Mohammad Taseen Nadwi
التعليم الثانوي والعالي ..بدارالعلوم نورالإسلام نيبال المتخرج من جامعة ندوة العلماء لکناؤ ٢٠٠٤م و من الجامعة العالية العربية ٢٠٠٥م ومن الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورةمن برنامج الإعداد اللغوي ٢٠١٢م ومن كلية الشريعة عام ۲۰۱٦م وبكلية الشريعة ٢٠١٦م الوظيفة الحالية المدرس في دارالعلوم نورالإسلام نيبال منذ ٢٠١٦م
منگل، 15 ستمبر، 2026
اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب
جمعرات، 7 مئی، 2026
اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟
اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟
از قلم: محمد طاسین ندوی
آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے کا واحد پیمانہ شمار کیا جانے لگا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال اسمارٹ فون کی لی جائے اور معاشرے کے نوجوان مرد و خواتین کا طائرانہ جائزہ لیا جائے؛ اگر ہمارے ہاتھ میں بیش بہا اور جدید ترین اسمارٹ فون نہیں ہے، تو ہمیں یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ شاید ہم تہذیب و تمدن کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اور بہت ہی پسماندہ ہیں۔ یہ احساسِ کمتری اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے آلے کی قیمت کو انسان کی قدر و قیمت سمجھ لیا ہے۔
اسمارٹ فون کو جہاں آج کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل ہے اور اس کے بغیر بہت سے انتظامی و علمی کام ناممکن معلوم ہوتے ہیں، وہیں اس کے منفی پہلو بھی کم نہیں ہیں۔ فون کا صحیح یا غلط ہونا اس کی قیمت یا ورژن پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک تعمیری ذہنیت کا حامل فرد اس بات پر توجہ دے گا کہ اس آلے کا استعمال انسانی اخلاق و اقدار کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہو رہا ہے یا اسے مثبت مقاصد کے لیے برتا جا رہا ہے۔
اگر صارف پاک طینت ہے اور اسے اپنے اوقات اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، تو وہ یقیناً اس فون کو محض لہو و لعب کا ذریعہ نہیں بنائے گا، بلکہ اسے ایک مقدس علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ وہ اسمارٹ فون کے ذریعے جہاں عربی خطاطی، گرافک ڈیزائننگ اور جدید علوم کی مہارتیں حاصل کر سکتا ہے، وہیں اسے تعلیمی تحقیق اور مثبت دعوت و اصلاح کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔ ایسا شخص اسمارٹ فون کی غلاظتوں کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا اور اپنے نصب العین کی کامیابی کے لیے اس سے بہترین مدد لیتا ہے۔
اس کے برعکس، وہ افراد جنہیں اسمارٹ فون کی ایسی "لت" لگ چکی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز سے عاری ہو چکے ہیں، وہ دراصل اپنے روشن مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں ذبح کر رہے ہیں۔ جب نوجوان نسل کو یہ خبر نہ رہے کہ عقل و دماغ کے لیے بہترین غذا کیا ہے اور بدترین زہر کیا، تو پورا معاشرہ بگاڑ کی سمت چل پڑتا ہے۔ اسمارٹ فون کا بے ہنگم استعمال فرصت کے انمول لمحات کو فضولیات کی نذر کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف کیریئر متاثر ہوتا ہے بلکہ ذہنی صلاحیتیں بھی مفلوج ہو جاتی ہیں۔
آج کے نوجوان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی ہماری خادم ہے، مخدوم نہیں۔ ہمیں اپنے کیریئر اور روشن مستقبل کے لیے اسمارٹ فون کو ایک سیڑھی بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔ اللہ تعالیٰ تمام نوجوانوں کو درست سوچ سمجھ اور وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وما ذلک علی اللہ بعزیز
ہفتہ، 12 جولائی، 2025
ماں کی یاد
آج باد صبح گاہی میں کچھ ایسا لمس و سرور تھا جو ماں کےہاتھوں کے لمس و شفقت میں محسوس کیا جاتا ہے جیسے ہی آنکھیں کھلی دل نے بے اختیار کہاکاش ماں پاس ہوتیں
وہ نرم لہجہ وہ دعا بھری نگاہیں وہ بے لوث محبت۔۔۔ سب کچھ یاد آنے لگا۔
ماں تو وہ ہستی ہے جو خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو کھلاتی ہے، جو خود جاگ کر ہماری نیندوں کی حفاظت کرتی ہے
آج جب دن کی مصروفیتوں میں ایک لمحہ سکون کا آیا، تو دل کے کسی کونے میں ماں کی وہ پیار بھری آواز گونج اُٹھی بیٹا، تھک گیا ہوگا، آجا، کچھ کھا لے، کچھ دیر آرام کرلے کافی دھوپ ہے
اس برقرار زندگی میں ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں، لیکن ماں ایسی ہستی ہے جنکو نہیں بھول پاتے۔
کیونکہ ماں صرف رشتہ نہیں، ماں احساس ہے، ماں دعا ہے، ماں جنت کا دروازہ ہے۔
آج ماں کی یاد زوروں سے آئی...
کاش وہ لمحے لوٹ آئیں جب ماں پاس تھیں،
ہاتھ تھامے ہوئے، دعائیں دیتی ہوئی،
اور دنیا کی ہر پریشانی اُن کے آغوش میں آ کر ختم ہوجاتی تھی ۔
اللہ والدہ ماجدہ کے قبر کو نور سے بھر دے اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے ۔آمین یارب العالمین
جمعہ، 8 نومبر، 2024
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
*رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی*
_از قلم: محمد طاسین ندوی_
آج کا دن تاریخی لحاظ سے ہمیں ایسے سنگم پر لاکھڑا کیا ہے کہ ایک طرف فرحت انبساط و شادمانی سے اہل محلہ سرشار ہیں تو دوسری طرف نہایت رنج و الم اور حزن و ملال سے چور ...
