ہفتہ، 13 جون، 2020

سماج کا بڑا المیہ


 سماج کا بڑا المیہ
از قلم:  محمد طاسین ندوی 
اللہ تعالی کی بے شمار کھیتیاں ہیں ان میں بنی آدم باری تعالی کی سب سے افضل و اشرف کھیتی ہے، ہم حضرت انسان کی آسائش و آرام کے لئے ہر وہ چیز پیدا کیا جسکی ہمیں احتیاج ہوتی ہے ایک بہت ہی معمولی سے لیکر بہت غیر معمولی چیز کو وجود بخشا 
رہنے سہنےکا ڈھنگ بتایا چھوٹے پر شفقت کرنے کا اور بڑوں کی عزت ،پاس ولحاظ کا مکمل درس دیا معاشرہ و مجتمع میں کس طرح سے اپنے زندگی کی صبح و شام ہو، کونسی جگہیں بےخوف وخطر جائیں کن متعلقین رشتہ داران سے کس درجہ احتیاط سے ملاقات ،نششت و برخاست ہو کون ہمارے محرم اور کون نامحرم ہیں الغرض زندگی گزارنے کا مکمل دستور سے اللہ تعالی نے ہم امت محمدیہ کو سرفراز کیا.ایسا اس لئے کیا گیا کہ اللہ تعالی بڑا رحیم و کریم ہے اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے راہ راست پر رکھنا چاہتا ہے ایسی جنت جس کے بارے میں حدیث میں ہے"مالا عین رأت ولاأذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر " اس امت کے نام کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا سے تھک ہار کر ہماری مرضیات کو ترجیح دے کر جب ہماری بارگاہ قدم رکھے تو ساری دنیاوی کلفت و مصیبت سب کہ سب ایک ہی آن میں ختم ہوجائے . 
ان  بے شمار وان گنت نعمتوں کے بعد کیا ہم انعام دینے والے کے احکام ،گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہر فرد و بشر، مجتمع و سماج،عالم و جاہل، سرمایہ دار و مفلوک الحال،کو دینا ہوگا اور حساب چکانا ہوگا تب ہی جاکر ہماری کشتی پار اتر سکتی ہے.
قارئین کرام ! اب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو یہ ہواس باختہ،بے رحم،بے حیا معاشرہ  نظر آتاہے،ہم احکام الہی کو یکسر بھلا کر اپنی دنیا سنوارنے اور دنیا کی رنگ ریلیاں میں مصروف ہیں جب کہ ہمیں دنیا کے مرغوبات سے روگردانی کرنے کو کہا گیا ہے اسی قدر اس عالم رنگ و بو سے فیضاب ہونے کی اجازت ہے جس سے ہمارے اندر ہر وہ چیزیں نہ جنم لے جو کفار کہ اندر ہیں لیکن ہم ہیں کہ سارے ضوابط و قوانین کو طاق نسیان پر رکھ کر دینا کے خون سے ہولی منا رہے ہیں اس کے رنگ میں اپنے کو رنگ لیاہے، اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ غیبت، چغل خوری،حسد،زناکاری،چوری جیسے مہلک مرضِ مُزْمِن و مُقْعِد میں مبتلا ہے، نوجوان چھپی آشنائی کرتے ہیں اور اسکی ویڈیو بناکر یوٹیوب اور سوشل ویب سائڈ پر اپلوڈ کرتے ہیں اور یہ بھی احساس نہیں کہ ہم نے تو نہایت ہی غلط اقدام کیا ہے نہیں بالکل نہیں اگر بات گاؤں اور محلوں کے چودھری، سرپنچ تک پہنچتی تو وہاں دوگروپ میں لوگ تقسیم ہوتے ہیں اور مجرم و مفسد جس کی سرزنش ضروری تھی وہ چند ہزار روپیے کے عوض اپنے کو جرم سے دھولیتا ہے اور پھر دندناتا چوکڑیاں بھرتا پھرتا ہے، اس عمل سے ماحول کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہوتی ہے غلطی کے عوض پیسے اور اس کے بعد جرم کا صفایا ،
اس عمل سے دوسرے نوجوان عبرت نہیں لیتے بلکہ ان نوجوانوں کی شیطانیت مزید آگے بڑھتی ہے کل جاکر کوئی دوسرا جوان اسی عمل کو دھرا تا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے نسب محفوظ نہیں، عـزت و ناموس سر عام رسوا ہوکر معاشرہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور اسکا سد باب بمشکل تمام ہوپاتا ہے .
اے امت مسلمہ اب بھی ہم نہ جاگ سکے اور  ہمارا یہی حال رہا تو ابھی تو ہم کورونا سے پریشان ہیں کل چل کر نہ جانے اللہ تعالی کن آزمائش وامتحان میں ڈالے گا کیونکہ ہم نے دستورالہی اور تعلیمات نبوی کو حرف غلط کی طرح اپنے ذہن دماغ سے مٹانے کی کوشش کی ہے شادی کو مشکل ترین کردیا ہے زنا،سود خوری،حسد، چغل خوری، فریب، مکاری عام ہوگئی ہے ،آداب و پاس لحاظ کا جنازہ پڑھ دیا گیا ہے.
اللہ تعالی سے دعاء گو ہوں کہ اللہ ہمارے معاشرے کو کتاب و سنت والا معاشرہ بنا کر ہر آزمائش و امتحان سے محفوظ فرمادے اور ہمیں درست سوچ و سمجھ نصیب فرما. آمین 

جمعہ، 12 جون، 2020

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں


باسمہ تعالی
فردقائم ربط ملت سے ہے تنہاکچھ نہیں
از: محمد طاسین ندوی 
ــــــــــــ ـــــــــ ـــــــــــــــ   ـــــــــــ ـــ.
اس دنیائے دنی ورنگا رنگ میں  ہر فردو بشر کو ہماری  ناک بلند رہے ہماری باتیں سب پر غالب ہوں کی فکر ہمیشہ دامنگیر ہی نہیں  رہتی ہے  بلکہ اگر بس چلے تو اپنے علاوہ کو اپنی فکر و نظر کا قائل کرنے  اور اپنے نطریہ کا حامل بنانے کی ہر سعئ ممکن کر بیٹھتا ہے اسوقت اسے بالکل پرواہ نہیں ہوتا کہ ہم اس جوش بے ہوش میں کیا کچھ کرنے کی جسارت و جرأت کر رہے ہیں فی الوقت  ایک خبر اکثر نیوز چینلوں شوشل وسماجی سائڈس اور پرنٹ میڈیا میں ہیڈ لائن بنی ہے کہ کورونا وائرس کی وباء ہندوستان میں پھیلانے کی ساری ذمہ داری تبلیغی جماعت کے مرکز کے ساتھ ساتھ  اس فکر کے حامل لوگوں پر ہے لیکن اس کی اصلیت کیا ہے اس س ہر ذی شعور واقف ہے البتہ سردست یہ سپرد کرتے ہوئے دل ہلکان ہوا جاتا ہے آنکھیں اشک بہانے کے درپے ہے کہ اپنے کو مسلک اعلی حضرت کا پیرو کار و جنت الفردوس کا ٹھکیدار گرداننے والے احباب کا ترجمان نے  ہندوستانی وزیر داخلہ کو تحریر ارسال کیا ہیکہ چہار دانگ عالم کی فکر لیکر حیراں و سرگرداں اپنے سروں پر  بوریا بسترا اٹھائے مسلمانوں کوبھولا بسرا سبق یاد دلانے  اور  انسانیت کو سب کچھ اللہ سے ہونے اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کی باتیں سیکھانے اور یقین پیدا کرانے والی جماعت تبلیغ پر پابندی عائد کرنے کی درد مندانہ درخواست کی ہے تو یادر ہے کہ ایسے ہی کسی موقع سے کسی شاعر نے کہا تھا
منتشر ہوتو مرو شور مچاتے کیوں ہو
کیا ان مدعیان اسلام کو یہ پتہ نہیں یاوہ اس  سے آگاہ نہیں کہ آٹا کہ ساتھ گھن بھی پسا جاتا ہے وہ نااہل و ناہنجار کیا کرنے جارہے اسے کیا خبر کل جب وزیر داخلہ و ہندتوا کا تیروتفنگ و  نشتر  چلے گا تو درخواست دہندنگان بھی اس صف و زمرہ میں نظر آئیں گے جس میں تبلیغی جماعت اور اس فکر کے حاملین ہونگے پھر انکا غرور ونخوت کا کیا ہوگا اس کا علم عنداللہ تو ہے ہی لیکن اس کا انا ضرور التماس میں بدلیگا
خدا کرے تیرا غرور بھی کبھی ٹوٹے
انا کو بنتے ہوئے التماس دیکھوں  میں
اور جس فسطائی طاقت و قوت کے پس پردہ اپنے کو بچانے کی سوچ رہے ہیں جب کوڑے پڑیں گے تو انکا بھرم طشت ازبام ہوگا اس وقت وہ خون کا رونا روئیں گے اور سوائے کف افسوس ملنے کہ اور کچھ نہ ہوگا
میں  اس تحریر کے توسط سے دردمندانہ اپیل کرتا ایسے منفی مفکرین اور متبعین مسلک اعلی حضرت سے کہ اس دور افتاد میں اب بھی ہوش کا ناخن نہ لیا تو وہ دن دور نہیں کی آپ کی بھی اینٹ سے اینٹ بجائی جائیگی. ورنہ ابھی بھی وقت ہے اپنے کو سنبھالیں مثبت سوچ پیدا کریں دوہرائیں کے آپ کہاں سرگرداں نکلے چلے جارہے ہیں آئیں متحد ہو کر باطل پاور و طاقت کا سنجیدگی سے مقابلہ کریں اور دندان شکن جواب دیں  اور اتحاد و اتفاق کے ذریعہ اس فسطائی نظام کا ڈٹ مقابلہ کریں
متحد ہوتو بدل ڈالو نظام عالم
منتشر ہوتو مرور شور مچاتے کیوں ہو
اور یہ بھی یاد رکھیں کے آپ اور  ہم نے اور لوگوں نے  گرچہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد مدرسہ الگ الگ لئے بیٹھیں ہے لیکن ہم اپنوں کے علاوہ کی نگاہ میں ایک ہی ہیں تو ان کے اس زعم کو حقیقت کر دیکھائیں اپنی ساری رنجشیں عناد کو لپیٹ کر رکھدیں
اوفرد ملت ربط باہم سے ہے تنہا کچھ نہیں کا حقیقی پرتو ہوجائیں. بس اتنا ہی
اللہ ہمیں  بھی عمل کی توفیق دے. آمین
ـــــ ـــــــ ــــــــــ ـــــ ـــ

جمعرات، 11 جون، 2020

حیراں ہوں کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں


حیراں ہوں کہ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومیں
 ـ ـ ـ ـــــ ـ ـ ـ ـــــ ـ  ـ ـ ــــــــــ ـ ـ ـ ـــ    
آہ! اس چمنستان  مونگیری شبلی و سیلمانی کی حالت زار کیا بیان کروں مصلحت کی اتنی دبیز چادر میں ارباب ندوہ نے اپنی عقل کو لپٹ رکھا ہیکہ جس ندوہ سے توحید خالص و رسالت مآب کی گلکاریاں روزو شب سنائی دیتی تھی ہمیشہ  باطل کے سامنے سینہ سپر ہوتا تھا اس کے سپوت باطل کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر ایسا دندان شکن جواب دیتے تھے کہ باطل اور فسطائی پاور اپنے آپ کو سیلینڈر کئے بغیر نہ رہ سکتا. اس کو کس کی نظر لگ گئی 
کہاں گئی باغِ بوالحسن کی وہ جرأت رندانہ وہ بے باکی وہ دین کی رعنائی اور دوربینی وہ دوررسی،کیا ندوہ کے مؤسسین و بانیان  نے اپنے اصول و ضوابط میں یہ رقم کیا تھا کہ جب جب کوئی ایسے ظالم  و مشرک حکمراں- جس نے ہندوستان کی پوری مسلم برادری کو بےکل و  بے چین کر رکھا ہے - کی ہاں میں ہاں ملانا عین مصلحت ہے.؟
وہ عظیم دانشگاہ جسے عالمی شہرت حاصل ہے جس کے فضلاء وعلماء نے ہمیشہ توحیدِ خالص و رسالت مآب پر گفتگو کی ہےاور الجمع بین قدیم الصالح والجدید النافع کا راگ الاپا ہے ، آج وہاں کے زمام کار سنبھالنے والے کو ہوا کیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی- اللہ اسے ہدایت دے -نے یہ کیا کہا کہ دیس باسیوں۵اپریل کو رات نو بجے نو منٹ تک سارے لوگ اپنے گھروں کے لائٹس بند کر کہ دیا ، موم بتیاں، ٹارچیز ،فلاش جلا کر رکھنا تاکہ کورونا جو ایک وبائی وائریس ہے ہندوستان سے بھاگ نکلے گا. 
پھر کیا تھا جس کا ایسا کرنا عین مذہب و دین تھا اسی کے ساتھ ذمہ داران ندوہ نے بھی رخت سفر باندھا اور ندوہ کو بھی  مودی ٹوٹکے کا بھینٹ چڑھایا اور یہ نہ سوچا کہ اگر ہم نے اس عمل کو انجام دیا تو ہمارے برادران اسلام، ہماری قوم، ہم سے بحیثیت علماء فضلاء دین کے سوالات کہ لامتناہی سلسلہ شروع کر بیٹھیں گے جسکا جواب سوائے حسرت اور منھ چھپانے کے اور کچھ نہ ہوگا .
اور ایسا محسوس ہورہا کہ ندوہ جو گہوارۂ علم و عرفاں تھا بے جا مصلحت کیوجہ سے اکھاڑا ہوتا جارہا ہے. 
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں 
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
یکے از فرزند ندوہ 
٦ اپریل ۲۰۲۰ء

नेपाली मुसलमान शिक्षा र प्रशिक्षण


*नेपाली मुसलमान शिक्षा र प्रशिक्षण*
 *मुहम्मद तासिन नदवी*
नेपाल एउटा सुन्दर र सानो राष्ट्र हो।अल्लाह ताआलाले हिमालयको सबैभन्दा ठुलो चुचुरो नेपालमा अवस्थित बनाइदिनुको कारणले नेपाल पुरै पृथ्वीजगतमा प्रसिद्ध रहेको छ। यो अल्लाह ताआलाको एउटा कृपा हो कि जगतमा अवस्थित मनुष्यहरु नेपाल देखि परिचीत छन किनभने नेपाल  गरिब राष्ट्र मध्यको एउटा राष्ट्र हो। एक प्रकारले धनहिनता नेपालको भाग्यनै देखिन्छ । आउनुस हामी नेपालमा अवस्थित मुस्लिम समुदायको मुल्यांकन गरौं । के यहाँका मुस्लिमहरु दीनि (धार्मिक )वा दुनियावी (संसारिक) सैद्धान्तिक माथी किर्यावान छ्न । शिक्षा जो कुनै पनि समाजको विकास,उन्नति,प्रगति र सभ्यता र शिष्टताको दर्पणकार हुन्छ सो हाम्रा बालबालिकाहरु ईस्लाम देखि कति नगिच रहेका छन। यदि उल्लेखित कुरा माथी अध्यन गर्नी हो भने हाम्रा युवावर्गहरु र स्वयम् हामी जिम्मेवार तथा अभिभावकहरु पनि ईस्लामि शिक्षा दीक्षा देखि अतिनै टाढा रहेका छौ भनेर बडो दुखको साथमा उल्लेख गर्ने बाध्यता रहेको छ। हामीहरुको चिन्ता भनेको वाकेवल कसरी आफ्ना सन्तानलाई  उमेर बडाएर होस अथवा घुस खुवाएर होस व अरु कुनै उपाय लगाएर होस चाडै भन्दा चाडै नागरिकता राहदानी प्राप्त गरेर रोजगारीको लागी विदेश पठाउन सक्छौं भन्ने रहेको छ। ती केटाकेटीहरु जसको शिक्षा दिक्षाको जिम्मेवारी आमा बुबाको थियो आज उनिहरु सबै रियाल दिर्हम दिनार डलर पाउन्डको भेंट भएका छन। फेरि जब हामी बुबा आमा बृद्धअबश्था तथा अशक्त अबस्थामा पुग्छौं अनि आफ्ना यिनै अशिष्ट असभ्य सन्तान देखि सत्कार आदर सेवाको आस लगाउछौ। आजको दिनमा आमा बुबाको सेवा आदर सत्कार गर्ने सन्तानहरु समाजमा धेरै भन्दा धेरै  १० देखी  २० %  मात्र रहेको छ। सोही कारण आज समाजमा वैर शत्रुता आघातता निराशा असफलता जस्ता चिजहरुको जन्म भैरहेको छ जो साधारणता समाजमा अशिक्षा तथा असभ्यताको कारणले उत्पन्न हुने गर्छ जसको जिम्मेवार हामी अभिभावकहरु हुन। किनभने शिक्षाकेवल पठन पाठनलाई सर्वव्यापक गर्ने नाग मात्र होइन शिक्षा एउटा यस्तो कार्यहो जसको माध्यमले एक व्यक्ति देखि लिएर पुरै समुदायले जानकारी प्राप्त गर्छ  भने यो कार्यले समुदायको आकृति दिने व्यक्तिलाई संवेदना विवेक निखार्ने एउटा माध्यम पनि हो। यश,यो एउटा नयाँ पीढीको त्यो शिक्षा दीक्षा प्रशिक्षण हो जो उसलाई जीवन बिताउने सहि विवेक प्रदान गर्दछ र जिबनको लक्ष्य गन्तव्य र आफ्नो कर्तव्यको भावना दिलाउछ। शिक्षाको माध्यमलेनै कुनै पनि समुदाय आफ्नो सांस्कृतिक  मानसिक दायलाई आगामी पीढी सम्म पुर्याउछ र उनीहरुलाई जिबनको लक्ष्य सङ्ग लगाउ बडाइदिन्छन जसलाई उसले अप्नाएको छ। शिक्षा एउटा मानसिक शारीरिक र नैतिक प्रशिक्षण हो उसको मुल उदेश्य उच्च शिष्टवान र नैतिकतावान पुरुष महिलाको अस्तित्व हो जो राम्रा मानवको हैसियतले कुनै पनि देशमा जिम्मेवार नागरिक हैसियतले आफ्नो कर्तव्यलाई पूरा गर्न सक्क्षम होस। हरेक युगका शिक्षाविदहरुको यहीँ सिद्धान्त रहेको छ। अन्तमा हामी सबै नेपाली मुसलमानहरु शिक्षालाई कुनै विभाजन नगरी प्रतिज्ञा गरौं हामी आफ्ना सन्तानलाई कमाउने माध्यम बनाउने छैनौं  उनिहौलाई सर्वप्रथम उच्च शिक्षाको व्यवस्था गर्नेछौं फेरि इन्शाअल्लाह एउटा एउटा नयाँ समाजको अस्तित्व सिर्जना  हुनेछ... واللہ علی کل شیئ قدیر
अनुवादक अबुबकर नदवी

