از قلم: محمد طاسین ندوی
اللہ تعالی کی بے شمار کھیتیاں ہیں ان میں بنی آدم باری تعالی کی سب سے افضل و اشرف کھیتی ہے، ہم حضرت انسان کی آسائش و آرام کے لئے ہر وہ چیز پیدا کیا جسکی ہمیں احتیاج ہوتی ہے ایک بہت ہی معمولی سے لیکر بہت غیر معمولی چیز کو وجود بخشا
رہنے سہنےکا ڈھنگ بتایا چھوٹے پر شفقت کرنے کا اور بڑوں کی عزت ،پاس ولحاظ کا مکمل درس دیا معاشرہ و مجتمع میں کس طرح سے اپنے زندگی کی صبح و شام ہو، کونسی جگہیں بےخوف وخطر جائیں کن متعلقین رشتہ داران سے کس درجہ احتیاط سے ملاقات ،نششت و برخاست ہو کون ہمارے محرم اور کون نامحرم ہیں الغرض زندگی گزارنے کا مکمل دستور سے اللہ تعالی نے ہم امت محمدیہ کو سرفراز کیا.ایسا اس لئے کیا گیا کہ اللہ تعالی بڑا رحیم و کریم ہے اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے راہ راست پر رکھنا چاہتا ہے ایسی جنت جس کے بارے میں حدیث میں ہے"مالا عین رأت ولاأذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر " اس امت کے نام کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا سے تھک ہار کر ہماری مرضیات کو ترجیح دے کر جب ہماری بارگاہ قدم رکھے تو ساری دنیاوی کلفت و مصیبت سب کہ سب ایک ہی آن میں ختم ہوجائے .
ان بے شمار وان گنت نعمتوں کے بعد کیا ہم انعام دینے والے کے احکام ،گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہر فرد و بشر، مجتمع و سماج،عالم و جاہل، سرمایہ دار و مفلوک الحال،کو دینا ہوگا اور حساب چکانا ہوگا تب ہی جاکر ہماری کشتی پار اتر سکتی ہے.
قارئین کرام ! اب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو یہ ہواس باختہ،بے رحم،بے حیا معاشرہ نظر آتاہے،ہم احکام الہی کو یکسر بھلا کر اپنی دنیا سنوارنے اور دنیا کی رنگ ریلیاں میں مصروف ہیں جب کہ ہمیں دنیا کے مرغوبات سے روگردانی کرنے کو کہا گیا ہے اسی قدر اس عالم رنگ و بو سے فیضاب ہونے کی اجازت ہے جس سے ہمارے اندر ہر وہ چیزیں نہ جنم لے جو کفار کہ اندر ہیں لیکن ہم ہیں کہ سارے ضوابط و قوانین کو طاق نسیان پر رکھ کر دینا کے خون سے ہولی منا رہے ہیں اس کے رنگ میں اپنے کو رنگ لیاہے، اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ غیبت، چغل خوری،حسد،زناکاری،چوری جیسے مہلک مرضِ مُزْمِن و مُقْعِد میں مبتلا ہے، نوجوان چھپی آشنائی کرتے ہیں اور اسکی ویڈیو بناکر یوٹیوب اور سوشل ویب سائڈ پر اپلوڈ کرتے ہیں اور یہ بھی احساس نہیں کہ ہم نے تو نہایت ہی غلط اقدام کیا ہے نہیں بالکل نہیں اگر بات گاؤں اور محلوں کے چودھری، سرپنچ تک پہنچتی تو وہاں دوگروپ میں لوگ تقسیم ہوتے ہیں اور مجرم و مفسد جس کی سرزنش ضروری تھی وہ چند ہزار روپیے کے عوض اپنے کو جرم سے دھولیتا ہے اور پھر دندناتا چوکڑیاں بھرتا پھرتا ہے، اس عمل سے ماحول کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہوتی ہے غلطی کے عوض پیسے اور اس کے بعد جرم کا صفایا ،
اس عمل سے دوسرے نوجوان عبرت نہیں لیتے بلکہ ان نوجوانوں کی شیطانیت مزید آگے بڑھتی ہے کل جاکر کوئی دوسرا جوان اسی عمل کو دھرا تا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے نسب محفوظ نہیں، عـزت و ناموس سر عام رسوا ہوکر معاشرہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور اسکا سد باب بمشکل تمام ہوپاتا ہے .
اے امت مسلمہ اب بھی ہم نہ جاگ سکے اور ہمارا یہی حال رہا تو ابھی تو ہم کورونا سے پریشان ہیں کل چل کر نہ جانے اللہ تعالی کن آزمائش وامتحان میں ڈالے گا کیونکہ ہم نے دستورالہی اور تعلیمات نبوی کو حرف غلط کی طرح اپنے ذہن دماغ سے مٹانے کی کوشش کی ہے شادی کو مشکل ترین کردیا ہے زنا،سود خوری،حسد، چغل خوری، فریب، مکاری عام ہوگئی ہے ،آداب و پاس لحاظ کا جنازہ پڑھ دیا گیا ہے.
اللہ تعالی سے دعاء گو ہوں کہ اللہ ہمارے معاشرے کو کتاب و سنت والا معاشرہ بنا کر ہر آزمائش و امتحان سے محفوظ فرمادے اور ہمیں درست سوچ و سمجھ نصیب فرما. آمین