قصہ کچھ یہ کہ آج ہماری مرکزی جامع مسجد جلپاپور ۶ کا افتتاحی اجلاس جو نہایت تزک واحتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور سالوں کی آرزو اور زمانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر آیا،
ایسی پرشکوہ اور دلکش مسجد کہ جو دیکھے واہ واہ ماشاء اللہ کہے بغیر رہ نہ سکے، ساری سہولیات سے مزین ، مرقع دیدہ زیب فرش و بہترین لائٹس خوشنما محراب نگاہوں کو خیرہ کرنے والے رنگ وروغن ، اللہ تعمیر میں شریک ہونے والے کی شرکت کو عرشِ بریں پر قبول فرمائے ..آمین
دوسری طرف غم و اندوہ اور حزن و ملال یہ کہ استاذ الاساتذہ مخدومی حضرت مولانا محمد علی ندوی رحمة الله عليه جو کہ اسی جامع مسجد کی افتتاحی تقریب میں نہایت ہی سبک رفتاری سے جاپہنچے تاکہ علماء کے مواعظ حسنہ کو سن سکیں، لیکن مالک کائنات کا منشاء کچھ اور ہی تھا مخدومی ابھی ایک گھنٹہ بھی محظوظ نہ ہوسکے کہ اللہ کا بلاوا آ دھمکا اور انہیں آغوشِ رحمت میں لے لیا... اناللہ وانا الیہ راجعون
مولانا مرحوم نہایت ہی خلیق اور متواضع سادگی پسند دنیاوی تام جھام اور نام و نمود سے میلوں دور رہنے والا ایک ولی کامل تھے ،
مرحوم دارالعلوم نورالاسلام کے سب سے قدیم و مؤقر استاذالاساتذہ سابق نائب ناظم اور مدرسة البنات تابع دارالعلوم نورالاسلام کےانچارج تھے ، اس سے بڑھ کر یہ کہ مادر علمی کے بے لوث و مخلص خادم ہمہ وقت دارالعلوم پر جان قربان کرنے کا جذبۂ صادق سے مؤجزن رہنے والے اپنی مثال آپ تھے ، دارالعلوم کی فکر ہمیشہ پیش نظر رکھنے والے اور دارالعلوم سے حقیقی محبت کرنے والے سپوت تھے ،
ایک دفعہ کا واقعہ ہے دفتر اھتمام دارالعلوم نے اگہنی کی وصولی کے لئے اساتذۂ دارالعلوم کی میٹنگ بلالی ، گفتگو شروع ہوئی تو محصلین نے یہ بات رکھی کہ ہمیں محنت کے عوض کچھ ملنا چاہیئے تو مولانا علیہ الرحمہ نے بے ساختہ یہ فرمایا کہ ایک نیا باب کھول کر دارالعلوم کو حرج میں نہ ڈالیے ...
آنجناب کا سینہ ہر طرح کی آلائش وگندگی سے پاک و صاف تھا، کسی نے اگر کچھ غلط کہہ دیا تو ایسا نہیں کہ گرہ باندھ لیں بلکہ انکی عفو صفح کی چاردر نہایت ہی دارز تھی، فوراً ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید کچھ ہوا ہی نہ ہو ، ان ہی اسباب کی وجہ موت بھی ایسی پیاری کہ سبحان اللہ، جمعہ کی پوری تیاری اور تلاوتِ قرآن باری کے بعد تقریب افتتاح مسجد میں شرکت فرمارہے ہیں دنیا کی بہترین جگہ بہتریں روح قفس عنصری سے پرواز کررہی، ایسی موت اللہ ہر فردو بشر کو میسر فرمائے آمین ۔
ماشاء اللہ مولانا نے ایک لمبی زندگی پائی اور انکی جو خواہش تھی کہ "ہماری موت ایسی ہوکہ ہم کسی کے لئے بوجھ نہ بنیں "
عرش والے نے ان کی دعا سن لی اور بہترین دن جمعہ کو اندرون مسجد اپنے پاس بلا لیا آہ!
آج بروزِ جمعہ مورخہ ۵ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ موافق ۸ نومبر ۲۰۲۴ ء کو حضرت الاستاذ جناب مولانا محمد علی ندوی سفر آخرت پر چل پڑے۔!!
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
اللہ تعالی پسماندگان کو صبر جمیل عطاء کرے اور مادر علمی جو ایک گوہر نایاب سے محروم ہوگیا اللہ اس کے خلا کو پر فرمادے اور مولانا کو اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت کرے آمین ثم آمین ۔۔!
*ان اللہ علی کل شئی قدیر*
x
اتوار، 17 دسمبر، 2023
رکھیواس تلخ نوائی میں معاف
اس دنیائےآب و گل کی عجیب کہانی ہے صبح ہورہی، شام ہورہی ہے اور عمر عزیز تمام ہورہی ہے، کوئی جارہا ہے کوئی آرہا ہے وہ سینہ کوبی کررہا ہے یہ قہقہے کی مجلس سجائے رقص و سرود میں مست و مگن ہے،
ادھر انفاس قدسیہ کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے تو ادھر سارے نام نہاد اپنے ڈیل مکمل کرنے کی تگ و دو میں حیران و سرگرداں ہیں، کبھی ہاں میں ہاں ملا کر بھی فہرست کی زینت بن رہے ہیں تو کبھی مصلحت و مفاد کی دبیز چادر سے اپنے کالے کرتوت اور ضمیر فروشی کو مکمل ڈھانپنے کی جان توڑ کد وکاوش میں جٹے ہیں، اللہ رب العزت نے اگر کسی صاحب قلب و نظر اور بصیرت کے لئے یہ کام ارزاں کردیا کہ ان کے تعاون ومساعدہ کے لئے صف بستہ ہو جائیں تو دوسرے ہم نوالہ و ہم پیالہ نے ایسا دے پٹکا کہ وہ چاروں شانے چت ہوتے نظر آئے،
*قارئین کرام:*
شش و پنج میں مبتلا نہ ہوں کہ کونسی کہانی اور کیسا افسانہ ہے جو سپرد قلم ہورہا ہےایسا بالکل نہیں ہے بلکہ فلسطینی صاحب ایمانِ کامل اور یقین غیر مضمحل کی حالت زار کو کیسے اور کس پیرائے میں قلم بیان کریں اس پر اسے سکوت طاری ہے نوک قلم جنبش میں آنے سے گریزاں ضرور ہے، لیکن دل ناداں نے اسے ایسا مہمیز کیا ہیکہ اپنی کمیاں، کمزوریاں اور کوتاہیاں کے باوجود زبان نہ کھولے تو خدشہ ہیکہ ایمان قلب سے کوچ کرجائے اور ہم ویسے ہی دینا طلب ,مفاد پرست ,کوتاہ نظر اور عجب وتکبر سے سرشار ہوکر رہ جائیں قضیۂ فلسطین ایمان و کفر کا قضیہ ہے، معرکۂ حق و باطل ہے مسلمانان عالم کے قبلۂ اول کا شرف اللہ جل جلالہ اسی سرزمین کو بخشا ہے بہتیرا انیباء عظام کی آرام گاہ، مسرئ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا شرف عظیم بھی اسی سر زمین کے نصیبے میں آیا ہے،.