بدھ، 10 جون، 2020

تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب




بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
  ـــــــــــــــــ  ـــــــــــــ ــــــــــــــ ـــــــــــ
اسوقت دنیا پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پروپگنڈہ دعایات و الزامات اپنی ناک اونچی رکھنے اور ایک کو دوسرے سے کمتر و رذیل  دیکھانے کا سیل رواں ٹھاٹھیں مارتا ہوا رواں دواں ہے چلیے اس کی ایک تازی مثال آپ کے سامنے تحریر کرتا ہوں ابھی آج یا کل کی خبریں اور سماجی ویب سائڈس اورکچھ لوگوں کی تحریریں گردش میں ہے کہ ہندوستان کے اندر کورنا وائرس کو بڑھاوا دینے  اور اس کے پیر پسارنے کا اہم وجہ بنگلہ والی مسجد "مرکز تبلیغی جماعت نظام الدین دہلی "ہے 
یہ بات گوش گزار کردوں کے ہر شئی کے دو پہلو ہوتے ہیں مثبت و منفی جہاں تک بات مرکز تبلیغی جماعت کی ہے تو یہ یاد رہے کہ اس کو نشانہ بنانا الکفر ملۃ واحدہ کا عکس جلی ہے البتہ کچھ ہمارے مسلم برادران بھی اس سے کچھ کم نہیں اور ایسا  کیوں؟  
تو اس کا جواب اگر یہ دیا جائے کہ کچھ مسلم برادران نے بھی اس دور پر آشوب و پر فتن میں اپنی آنکھوں سے مسلک و مذھب سلفیت و قاسمیت و ندویت و بریلویت کا عینک کو طاق نسیاں پر رکھنے سے گریزاں ہیں تو اے ہمدردان امت محمدیہ آپ کو ہو کیا گیا کیا اب بھی آپ کی سمجھ سے یہ کوسوں دور ہیکہ کے جو لوگ اخوت و محبت کا دم بھرتے ہیں اوراسکا راگ الاپتے ہیں وہ ہمارے حقیقی دوست نہیں کیونکہ ہماری آنکھوں نے کیا کچھ نہیں دیکھا ہمارے ذلیل و خوار ہونے میں ہمارے بالمقابل نے کیساجتن کیا اور وہ سب کچھ کر ڈالا جس کی توقع ایک  جمہوری ملک سے نہیں کی جاسکتی تو آئیے ہم یکجا ہوجائیں اعتصام حبل اللہ کا درست عکاسی کریں اور اس موقع سے اپنی ساری رنجش و شکر رنجی کو بھلا کر اور آپسی صلاح و مشورہ سے ایک جوٹ ہوکر مرکز پر جو الزام عائد کیے جارہے ہیں اسے نگلٹ کریں تاکہ انہیں یہ احساس ہو کہ اسلام کے علمبردارن ہی اولو العزم اور اپنے دین متین کے حقیقی پاسبان ہیں جب انکے بارے میں منفی خیالات پنپے تو وہ چھینپ جائے کہ ہم نے سوچا کیا ہے. اللہ ہمارا حامی ہو    رہے نام اللہ کا 
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  محمد طاسین ندوی
یکم اپریل ۲۰۲۰ء 

ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر

ہم خوار ہوئےتارک قرآں ہوکر     
๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
        محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت نے بہت سارے صحیفے اپنے نیبوں پر نازل فرمایا کبھی توریت تو کبھی زبور کبھی انجیل یہ سارے منزل  صحیفے ایک قوم، جماعت،گروہ اور طبقہ کے خاص تھے.  
لیکن ایک اور منزل صحیفہ ہے جس کو ہم قران مجید کے نام سے موسوم کرتے اور جاتنے  ہیں ، اس کتاب کو اللہ عز وجل نے جناب  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا، اسکی بے شمار خصوصیات ہیں کبھی یہ ایسی کتاب جس کے اندر ذرا بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں تو کبھی شفاءللناس، کبھی نور، كبهی ذکر،کبھی کتاب ہدایت وغیرہ ان جملہ صفات و خصوصیات کے ساتھ ایک بہت ہی اہم خاصیت یہ کہ یہ کسی خاص گروہ،جرگہ، قبیلہ، خاندان کے لئے نہیں نازل کیا گیا بلکہ یہ عالمگیر کتاب رشد وہدایت ہے، اور اس کی بقاء کی ایک خاص مدت کی تعیین نہیں بلکہ رہتی دنیا تک یہ جیسے اللہ رب العزت نے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا اسی حال میں جوں کا توں رہیگا اور کوئی اس کے اندر رتی بھر بھی کمی و زیادتی نہیں کرسکتا کیونکہ فرمان باری تعالی ہے
 *"إنَّاْنَحْنُ نَزَّلْنَاالذِكْرَ وإنّالَهُ لَحَافِظُوْنَ* "الحجر٩
ذات باری نے فرمایا ہم نے ہی قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں 
جس چیز کی حفاظت کی  ذمہ داری اللہ تعالی خود اپنے سر لے لے بھلا اس کا کون کیا بگاڑ سکتا ہے. بہت فاشسٹ طاقتیں ابھریں آئیں اور اس نے تگ ودو کیا کہ اس محفوظ کتاب کے اندر اسی طرح تحریف و تبدیل کیا جائے جسطرح اسے پہلے نازل شدہ صحیفوں کے اندر کی تھی لیکن وہ ایسانہ کرسکے خائب و خاسر اپنا سا منھ لیکر پیچھے بھاگے .
اور ایسا ہوناہی تھا اسلئے کہ ان طاقتوں نے غیرت خداوندی کو للکار نے کی کوشش کی تھی جس سے ان کا ذلیل و رسوا اور ناکام ہونا مستحیل نہ تھا 
مندرجہ تمہید کے بعد ہم بحیثیت اس کتاب مبین کے امین ہونے کہ باوجود .ہم نےاسے کے فرامین واحکام پر کتنا عمل کیا اور کررہے ہیں آئیے اسکا جائزہ لیتے ہیں
کتنے فیصد ہم مسلمان اس کے احکام ھدایت کے پابند ہیں؟
کیا ہمارےبام ودر اس کی روح پرور آیات کی تلاوت سے مشام جاں کو معطر کررہی ہے؟
یا صرف کسی کی موت پر قبائلي جھگڑے کےوقت قسم کھانے کے لئے ہم قرآن مجید کو جزدان سے باہر لاتے ہیں 
یا کبھی کبھار شیطان و جن کے ستانے پر ہم اپنے بچوں کے گلے میں اس کی آیت کو بشکل تعویذ لٹا کر اسکا اپمان کرتےہیں؟
یہ وہ چند نکات ہیں جس سے دل کے اندر کھٹکا پیدا ہوتا ہے. 
اگر میں اپنا تجزیہ پیش کروں تو شاید ہمارے معاشرے و سماج میں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو حرز جاں بنایا ہو تو ان پڑھ اور جاہل کی باتیں کیا تحریر کیجائے.
اگر  ہمارا یہی حال رہا تو ہم اپنے کو  قعر مذلت کے بھیانک اور تاریک ترین گڑھے میں  گرانے والے ہونگے کیا خوب کہا کہنےوالے نے.
 *وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر* 
  *اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر* 
ابھی بھی وقت ہے ازسر نو اپنی زندگی کی آغاز کرنے کا ہم قرآنی زندگی کی شروعات کی فکر کریں اگر سوال پیدا ہوکہ قرآنی زندگی ہے کیا؟ تو غور کریں کہ ہم کس دِشا پر کھڑے ہیں ہمارا نوجوان طبقہ "مستقبل کی آس جس پر ہے" کہاں سرکھپارہا ہے اور اپنے شب و روز کہاں صرف کرنے میں کوشاں ہے یاد رکھئیے کہ نوجوان کو سماج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے 
اگر یہ طبقہ لایعنی باتوں، بے تکی مجالس، ٹھیٹر، سینما گھروں، عیاشی اور زناکاری کے اڈوں،موبائیل وانٹرنیٹ کا غلط اور سراپا غلط استعمال الغرض اس ڈگر سے کافی دور رہ کر اپنی زندگی کو گزار رہے ہیں تو یقینا آپ قرانی زندگی کی راہ پر رواں دواں اور گامزن ہیں اور اگر اس کے بر خلاف اپنی زندگی جی رہے ہیں تو سمجھ لیں کے وہ دن دور نہیں کہ ہماری  رسوائی، ذلت، پسپائی،بربادی، آفات ناگہانی اور نہ جانے کیسے کیسے امتحانات کے ایام شروع ہونگے جسکا تاب لاناہم ناتواں امت مسلمہ کے لئے بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے.
 *قارئین کرام* ! اگرجہاں آب و گل کے مسلم اکثریت واقلیت ممالک کا جائزہ لیا جائے تو نتائج بہت شرم کن اور حیران کن آئیں گے اور ایسا ہو کیوں نہ جب کہ سب کہ سب اس دنیافانی  کے پیچھے دیوانہ وار ڈورے چلے جارہے ہیں نہیں پتہ کے کہاں جارہے اور کس راستے سے جارہے ہیں کہیں دوشیزائیں زینت محافل ہیں تو کہیں سنیما اور کلب اور ٹھیٹر کا دور عروج پر ہے ایسے نازک حالات میں 
ہمارے اوپر غضب الہی کیوں نہیں بھڑکے گا آسمان کیوں نہ پھوٹے گا زمین کیوں نہ پھٹے گی ہروہ چیزیں جو تصورات سے بالاتر تھیں وہ  رونما ہورہی ہیں ہمیں جس سے دل لگانا تھا،جس کے مرتب کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوناتھا ہم نے اسے یکسر بھولا دیا اور جن چیزوں سے دوری بنائے رکھنا تھا اسے بہت قریب کرلیا ہم نے کہیں اپنی ذات کے بڑائی و پذیرائ کے لئے تو کہیں اپنے گھرکی ناموری کےلئے تو کہیں اپنے خاندان کی ناک اونچی کرنے اور نام و نمود کے لئے. اس لئے ذلت و خواری رسوائی ہماری مقدر ہوئی اور بزدلی نے ہمارے اندر اپنا ڈیرہ ڈال دیااور اگر اب بھی نہ جاگے تو خدا معلوم ہمارا حشر کیاہو 
اسلئے جو باقی ماندہ وقت زندگی ہے اسے کام میں لایا جائے اور ذلت و رسوائی کا کلنک  جس سے  ہماراماتھا داغدار ہے اس کو صاف ستھرا کرنے کی سعی پیہم کریں اگر ہم نے اپنی عادت و خصلت بدلی تو ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ ہمارا بول بالا ہوگا اسلام دشمن اپنا منھ اٹھاکر نہیں چل سکتا اور دنیا ہمارے لئے جنت کا نمونہ ہوگی. شاعر نے کیا اچھے انداز میں کہا ہے :
 *خدا نےآج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی* 
 *نہ ہوجس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا* 
 *تو ہم عہد کریں کے* اپنی زندگی من چاہی نہیں رب چاہی گزاریں گے پھر جاکر موسم بہار کا مزہ لے پائیں گے ورنہ خزاں رسیدہ چمن خزاں ہی میں مرجھاکر فنا ہوجائیگا.  
  ※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※※
  ٤ مئی ٢٠٢٠ء

ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں




باسمہ تعالی 
      ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں
        ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
                   از قلم: محمد طاسین ندوی 
اعتماد و یقین کو دنیا کہ ہر میدان و محاذ پر کلید کی حیثیت حاصل ہے اگر اعتماد کا فقدان ہوجائے تو  بدظنی،کدورت،نفرت، فریب، درشت کلامی، دھوکااور اس قبیل کے بے شمار چیزیں جنم لیتی ہیں ابھی حالیہ واقعہ ایک سیاہ فام امریکہ جارج فلائیڈ کی موت کاہے جس نے پورے امریکہ میں کہرام مچایا ہوا ہے  یہ محض اعتبار و اعتماد کا مجروح ہونا  ہی تھا دوکاندار اور مرنے والے کے مابین مسئلہ بیس ڈالر کا تھا کہ آیا یہ اصلی ہے یا جعلی بیس ڈالر نےامریکہ کے چھکے چھڑادیے ہیں ہر  طرف احتجاج و مظاہرہ (protest )کا بازار گرم ہے پچاس سے زیادہ شھروں کے کام کاج بالکل ہی ٹھپ پڑے ہیں سیاہ و سفید فام عنصریت و قومیت پر نبرد آزما ہیں  صدر امریکہ کی ادنی سی چوک نے امریکی ایوان کو متزلزل کررکھا ہے ٹرمپ جو فرعون وقت ہے اسکی ہوا نکلی جارہی ہے نیشنل گارڈ،خصوصی افواج و دستے اس سیل روان کے سامنے کچھ کام آنے والے نہیں، احتجاج ہے کہ تھمنے والا نہیں مظاہرہ ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتا ،  یہ ہے قبائلی غیرت و حمیت  کی مثال اور ہم ہیں کہ خیر امت کہلاتے ہیں ہمارے برادران اسلام کے ساتھ کیسے کیسے نازیبا و ناروا سلوک کیے جارہے ہیں اذیت ناک سزائیں دی جارہی ہیں گاجر و مولی کی طرح کند چھریاں چلائی جارہی ہیں 
ہم ہیں کہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے داد عیش دے رہے ہیں سوچنے کی بھی طاقت و قوت ختم ہوتی جارہی ہے چہ جائیکہ ہم شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلیں اپنے برادران کے لئے؟
قارئین کرام!  قابل شرم بات یہ کہ امریکہ جو سپر پاور ہے وہاں احتجاج کرنے والے یہ نعرۂ مستانہ بلند کرتے نظر آتے ہیں کہ *ہم عرب نہیں کہ قتل پر خاموش رہیں *We are not ARABS to kill us and keep silent یہ جملہ بظاہر ایک چھوٹا جملہ ہے لیکن بہت ہی پر مغز ومعنی خیز اور ہمیں (امت مسلمہ)  یہ دعوت فکر دے رہا ہیکہ اگر اب بھی تم خواب خرگوش میں رہے اور جاگ نہ سکے تو وہ دن دور نہیں کی غیرت و حمیت کےخاتمے کے ساتھ ساتھ تمہارا وجود بھی خطرے سے باہر نہیں، ابھی تو تم سوالیہ نشان بنے ہو، یہ بات کس حد تک درست ہے؟ چلیں عالمی منظر نامہ پر توجہ مبذول کرتے ہیں .. 
دین اسلام کے علمبردار ذات باری تعالی کے بارگاہ سب سے معزز و محترم اسوقت ہیں جب دین اسلام کے مدون اصول و ضوابط، آئین و قوانین کی پاسداری کرنے والے ہوں اگر اس ڈگڑ سے منحرف ہوگئے تو پھر فرمان باری تعالی "ظھر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس " بحرو بر میں بگاڑ تمہارے کرتوت کے نتائج ہے . بالکلیہ صادق و فٹ آتا نظر آئیگا اسوقت دنیائے فانی میں جہاں بھی ہم رہتے بستے ہیں وہاں پسپائی،ذلت، حقارت، ہمارا مقدر اس لئے بنا ہیکہ ہم نے فرامین الہی، ھدایات مصطفوی کو سینت سینت کرکے  کسی صندوق کی نذر کردیا ہے اب بھی وقت ہے اگر ہم عقل کا ناخن لیں اور لوٹیں اپنے اس مراجع و مصادر کی طرف تو کوئی بندہ خدا دم خم نہیں رکھتا کہ ہمیں مغلوب کرسکے کیوں کہ ہم ہی تو ایسے دین کے پیرو کار ہیں جو اللہ کا ہے بس کمی ہماری ہے ہمارے کرتوت ہمیں سر اٹھا کرجینے نہیں دے رہےہیں  اسوجہ سے ہم دنیا میں بھٹکتے پھر رہے ہیں کہیں ہمارا  کوئی مستقر نہیں ہے.
اللہ تعالی سے دست بستہ دعاگوہوں کہ اللہ ہمیں دین اسلام کی صحیح فہم نصیب کرے تاکہ عوام الناس ہمیں دیکھ کر دین اسلام کو گلے لگائیں اور  دنیا و آخرت دونوں جہان میں ہمیں سرفرازی وسربلندی میسر ہو.   وماتوفیقی الا باللہ .
ــــ ـــــــ ــــــــ ــــــــ ـــــــ ـــــ ــــ ــ

ماہ شعبان المعظم اور ہم












              بسم اللہ الرحمن الرحیم         
         ماہ شعبان المعظم اور ہم
قسط اول
محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت جب دنیا کو وجود بخشا اسی وقت سے سال کے بارہ مہینے بنائے اور ہر مہینہ الگ الگ خصوصیات سے نوزا فرمان باری تعالی ہے، "إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرࣰا فِی كِتَـٰبِ ٱللَّهِ یَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَاۤ أَرۡبَعَةٌ حُرُمࣱۚ ذَ ٰ⁠لِكَ ٱلدِّینُ ٱلۡقَیِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُوا۟ فِیهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَـٰتِلُوا۟ ٱلۡمُشۡرِكِینَ كَاۤفَّةࣰ كَمَا یُقَـٰتِلُونَكُمۡ كَاۤفَّةࣰۚ وَٱعۡلَمُوۤا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِینَ"   سورة التوبة 36
ان مہینوں میں سے ایک ماہ شعبان المعظم ہء اس ماہ مقدس کے فضائل پیغمبر اسلام سرور کونین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی عمدہ و دلنشین انداز میں یوں بیان فرمایا "الشعبان شهري " شعبان ميرا مہینہ ہے .حدیث بالا سے ماہ شعبان کی فضیلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ماہ کو اپنا مہینہ قرار دیاہے.
جس مہینے کی نسبت آپ کی ذات عالی صفات نے اپنی طرف کیا ہو تو اسکی عظمت و شان کا بکوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کونکہ نسبت سے شئی کی حقیقت بدل جاتی ہے.
اس ماہ کی فضیلت و عظمت اس سے بھی کیا جاسکتا ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے  کے اکثر حصے میں روزے رکھا کرتے تھے .چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے اہتمام کے ساتھ رمضان مبارک کے علاوہ کسی پورے مہینے کا روزہ رکھے ہوں.
اور فرماتی ہیں کہ:  میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھے ہوں.
 عن عائشة رضي الله عنها قالت "ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر قط إلا رمضان، وما رأيته في شهرٍ أكثر صياماً منه في شعبان، كان يصوم شعبان كله، كان يصوم شعبان إلا قليلاً” رواه الشيخان
دوسري روايت میں ہیکہ "رسول اللہ کو تمام مہینوں سے زیادہ یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان مبارک سے ملا دیتے.  "كانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إلى رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أَنْ يَصُومَهُ: شعبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ برَمَضَانَ"رواه الإمام أحمدوصحَّحه ابنُ خزيمة.

شب براءت کی فضیلت:
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ماہ شعبان کی پندرہویں شب شب براءت کہلاتی ہے "براءت" کے معنی چھٹکارا  و رستگاری کے ہیں، شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں: شب براءت کو شب براءت اسلئے کہتے ہیں کہ اس رات میں دو قسم کی براءت ہوتی ہے.
۱ـ ایک براءت تو بدبختوں کو اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہوتی ہے.
۲ـ دوسری براءت اللہ جل جلالہ کے دوستوں کو ذلت خواری سے ہوتی ہے. غنیۃ الطالبین  ۴۵۶
مزید یہ فرمایا کہ جس طرح مسلمانوں کے لئے اس روئے زمین پر عید کے دو دن ہیں اسی طرح فرشتوں کہ لئےبھی آسمان پر دو رات ہیں ایک شب براءت  اور دوسری شب قدر عید کی راتیں ہیں  کیونکہ وہ رات میں سوتے ہیں اور فرشتوں کی عید رات میں رکھی گئی کیونکہ وہ سوتے نہیں ہیں .غنیۃ الطالبین ۴۵۷

احادیث مبارکہ میں شب براءت کی بہت فضیلت و اہمیت بیان کی گئی ہیں جس میں سے یہ کہ اس شب کو اللہ جل جلالہ و عم نوالہ بے شمار لوگوں کی مغفرت کردیتے ہیں.
چنانچہ حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا؛: اللہ تعالی شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں.
عَنْ عَائِشَةَ قالت :فَقَدتُّ رسولَ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لَیْلَةً فَخَرَجْتُ فَاِذَا ہُوَ بِالبَقِیْعِ فَقَالَ أَکُنْتِ تَخَافِیْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰہُ عَلَیْکِ؟ قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَنَنْتُ اَنَّکَ اَتَیْتَ بَعْضَ نِسَائِکَ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وتَعَالٰی یَنْزِلُ لَیْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ اِلٰی سَمَاءِ الدُّنْیَا فَیَغْفِرُ لِاَکْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ کَلْبٍ․ ترمذی 
۱/۱۵۶ابن ماجہ ص۹ 

