اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟
از قلم: محمد طاسین ندوی
آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے کا واحد پیمانہ شمار کیا جانے لگا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال اسمارٹ فون کی لی جائے اور معاشرے کے نوجوان مرد و خواتین کا طائرانہ جائزہ لیا جائے؛ اگر ہمارے ہاتھ میں بیش بہا اور جدید ترین اسمارٹ فون نہیں ہے، تو ہمیں یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ شاید ہم تہذیب و تمدن کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اور بہت ہی پسماندہ ہیں۔ یہ احساسِ کمتری اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے آلے کی قیمت کو انسان کی قدر و قیمت سمجھ لیا ہے۔
اسمارٹ فون کو جہاں آج کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل ہے اور اس کے بغیر بہت سے انتظامی و علمی کام ناممکن معلوم ہوتے ہیں، وہیں اس کے منفی پہلو بھی کم نہیں ہیں۔ فون کا صحیح یا غلط ہونا اس کی قیمت یا ورژن پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک تعمیری ذہنیت کا حامل فرد اس بات پر توجہ دے گا کہ اس آلے کا استعمال انسانی اخلاق و اقدار کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہو رہا ہے یا اسے مثبت مقاصد کے لیے برتا جا رہا ہے۔
اگر صارف پاک طینت ہے اور اسے اپنے اوقات اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، تو وہ یقیناً اس فون کو محض لہو و لعب کا ذریعہ نہیں بنائے گا، بلکہ اسے ایک مقدس علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ وہ اسمارٹ فون کے ذریعے جہاں عربی خطاطی، گرافک ڈیزائننگ اور جدید علوم کی مہارتیں حاصل کر سکتا ہے، وہیں اسے تعلیمی تحقیق اور مثبت دعوت و اصلاح کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔ ایسا شخص اسمارٹ فون کی غلاظتوں کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا اور اپنے نصب العین کی کامیابی کے لیے اس سے بہترین مدد لیتا ہے۔
اس کے برعکس، وہ افراد جنہیں اسمارٹ فون کی ایسی "لت" لگ چکی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز سے عاری ہو چکے ہیں، وہ دراصل اپنے روشن مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں ذبح کر رہے ہیں۔ جب نوجوان نسل کو یہ خبر نہ رہے کہ عقل و دماغ کے لیے بہترین غذا کیا ہے اور بدترین زہر کیا، تو پورا معاشرہ بگاڑ کی سمت چل پڑتا ہے۔ اسمارٹ فون کا بے ہنگم استعمال فرصت کے انمول لمحات کو فضولیات کی نذر کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف کیریئر متاثر ہوتا ہے بلکہ ذہنی صلاحیتیں بھی مفلوج ہو جاتی ہیں۔
آج کے نوجوان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی ہماری خادم ہے، مخدوم نہیں۔ ہمیں اپنے کیریئر اور روشن مستقبل کے لیے اسمارٹ فون کو ایک سیڑھی بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔ اللہ تعالیٰ تمام نوجوانوں کو درست سوچ سمجھ اور وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں