کامل بھی ہے، دین اسلام میں  ہر چیز کی خبر دی گئی اور ہر معمولی اور غیر معمولی اشیاء کو نہایت خوش اسلوبی اور عمدگی کے ساتھ دنیا والوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے، چنانچہ فرمان نبوی ہے *"لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ" رواہ البخاری*   قرب قیامت علم اٹھالیا جائیگا، زلزلوں کا دور دورہ ہوگا، نوع بنوع کے فتنے فساد جنم لیں گے۔  آج اگر ہم اپنے گرد نواح کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ اسرار کھل جائیں گے کہ ہم مدعیان دین و ایمان کہاں ہیں؟ کیا ہمارا سماج ،ہماری سوسائٹی، ہم اور ہمارے اعزاء واقرباء قرآن و سنت کی پاسدار کررہے ہیں؟   یقینا ہچکچاتے ہوئے جواب یہ دیا جائیگا کہ ہمارے اندر بہت ساری کمیاں ہیں،  اگر ان کمییوں کو ہم نے مزید فروغ دیا تو اللہ زمین میں دھنسا دیگا، پھر ورز محشر اٹھائے گا  اور نیکو کار کو نیکوں کے ساتھ کھڑا کریگا، اور بدکار کو بدوں کے ساتھ، حالیہ واقعات کے پس منظر میں ذرا غور تو کریں کہ شام و ترکی جو اسوقت زلزلہ کے ستم ظریفی سے دوچار ہے، اور بیس  ہزار سے زائد جانیں جا چکی ہیں، خدشہ ہنوز باقی ہیکہ ہو نہ ہو ملبے تلے اور بھی جانیں دبی ہونگی ، وہ فلک بوس عمارتیں  پلک چھپکتے ہی آن کے آن میں زمیں بوس ہوگئیں، عیش و عشرت میں مست و مگن لوگ اس بات کو سوچنے سے قاصر ہونگے کہ ارے یہ کیا ہوگیا ...؟ ابھی تو ابتداء عشق ہے انجام تو اللہ کو معلوم ہے کہ کیا ہونا ہے؟ اس ایک جھٹکا سے اللہ نے ہمیں متنبہ کیا ہے تاکہ  ہم مدعیان اسلام کو سنبھلنے کا موقع مل جائے  اور یہ صداء بازگشت گونجے کہ اے امت محمدیہ ہوش کا ناخن لو اپنے انجام سے بے خبر نہ رہو، اپنے مالک کو یاد کرو اور یہ بھول جاؤ کہ اللہ کے سامنے کوئی سائنس اور کسی بھی طرح کی ٹکنالوجی ٹک  سکتی، سارا سسٹم فیل سارا نظام درہم برہم، اگر کرنے والا کوئی ہے تو وہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات عالی صفات ہے اب بھی موقع ہے سنبھل جاؤ،  اگر نہ سنبھلے تو اپنے کو ہولناکی اور تباہی سے دوچار ہونے کے لئے مستعد وتیار رکھو   *قارئین محترم !* ابھی ہم سبہوں نے دیکھا کہ کیسے پیر و نوجوان مرد و زن بچے و بچیاں اس تباہ کن زلزلہ کے زد میں آکر اپنے جان کی بازی ہار گئے  ہیں، کتنے املاک تباہ  وبرباد ہوئے ہیں، جن کے یہاں پیسے کاانبار تھا وہ بھی ایک بالشت کے پیٹ کو بھرنے اور تن بدن کو چھپانے سے یکسر قاصر ہیں، اس لئے ابھی ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اور  انسانی حقوق کے علمبردارن سامنے آئیں،  اور ترکی و شام کے برادرن کے لئے ید تعاون دراز کریں، اسلئے کہ فرمان نبوی ہے *"ومن فرج عن مسلم كربة، فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة"* جس نے صاحب ایمان و اسلام کے الم و مصیبت کو دور کرنے کی تگ ودو کیا، اللہ تعالی روزقیامت اس کے عوض انکی مصیبت و الام کو دور فرمائیگا .... اور ارشاد باری تعالی ہے *" وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون "* خیر کے کاموں کو گلے لگاؤ شاید تم سب کامیاب ہوسکو،  ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ جس کے خاندان و گھر اجڑ گئے ہم ان کے دردو غم میں شریک ہوکر انکے درد کا درماں بنیں. کسی شاعر نے کیا خوبصورت عکاسی کیاہے   

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے  میری دعا ہیکہ جو لوگ جاں بحق ہوئے اللہ انہیں اعلی علیین میں جگہ دے، اور لواحقین کو صبر و تحمل سے نوازے ........*(آمین ثم آمین)*

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...