بدھ، 3 مارچ، 2021

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

 










کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

ازقلم:  محـــمد طاسین ندوی

دن کی روشنی  ہو ہا شب دیجور انسان ہر آن ولحظہ اپنی خواہش،ہوس رانی، آرزو، تمنا،امید بَر کیسے آئے اسی چکی کے اردگرد حیران و سرگرداں نظرآتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ ہم نے اپنے صفت حیوانیت کو غالب اور ملکیت کو مغلوب کررکھا ہے ہم ہوس کے دیوی دیوتا کہ بےباک پجاری بنے اپنے معاشرہ میں بھیڑئیے کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ہمیں ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ ہماری شان تو بہت ہی بلند اور ہمارا کام تو بہت ہی اعلی وارفع تھا لیکن ہمیں تو دنیا طلبی، احسان فراموشی،ظلم و جور نے قعر مذلت میں ایسا ڈھکیلا کہ آج انسانی شکل میں شیر اور چیتا سے کم نہیں سوسائٹی برباد ہوتی چلی جارہی ہماری دوشیزائیں، نوجوان کے کرتوت و اعمال ایسےہوگئے کہ انسانیت شرمسار ہوکر اپنی ناک رگڑنے پر مجبور ہے.

ابھی گذشتہ کل کا  دل دوز،جاں گسل،روح فرسا عائشہ عارف کا حادثۂ خودکشی سے ہر خاص و عام واقف ہیں کہ عائشہ کیوں عارف کی بھینٹ چڑھ گئی یقینا اسکا جواب سبہوں کے پاس ہوگا لیکن کیا ہمیں  اس کے بعد بھی یہ یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ ہمارے سماج میں بے شمار عائشہ اسی لعنت جہیز کی وجہ سے زیست و موت سے نبرد آزماہیں اور ان گنت عارف نما حریص بے ضمیر سسرالی ٹکرے پر پلنے والے بھیڑیے دندناتے پھر رہے ہیں اسی وجہ سے


 کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا      

 بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا      

  عارف جیسے پلید کو راہ راست پر لانے کی فکر کریں یا ان جیسے حریص درندے کو انکی اوقات یاد دلانے کی ہم  کوشش کریں اور ایسے ہوس کے پجاری جو سسرالی ٹکرے پر دم ہلاتے ہیں اس کی دم کو کاٹنے کی ہر ممکن کوشش ہو اس کا سماجی بائیکات کیا جائے ایسے درندوں کی  فرحت وانبساط غم و اندوہ کے موقع سے بالکل اپنے کو جدا رکھے تاکہ اس پلید مشت خاکی کو اپنی اوقات کا پتہ چلے کہ کتنا نکمی اور بے یار ومددگار ہیں ہم .

قارئین کرام! یہ فقط ایک عائشہ عارف کا مسئلہ نہیں ہے ہر روز و شب کتنی دوشیزائیں جہیز کے طعنے اور تیر و تفنگ کی زد میں آکر اپنی جان کی بازی ہار رہی ہیں آئے دن اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں لیکن ہمارے سماج میں رہنے والے ناسور کو اس سے کیا لینا دینا جان جس کی جانی ہو جائے انہیں تو اپنی جیب و پیٹ کی فکر آن پڑی ہے بچیاں اپنے والدین کے گھر بن بیاہے ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں انہیں تو سونے اور نقد کتنے ملیں گے اس کی فکر پریشان کیا ہوا ہوتا ہے یہ ہمارے سماج کے لوگ بھول گئے کہ حسن ومال سے مقدم  دینداری ہے ہمیں بحیثیت مسلمان کس امر کو فوقیت دینا چاہئیے اس جانب تو شاید  ہمارا ذہن و دماغ کا گزر بھی نہیں چہ جائیکہ اس پر ہم توجہ دیں ہم تو دیکھتے اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو جن کے لئے دنیا کو جنت بتائی گئی ہے ہماری اصل زندگی تو اخروی زندگی ہے 

اگر ہم علماء و دانشوران نے اس فتنہ کے سدباب کی کوشش نہیں کی تو اللہ تعالی ہم سے یہ ضرور دریافت کریں گے کہ تم نے اپنی ذمہ داری و فرض منصبی کو کما حقہ ادا نہ کیا تم بھی مجرم ہو سینکڑوں عائشہ لقمہ اجل ہوتی رہیں اور تم تماشہ بیں بنے رہے جبکہ تمہیں شریعت نے منکَر سے روکنے کا اہل بنایا تھا 

اللہ سے دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی کار خیر کی توفیق بخشے اور جہیز جیسی  لعنت سے ہم سبہوں کو محفوظ فرمائے آمین یارب المستضعفین

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...