منگل، 11 اکتوبر، 2022

نام محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے







نام محمد وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
از قــلم: محـــــمــد طاســــــین ندوی
دنیا کی تخلیق کے  بعد اللہ عزوجل نے بے شمار مخلوقات کو برپا کیا متعدد ادوار گزرے ہر دور میں خاص گروہ و جماعت کے ایک خاص نبی و رسول محض اس لئے مبعوث فرمایا کہ وہ اپنی گروہ کو توحید الہی کی طرف بلائے اور اپنی شب و روز کو عطاکردہ اصول و ضوابط پر گامزن رکھے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
 "وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ"النحل ۳۶ 
ہم نے ہر امت و گروہ میں اس پیغام کے ساتھ قاصد مبعوث کیا کہ اللہ عز وجل کی وحدانیت
کو گلے لگاؤ اس کی پرستش کرو اور شیطان سے بچو " 
دوسری ارشاد باری تعالی ہے:  :" وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ "ابراہیم ۴
اور ہم نے ہر قاصد  کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے.
ان گذشتہ اقوام وادیان کے بعد سب سے اخیر میں اللہ عز وجل نے نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فر کر ارشادفرمایا"وماارسلنک الا رحمة للعالمين" ہم نے تو آپ کو دونوں جہاں  کے لئے باعث رحمت بنایا آپ سے پچھلی امتوں نے جو کیاہمیں ان سب سے دست بردار ہوکر اقوال محمدی پر عمل پیرا ہونے کا بگل  دیدیا گیا اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں نبوت کا دروازہ بالکلیہ مقفل کسی طرح کی کوئی کمی نہیں "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"مائدہ ۳
میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا  اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا  اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا.
قارئین عظام!  اب ہمارے کندھوں پر  بحیثیت امت محمدیہ کے کیا ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں اس کا اندازہ ہمارے گفتار،نشست و برخاست، آپسی معاملات و تعامل سے واشگاف ہوگا کہ کیا ہم نے فرستادہ خدا کے عطا کردہ اصول و ضوابط پر رہ کر اپنی زندگی کی منزلیں طے کرنے میں کوشاں ہیں یا نام محمد ورد زباں ضرور ہے لیکن ہمارے سارے کام و کاج اصول پیغمری سے بیزار انکے بتائے ہوئے شب و روز سے یکسر نابلد ہیں دعوہ کرتے ہیں کہ ہم محمدی ہیں لیکن ان کے بتائے ہوئے راستوں سے کوسوں و میلوں دور ہیں اسی دوری اور عدم توجہی کیوجہ سے ہم مسلمانان آج دنیائے آب و گل میں رسوا و ذلیل اپناسا منھ لے کر دردر کی  ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ہمیں انتساب محمدی میں ذرا بھی دریغ نہیں .
چغلی، عیاری،مکاری،چالبازی، زناکاری،قمار بازی نوع بنوع کی کمی و کوتاہی سے ہماری زندگی اٹی ہوئی ہے اور ہم بے خوف و خطر دندنارہے ہیں جس طرح شیر جنگل میں دندناتاہے اور اسے اپنی عاقبت کی انجام بالکل نہیں ہوتی اور کیونکر ہو وہ تو اپنے کو جنگل کا راجہ باور کراتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ حکمرانی اس کی ہے ہوبہو یہی معاملہ ہم مدعیان اسلام کا ہے 
کہ ہم نبوت و رسالت کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن دل و دماغ بالکل ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کسی شاعر نے ہماری اس حالت زار کی عکاسی کیاہےکہ 
نامِ محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے

اتوار، 9 اکتوبر، 2022

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو

 

 

 نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

شعرو سخن بھی عجیب شئی ہے زیر نظر  مصرعہ شاعر مشرق  کی ایک ایسی نظم کا  ہے جسمیں شاعر اسلام نےہسپانیہ کی سرزمین اور  بالخصوص  قرطبہ میں سپرد کیا اور اس کی تاریخی حقائق اور پہلو کو خاطر خواہ اجاگر کرنے کی کوشش کیا ہے اور بہترین و عمدہ اصول کی یاد دہانی بھی کی ہے کہ ہم بندۂ مؤمن جب ایک دوسرے سے مخاطب ہوں تو ہمارا طرز گفت و شنید کیسا ہو ایا ہم بالکل عبوسا قمطریرا بن جائیں یا خوفناک و ہولناک نظر آنے لگیں یا ہمارے گفتار دلنیش، شیریں، دلپذیر اور سوز گذاز سے لبریز ہو تو علامہ اقبال نے اشارہ کیا کہ 

جب آپس میں کوئی ایسا امر رونماہوجائے جس سے بظاہر بات بگڑتی نظر آرہی ہو تو ہمارے چہروں کے ملاحت ختم نہ ہو بلکہ ہم مزید خوش اسلوبی اور خوش خوئی کا مظہر نظر آنے لگیں تاکہ سامنے کھڑا دندناتا ہوا فرد ہمارےاس معززانہ اسلوبِ گفتار اور دلنشیں انداز سے ہمارے دام محبت میں جاگرے اور ہمیں  انہیں  رام کرنے اور گرویدہ بنانے میں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے،  ایک مومن دوسرےمومن کے لہجہ مکالمہ سے ایسا گرویدہ ہوجائے کہ شفقت و محبت کی مثال بن کر عالم افق پر چمکے اور حق و سچ کی تلاش و جستجو میں نہایت ہی سر گرمی اور بہتر و ٹھوس اسلوب کا مظاہرہ کرے یہ صرف اپنوں تک محدود نہ رہے بلکہ اغیار سے بھی خندہ پیشانی سے ملیں پاک دلی اور پاک طینتی سے کام لیں چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ " لا تحقرنَّ من المعروف شيئًا، ولو أن تلقى أخاك بوجه طَلْق " معرف اشياء کو حقارت بھری نگاہ سے مت دیکھو اور اگر تم اپنے بھائی سے ملو تو خندہ پیشانی سے ملوجبین نیاز خم کردو . 

     شاعر مشرق نے ان باتوں کو اپنے اشعار میں نہایت ہی  دلپذیراسلوب میں بیان فرمایا؛

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز.

جب مسلمان اپنوں سےبات کرے یا غیروں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کرے، سننے والے کومحسوس ہوکہ ان کے منھ پھول جھڑرہے ہیں اللہ تعالی نے حضرت موسی و ہارون علیھماالسلام کو جب فرعون کےپاس بھیجا تو نرمی سے بات کرنے کاحکم دیاچنانچہ  ارشاد باری تعالی  ہے

"فَقُولا لَهُ قَوْلا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى" سورة طــه ۴۴

 "اے موسی و ہارون آپ دونوں فرعون کے پاس جاکر اس سےنرمی سےبات کریں ،شایدوہ نصیحت قبول کرے یاڈر جائے"

دوسرے مقام پر باری تعالی  اپنے بندوں کے بارے میں یوں  ارشادفرمایا   "

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا" الفرقان ۶۳

 اوررحمن کے بندے وہ جو زمین پر آہستہ نرم اندز سے قدم رکھتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں  تووہ  سلامتی کی بات کرتے ہیں "  

آیت مذکورہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بدکلامی اور سب و شتم  کاجواب برے الفاظ میں دینے کےبجائے شریفانہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ جواب دیا جائے. 

اللہ سے دعا ہے ہمیں  نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو والی صفات سے متصف فرمادے جو عین دستور حیات کے مطابق ہے  ـ آمین یارب العالمین

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...