دہکتی آگ اور جھلستی دنیا
ازقلم: محمد طاسين ندوي
ابھی ایک برس مکمل ہوئے ہی کہ دنیائے فانی نے اپنی تاریخ میں شاید ایسا منظر نہیں دیکھا .وقت گزرے، دن بیتے،ماہ و سال تمام ہوا، عیش و عشرت کے دن گئے لیکن ایک ذرۂ جو واقعی ذرہ ہے اس نے عالم انسانیت کے اوسان خطا کردیے ہزاروں ہزار برس عالم فانی کے وجود کو ہوگئے تاریخ نے عجیب و غریب قسم کا یو ٹرن لیا لیکن اس وقت جو دنیا کی پوزیشن ہمارے سامنے ہے شاید کبھی دنیا نے ایسے دن دیکھے ہوں اگر عالمی منظرنامہ پر نگاہ مرکوز کیا جائے تو سب سے پہلے ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان سے چشم پوشی نہیں کیا جاسکتا روز افزوں وبائی مرض کوروناکے مریض کا لامتناہی سلسلہ اور اس سے لقمۂ اجل و جاں بحق ہونے والوں کے لامحدود اعداو شمار نے ہمارے عقلوں کو ایسا للکارا ہے کہ ہے کوئی وحدہ لاشریک لہ کے علاوہ کہ اس سسکتی، دم توڑتی انسانیت کو اپنے سارے آزمودہ نسخے اور حربے سے بچانے کی تدبیر کرے؟ تو دل گویا ہوتا ہے نہیں،بالكل نہیں "الملك لله الأمر لله " شہنشاہیت اللہ تعالی کی ہے اور ان کا ہی حکم قابل عمل ہے وہ دھاڑنے والے شیر اور زمین پر اکڑ کر چلنے والے افراد انگشت بدنداں ہیں سارے وسائل ختم ہوتے نظر آرہے ہیں عالمگیر سطح پر اپنے مدد کی گوہار لگارہے ہیں . ہے کوئی جو ہمارے درد کا ساماں کرسکے ہمارے دفن ہوتے لاشوں، جلتے چتاؤں کی سانس روکنے کےلئے آکسیجن فراہم کرسکے تو اس دنگل میں جہاں بہت سارے ممالک اترتے ہیں ان میں سے ایک بڑا نام سعودی عرب کا بھی ہے جس نے ۸۰ میٹرک ٹن لیکوڈ آکسسیجن ہندوستان بھیجے دیے ہیں لیکن کچھ غلط عناصر نے اس انسانیت کی بقا کی فکر کرنے والے اور اس نوازش پر بھی پھبتیاں کستے نہیں رک رہے. آخر ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اسی لئے ناکہ ایک مسلم ملک نے انکے بچنے کے سامان مہیا کیا ہے تاکہ روز مرہ جو ہزاروں نفس دینا چھوڑ رہی ہے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ہندوستان میں خاص طور پر اور عالمی منظر نامہ میں عام طور پر نفسا نفسی کا عالم ہے ہندوستان کے قبرستان اور چتا جلانے کی جگہیں زبان حال سے کہ رہی ہیں اے حکمراں میں وقت میں وسعت کے باوجود تنگ پڑ رہی ہوں انسانیت کو بچانے کی فکر دامن گیر کرو اور اپنی اکڑ سے باز آؤ اگر اب بھی اس پر توجہ نہیں دی تو یاد رکھو اللہ کی پکڑ بہت ہی سخت ہے خوب کودو ,راگ الاپو لیکن ایک نہ ایک دن تابعِ فرمان ہونا پڑے گا تمہیں نہیں معلوم کے کتنی بیوبیاں بیوہ، کتنے بچے یتم ہورہے ہیں, اور کتنی دوشیزاؤں کے خواب اجڑ رہے ہیں
کچھ تو شرم کرو انسانیت کو بچانے کی فکر کرو دفن ہوتے لاش، جلتے چتاؤں سے کچھ تو عبرت لو
اور اپنے کو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار کرو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی
اس وقت پرآشوب میں بھی تمہارے پالتو کتے اپنا الو سیدھا کرنے میں سر گرداں و حیراں ہیں
انہیں مسلمان دوست نہیں، پھاڑ کھانے والے درندے سمجھ رہے ہیں ایسا اس لئے ہےکہ جس عینک سے ایسے انسانیت دشمن افراد دیکھتے ہیں ان کے عینک ہی کالے ہیں عقلوں پر دیبز قسم کے پردے پڑے ہیں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دیکھنا انکی فطرت ثانیہ ہے ایسے بدزبان اور بدگو دریدہ دہن کو حقیقت سے کیا سروکار، انہیں بس بھونکنے کی عادت ہوتی بے بھونکتے چلے جاتے ہیں چاہے نقصان پر نقصان ہوتا چلا جائے ..
قارئین کرام! ایسے دل دہلانے والے واقعات و ستم سے ایسے لوگ بالکل سبق نہیں لیتے ان کے ہوش ضرور اڑے ہوتے ہیں مگر دوسروں کی تکلیف سے انہیں راحت ملتی ہے ایسے حالات و وقت میں گفتگو اور بات چیت کورونا سے نپٹنے کی کرنے کے بجائے انگارے میں پٹرول ڈالنے کا کام کیا جارہا ہے اور حکومت وقت کو بالکل شرم نہیں آرہی کہ ایسے افراد و جماعت اور ہفوات, ہزیان بکنے والے کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ڈھکیلتے ... یہ اس لئے نہیں ہوپارہا ہے کہ دونوں ایک ہی راہ کے مسافر نظر آرہے ہیں.
اے انسانیت کی فکر کرنے والو! انسانیت کی بقاءو تحفظ کا سامان فراہم کرنے والو اپنا کام کیے جاؤ ان شاء اللہ تاریخ تجھے یاد رکھے گی اور تمہارا مرتبہ ضرور بلند ہوگا ان کا جو فرض ہے وہ جانے
لیکن ہمارا پیغام محبت جہاں تک پہنچے. ہم اپنی کو ہلکان کرنے کے بجائے باہمت اور جوانمردی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے قدم آگے بڑھاتے چلیں کامیابی اللہ ضرور مقدر فرمائے گا. ایسے نازک وقت و حالات میں کسی کے لئے تعاون کا ہاتھ بڑھانا اللہ جل جلالہ کے پاس مقتدر اور مقرب ہونے کی واضح علامت ہے
اللہ تعالی انسانیت کو اس آزمائش سے جلد نجات دے اور ہر مصائب آلام سے دور رکھے اور ہمیں کچھ ذخیرۂ آخرت کی توفیق بخش دے کیونکہ تو ہی قادر مطلق اور مختار کل ہے ..آمین .
وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین
