جمعرات، 18 جون، 2020

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ


ازقلم :محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کو پیدا فرماکر انکو زندگی گزارنے اور رہنے سنہے کا سلیقہ بتایا اور ساری تخلیقات اسی حضرت انسان کے لئے فرمائی تاکہ روز بروز انسان راہ ارتقاء کی طرف گامزن رہے ، اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی حساس اور پرآشوب دور ہے، جہاں ٹکنالوجی کی ترقیاں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حضرت انسان اپنی دنیا و عاقبت کو چند کوڑی کے عوض فروخت کرنے پر تلے ہیں ۔
اگر ہم اس وقت کارگہ عالم کا جائزہ لیں تو یقینا یہ روز روشن کی طرح عیاں  ہوجائیگا کہ کونسا گھرانہ و کنبہ اور خاندان ایسا نہیں ہے جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون -دجالِ وقت- نہ ہو اور اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو گویا اس کی دنیا تاریک تر ہے اور وہ اپنا وجود کو کوستے اور لعن طعن کرتے ہیں کہ تم کہاں ہو اس دور ترقی میں ایک اسمارٹ فون تیرے پاس نہیں ؟ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہے اور وہ یومیہ کمائی سے اپنا اور اپنے اہل وعیال کے خورد ونوش کا انتظام کرتا ہے وہ بھی موبائیل و انٹرنیٹ میں ایسا مستغرق ہیکہ کمائی میں سے ایک بڑی رقم اسی پر صرف کرتا ہے اور جو خوشحال و فارغ البال ہے اسکا کیا کہنا دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے انکے کم سن بچے اور بچیاں کے ہاتھ برانڈیڈ اسمارٹ فون سے نیچے نہیں ہوتے اور یہ ایک یہودی پالیسی ہیکہ انسان کو کیسے الجھاکر اپنا الو سیدھا کریں چنانچہ وہ اپنے حربے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے.
ہمارے چھوٹے اور کم سن بچوں کے پاس  موبائیل,انٹرنیٹ نت نئے ایجادات ہیں وہ کرتے کیا ہیں اس نئی ایجادات و اسمارٹ فون کے ذریعہ تو آئیے میں بتاتا ہوں اکثرو بیشتر بچے حیاسوز،اخلاق سوز یہاں تک کے ایمان سوز سیریل و مسلسلات کی طرف اپنا قدم بڑھاتے ہیں اور نہ جانے اس کا یہ قدم بڑھتا ہوا کس قعر مذلت و رذالت میں جاگرتا ہے اس کا مشاہدہ اس روئے زمین پر رہنے بسنے والے خوب کرتے ہیں اور آئے دن ایسے واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، یہ اوراس جیسے ڈھیرسارے نقصانات ہیں جس کا شمار اس مختصر مضمون میں محال ہے.
البتہ جدید ٹکنالوجی اور سماجی ویب سائٹس کی منفعت سے آنکھیں بند کرلینا تقاضۂ انصاف نہیں۔
*تو اس کے فوائد پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں* ۔۔۔۔۔۔۔
اگر سماجی سائٹس کا صحیح استعمال سکھایا جائے تو وہی نو عمر اور کمسن بچے اس سے بہت استفادہ کر سکتےہیں, چونکہ اسوقت دنیا بالکل بیت عنکبوت کی طرح مربوط ہے اس لئے اس سے جان چھڑانا بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے البتہ  اپنے کم سن بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے اور اپنی نگرانی میں اسے نیٹ وموبائیل کے استعمال کی اجازت دی  جائے. اس کے مثبت و اچھے استعمال سکھائے جائیں کیونکہ نئی ایجادات کے فوائد سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا نیز  اسکے فساد و منفی اثرات اسکے فائدے سے زیادہ ہیں لیکن اس وقت یہ دنیا کی اہم ترین ضرورت ہیکہ ہم اسے استعمال کریں ۔ اس کے اندر کی خوبیاں اخذ کریں اور اسکو اپنی زندگی کے اندر اپنانے کی مساعئ  جمیلہ کریں کیونکہ کوئی بھی چیز دو پہلووں کاحامل ہوتی ہے منفی و مثبت اب اس کے استعمال کرنے اور کروانے والے کو چاہئیے کہ اس کے ذریعہ ایسے پھول سے اپنا دامن بھرے جس سے دامن نہ الجھے اور نہ داغدار ہوں
یہی جدید ٹکنالوجی ہے جس کی وجہ سے انسان کےسالوں، مہینوں اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہورہے ہیں، ایک تار جو ہفتوں اور مہینوں بعد منزل مقصود تک پہنچتا تھا اب وہ چشم زدن میں آپ کی نگاہوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ انٹرنیت کے فوائد بھی بے شمار اور نقصانات بھی ان گنت ہیں البتہ جو صارف جسطرح کا ہوتا ہے اس سے اسی قدر کسب فیض کرتا ہے اور اس پر تربیت اور تہذیب و ثقافت کا خاصا اثر ہوتا اب یہاں مربیان و اساتذہ اور والدین کاامتحان بھی درپیش ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے نونہالان کی کیا اور کیسی تربیت کی ہے اور ایسا بالکل نہیں کہ کوئی بھی سرپرست، والدین اور ذمہ داران اپنے آل و اولاد کی اچھی تربیت کی فکر نہیں کرتے یقینا کرتے ہیں ان بچوں کی فکر ہمیشہ انہیں دامن گیر رہتی ہے البتہ انسانی نفس ہے جس کہ بارے میں خود باری تعالی نے فرمایا .. وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء
نفس امارة انسانوں تو برائیوں پر بر انگیختہ کرتا ہے جس کی وجہ سےاکثر انسان اسمیں مبتلا ہوتے ہیں سوائے ان نفوس قدسیہ کے جس پر اللہ کا رحم و کرم ہوجائے.
اللہ ہمارے نونہالان کو مثبت فکر، نفس مطمئنہ اور جدید ٹکنالوجی کا مثبت استعمال کرنے والا بنائے. آمین وماتوفیقی الا باللہ رب العالمین۔

منگل، 16 جون، 2020

خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟


 خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟؟
دراصل دنیا کی کشش انسان کو خواہ اپنی جانب کھینچ لے جائے اور اسے خواہشات کی وادی کا شہزادہ بنا کر پرواز کرادے، اسے یہ بھی محسوس کرادے کہ دنیا اس کی جاگیر ہے، وہ سب کا مالک و آقا ہے، دو عالم اس کی ہیبت سے رائی ہے، پہاڑ ذرہ اور دریا قطرے کے مانند ہے، اسے ہر لمس پر جہاں کی خوشیاں نصیب ہو، کھوٹا کھرا بن جائے، مٹی سونا ہوجائے، چمک دمک کی چوندھیا دینے والی روشنی اس کی آنکھوں کو گھیر لے، زندگی کی رمق اور نبض حیات پر اسے کنٹرول لگنے لگے، اسے یہ بھی باور کرایا جائے کہ اب زمین کی سطح اس کے پیروں کی محتاج ہے، آسمان کی بلندی اس کے سر کو لگتی ہے اس کے بازوؤں قوتوں کا کرنٹ دوڑتا ہے، وہ چلے تو دنیا تھم جائے، نظام عالم پر وہ قابض ہے، وہ ہاروت و ماروت سا جادو پالے، وہ مسیحائی بھی رکھ لے، کرشماتی طاقت اور بالخصوص جوانی کا جوش، گرم خون کی کاوش، تعلیم کی ہوشمند، دم گرم اور دمساز بھی پالے، اپنے ارد گرد شہرت و دولت کا انبار لگا لے، دنیا کی نعمتیں اس کے اشارے کی محتاج ہوں، اسے یہ بھی لگتا ہو کہ اب دنیا اس کے ہاتھوں کی لونڈی ہے، قرب و جوار کی بھیڑ، لوگوں کا ہجوم، اس کی ہر بات پر داد، اس کی مسکان پر چہک، اس کے انداز پر قربان اور اس کی ادا پر مر مٹنے والے ہوں، جسم کی قوت، ذہانت و ذکاوت اور صلاحیت و قابلیت کا ڈھیر ہو، اپنی مرضی سے دنیا کو جو چاہیں پیغام دیں، حسن ادا سے سب کو مسحور کردیں اور خود پر اعتماد بحال کئے بغیر نہ رہیں، اور یہ لازمی بن جاتا ہو کہ اپنی بہتر پیشکش اور اعلی انداز سے ہر کسی کو موہ لیتے ہوں، دنیا کی عمارتیں ان کے نام سے مزین ہوں، کتابوں میں ان کے چرچے ہوں، لوگ تاریخ کو بھی ان سے پہچانتے ہوں، غرض یہ کہ موجودہ دور میں جو کچھ انسانی زندگی کا اعلی ترین معیار ہو اور جسے عوام ایک بہتر زندگی سمجھتی ہو وہ سب کچھ ان کے پاس ہو تب بھی وہ خودکشی کرلے تو اسے کیا کہیں گے؟ زندگی کو ایسے موڑ پر ختم کردینا جب جینے کی توقع ہو تو اسے کس طرح تعبیر کیا جائے؟ دنیا کے سامنے صحیح و غلط کا سبق پڑھاتے ہوں مگر خود ہی زندگی کو دشمن مان کر پھانسی کے پھندے پر لٹادے تو اسے کیا کہیں گے؟*
اب ان سب پر غور کرنے کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھئے:الذين آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (رعد:٢٨) " وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی یاد سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سکون ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے، اسے دکھ سکھ میں جینے کا ہنر بتاتی ہے، زندگی کو ایک امانت اور رب کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتی ہے، اسے یہ یقین کرواتی ہے کہ اس کی زندگی رائیگاں نہیں ہے، وہ مصائب میں الجھ کر اسے ضائع نہیں کر سکتا، امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتا، دنیا فانی ہے، روشنیاں مٹ جائیں گی، چراغ بجھ جائیں گے مگر خالق و مالک کا تذکرہ باقی رہے گا، اور وہی دلوں کو تھامے رکھے گا، ذرا سوچئے! اگر کسی کے اندر یہ جذبہ ہو تو وہ کیوں کر خود کشی کر سکتا ہے، لیکن افسوس دنیا کی تیز و تند ترقی اور مصنوعی دل نے انسان کو سب کچھ دینے کے باوجود یاد الہی سے محروم کردیا، جو سب سے بڑی دولت تھی، جو مقصد اور زندگی کا لب لباب ہے، استاد گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے بہت خوب لکھا ہے: " عام طور پر مادی سہولتوں کو سکون و اطمینان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اطمینان دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ جس میں انسان کو قرار آجائے اور آگے کی لالچ باقی نہ رہے، جیسے ایک شخص کو کسی خاص شہر تک جانا ہے تو اس شہر کو پہونچنے کے بعد وہ مطمئن ہوجاتا ہے، اس سے پہلے خواہ اسے اچھے سے اچھا اور خوبصورت سے خوبصورت شہر نظر آجائے، انسان بے اطمینانی سے دوچار رہتا ہے، اور اپنی منزل پہنچنے کیلئے طبیعت مضطرب رہتی ہے، مادی چیزوں کی حرص جن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتی ہے، ان کی منزل کبھی آتی ہی نہیں، وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ پر یقین ہوتا ہے، اللہ کی یاد سے ان کے دلوں کوطمانینت حاصل ہوجاتی ہے، اگر اس نے کم دولت بھی حاصل کی تو یہ سوچ کر کہ چونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور ہم اس پر راضی ہیں، اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے__" (آسان تفسیر قرآن مجید)

✍ محمد صابر حسین ندوی ۔

پیر، 15 جون، 2020

کیوں زیاں کار بنوں....

