جمعہ، 7 اگست، 2020

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دےمارا

 

باسمہ تعالی 

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دےمارا

از:محمد طاسین ندوی

باری تعالی نے ہمیں اشرف و اکرم بنا کر جہاں اس صفحۂ ہستی پر رہنے بسنے والے دیگر اقوام و انسان کے مقابلے اپنی شفقت و احسانسے نمایاں کیا ہے ,اور ایک ایسا گائیڈ لائن اور دستور حیات دیا جس پر چلنے سے ہم بام عروج و اوج کمال کوپہنچ سکتے ہیں ,آسمان پر کمندیں ڈال سکتے ہیں آفاق و انفس کی سیر بڑے ہی سکون و اطمینان سےکرسکتے ہیں ,ایسا ہوا یا نہیں تاریخ اس پر شاہد ہے ,ہمارے اسلاف نے جب اس دستور حیات کو اپنایا تو کامیابیاں نے اپنے تمام تر تانے بانے سمیت ان کے سامنے ڈیرہ ڈالدیا اوران کی قدم بوسی کو اپنے لئے صد افتخار وطرہ امتیاز سمجھا کیونکہ ہمارے آئمہ و علماء اسلاف نے اپنے کو کندن بنایا تھا اپنی زبان کو پابند شریعت کیا تھا غیبت, الزام تراشی, چغلخوری اور انواع و اقسام کے ہتک آمیز افکار سے اجتناب کیا تھا اپنے نفس کو مغلوب اور حکم الہی کو غالب رکھا تھا تو بھلا کیونکر تاریخ ان کے اسماء کو اپنے سینے میں محفوظ نہ کرتی ,لیکن جوں جوں اسلاف سے ہماری دوریاں بڑھتی گئیں ہم نے اپنے کو ہی عقل کل کا مالک گرداننا شروع کیا تو ہم خائب و خاسر, شکستہ و درماندہ ہوتے چلے گئے آج نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ہمارے وطن کے لوگ اجنبی سمجھنے لگے  اور اجنبیت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ عداوت و دشمنی کے راہ پر گامزن ہوئے اور ہمارے آثار قدیمہ مساجد و مکاتب کو تاراج و سبوتاژ کرنے کی کوشش شروع کی اور اس میں وہ لوگ کامیاب ہوئے بغداد جو علوم اسلامیہ کا مرکز تھا اسے ہم سے چھینا گیا اور اس جیسے اور بھی اسلامی قلعے تھے جسے ہمیں اپنے غیر دانشمندانہ فکر و نظر کی وجہ سے کھونا پڑا اور حالیہ دنوں میں  اسکی ایک بین و واضح دلیل مسجد بابری اور اس جیسے کئی مساجد پر غاصبانہ و ظالمانہ قبضہ اور مسجد کے اعمال ناپید اس کی جگہ گائے بھینسے اونٹ و گھوڑے کا اصطبل بنایا گیا  اور کہیں مندر تو کہیں میوزیم  و گرجا گھر کہیں چرچ و گردوارہ سے تبدیل کیا گیا .آخر ایسا کیوں ہوا کبھی ہم نے غور کیا؟اگر ہم نے غور کیا ہوتا تو ہمیں جواب بڑی آسانی سے مل سکتا تھا ...وہ یہ کہ ہم نے اپنی زندگی کے سنہرے ایام کو عیش وعشرت رقص و سرود آسائش و زیبائش میں تمام کیا ہم نے کل کی فکر ہی نہیں کی,  نہ حکم الہی  فرمان نبوی کے مطابق  بادشاہت و حکمرانی کیا نہ اپنے عاقبت کو ملحوظ خاطر رکھا, اگر ہمیں یہ فکر دامن گیر ہوتی تو آج ہم بالکل دو ٹکے کے لوگ نہ ہوتے ہمارا ملک وہ بھی سیکولر ملک  میں عزت و احترام کیا جاتا جملے چست نہ کئے جاتے مسجد و مدارس نہیں توڑے جاتے ہمارے گھروں محلوں کو ویران نہ کیا جاتا ,ہم اپنے حقوق کے مطالبے پر دیس دروہ جیسا طعنہ نہ دیا جاتا اور نہ ہمارے دانشوران, قائدین کو پس زنداں کیا جاتا.ہم تو اپنے مرغوبات کی بازیابی میں محو منہمک رہے کبھی یہ خیال آیا ہی,نہیں کہ بادشاہت تو اللہ کی ہے تو الملك لله والحكم لله .ہم نے اپنی زندگی کے قیمتی و بیش بہا سرمایہ کو  داد عیش دینے  میں  عالیشان باغات و محل بنانے میں خاکستر کردیا رہے دیناوی رنگینیاں میں ایسے کوشاں ہوئے کہ اپنی بھی فکر نہ رہی چہ جائیکہ عام مسلمان کی فکر رہتی اور ایسا اس لئے کہ  جو قوت و طاقت ایمانی جذبہ ایثار و قربانی و انفاق و اکرام ,فقر و استغناء ہم نے اپنے اسلاف علیھم الرحمہ سے مستعار لیا  اس کو منوں مٹی تلے ایسا دبا دیا دفن کردیاکہ اس کی کمر بالکل ازکار رفتہ ہو گئی ٹوٹ گئی  اور دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہی.

قارئین کرام ! اسلامی شعار اور ہندوستانی مسلمانوں کی آئینی ملکیت مسجد بابری کی اگر بات کی جائے تو اس کی جگہ تو عدلیہ غیر منصفہ نے ہندتوا کے حوالے بغیر کسی ثبوت و دلیل کے سونپ ہی دیا تھا  ابھی گذشتہ کل 5 اگست 2020ء کو مسجد بابری کی جگہ رام مندر کا شیلانیاس ہوا جو ایک بہت ہی شدید  رنج و الم وتکلیف و کوفت والا عمل تھا ہم مسلمانوں کے لئے کیونکہ یہ  خبیث عمل بالکل غیر آئینی طور پر عمل میں آیا اس پر مسلم پرسنل لاء نے  بھی مخلتف زبانوں میں یہ لکھا  اور باور کیا کہ بابری مسجد پہلے بھی مسجد تھی,اب بھی مسجد ہے اورہمیشہ مسجد رہیگی .ہاں وہی مسلم پرسنل لاء بورڈ جو ہندوستانی مسلمانوں کی ایک مہتم بالشان اور نمائندہ فاؤنڈیشن سمجھا جاتا ہے اس نے پھر بعد میں انگریزی ٹویٹ مٹا کر ایک طفلانہ عمل کیا یا اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا یہ خود ایک سوال ہے  اب یہ نہیں معلوم کہ کیسا پریشر اور کیسی دباو تھی کہ جس کی وجہ سے  جس  نے ایمانی جذبہ سے سرشار ہوکر یہ لکھا تھا کہ بابری مسجد پہلے مسجد تھی اور مسجدہے اورمسجد رہیگی پھر ایک دن بعد  اس جذبہ کا خون کیونکر کیا ایا بی جے پی حکومت نے اپنی سرخ آنکھ دیکھائی یا کسی آقا کو خوش کرنے اور مسلمانان ہند کو بے وقوف بنانے کا  ڈھونگ رچایا گیا  یہ اپنی جگہ مستقل موضوع بحث ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بورڈ کو  وجہ مسح بھی واضح کر دینا چاہیے کہیں ایسا تو نہیں کہ  یہ  ہماری نمائندہ یونٹ و فاونڈیشن و پرسنل لاء بورڈ صرف ایک مسخرہ ہو کر رہ گیا ہے اس کا علم تو اللہ کو ہے لیکن مساجد و مدارس کا ہم سے چھین جانا  صرف اور صرف ہماری ناعاقبت اندیشی اور منہج اسلاف سے دوری کے نتائج ہیں اورہم یاد رکھیں ہم مسلمانوں عالم  جب اپنا محاسبہ کرنا شروع کریں گے

اس کے بعد قدرت کا کرشمہ ضرور نظر آئیگا.

چاہے ہم جتنا چیخیں چلائیں کمی تو ہمارے اندر بہت ہے  ہم جادہ حق سے رو گرداں ہورہے ہیں جو ہمارے اسلاف کا نصب العین و مقصد حیات تھا

علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے کیاخوبصورت تصویر کشی کی ہے

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

اللہ ہمیں دین اسلام پر گامزن رہنے کی توفیق دے ہمارے اندر جو بزدلی نے اپنے لاو لشکر کے ساتھ پڑاو ڈالے ہیں اس کا خاتمہ فرما کر اسد اللہ الغالب بنادے آپس میں انسجام پیدا فرمادے . آمین.

بدھ، 5 اگست، 2020

اے بابری مسجد ! ہم مایوس نہیں ہیں

 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 اےبابری مسجد! ہم مایوس نہیں ہیں 
ازقلم : محمد طاسین ندوی 
اللہ تبارک تعالی نے اس روئے زمین پر مسلمانوں کو پیدا کیا اور ان پر انواع و اقسام کا انعام فرمایا بعض کا تعلق رہنے بسنے سے ہے تو بعض کا معاملات و عبادات سے چونکہ یہ امت اجابت ہے پچھلی امت کی طرح ان پر بھی نماز کو فرض کیا لیکن خاص خصوصیت کے ساتھ کہ اس امت محمدیہ کے لئے روئے زمین کا چپہ چپہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت کیا مسلمانان جہاں چاہیں  جس جگہ چاہیں اپنی نماز ادا کریں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اس جگہ و مکان کا پاک و صاف ہونا ضروری ہے .
قارئین کرام ! آئیے بابری یا میر باقی مسجد کی باتیں کریں مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے حکم سے سن ١٥٢٧ء میں میر باقی کے ذریعہ ریاست اتر پردیش کی مشہور جگہ اجودھیا میں تعمیرکروائی گئی تھی , یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹے گنبد تھےگنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلاسٹر کیا گیا تھا مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند  بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا مختصر یہ کہ یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھی .
١٩٤٩ء میں مسجد کو بند کرا دیا گیا اور ٤٠ سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی  BJP نے LK ADWANIکی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی اور  تحریک کے دوران ٦دسمبر١٩٩٢ء  كوہزاروں ہندوکارسیوکوں نے BJP اور وشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں اس اسلامی شاہکاراور تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا گیا جس کے بعد دہلی و ممبئ اور  ہندوستان کے دیگر شہروں میں تقریباً دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا
پھر کیا ہوا ہم سبہوں نے پڑھا سنا اور دیکھا مقدمہ کورٹ تک پہنچا لیکن  ہندوستانی عدلیہ نے بھی اپنا بھرم کھویا کیونکہ ہندوستانی عدلیہ بھی BJP حکومت ساز باز رکھنے والا ٹھہرا اسلام و مسلمان دشمنی یہاں بے نقاب ہوا اور  فیصلہ ہندو وادکے حق میں دیا گیا .
موجودہ BJP دور اقتدار نے وہ سب کچھ کیا جس سے مسلمانیت ہی نہیں بلکہ انسانیت سر مشار ہورہی ہے 
آج مورخہ٥ اگست بروز بدھ ٢٠٢٠ء رامندرکا شیلانیاش ہونے جارہا ہے اور ہندوستان کا یہ عالم ہیکہ ہر طرف وبائی بیماری کو رونا سے رہائشی پریشان ہیں کام کاج بالکل معطل  ہے ایسا محسوس ہورہا کہ دنیا بالکل تھم اور سہم سی گئی ہو .جہاں حکومت وقت نے سوشل ڈسٹائنسنگ والا اصول وضابطہ بنایا تھا آج بخود اس کا خون کرنے والا ہے 
کہاں ہیں WHO کے لوگ اور اس کے ترجمان جس نے اس بیماری سے بچنے کا حل اس سماجی دوری کو بتایا تھا کیا اسے یہ سری گتی قیدیوں نظر نہیں آرہی ہے .یقینا آرہی ہوگی لیکن الکفر ملة واحدة  بالکل بجا اور درست ہے اسوقت سارے اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں اور خواب آور گولیاں کھا کھا کر سو رہے ہیں  اگر مسلمان کچھ کرنے پر آمادہ ہوں تو سب کے سب خواب خرگوش سے بیدار ہوجائیں گے کو رونا کا خطرہ بڑھتا نظر آئیگا 
فرمان نبوی الدنیاسجن المؤمن وجنة الكافر یقینا ایک جامع حدیث ہے کفار داد عیش دے رہے ہیں ایمان والے مظلوم و مقہورہیں نہ کوئی داد رسی کرنے والا اور نہ ہی کوئی کچھ سننے والا ہے 
لیکن پھر بھی ہم ہی راہ حق والے ہیں ہماری بابری مسجد کو مسمار کردیا جانے سے یا اس کی جگہ پر غاصبانہ قبضہ کرلینے سے یہی ہوا کہ رام مندر کی بنیاد رکھ دی گئ, مندر کی تعمیر کی کوشش ہورہی ہے لیکن وہ جگہ مسجد کے حکم میں ہے اور رہے گی ..
ہم حوصلہ بلند رکھیں آج نہیں تو کل, یہاں نہیں تو وہاں ,ہماری  ہی بالادستی ہوگی ان شاءاللہ تعالی بس ہم اپنی حقیقت کو جانیں اور پہچانیں.
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اے اللہ ہمارے حالات کو بہتر کردے ہمارا ایمان جو مردہ ہوتا نظر آرہا ہے پھر سے  روح ڈال دے تو ہی ظاہر وباطن سے باخبر ہے ہمارا ظاہر وباطن اچھا کردے.آمین

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...