چشم فلک نے دیکھا کہ آئے دن کیسے حادثات و واقعات سے ہمارے ایمانی برادران دوچار ہیں، کیسے کیسے کشنجے کسے جارہے ہیں، کیا ہماری غیر ت کو آنچ آتی ہےکہ ہم فرمان مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم *"مثل المؤمنیین في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد "* کا عکس جمیل ثابت ہوسکیں اگر ایسا نہیں چہ ماند مسلمانی؟
اسد اللہ خان غالب نے درست وبجا کہا ہے
*رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف*
*آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے*
اتنے نام نہاد مسلم حکمراں کس بل میں دم دبا کر بیٹھے ہیں کیا انہیں سانپ نے سونگھ لیا ہے کس چشمہ سے قضیہ فلسطین کو دیکھ رہے ہیں کہ انہیں معرکۂ حق و باطل محض ایک خانہ جنگی سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھ میں آرہا کہیں دلوں سے ایمان کے رخصت ہونے کا وقت تو نہیں آن پہنچا؟ہمیں بحیثیت ایک مسلمان کے عالمی اور آفاقی فکر کا حامل ہونا چاہیے اور ہمیں اللہ سے اسکی توفیق مانگنی چاہئیے کہ اے اللہ رب العزت ہمارے خانہ دل میں جو بت پروان چڑھ رہا اسے ہمارے تابع فرمان کر دے تاکہ یوم الحساب آپ کی گرفت سے ہمیں نجات مل سکے اگر ایسا نہ ہوا تو کہیِں اللہ کی ذات اس ہولناک، پیپ و خون سے لبالب کھائی میں منھ کے بل گھسیٹ کر نہ ڈال دے جو نہایت ہی باعث ننگ و عار ہو ،، اللہ ولي التوفیق
منگل، 5 دسمبر، 2023
جمعہ، 1 ستمبر، 2023
ماہ صفرنحوست سے پاک
ماہ صفرالمظفر نحوست سے پاک
از قلم: محمد طاسین ندوی
ماہ صفر المظفر میں ہماری زندگی رواں دواں ہے اسلامی کلینڈر کے مطابق اس ماہ کو اسلامی مہینوں میں دوسرا مقام حاصل ہے یہ ایک مہتم بالشان مہینہ ہے لیکن جہالت کے زمانہ میں اس زمانے کو بدشگونی و بدفالی کے لئے خاص کرلیا گیا تھا جہالت کی چادر تلے اس دور میں بھی جو اپنی زندگیاں تمام کررہے ہیں وہ ان جاہلین سے کچھ کم نہیں وہ بھی بلائیں اور مصائب وآلام سے پر ماہ ماہ صفر کو گرداننے میں پیچھے نہیں جبکہ فرمان نبوی اس گمراہ کن افکارو نظریات کی تردید یوں کرتا ہے .
عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللہُ عنہ قال:قال النبيُّ ﷺ :”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ" حضرت امام بخاری نے اپنی جامع میں نقل کیا کہ مرض متعدی نہیں مگر اللہ کے حکم سے ماہ صفر بالکل منحوسیت سے پاک اور کسی پرندہ سے فال بد اور بدشگونی سراسر جہالت پر مبنی عمل ہے
حدیث بالا سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کے ہم جس اوھام و خرافات کے دلدل میں پھنسے ہیں اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں اور دین اسلام میں اس طرح کے باطل عقائد ونظریات کی رتی برابر گنجائش نہیں .
قارئین کرام!
ماہ صفر کے تعلق سے بے شمار توھمات و موضوع اور من گڑھت باتیں ہمارے معاشرے میں زباں زد خاص و عام ہے جس کا کوئی ثبوت ودلیل موجود نہیں ایسے موقع سے ہمیں اپنے علماء اور ائمہ سے رابطہ کرکہ اس کی حقیقت سے روسناش ہونے کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئیے تاکہ ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل میں پھنسنے سے بچانے کی فکر کر سکیں اور جو اس رو میں بہے جارہے ہیں ان کو راہ راست پر لانےکی سعئ پیہم کرکہ پکا سچا مؤمن بنانے کی جتن کرسکیں جو ہمارے وجود کا اولین مقصد ہے اور تعاون على البر والتقوي بھی ہے
فرمان باری تعالی ہے" کنتم خیر امة أخرجت للناس " اور "تعاونوا علی البر والتقوی " ان نصوص سے ہمیں یہی آگاہ کیا جارہا ہیکہ ہم اصول خداوندی پر رہکر اپنی زندگی کی صبح و شام کریں اور اپنے گردونواح کا بھی جائزہ لیں کہ ہماری قوم کہاں جارہی ہے تاکہ تعاون علی البر والتقوی اور خیر امت کا خطاب ہم پر منطبق ہوسکے
دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی اس کار خیر کا زریں موقع عنایت کرے. آمین
وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین
ہفتہ، 11 فروری، 2023
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے
روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے
از قلم: محمد طاسین ندوی
جب سے انسان کو اللہ تعالی نے وجود بخشا، اسی وقت سے انسان مختلف انواع و اقسام کے قدرتی آفات و آزمائش سے دوچار ہوتا چلا آیا ہے، جسکی وجہ سے کبھی جانی نقصانات تو کبھی مالی، کبھی املاک تباہ اور انفاس بھی ہلاک و برباد ہوئے گو ہر طرح کی آزمائش سے حضرت انسان دوچار ہورہے ہیں، اور یہ سلسلہ روز قیامت تک دراز رہیگا، لیکن غور طلب امر یہ ہیکہ ایسے حالات کیوں بن پڑتے ہیں؟ تو سائنسداں حضرات اپنے نقطۂ نظر سے دنیا والوں بتاتے ہیں ، دانشوران اپنے اعتبارسے ، اور علماء اسلام آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر جنش قلم دیتے ہیں اور لوگوں کو اسی کی ہولناکی اور تباہی کے اسباب سے آگاہ کرتے ہیں. *قارئین عظام!* اسلام ایک منظم و مستحکم ہمہ جہت انقلاب کے ساتھ ساتھ دین کامل بھی ہے، دین اسلام میں ہر چیز کی خبر دی گئی اور ہر معمولی اور غیر معمولی اشیاء کو نہایت خوش اسلوبی اور عمدگی کے ساتھ دنیا والوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے، چنانچہ فرمان نبوی ہے *"لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ" رواہ البخاری* قرب قیامت علم اٹھالیا جائیگا، زلزلوں کا دور دورہ ہوگا، نوع بنوع کے فتنے فساد جنم لیں گے۔ آج اگر ہم اپنے گرد نواح کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ اسرار کھل جائیں گے کہ ہم مدعیان دین و ایمان کہاں ہیں؟ کیا ہمارا سماج ،ہماری سوسائٹی، ہم اور ہمارے اعزاء واقرباء قرآن و سنت کی پاسدار کررہے ہیں؟ یقینا ہچکچاتے ہوئے جواب یہ دیا جائیگا کہ ہمارے اندر بہت ساری کمیاں ہیں، اگر ان کمییوں کو ہم نے مزید فروغ دیا تو اللہ زمین میں دھنسا دیگا، پھر ورز محشر اٹھائے گا اور نیکو کار کو نیکوں کے ساتھ کھڑا کریگا، اور بدکار کو بدوں کے ساتھ، حالیہ واقعات کے پس منظر میں ذرا غور تو کریں کہ شام و ترکی جو اسوقت زلزلہ کے ستم ظریفی سے دوچار ہے، اور بیس ہزار سے زائد جانیں جا چکی ہیں، خدشہ ہنوز باقی ہیکہ ہو نہ ہو ملبے تلے اور بھی جانیں دبی ہونگی ، وہ فلک بوس عمارتیں پلک چھپکتے ہی آن کے آن میں زمیں بوس ہوگئیں، عیش و عشرت میں مست و مگن لوگ اس بات کو سوچنے سے قاصر ہونگے کہ ارے یہ کیا ہوگیا ...؟ ابھی تو ابتداء عشق ہے انجام تو اللہ کو معلوم ہے کہ کیا ہونا ہے؟ اس ایک جھٹکا سے اللہ نے ہمیں متنبہ کیا ہے تاکہ ہم مدعیان اسلام کو سنبھلنے کا موقع مل جائے اور یہ صداء بازگشت گونجے کہ اے امت محمدیہ ہوش کا ناخن لو اپنے انجام سے بے خبر نہ رہو، اپنے مالک کو یاد کرو اور یہ بھول جاؤ کہ اللہ کے سامنے کوئی سائنس اور کسی بھی طرح کی ٹکنالوجی ٹک سکتی، سارا سسٹم فیل سارا نظام درہم برہم، اگر کرنے والا کوئی ہے تو وہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات عالی صفات ہے اب بھی موقع ہے سنبھل جاؤ، اگر نہ سنبھلے تو اپنے کو ہولناکی اور تباہی سے دوچار ہونے کے لئے مستعد وتیار رکھو *قارئین محترم !* ابھی ہم سبہوں نے دیکھا کہ کیسے پیر و نوجوان مرد و زن بچے و بچیاں اس تباہ کن زلزلہ کے زد میں آکر اپنے جان کی بازی ہار گئے ہیں، کتنے املاک تباہ وبرباد ہوئے ہیں، جن کے یہاں پیسے کاانبار تھا وہ بھی ایک بالشت کے پیٹ کو بھرنے اور تن بدن کو چھپانے سے یکسر قاصر ہیں، اس لئے ابھی ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اور انسانی حقوق کے علمبردارن سامنے آئیں، اور ترکی و شام کے برادرن کے لئے ید تعاون دراز کریں، اسلئے کہ فرمان نبوی ہے *"ومن فرج عن مسلم كربة، فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة"* جس نے صاحب ایمان و اسلام کے الم و مصیبت کو دور کرنے کی تگ ودو کیا، اللہ تعالی روزقیامت اس کے عوض انکی مصیبت و الام کو دور فرمائیگا .... اور ارشاد باری تعالی ہے *" وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون "* خیر کے کاموں کو گلے لگاؤ شاید تم سب کامیاب ہوسکو، ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ جس کے خاندان و گھر اجڑ گئے ہم ان کے دردو غم میں شریک ہوکر انکے درد کا درماں بنیں. کسی شاعر نے کیا خوبصورت عکاسی کیاہے
اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے میری دعا ہیکہ جو لوگ جاں بحق ہوئے اللہ انہیں اعلی علیین میں جگہ دے، اور لواحقین کو صبر و تحمل سے نوازے ........*(آمین ثم آمین)*
اتوار، 30 اکتوبر، 2022
ملک نیپال اور ہندوستانی زرخرید
![]() |
| نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو |
ملک نیپال اور ہندوستانی زرخرید میڈیا
تحریر: محمد طاسین ندوی
ملک نیپال جغرافی اعتبار سے ایسے محل وقوع پر ہے جس کے سہ جہات ہندوستانی جیسا عظیم ملک ہے جہاں آئے دن رنگ و نسل ذات و پات ،چھوت چھات ، مار کاٹ اور لنچنگ جیسے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں، جو ہندوستانی میڈیا کا عمدہ اور بہتر خوراک ہے
ایسا اسلئے کہ میڈیا نے اپنا اصل ھدف سے کنارہ کشی اختیار کر پٹرول میں زہر ڈالنے کا کام بحسن خوبی انجام دے رہا یہ اس لئے کہ ہندوستان کی اکثر میڈیائی نظام BJP اور RSS اور وشو ہندوپریشد کا زر خرید غلام ہے وہ جو چاہے اس سے ہیڈ لائن تیار کروالے جہاں چاہے زہر افشانی کروالے -جبکہ یہ کام بالکل غیر مناسب اور غیر انسانی ہے - ابھی حالیہ دنوں میں اس زہریلے موالیوں کی ایک ٹولی جو وطن نیپال میں کسی طرح اپنے پاؤں پسارنے کی بھر پور کوشش میں کوشاں ہے ضلع مہوتری کے ایک گاؤں کی مسجد اور دیگر مسلمان ہم وطنوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے میں کامیاب اس طور پر رہا کہ کسی کے گھربار کو نقصان پہنچایا تو کسی کی گاڑیوں کو نذر آتش کرتے نظر آئے اور یہ سب کے سب ہندو سمراٹ نامی سنگٹھن کے جھنڈے تلے بل کھاتے اتراتے اکڑتے سنگ بازی کرتے نعرے دلخراش و جاں گسل لگاتے نظر آئے جس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وطن عزیر تو فقط ان مافیاؤں اور ماوالیوں کا ہے جبکہ اس وطن کے پوروج کے کہا تھا کہ ہمارا ملک نیپال ایک حسین وجمیل باغ کے مانند ہے جس میں انواع و اقسام اور نوع بنوع کے پھول کھلتے ہیں اورباغ وگارڈن کی رعنائی اور جمال تو اس کے اندر ہونے والے متعدد النوع گلاب و بیلا یاسمین و چمبیلی و نسترن کی وجہ سے ہی پائی جاتی ہے اس کی رعنائی اور دلکشی کو محفوظ رکھنے کی ہمہ جہت کوشش کریں
قارئیں کرام.
ہم مواطن باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے ساتھ وطن عزیز میں اپنی زندگی کی صبح شام کررہے ہیں یہ باتیں کچھ شتر بے مہارسنگٹھن و میڈیا کو سوفیصد ناگوار گزرہی اور اسکی یہ پلید خواہش کہ جس طرح ہندوستان کو آپسی تنازع و اختلافات و انتشار کا اکھاڑا بنادیا ہے جہاں پر حق گوئی جرم عظیم کے مترادف ہے اسی طرح نیپال کے عوام کو آپس میں دست و گریبان کردیا جائے تاکہ اس ہوس پرست تنظیمات اور گودی اور خبیث ہندوستانی میڈیا اپنے ہوس پوری کرنے میِ کامیاب ہوسکے ممکن ہیکہ قارئین نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہندوسانی درشن tv کے اینکر نے کیا ہفوات اور بکواس کیا ہے مسلمانان نیپال کو ہائی لائٹ کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں ذرا میں دریغ نہیں کیا مسلمانوں اور مولاناؤں کے بارے میں کیا نہیں کہا بلکہ اس باطل پرست نے یہ بھی کہا کہ نیپالی مسلم آیوگ کے سربراہ نے تو ملک نیپال جو ایک ہندو ملک تھا اسے اسلامک اسٹیڈ بنانے کی بھر پور کوشش میں ہے. جبکہ ایسا کچھ نہیِں ہے معاملہ کو ختم کرے اور اس طرح کے واقعات نہ دوہرانے جانے کی اپیل کی گئی ہے ہندوستانی میڈیا اور ہندوستانی ہندوتوا کی یہ انتھک کوشش ہیکہ نیپال کو دوبارہ سے ایسے غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرے جس طرح جمہوریت پہلے کے ایام تھے
ہم مسلمانان نیپال پر ایسے پر آشوب کو پر فتن موقع سے جند ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں جو کو انجام دینا ہمارا فرض منصبی ہے
ایسے نفرتی اور ہفوات بکنے والے لوگوں کے باتوں کو ریورٹ کیا جائے تاکہ اس کی اکڑ ونفرت دفن ہو
ہم اس سے نپٹنے کے لئے ایسے لائحہ عمل تیار کریِں جو ہمارے لئے ممدو معاون ہو
ہمیں چاہئیے کہ ہم ایسے ہندوستانی ٹیلی ویزن کے خلاف ہندوستانی ایمبیسی کو گیاپن پتر دیں جو ہمارے وطن عزیز کے مان مریادہ کو داغدار کرنے کوشش میں ہے
ہندوسٹانی چیلنز کا بائیکاٹ کریں
اگر کہیں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجائے sp dm اور جو بھی اسطرح کے رہنماہ و نمائندہ ہیں اس سے مل کر اظہار خیال کریں اور جبر و تشدد کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں اور کٹھور سے کٹھور سزا کامطالبہ کریں کیوں کہ اس ملک نیپال ہم وطنوں کا حقوق یکساں ہیں ، اللہ سے دعا ہے کہ شرپسند عناصر کےشرور وفتن سے ملک نیپال کی حفاظت فرمائے ـ
منگل، 11 اکتوبر، 2022
نام محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
اتوار، 9 اکتوبر، 2022
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
ازقلم: محمد طاسین ندوی
شعرو سخن بھی عجیب شئی ہے زیر نظر مصرعہ شاعر مشرق کی ایک ایسی نظم کا ہے جسمیں شاعر اسلام نےہسپانیہ کی سرزمین اور بالخصوص قرطبہ میں سپرد کیا اور اس کی تاریخی حقائق اور پہلو کو خاطر خواہ اجاگر کرنے کی کوشش کیا ہے اور بہترین و عمدہ اصول کی یاد دہانی بھی کی ہے کہ ہم بندۂ مؤمن جب ایک دوسرے سے مخاطب ہوں تو ہمارا طرز گفت و شنید کیسا ہو ایا ہم بالکل عبوسا قمطریرا بن جائیں یا خوفناک و ہولناک نظر آنے لگیں یا ہمارے گفتار دلنیش، شیریں، دلپذیر اور سوز گذاز سے لبریز ہو تو علامہ اقبال نے اشارہ کیا کہ
جب آپس میں کوئی ایسا امر رونماہوجائے جس سے بظاہر بات بگڑتی نظر آرہی ہو تو ہمارے چہروں کے ملاحت ختم نہ ہو بلکہ ہم مزید خوش اسلوبی اور خوش خوئی کا مظہر نظر آنے لگیں تاکہ سامنے کھڑا دندناتا ہوا فرد ہمارےاس معززانہ اسلوبِ گفتار اور دلنشیں انداز سے ہمارے دام محبت میں جاگرے اور ہمیں انہیں رام کرنے اور گرویدہ بنانے میں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے، ایک مومن دوسرےمومن کے لہجہ مکالمہ سے ایسا گرویدہ ہوجائے کہ شفقت و محبت کی مثال بن کر عالم افق پر چمکے اور حق و سچ کی تلاش و جستجو میں نہایت ہی سر گرمی اور بہتر و ٹھوس اسلوب کا مظاہرہ کرے یہ صرف اپنوں تک محدود نہ رہے بلکہ اغیار سے بھی خندہ پیشانی سے ملیں پاک دلی اور پاک طینتی سے کام لیں چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ " لا تحقرنَّ من المعروف شيئًا، ولو أن تلقى أخاك بوجه طَلْق " معرف اشياء کو حقارت بھری نگاہ سے مت دیکھو اور اگر تم اپنے بھائی سے ملو تو خندہ پیشانی سے ملوجبین نیاز خم کردو .
شاعر مشرق نے ان باتوں کو اپنے اشعار میں نہایت ہی دلپذیراسلوب میں بیان فرمایا؛
نرم دم گفتگو گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز.
