ہفتہ، 12 جولائی، 2025

ماں کی یاد

آج باد صبح گاہی  میں کچھ ایسا لمس و سرور تھا جو ماں کےہاتھوں کے  لمس و شفقت میں  محسوس کیا جاتا ہے  جیسے ہی آنکھیں کھلی دل نے بے اختیار کہاکاش ماں پاس ہوتیں

وہ نرم لہجہ وہ دعا بھری نگاہیں وہ بے لوث محبت۔۔۔ سب کچھ یاد آنے لگا۔

ماں تو وہ ہستی ہے جو خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو کھلاتی ہے، جو خود جاگ کر ہماری نیندوں کی حفاظت کرتی ہے

آج جب دن کی مصروفیتوں میں ایک لمحہ سکون کا آیا، تو دل کے کسی کونے میں ماں کی وہ پیار بھری آواز گونج اُٹھی بیٹا، تھک گیا ہوگا، آجا، کچھ کھا لے، کچھ دیر آرام کرلے کافی دھوپ ہے 

اس برقرار زندگی  میں ہم بہت  کچھ بھول جاتے ہیں، لیکن ماں ایسی ہستی ہے جنکو نہیں بھول پاتے۔

کیونکہ ماں صرف رشتہ نہیں، ماں احساس ہے، ماں دعا ہے، ماں جنت کا دروازہ ہے۔


آج ماں کی یاد زوروں سے آئی...

کاش وہ لمحے لوٹ آئیں جب ماں پاس تھیں،

ہاتھ تھامے ہوئے، دعائیں دیتی ہوئی،

اور دنیا کی ہر پریشانی اُن کے آغوش میں آ کر ختم ہوجاتی تھی ۔

اللہ والدہ ماجدہ کے قبر کو نور سے بھر دے اعلی علیین میں  جگہ عنایت فرمائے ۔آمین یارب العالمین 


اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...