منگل، 9 جون، 2020

लोकतान्त्रिक देश नेपाल र नेपाली मुसलमान विश्लेषण र केही प्रस्ताव




✍️ लोकतान्त्रिक देश नेपाल र नेपाली मुसलमान विश्लेषण र केही प्रस्ताव
✍️ मुहम्म्द तासीन नदवी
नेपाल भूगोलिक हिसाबले तीन खण्डमा विभाजन गरिएको एउटा सुन्दर राष्ट्र हो जसको उत्तर तर्फ चीन अवस्थित रहेकोछ भने दक्षिण पश्चिम र पुर्ब तर्फ भारत रहेको छ।  नेपालको भूगोल अत्यन्तै बिबिध रहेको छ । यहाँ घना जङ्गलहरु उर्वर जमिन र विश्वका आठ अग्ला पहाडहरु नेपालमै अवस्थित रहेका छन। जस मध्य एक त विश्वकै सर्वोच्च सगरमाथा Mount Everset जोकि अन्तरास्ट्रिय जगतमा एउटा विशिष्ट नमुनाको रुपमा रहेको छ सो पनि नेपालमानै अवस्थित रहेको छ। नेपालको राजधानी काठमाडौं हो जो नेपालको सबैभन्दा ठुलो सहर पनि रहेको छ। हाम्रो देश नेपालमा विभिन्न जात जाति भाषा धर्म बण लिङ्ग क्षेत्र आदि बसोबास गर्ने साझा फुलवारी भनेर वर्णन गर्ने गरिन्छ। जबकि नेपालको राष्ट्रियभाषा कामकाजको भाषा एवम् सरकारी कार्यलयको भाषा नेपाली रहेको छ।
पहाडी क्षेत्रमा बसोबास गर्ने अधिकांश सामान्यता गोरा हुने गर्छन भने नेपालको अधिकांश जनसंख्या तराई क्षेत्रमा अवस्थित छ र  मुसलमानहरुको बसाई पनि तराई क्षेत्रमानै धेरै रहेको छ उनीहरुको रहनसहन लवाई खवाई परम्पराहरु भारतवासी सङ्ग मिल्दोजुल्दो छ। नेपाल भित्र ईस्लाम भारतीय व्यापारी मार्फत आएको इतिहास हामीलाई ज्ञात गराउछ सोहिकरण भारतीय सभ्यताको वर्चस्व रहेको भुझिन्छ। यहाँ अवस्थित अधिकांश मुसलमानहरु सामान्यता पिछडिएका अशिक्षित र राष्ट्रियभाषा नेपाली देखी अनविज्ञ रहेका छन। केही बर्ष अगाडी सम्म नेपालको पहिचान एउटा हिन्दु राष्ट्रको रुपमा थियो तर २०६५ सालको आन्दोलनले नेपाल हिन्दुराष्टदेखी एउटा लोकतान्त्रिक देश बनेको थियो। देशमा यो आमूल परिवर्तन पछि पनि नेपालको संविधानमा कुनै खास परिवर्तन हुन सकेन मुसलमानहरुका मौलिक हक अधिकार खोसिएको एथार्थ जगजाहेर रहेको छ भने नेपालको संविधानको हेराइ मुसलमान माथी कस्तो छ भन्ने पनि प्रष्ट हुन्छ। हामी पछाडीनुको मुल कारण पनि हामी स्वयम्नै हौ। हामी सङ्ग नेपाली भाषा छैन राम्रा नेता एवम् रह्बर छैन हामी सङ्ग स्कुल कलेज विश्वविधालय छैन यसैगरी कुनै ईस्लामिक सेन्टर छैन मिडियामा हाम्रो उपस्थिति शुन्य रहेको छ। फेरि कसरी हामी अगाडी बड्न सक्छौ ? कसरी उन्नति प्रगति गर्न सक्छौ ? मिडिया जसलाई लोकतन्त्रको चौथो अङ्ग मानिएको छ जसमा हाम्रो उपस्थिति न्यून रहेको छ ।जसको माध्यमले हामी आफ्नो हक अधिकारको लागि शसक्त रुपले आवाज उठाउन सक्छौ।अब आएर कसले हाम्रो लागी आवाज उठाईदिन्छ? हामीहरु कस्को पर्खाइमा बसेका छौ? के अब पनि हाम्रो हक अधिकारको लागि कोहि अरु आएर लडिदिन्छ्न? यदि यसो हैन भने फेरि हामिहरु किन मौन छौ?  हाम्रो दील निकैनै जटिल भैसकेको अवस्था छ हामीलाई यी कमीबारे थोरै आभास सम्म हुदैन। यदि हामीहरु यसैगरी निदाईरहेयौ भने त्यो दिन टाढा छैन जब हाम्रो अवस्था पनि ठिक त्यस्तै हुनेछ जस्तो बोसोनियावासी  चेचेनियावासी वर्मा र रोहिङ्गियाको भएको थियो र भैरहेको छ। अहिले अफ्नो अधिकारकोलागी लड्ने, सरकार सङ्ग हाम्रा मौलिक अधिकार माग्ने र हामी र हाम्रा पिढिको उज्ज्वल भबिस्यको लागी संघर्ष  गर्ने समय बितेको छैन। यदि अब पनि हामिले नेपाली भाषामा दक्षता प्राप्त गर्नको लागि प्रयास गरेनौं भने भोलिका दिनमा हाम्रा अगुवा यस्ता हुनेछन जललाई ईस्लामको आधारभुत शिक्षाको पनि ज्ञान् हुने छैन। म आह्वान गर्न चाहान्छु विषेश गरि मदर्साका विदयार्थीलाई जसरी तपाईं अरबी उर्दु भाषालाई आफ्नो जिबनको महत्त्वपूर्ण अंश मान्नुहुन्छ त्यसैगरी नेपाली र ईंग्लिश भाषामा पनि दक्षता प्राप्त गर्नुहोस्। गाउँ समाज देश बिदेशमा आफ्नो शिक्षा साहित्य सभ्यता बोलिबचन र भाषाको सिक्का जमाउनुहोस। अहिलेको तपाईंको समय भनेको  केही गर्ने र केही बन्नेको हो अवस्य पनि गर्नुस र सफलतालाई आफ्नो नाम गर्नुस। ताकी तपाईंलाई नेपालका कुनै विभागमा लज्जास्पद हुन नपरोस आफ्नो मुख खोलौ व नखोलौ भन्ने दुबिधा नपरोस् कसैले केही सोधे के जवाफ दिनेहोला भन्ने खाले जसता त्रासबाट टाढा रहनुहोस तपाईंलाई कसैको सामु मलाई राष्ट्रिय भाषा आउदैन भन्न नपरोस् । लौ अब आउनुस आज एउटा वाचा गरौँ ।  नेपालको संविधानको गहिराईको साथ अध्यन गर्नेछौ नेपाली भाषामा दक्षता प्राप्त गर्नेछौ र आफ्नो हक अधिकार स्वतन्त्रताको आवाज बुलन्द रुपले उठाउनेछौ भनेर। हामी यति सक्षम हौकि सरकारको माथिल्लो निकाय समेत हाम्रो सचेतना देखेर ऊ आफू सचेत होस। अब नेपालका मुसलमानहरु जागरुक भैसकेका छन अब उनिहरुलाई धोकामा राख्न सकिँदैन र इनिहरुको हक अधिकार हनन गर्न सकिँदैन। यो सबै चिजहरु तब सम्भव हुन्छ जब हामीले उच्च शिक्षा हासिल गर्छौ किनभने शिक्षाको अगाडी ठुला ठुला ठग धोखेबाजहरु निहुरिएका छन। अन्तमा अल्लाह सङ्ग मेरो दुवाछ अल्लाह ताआला सबै मदर्सा मक्तब र सबै मुसलमानलाई समझबुझ प्रदान होस हामीसबैलाई राष्ट्रियभाषामा दक्षता प्राप्त होस र हामी सबैको भविस्य उज्ज्वल होस।
      अनुवाद अबुबकर नदवी

اتوار، 7 جون، 2020

آدمیت اور محبت عیدکا پیغام ہے


بسم اللہ الرحمن الرحیم
   آدمیت اورمحبت عیدکا پیغام ہے     
  تحریر: محمد طاسین ندوی
                                                                 !الحمدللہ
ہم نے رمضان المبارک کے ایام جس اتحاد و انسجام کے
ساتھ گزارا وہ قابل قدر ہے آج رمضان کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچا اور یہ پیغام عام دے گیا کہ آپسی اتحادو اتفاق بنائے رکھنا ۔
 اے امت مسلمہ تم نے ایسا فریضہ انجام دیا جو اب پورے ماہ و سال کی گردش کے بعد ہی میسر ہوگا اور نہ جانے یہ حسین ایام تم میں سے کس کو میسر ہو اور کس کو نہ ہو ،تم اللہ کی ودیعت کردہ باقی ماندہ زندگی کے ایام کو اس کار گہ عالم کے خالق کی مرضیات پر ہی گامزن رکھنا اس میں تمہارہے لئے دونوں جہاں کی فلاح و بہبودی ہے۔
تم نے روزہ و سحری اور نمازوتہجد سے اپنی راتوں کو روشن کیا ،زندہ رکھا شب قدر کی برکتوں  اور رحمتوں  سے کشکول گدائی کو خوب بھرا بے کسوں، یتیموں ،بیواؤں،مفلسوں اور درماندوں کا بہت خیال رکھا تم نے لباس و پوشاک اور صدقہ وخیرات سے ان کے دلوں میں فرحت و مسرت کے شادیانے بجائے ، اب وہ ماہ مبارک رخصت ہوا ، اس کےبعد بھی اللہ پاک  تم سبہوں کو اس مہتم بالشان کام کی توفیق دیتا رہے  اور تم آپس میں اعتصام بحبل اللہ کا عملی نمونہ ہمیشہ پیش کرتےرہو اور فسطائی طاقت و قوت سے نہ گھبرا کر اس کے ایوان کو نعرۂ مستانہ سے متزلزل کردواور اتفاق و اتحاد کی ایسی مثال بن کر افق عالم پر ابھرو کےوہ  یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کے یہ اللہ کے پرستار حضرت آقائے نامدار احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے  سچے پکے متبیعن اور پیرو کار ہیں، ان کے لطیف اشاروں پر اپنی جانیں قربان کرنے والے ہیں جادۂ حق پر یہی لوگ ہیں سالاری کا پرچم ان کے ہاتھ میں زیب دیتا ہے ، عید تو عبارت ہے اسی اتحاد،انسجام اور اتفاق سے عیدببانگ دہل  بزبان حال یہ کہتی ہے *واعتصموا بحبل اللہ جمیعا و لاتفرقوا* ... امت محمدیہ کے جیالو ایک ہوجاؤ  آپسی دوری کو ختم کرلو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو،  دنیا تھرا جائیگی اور اگر اس دستور ایزدی پر عمل پیرا نہ ہوئے تو یاد رکھو ..! پسپائی، فرقہ واریت،عنصریت،یکے بعد دیگرے سب سر اٹھائیں گے وہ  تمہیں  ہلاک وبرباد کر کہ قعر مذلت کے عمیق کھوہ میں لاگرائیں گے.
اب بھی وقت ہے جسطرح رمضان و عید میں متحد رہے اپنے نفس کو قابو میں  رکھ کراپنی اخروی ترقیوں کا سامان مہیا کیا اسے  اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی نافذ کرو اور جنت اپنے نام الاٹ کروالو .
قارئین محترم!  
ہم نے رمضان و عید کے نہایت ہی روح پرور ،پرکیف اور دلکش روز و شب کو بہت ہی خوش اسلوبی سے گزار نے کی کوشش کی، باری تعالی اپنے انعام و اکرم کے لئے  ایک گھڑی میسر کی ہے .ہرطرح کی لغویات،فحش،منکر افعال و اعمال سے اجتناب کرتے ہوئے اس دن کی رعنائی. خوبصورتی، دلکشی اور دلفریبی سے حدود و قیود میں رہتے ہوئے خاطر خواہ فائدہ اٹھائیں اور دعا کریں کے عید نے اتحادو اتفاق اور حسن عمل کا جو دلپذیر درس دیا اسکو ہمیشہ یاد رکھیں تاکہ ہمارا مستقبل روشن ہو اور آخرت میں اللہ تعالی کے حضور کم سے کم جوابدہ ہوں ..*للہ الامر من قبل ومن بعد*  .

ہر لمحہ ہے مؤمن کی نئ شان

             بسم اللہ الرحمن الرحیم
    ہر لمحہ ہے مؤمن کی نئی شان 
        ✧✧✧☆☆✧✧✧☆☆✧✧✧☆☆
                     از:  محمد طاسین ندوی    
باری تعالی نے  جن و انس کو عبادت کے لئے اس دنیائے آب وگل میں وجود بخشا چنانچہ فرمان باری ہے "میں نے جنات و انسان کی تخلیق صرف اپنی عبادت کے لئے کیا ہے " 
لیکن حضرت انسان ایسا بھولا کہ کچھ یادہی نہ رہا اپنے
شب و روز، اقتصاد ومعاش،کاروبار اور حرفت و صنعت  میں ایسا گم ساہوگیاکہ کچھ یاد نہ رہ سکا کہ قسام ازل نے ہمیں کیوں وجود بخشا تھا؟ کیاخالق کائنات نے ہماری اتنی عمدہ تخلیق محض اس لئے فرمائی کے کھائیں پیئیں،لہوولعب،لاف گزاف،لغویات،ہوس رانی میں اپنی زندگی کا آفتاب و ماہتاب اور نیر تاباں کو غروب کردیں ؟ یقینا ہر ذی ہوش عقل سلیم کا حامل ،دین اسلام کے شدھ بدھ رکھنے والے کا جواب نفی میں ہوگا کہ ہرگز نہیں، ہمیں عدم سے وجود میں لانے  کا مقصدتو بہت ہی اعلی و ارفع ہے کہ ہم اپنے پروردگار کی بندگی کریں اور عطاءکردہ دستور اور آئین کہ تحت اپنی اپنی زندگی گزارکر عالم جاودانی کی طرف عازم سفر ہوجائیں اصل ھدف ومنشود یہی ہے لیکن فرمان نبوی ہے "الایمان یزید بالطاعات وینقص بالمعاصی" ایمان اطاعت و فرمانبرداری والے عمل سے فروغ پاتا ہے بڑھتا ہے اور معصیت وگناہ سے گھٹتاہے اس کے اندر کمی پیدا ہوتی ہے، الغرض یہ کہ گردو نواح کے واقعات و حالات آفات و آلام سے ایمان کے اندر اضافہ ہوتا ایمان بڑھتاہے اس نمو کو ہر علی الاطلاق ہر خاص و عام محسوس نہیں کرتا ہے بلکہ جس کے اندورن کچھ نہ کچھ ایمان کا رمق ہو اور جذبۂ ایمانی سے کسی درجہ میں سر شار ہو تب جاکر اس اضافہ، زیادتی، نمو سے محظوظ ہوتا ہے.
قارئین کرام! جس وبا اور آفت ناگہانی سے دنیا دوچار ہے مساجد، عبادت گاہیں،  سب کے سب تقریبا ٧٤یوم سے بند پڑے تھے مساجد، مصلے،عبادت گاہوں میں باجماعت عبادت کرنے پر پابندی عائد تھی اب سعودی عربیہ اور دیگر ممالک نے اجازت  دیا  کہ مصلیان احتیاطی تدابیر کے ساتھ اورچند شروط و قیود کا پابند ہوکر خانۂ خدا میں باجماعت نماز ادا کرسکتے ہیں. اس قرار داد کا سننا تھا کہ امت مسلمہ کا ایمان پھر بڑھا اور نمازیوں نے ایسی دوڑ لگائی کہ ہم پہلے پہنچیں تو ہم پہلے پہنچیں کچھ ویڈیوز سے یہ محسوس ہوا کہ گویا کوئی مسابقہ یا مقابلہ ہیکہ ہر شخص کو فکر ہے کہ بازی میں جیتوں مختصر یہ کہ وہ لوگ جونماز باجماعت کے عادی و پابند تھے ان کے چہرے کی رعنائی اس بات پر غماز تھی کہ کوئی متاع گمشدہ ہاتھ آگیا ہو اور ایسا کیوں نہ ہو، جماعت، جمعہ سارے اجتماعی اعمال و اذکار سے کچھ دنوں سے ایسے دور تھے جیسے کہ سالہاسال سے ہم سے گنج گرامایاں چھن گیا ہو. حالات کا ساز گار ہونا اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک عظیم اور بیش بہا نعمت ہے ، جس نعمت کا احساس اس مہاماری اور لاک ڈاؤن کی توسیع کے زمانے میں بڑی شدت سے ہورہا ہے یہ سارے نتائج و ثمرات جو آفت ناگہانی،مساجد و دانشگاہ سے دوری کی شکل میں درپیش تھی اور کچھ باقی ہے یہ ہمارے کردار کشی، اپنے کو گناہوں میں مستغرق رکھنے اور مظلوموں کی آہ و بکا گریہ وزاری مفلسوں، بے کسوں، یتیموں، بیواؤن کے ساتھ غیر اسلامی سلوک کے  واضح  نتائج ہیں ۔
اب بھی وقت باقی ہے اپنے کو سنبھالنے کا کہ ہم اپنے اخلاق کو اخلاق فاضلہ بنائیں نبوی صفات سے اپنے کو متصف کریں اور ہر وہ عمل جس کے کر گزرنے میں ہمیں ذرا بھی دریغ نہ تھا اس سے باز آجائیں اسلاف سے پائے ہوئے میراث کو محفوظ رکھیں اگر ہم نے میراث اسلاف کو گنوادیا ہلاک و برباد کردیا تو بلا و آزمائش میں کھرا اترنا دشوار ہوسکتا ہے زمین اپنی وسعت کے باوجود تنگ ہوسکتی ہے نوع بنوع کے ابتلاء و امتحان سے گزرنا پڑسکتا ہے، علامہ اقبال رحمہ اللہ  نےبہت ہی عمدہ عکاسی کیا ہے
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے     ہم کو دے مارا

اگرہم نے اسلاف کے بتائے ہوئے نسخۂ کیمیا پر عمل کیا تو مصائب و آلام آئیں گے ،ابتلاء و آزمائش کے پہاڑ راستہ روکیں گے لیکن ان شاء اللہ سب کے سب سمندر کے جھاگ کہ مانند بہتے ہوئے کنارہ کشی  اختیار کر لیں گے اور اصل الاصول باقی رہ جائیں گے
اللہ ہم سبہوں کو قرآن و سنت اور اسلاف امت کے بتائے ہوئے طریقہ پر گامزن رہنے کی توفیق دے آمین یاربناالموفق

لمحۂ فکریہ


بسم اللہ الرحمن الرحیم
                لمــــــحۂ فکــــــــریہ
             محمدطاسین ندوی
باری تعالی نے جب سے عالم کو وجود بخشا اسوقت سے ابھی تک بےشمارگروہ،قومیں،جماعتیں  پیدا ہوئیں اور فرحت بخش،روح افزا،یا اندوہناک، روح فرسا افعال و اعمال کو انجام دیکر تاریخ کےصفحات میں اپنے کو نیک نام یا بدنام درج کروالیا،
وقت اور لمحہ کے مطابق جزاء وسزاء بھی دیے گئے بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دنیا نہایت ظلم و جور کا شکار تھی اللہ کی غیرت نے جوش میں آکر انسانیت کو گھٹا ٹوپ اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف رہنمائی کیا چنانچہ باری تعالی کا ارشادعالی .." تم سب کہ سب آگ کے گڑھے کہ قریب تر تھےیہ جا وہ جا تم کھائی میں گرتے  تو ذات عالی نے تجھے اس ضلالت و رسوائی سے محفوظ رکھا "
"کنتم علی شفاحفرۃ من النارفأنقذکم منہا  "آل عمران۱۰۳
یہ رسوائی و ضلالت تو  شرک و کفر کی تھی
خالق عالم کے احکام وفرامین  کو پاؤں تلے  روندھنے اور ذات لاشریک لہ کے ساتھ اس کے مد مقابل اور اسکے بالمقابل ٹھہرانے کی تھی جس مالک الملک نے اس جہانِ رنگ وبو کو وجود  بخشا بھلا اسے کیسے یہ گوارہ ہو تا کے ان کی سب سے معظم و مکرم مخلوق یونہی بےسروسامانی کے عالم میں وادئ پرخار میں آبلہ پا ہوکربھٹکتی رہے اس کو ترس آتا ہے اور رحمۃ للعالمین،  رسالت مآب، کو اسوۂ کامل و مکمل بناکر  کبھی خوشخبری سنانے والا، کبھی ڈرانے والا کبھی شاہد کےا لقاب سے ملقب فرماتے ہوئے ساری دنیا کو اس وادی پر خار سے نجات دلانے کیلئے مبعوث فرتا ہے، فرمان باری تعالی ہے"اے محمد مصطفی ہم نےتمہیں لوگوں کی طرف خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجاہے "
"وما ارسلناك الا کافة للناس بشیراونذیرا " سبا ۲۸
جب اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومبعوث فرمایا اسوقت دو قسم کی جماعت ہوگئیں ایک خدا ترس محمد  صلی اللہ علیلہ وسلم کو رسول ماننے جاننے والی اور دوسری جماعت نشۂ طاقت و قوت سے سرشار بدمست ،لوگوں کو حکمرانی اور مال و دولت کا دھونس جمانے والی لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ اللہ کے پاور کے سامنے اس کے علاوہ کی طاقت وقوت سر چڑھ کر بولے.؟
اللہ کی ایسی کاری ضرب لگی کہ طاقت و قوت کا راگ الاپنے والی جماعت خدائی پاور کے سامنے  پانی بھرتے نظر آئی.
رفتہ رفتہ روز وشب، ماہ وسال تمام ہوتا گیا مختلف ادوار سامنے آئے قیصرو کسری کا سر کچلا گیا اور اس کے طرح اور بھی زور آور آئے چلےگئے *ابھی اس وقت جس ماحول اور عالم میں ہم بودوباش کررہےہیں اپنی زندگی کی صبح شام ہورہی ہے یہاں بھی ایک سپر پاور بتانے والا ہے جو اپنے کو فرعون کا جد امجد گردانتا ہے  اسی کی روش پر گامزن ہے  ساری دنیا کو تباہ و برباد کرکہ اپنی حکمرانی کررہا ہے* اس پر مستزاد یہ کہ بعض ممالک کو دنیا کے نقشہ سے مٹانےکا خواب بھر پور انداز میں دیکھ رہا ہے اب وہاں بھی قومیت، عنصریت کی آگ ایسی بھڑکی ہے کہ قابو سے باہر ہے روکتے نہیں رک رہی ..بابائے دنیا کہلانےوالے کی چول کھسکتی نظر آرہی ہے فرعونیت اب دست و بازو پکڑ بیٹھی منتظر فردا ہے ہونہ ہو کل اپنے ساتھ کیا کیا لیکر آئیگا بیت ابیض White House آگ و دھوان سے بھرا ہے 
ایوان میں لرزہ تاری ہے خوف و ہراس کا ماحول بپا ہے انسانیت ،ہیومن رائٹ human right کہ نام پر اپنی دوکان کو چمکانے والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں آخر کہاں گئے وہ لوگ؟  اپنے گھروں،آفسوں یا تہ خانوں میں آنکھ کان  بند کرکے روپوش تو نہیں؟
سب ہیں صفوں میں ہیں مل کر آتنگ پھیلا رہے ہیں اور یہ واویلا کررہے ہیں کہ ہماری مدد کو کوئی نہیں آرہا 
امریکہ وقت کا سپر پاور ہے اور صدر اسکا فرعون، اسے اپنی فکر ہے کہ آئندہ الیکشن election  میں میں کسی فٹ پاتھ outside پر نہ نظر آؤں انسانیت سے کنارہ کش ہوکر اپنی کرسی اور منصب بچانے میں سر گرم عمل و کوشاں ہے لیکن اسے یہ بات یاد  ہو کہ الملک للہ بادشاہت تو اللہ کے لئے ہے. اللہ جسے چاہتا ہے تخت و تاج دیتا ہے تُؤۡتِی ٱلۡمُلۡكَ مَن تَشَاۤءُ وَتَنزِعُ ٱلۡمُلۡكَ مِمَّن تَشَاۤءُ ،تووہ اپنے کو سپر پاور باور کرواتا ہے کہ ہم ہی تو ہیں سربلند اور ساری خدائی ہمارے ہی لئے ہے. اور جب اللہ کی گرفت مضبوط ہوتی ہے اپنا منھ چھپائے پھرتا ہے لیکن کون ہے جو اسے منھ چھپانے والے کو ذلیل ورسوا ہونے سے بچا سکے؟  کوئی نہیں ،پھر وہ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہےعقل ماؤف ہوجاتی ہے سارابھرم ٹوٹ جاتا ہے اگرتقدیرلکھنے والا قسامِ ازل  اس کی ہدایت لکھی ہوتی تو وہ راہ راست پرآتا ہے اپنی گذشتہ افعال و اعمال، حرکات وسکنات سے توبہ کرتا ہے پھر التائب من الذنب کمن لاذنب لہ" گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہےجیسے کہ کوئی گناہ نہ کیاہو" کا مصداق کامل ہوجاتا ہے 
*ابھی دنیا دوبارہ قعر مذلت کی طرف رواں دواں ہے*
انسانیت،رحم،احسان، صلہ رحمی سب کہ سب جاں بلب ہیں ،اپنی اور اپنا بنانے کی فکر سب کو دامنگیر ہےایسا مفاد پرستانہ دور ہیکہ کوئی کسی گرتےکو سنبھالنے سے زیادہ اسے کھائی میں گرانے کی فکر میں پریشان و وسرگرداں ہے 
اس اخلاق سوز،بدعنوان،حیا باختہ ماحول سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ  رکھے 
             *آمین یاغفار الذنوب*

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...