جب مسلمان اپنوں سےبات کرے یا غیروں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کرے، سننے والے کومحسوس ہوکہ ان کے منھ پھول جھڑرہے ہیں اللہ تعالی نے حضرت موسی و ہارون علیھماالسلام کو جب فرعون کےپاس بھیجا تو نرمی سے بات کرنے کاحکم دیاچنانچہ ارشاد باری تعالی ہے
"فَقُولا لَهُ قَوْلا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى" سورة طــه ۴۴
"اے موسی و ہارون آپ دونوں فرعون کے پاس جاکر اس سےنرمی سےبات کریں ،شایدوہ نصیحت قبول کرے یاڈر جائے"
دوسرے مقام پر باری تعالی اپنے بندوں کے بارے میں یوں ارشادفرمایا "
وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا" الفرقان ۶۳
اوررحمن کے بندے وہ جو زمین پر آہستہ نرم اندز سے قدم رکھتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تووہ سلامتی کی بات کرتے ہیں "
آیت مذکورہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بدکلامی اور سب و شتم کاجواب برے الفاظ میں دینے کےبجائے شریفانہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ جواب دیا جائے.
اللہ سے دعا ہے ہمیں نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو والی صفات سے متصف فرمادے جو عین دستور حیات کے مطابق ہے ـ آمین یارب العالمین
بدھ، 5 اکتوبر، 2022
ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟
ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟
از قلم: محـــمد طاســین ندوی
دین اسلام ایک مستحکم و مکمل دین ہے جس میں کوئی شئی حقیر نہیں ہر شئی کا مقام و مرتبہ اس کی افادیت و اہمیت کے تناظر میں ملحوظ رکھا گیا ہے تن بدن کی صفائی سے لیکر سیم و زر کی پاکی و صفائی بھی اس میں شامل ہے جسے کبھی زکاة توکبھ صدقات يا خيرات کے نام سے مسموم کیا جاتا رہا ہے کبھی زکاة وصدقات واجبی ہوتے ہیں تو کبھی نفلی و تطوعی صدقات و زکاة کی اہمیت وافاديت کو نبی آخر الزماں نے جا بجا اس انداز میں اجاگر کیا ہے فرمایا: " صدقة السر تطفئ غضب الرب "
بالکل خاموشی اور بلااعلان صدقہ کرنا اللہ کے غیض وغضب کو ماند کرتا ہے، کہیں فرمایا: الصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار " صدقه و خيرات گناہ کو ایسے ہی ختم کردیتا جیساکہ آگ کو پانی ختم کردیتا ہے ،
اور کہیں فرمایا:" إذا اديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك " اگر تم نے اپنے مال كی زکاة ادا کر دیا تو تم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے اور بھی اس طرح کی بہت سی احادیث ہیں جو ہم مسلمانان عالم سے یہ تقاضہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے مال کو صاف شفاف کریں، اس کا میل کچیل بشکل صدقہ و زکاة اس طرح نکال باہر کریں اور اس طرحچمچماتا ہوا بنادیں کہ سو فیصد حلال ہوجائے .
قارئین کرام! ہم انسان دو صفتوں سے متصف ہیں، پہلی فرشتوں جیسے ستودہ صفات اور دوسری جو بالکل پہلی کا عکس شیطانی صفات ہیں اگر ملکیت غالب ہوجائے تو نفس خیر، بھلائی،فلاحی، رفاہی کاموں کی تلقین کرتا ہے اور اگر شیطنت غالب ہوتو ہم فرائض و ارکان ،وجوب سے بھی منھ موڑ لیتے ہیں اور یکسر اس امر کو بھولا دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ہمارے اوپر جو احسانات و انعامات فرمایا ہے انکے تقاضے کیا ہیں اتنا ہی نہیں ہم میں جو اثریا و اغنیاء طبقہ ہے وہ تو زکاة و خيرات کی اشیاء محصلین اور حاجت مندوں کو دیکر یہ زعم باطل میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہم نے سائل یا محصل پر احسان کیا.
اے امت مسلمہ کے غیور لوگوں اس بات کو یاد رکھئیے کہ جس اللہ تعالی نے آپ کو اس عظیم الشان و بیش بہا اشیاء سے سرفراز کیا ہے کیا بعید ہیکہ یک لخت بھسم کردے اور آپ بھی اسی زمرے میں آجائیں جو آپ کے سامنے دست سوال دراز کررہا ہے کل کو کس نے دیکھا ہے کہ کل ہماری استطاعت و پوزیشن کیسی اور کس حال میں ہوگی، مفلوک الحال ، بے بس ولاچار، مجبور و گداگر کچھ بھی ہوسکتے ہیں
ابھی وقت ہے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ اندوزی کا اپنی گردن کو بلند کروانے کا یہ دنیا توچند دن کی ہے اور
آخرت تو سرمدی اور ابدی ہے ـ حیات اخروی کوجلابخشیں اور بہترین
عمدہ سے عمدہ بنانے اور سنوارنے کے لئے اس دار فانی میں کچھ خیر کا کام کرجائیں اور اس اعمال خیر صدقہ و زکاة کے مصرف کو ملحوظ خاطر رکھیں ایسا نہ ہو کہ جو مستحق ہو اس کو نہ مل سکے اور جو غیر مستحق ہو وہ زکاة وصدقات سے موج اڑاے اور ڈنڈ پیلے زکاة و صدقات تقسیم کرنے والوں پر یہ ذمہ داریاں عائد ہوتیں ہیں
کہ اپنے مستحقین اعزہ و اقارب کو ترجیح دیا جائے اپنے صدقات یتیموں ،بیواؤں اورحاجت مندوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے دور حاضر میں خوب بحث تحقیق کے بعد ہی زکاة و صدقات كسی محصلین کے حوالے کئے جائیں
ایسا اس لئے کہ دھوکا فریب حرام و حلال پر عدم توجہی عام بیمار ہوتی نظر آرہی ہے ہمیں چاہئیے کہ ہم ذخیرۂ آخرت کے لئے نیک کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے والےبنیں تاکہ
ہماری زنبیل گدائی نیکیوں سےلبریز ہوں اور فرشتے یہ سوال کرنے سے گریز کرے کہ کیا ساتھ لایا ہے
شاعر نے اس کی کیا عمدہ تصویر کشی کی ہے
اس دنیاۓ فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے
برسوں کے جو رشتے تھے سبھی توڑ گیا ہے
ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟
اور فکر عزیزوں کو ہے کیا چھوڑ گیا ہے
اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مرضیات پر چلنے اور ہمیں صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق بخشےتاکہ اخروی زندگی میں ہماری کامیاب و کامرنی یقینی ہو سکے
آمین یاربنا الرحمن المستعان
منگل، 4 اکتوبر، 2022
ہمیں کچھ خبر بھی ہے؟
پیر، 3 اکتوبر، 2022
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
منگل، 23 اگست، 2022
عہــد رفتہ کی آواز سننا
عہد رفتہ کی آواز سننا
از: محمد طاسین ندوی
اس نیل گگن تلے بود وباش کرنے والے آدم زادے ، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس عمارت و پہاڑ ، دامن پہاڑ میں چہچہاتے پرند اور تلاش معاش میں سرگرداں چوپائے جسے دیکھ کر فہم و فراست کا پیکر یہ غور کرنے پر یقینا آمادہ ہوتا ہیکہ اس جہان فانی کا ہے کوئی خالق و موجد لیکن نفس عیار کو بھیس بدلتے ذرا دیر نہیں لگتی ان کےاوپر اتنی دبیز چادر تنی ہیکہ کے کفر و شرک کی بھی تمیز جاتی نظر آرہی ایسا اس لئے کے دارالبقاء اور دارالقرار کو یکسر بھول جانا اور دنيا دنی کے چکر میں اپنی اصلیت کو کھودینا، جس کاز و مہم کے لئے تخلیق فرمائی گئی اس سے سرگرداں ہونا پہلو تہی کرنا.
