ہفتہ، 4 جولائی، 2020

فتنئہ قادیانیت اور سادہ لوح پہاڑی مسلمان

               
                     بسم اللہ الرحمن الرحیم
      فتنئہ قادیانیت اورسادہ لوح پہاڑی مسلمان    ¤∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽¤ 
               از قلم:  محمد طاسین ندوی
چھوٹا سے جمہوری ملک نیپال اسوقت جہاں بہت ساری پریشانیوں سے دوچار ہے وہیں نیپال کے اسوقت  پہاڑی مسلمان فتنئہ قادیانیت سے نبرد آزما ہے ،ہاں وہی قادیانیت جو ملت اسلامیہ سے بالکلیہ خارج ہے کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی قرار دینے والا بزعم خود ایک مسلم جماعت ہے جبکہ شریعت اسلامیہ نے ایسی جماعت کو خارج از ملت اسلامیہ قراد دیا ہے ،پہاڑ میں رہنے بسنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور ان سے زیور اسلام کو چھین لینے کی کوشش اور تگ ودو میں شب و روز گزار کرنے والی یہ ناعاقبت اندیش جماعت کا کیا کوئی اہلسنت والجماعت کی  یونٹ،مرکز،سوسائٹی،اکیڈمی،جمعیت،الغرض مسلم نوجوان خبر لینے والے نہیں؟ ہاں !
اگر ہمارے اندر کا ایمان جو زنگ آلود ہوگیا ہے دوبارہ صیقل ہوجائے تو یہ ممکن ہے ورنہ تحفظ ختم نبوت کا راگ تو ہم ضرور الاپیں گے لیکن کیا ہم اس میں کامیاب ہیں ؟
تو ہم میں سے ہر فرد و بشر کا دل یہ ضرور کہے گا کہ تم نے اپنی فکر بھی نہ کی تو اپنے دوسرے برادران کی کیونکر کرو، اللہ تعالی نے ہمیں ایسی سر بلندی اور برتری عطاء کیا ہے جس کی نظیر نادر ہی نہیں نایاب ہے لیکن ہم ہیں کے اپنی ساری شان و شوکت،عزت و ناموس،رعب و داب کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا ہے، ہمارے نونہالان، جوان وپیر نے کہاں تک دین اسلام کے زیور تعلیم سے اپنےکو آراستہ و پیراستہ کیا ہیکہ وہ سمجھیں قادیانیت ہے کیا.اسی جہالت اور ہم سفید پوش باریش مولویان عظام کی بے اعتنائی کیوجہ سے  آج قادیانیت نے اپنے پاؤں کو مسلم روپ دھار کر ایسا جمایا ہیکہ کل اس کے نمائندے اور ممثل ایوان سیاست میں بھی نظر آسکتے ہیں ، اور ایسا کیوں نہ ہو اس نے اپنے کو تپایا،کھپایا،جلایا،سنواراہے تب جاکر وہ اس قابل ہوسکا کہ آج نہیں تو کل وہ ہماری غلط نمائندگی کرے گا اور ہم اہلسنت و الجماعت کے افراد خانہ بدوش بنے بیٹھے ہیں  خانگی جھگڑے ہی نے ابھی مجھے نہیں چھوڑا ہے مسلک، مذھب،تقلید، عدم تقلید کے دبیز پردے میں ہم نے اپنے کو ایسا لپیٹ رکھا ہیکہ دین اسلام بھی ہم سے رخصت ہوتا نظر آرہا ہے تعصب کی بدبو ایس پھوٹ رہی ہے کہ "کل حزب بمالدیہم فرحین "صد فیصد فٹ نظر آرہا ہے، تو ہمیں چاہیئے کہ اسلام کی تعلیمات کی طرف ازسر نو دھیان دیں اور اعلاء کلمۃ اللہ کا علمبردار بنیں.
قارئین کرام! اللہ تعالی نے ہمیں امت دعوت بنا کر بھیجا ہے اب تک ہمیں اپنی فکر بھی پیدا نہ ہوئی چہ جائیکہ شب دیجور میں بھٹکتے انسانیت کی دستگیری کریں آخر ہماری عقل  کب عقل ہوگی کہ ہم اپنی فکر کے ساتھ ان سادہ لوح انسانوں کی بھی فکر کریں گے جسے  حسین خواب دیکھا کر مال و منال کا لالچ دیکر دین اسلام سے دور کرکہ مسلمانوں کو عریاں کیا جارہا ہے  اور اس کہ اوپر یہ ٹریڈ مارکہ لگایا جارہا ہے کہ ہم ہی حق پرست اور حق پر ہیں باقی سارے لوگ  میدان خار دار اور بےآب و گیاہ ریگستان میں آبلہ پاہورہے ہیں ،
کیا اللہ تعالی کے حضور جب ہم داد عیش دینے والے مسلمانان، علماء،صلحاءاور دانشوران کی  پیشی یوگی  تو ہم سے یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ تمہارے درمیان کفرو شرک الحادو لادینی قادیانیت و عیسائیت اپنا سر ابھارتا نظر آرہا تھا اور تم سارے تعلیمات نبوی کوعمدہ جزدان میں رکھ کر طاق نسیاں کی نذر کرکہ  دنیا طلبی میں سرگرداں و حیراں تھے، تو کیا جواب بن پڑیگا اسوقت ؟یہی نا کہ مارے شرم کے ہم پانی پانی ہونگے ،پھر باری تعالی کا جو حکم ہوگا اسے سر انجام دیا جائیگا.
ابھی بھی وقت ہے اپنی اور مسلم انسانیت کے دین کی بقاء و تحفظ کے بارے میں سوچنے اور فکر لینے کا ہمارے وطن عزیز کے پہاڑی باشندگان سادہ لوحی کی وجہ سے قادیانیت کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں انہیں اپنے دین پر قائم رکھنے اور انکے عقائد کو تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت اور وقت کا اہم تقاضہ ہے .
اللہ تعالی  میرے اور عام مسلمانوں کےایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے اور فتنئہ قادیانیت جو پھر سر اٹھا رہا ہے اس کا سر کچل دے آمین  ..إن ذلك على الله يسير.



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...