کیوں زیاں کار بنوں.....                                      

   ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
                                    ☜ محمد طاسين ندوي
باری تعالی نے امت محمديہ کو  برپافرمایا اور یونہی نہیں چھوڑدیا بلکہ دستور حیات سے نواز کر اپنی اجتماعی معاشرتی و خانگی زندگی گزارنے کا ایسا سیلقہ وطریقہ  دیا جس کی نظیر کسی ادیان قدیمہ میں موجود نہیں پہلا قران مجید جو مکمل گائڈ لائن ہے  اور دوسرا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قران مجید کی توضیح و تشریح ہے  اسی حدیث رسول میں ان بنیادوں کا ذکر بھی فرمایا جو دین اسلام کے اصل و جڑ ہے، چنانچہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے " بني الإسلام على خمس شهادة لاإله إلاالله وأن محمد رسول الله  وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة ..."الحديث. متفق عليه
اسلام کی بنیاد پانچ عمودو ستون پر ہے ..جن میں سے سب سے پہلا اور عظیم الشان کلمہ شھادت کی گواہی ہے دوسرا عظیم شیئ نماز پنج گانہ کا قیام  اور تیسرا زکاۃ کی ادائیگی ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں جس کاحدیث رسول میں ذکر ہے چونکہ یہ تحریر زکاۃ ہی پر ہے اس لئے آئیے اس سے روشناس ہوتے ہیں

علماء لغت زکاۃ کے معنی اضافہ،پاکی،بڑھوتری اور نما کے بتائےہیں
شریعت اسلام میں زکاۃ کی تعریف ہے: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ  کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا،
زکاۃکو صدقہ بھی کہتے ہیں امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تحریر فرمایا ہے
صدقہ کو صدقہ اسلیئے کہتے ہیں کے اسکا دینے والاگویایہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں صادق ہے.معارف القرآن ۳۹۵
زکاة کی فرضیت سن ۲ ہجری میں ہوئی
جس معاشرے میں ہم سانس لیتے ہیں اس میں دو طرح کے افراد ہیں ایک صاحب ثروت اور مال و منال والا جسے شریعت کی اصطلاح میں صاحب نصاب کہتے ہیں  اور دوسرا ایسے افراد جو صاحب ثروت کے زمرہ سے خارج ہوں جسے شریعت کی اصطلاح میں۔غیر صاحب نصاب کہتے ہیں
البتہ ہر صاحب نصاب مردو زن پر زکاۃکی ادائیگی اپنے حدود قیود کے ساتھ واجب ہوگی
زکاۃ کو زکاۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے تو اس کا دل میں  مال کی محبت جاگزیں ہوجاتی ہے دل کے اس جھکاؤ اور میلان  کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے اورمال کے ساتھ اس درجہ مشغولیت و محبت  کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے مثلامال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکاۃ و صدقات کو مقرر کیا گیا ہےاس کے علاوہ زکاۃ سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکاۃ  کا نام زکاۃ رکھا گیا آیا کیا زکاۃ ہر کس و ناکس پر فرض ہے یا مخصوص افراد پر شریعت نے اس کی بھی حد بندی کی ہے ادائیگی زکاۃکے فرض ہونے کی کچھ شرائط بتائے ہیں.جو مندرجہ ذیل ہیں
1 مسلمان ہوناکافر پر زکاۃ واجب نہیں
۲۔ بالغ ہونا نابالغ پر زکاۃ فرض نہیں
۳۔ عاقل ہونامجنون و دیوانہ پر زکاۃ فرض نہیں جبکہ اسی حال میں سال گذر جائے اور کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے تو فرض ہے
٤۔ آزاد ہوناغلام پر زکاۃ نہیں اگرچہ اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو
٥۔ مال بقدرِ نصاب اس کی ملکیت میں ہونا اگر نصاب سے کم ہے تو زکاة نہیں
٦۔ پورے طور پر اس کا مالک ہونا یعنی اس پرمکمل قابض ہونا " تملیک کا پایا جانا"
۷۔ نصاب کا  قرض سے زیادہ ہونا
۸۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے زیادہ ہونا
۹۔ مال کا نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقتہً ہو یاحکماً.
۱۰۔ نصاب پر ایک پورے  سال "حولان حول " کا گذر جانا 
اگر سماج میں ایسے افراد ہوں جو ان شرائط پر اتر رہے ہوں تو ان کے اوپر واجب ہیکہ اپنے  مال میں سے اموال زکاۃ"سونا چاندی نقد پیسہ مال تجارت جانور کاایک متعیں مقدار زکاۃ نکال کر مصارف زکوٰۃ تک پہنچائیں
       اور جو لوگ اس رکن کے منکر ہیں وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس نے  دینے میں سستی وکاہلی اور بخل سے کام لیا اور اس فریضہ کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا  اس کے سلسلے میں بڑی سخت وعید ہیں اللہ رب العزت کا فرمان ہے" یَوۡمَ یُحۡمَىٰ عَلَیۡهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡ هَـٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُون َالقرآن"التوبة ۳۵
جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس دن ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغے جائیں گی اوران سے کہا جائے گا یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو.
مزید یہ کہ زکاۃ ادا نہ کرنے اور اس کی فرضیت کا انکار کرنے والوں کے لئےسب سے سنگین وعید یہ ہے کہ ایسے انسان کے اموال کو طوق کی شکل دی جائے گی اورپھر قیامت کے دن وہ طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا.چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘ آل عمران ۱۸۰
یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ نواز رکھا ہےوہ اس میں کنجوسی کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے حددرجہ بدتر ہے، عنقریب قیامت کے دن جس میں کنجوسی سے کام لیا ہے اسکاطوق پہنائے جائیں گے.
زکاۃ تو ایک ایسا امر ہے جو اپنے تمام تر شرائط و ضوابط کے ساتھ سماج کا صاحب ثروت طبقہ ہی پر واجب ہے جس پر عمل کرنا ہر کس و ناکس پر ضروری نہیں.
لیکن جہاں شریعت نے بہت چیزوں کو فرض  واجب،  سنت کے درجہ میں رکھا ہے وہیں اس پر بھی امت مسلمہ کو برانگیختہ کیا اور ابھارا "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ" آل عمران ٩٢
تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو.
مفسرین نے لکھا ہیکہ اس آیت میں بھلائی سے مراد تقوی اور فرمانبرداری ہے اور خرچ کرنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ’’ یہاں خرچ کرنے میں واجب اور نفلی تمام صدقات داخل ہیں.
امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اسے رضائے الہی کے لیے خرچ کرنے والا اس آیت کی فضیلت میں داخل ہےخواہ وہ ایک کھجورہی ہو. تفسیرخازن
کیونکہ ہمارے اموال میں شریعت نے صرف زکاۃ واجبہ ہی نہیں بلکہ اور بھی حقوق وابستہ کیا ہے جسکو صدقہ یاخیرات کہا جاتاہے
چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے وأما السائل فلاتنهر ..سوالی دست سوال اسلئے دراز کیا ہیکہ ان کا بھی ہمارے اس اموال ـ چاہے ہم صاحب ثروت ہوں یا نہ ہوں ـ میں ان کا حق اللہ نے دے رکھا ہے اسلئے ہمیں سوچنا، سمجھنا،اورغور کرناچاہئیے کہ اگر کوئی بھی سائل حاجت مند آئے مانگے تو انکی حاجت روائی ہو ان کے قلوب کو اپنے مال سے ٹھنڈا کرنے کی سعی پہیم کریں کل جب  مالک ارض و سماء کے دربا میں پیشی ہو اور ہم سے کہا جائیگا
"یہ گھڑی محـشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کا غافل عمل گر کوئی دفتر میں "
تو اگر کوئی ایسا عمل ہمارے کشکول گدائی میں ہوگا جو عنداللہ قابل عنایت و توجہ و مقبول ہو تو ان شاء اللہ ہماری کشتی گرداب سے محفوظ رہیگی .
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
اللہ ہمیں اور ہمارے معاشرے کے افراد کو دین کا ذوق ومذاق عنایت فرما تاکہ کار خیر و فلاح میں لذت و ذائقہ محسوس کریں اور اس کےثواب سے لطف اندوزہوسکیں.
      وماذلك على الله بعزیز..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
۳۰ اپریل ۲۰۲۰ ء

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...