ائیے ذرا غور کرتے ہیں اس فرمان باری تعالی پر " إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا"نساء ١١٦
باری تعالی نے وضاحت فرمادی کچھ گناہ و بغاوت انکی مشیت سے یک لخت ختم لیکن ان کی ذات و صفات خاصہ میں کسی طرح کی کوئی آمیزیش پائی گئی تو لاکھ سر پٹخاجائے حاصل صفر کیونکہ اسے رب العزت نے ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے، ظالم و جابر کو اللہ تعالی بالکل برداشت نہیں فرماتا ،.
قارئین عظام! اس مضبوط ومستحکم اصول کے تناظر میں اگر ہم اپنا اور اپنے معاشرہ و مجتمع کا جائزہ لیں ،غور کریں تو یہ عیاں ہوگا کہ کچھ ایسے لوگ بھی رہتے بستے ہیں جنہیں اس کا مطلق علم نہیں کہ وہ مشرکین قدامی کے راہ پر گامزن ہیں اور انہیں اسکا احساس تک نہیں ایسی صورتحال میں علماء اسلام کی ذمہ داریاں دو گنی ہوجاتی ہیں لیکن ہم بھی اس دنیاء فانی کے ٹیپ ٹاپ اور تام جھام میں ایسے گم ہوئے جارہے کہ عمر رفتہ کی ساری باتیں عجیب محسوس ہورہی ہیں- پناہ خدا- جبکہ ہمیں عہد رفتہ و عمر رفتہ کی پکار پر لبیک کہنا چاہئیے تھا
آئییے اللہ تبارک وتعالی سے تجدید عہد کریں اور اس عہد و معاہدہ کو حتی المقدور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی سعی پیہم کریں پھر ان شاء اللہ کچھ سکون و اطیمنان نصیب ہو
اللہ تعالی ہمیں بھی اس قیمتی نسخہ پر عمل کی توفیق بخشے اور شرک و بدعات ،خرافات و رسومات سے محفوظ فرمائے آمین قادر مطلق ہی مہربان ہے.
جمعہ، 19 اگست، 2022
وہ ہونہ سکا جوسوچا تھا
وہ ہو نہ سکا جو سوچاتھا
ازقلم: محمد طاسین ندوی
بنی آدم اس جہان رنگ و بو میں آنکھیں کھولنے کہ بعد کچھ ایسے ارادے و عزائم کے بار گراں تلے دبے ہوتے ہیں کہ اگر نکلنا چاہے تو نکلنا مشکل ہر طرح کی تگ ودو کہ بعد باری تعالی کے حضور اپنی ساری بازی ہارجاتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو خالق کائنات ہی تو قادر مطلق وذات عالی صفات ہے جس کے سامنے بڑے دقاق و ماہر علماء اور دانشوران سب حقیر کسی کی کوئی نہ حیثیت اور نہ ہی اوقات کے اپنے بارے میں بھی کوئی حتمی بات کرسکے ان ساری باتوں سے واقفیت کے بعد بھی ہم حضرت انسان کھار دار وادی میں آبلہ پا ہورہے ہیں اور ذرا بھی ہوش کا ناخن نہیں لیتے کہ ہم کس لئے برپا کئے گئے تھے کہا ہمارا منشود و ہدف تھا اور کس طرف ہم بہے جارہے ہیں اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو یقینا یہ صدائے بازگشت زبان قال سے نہیں تو زبان حال سے ہی سہی سنائی دے گئی وہ ہو نہ سکا جو سوچا تھا.
قارئین کرام!
ہماری عمریں رفتہ رفتہ سفر آخرت کی طرف رواں دواں ہیں ہمیں یہ نہیں معلوم کے کب کاتب اجل کا بلوا آئے اور ہم آخرت سدھار جائیں اسی لئے ہم بندگان خدا کو یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے اور دنیا سے زیادہ آخرت کو سنوارنے کی فکر دامنگیر کرلینا چاہئیے کہ ہمارے اعمال کیا ہیں اگر درست و موافقِ کتاب سنت ہیں تو ہمارے وارے نیارے، ہاں اگر شریعت سے روگردانی ہماری فطرت ثانیہ ہے تو ہم اپنی خیر منائیں یا پر توبہ، استغفار اور انابت الی اللہ کے لئے اپنے قدم کو بڑھائیں کیونکہ فرمان رسول اللہ ہے "التائب من الذنب کمن لاذنب لہ "
گناہوں سے تائب ہوجانے والا ایسا ہے جیسا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو
اے علمبرداران توحید ومدعیان اسلام ہم اپنی انکھیں کھولیں اور اپنا محاسبہ کریں اور جائزہ لیں کہ کیا کھویا اور کیا پایا قبل اس کے کہ باری تعالی کے سامنے ہماری حاضری ہو اور ہم نادم و پشیمان ہوں جب کہ اس وقت کی ندامت سے کوئی فائدہ نہیں.
تعلیمات نبوی کو اپنا حرز جاں بنائیں کتاب و سنت کو اپنا آئیڈیل و نمونہ بنائیں اور اپنا محاسبہ ازخود کریں پھر دیکھیں کہ کیا لطف ہے زندگی جینے میں ..وماذلك على الله بعزيز.
منگل، 10 اگست، 2021
سال نو اور ہم امت مسلمہ
اتوار، 30 مئی، 2021
مسلمانان نیپال اور ان کی ذمہ داریاں
موضوع: مسلمانان نیپال اور ان کی ذمہ داریاں
تحریر: حضرت الاستاذ محمد طاسین الندوی
بآواز: محمد عمران نیپالی
(خود بھی سماعت فرمائیں اور دوسروں تک بھی شیئر کریں)
مزید اسی طرح علماء کرام کی دینی و اصلاحی مضامین و مقالات،حمد و نعت نظم، اور مؤقر علماء کرام کی بیانات سننے اور دیکھنے کے لئے ہمارا یوٹیوب چینل MD Imran Nepali Official کو ضرور سبسکرائب فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ، (اشکرالله تعالیٰ شکراً عظیما وأشکرکم)
PLZ SUBSCRIBE OUR CHANNEL MD IMRAN NEPALI OFFICIAL, AND PRESS BELL ICON ,
LIKE AND COMMENTS THE VIDEO CLIPS AND SHARE,. ( THANKS FOR YOU SO MUCH 💘)
https://youtu.be/CaqjIzN-OpU
پیر، 17 مئی، 2021
یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ تجھے
یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ تجھے
ازقلم محمد طاسین
اس نیل گوں آسمان تلے جتنے بھی مخلوقات نظر آرہے ہیں ان سب کو فنا ہونا ہے اور ہمیشہ رہنے والی ذات اگر کوئی ہے تو اللہ جل جلالہ وعم نوالہ کی ہے کیونکہ ان کی ذات ابدی ہے لم یزل ولایزال حیی قیوم ہے کبھی ختم ہونے والی نہیں پورے کائنات کا نظام ان کے ہی زیر نگوں ہے موت و حیات کا مالک کل ہے جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا جلاتا ہے لیل ونہارکی گردش ان کے ہی تابع فرمان ہے چنانچہ فرمان نبوی ہے "انا الدھر اقلب اللیل والنہار "کتنے رت بدلے ،آندھی اور طوفان آئے، دنیا تہ وبالا ہوئی بنی بگڑی متعدد و نوع بنوع کے مخلوقات خداوندی معرض وجود میں آئے ..اور چلے گئے کیونکہ کوچ کرنا یہ جزء لاینفک ہے دوام تو صرف اور صرف ذات وحدہ لاشریک لہ کی ذات کو ہے موت و حیات اسی کے حکم پر مأمور ہے
قارئین کرام! مورخہ ۳ شوال المکرم ۱۴۴۲ھـ بروز اتوار بوقت مغرب ایک روح فرسا خبر میرے کانوں تک پہنچی کہ استاذ گرامئ قدر جناب مولانا صدرالعالم ندوی صاحب- جو عرصۂ دراز سے بستر مرگ پر تھے اعضاء و جوارح ازکاررفتہ ہوچکے تھے -اس دار فانی سے کوچ کر گئے اوراپنے خالق حقیقی کے آغوش میں چلے گئے خبر سن کر دکھ ہوا جو انسانی صفت ہے لیکن دوسری طرف زبان سے یہ نکلا کہ اللہ نے اپنے پاس بلا لیا بہت بہتر ہوا کیونکہ مولانا علیہ الرحمہ بڑے دنوں سے صبرو ضبط ایوبی کے ساتھ بیماری برداشت کئے جارہے تھے اور ان کی شریک حیات بحسن و خوبی انکی ساری خدمات انجام دے رہی تھی لیکن دھیرے دھیرےان کے لئے بھی مولانا کی خدمت قدرت سے باہر ہوتی نظر آرہی تھی کیونکہ وہ بھی کمزور اعصاب رکھتی ہے. مولانا علیہ الرحمۃسے مجھے کئی سالوں تک کسب فیض کا موقع ملا ہدایة النحو، كليه دمنة او ر معلم الإنشاء کے اسباق مجھے مولانا سے پڑھنے کاشرف حاصل رہا نماذج من حیاة الصحابه کے بھی چند اسباق انکی رہنمائی میں مطالعہ کیا مولانا نہایت رقیق القلب تھے جب بھی کسی انبیاء، صحابہ،تابعین،صلحاء غرض یہ کہ اسلاف میں سے جنکا ذکر آتا ان کے مصائب و آلام کاتذکرہ ہوتا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں اور روتے روتے کبھی ہچکیاں بندھ جاتی اور کبھی حالت دیگرگوں ہوجاتی بہت ہی مشکل سے اپنے کو قابو کرپاتے اللہ تعالی نے اتنا نرم دل اور نرم خو بنایا تھا لیکن اسوقت ہمارا لڑکپن یہ کہ ہم اس ولی اللہ کے دوررسی اور فراست سے نابلد ہونے کی وجہ سے قدر جس طرح ہونی تھی نہ کر سکے مولانا محترم نہایت ہے نیک دل خلیق ، ملنسار ، مہمانواز اور متحرک و فعال استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مربی طلبہ سے حد درجہ محبت کرنے والا اخلاق عالیہ، مستحکم اصول ،بلند عزائم و حوصلہ کے مالک تھے اللہ تعالی نے مولانا کو انہیں چنیدہ صفات و خوبیوں کی بنیاد پر دارالعلوم نورالاسلام کے ذمہ داران نے اہتمام کی کرسی بھی سونپی تھی ماشاء اللہ انکی مدت کارکردگی بہت عمدہ اور مثالی ثابت ہوئی.
مولانا علیہ الرحمہ بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے
"یاد کرکہ روئیں گے یاران میخانہ تجھے"
یہ چند غیر مرتب سطور راقم نے آپ کے سامنے سپرد کیا انکی زندگی کے بہت سارے پہلو باقی ہیں راقم جتنا بھی سپرد قرطاس کرے ان کا حق ادا کرنہیں سکتا
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کے یا اللہ بشری خطاؤں کو درگزر فرماکر انبیاء، شھداء، صالحین کے زمرے میں شامل فرمادے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام دے آمین یارب العالمین
ہفتہ، 15 مئی، 2021
اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے
اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے
ازقلم: محمد طاسین ندوی
اس کرۂ ارضی پر جتنے بھی ذی روح رہتےبستے ہیں سب کو ایک دن لقمۂ اجل ہونا ہے اور یہی نظام الہی ہے اور تاقیامت یہ نظام جاری وساری رہیگا لیکن کچھ ایسے افراد امت جو گمنام ہوکر بھی بہت ہی نامور اور معروف ہوتے ہیں اور انکی ناموری سے امت مسلمہ کا ایک خاص گروہ اور طبقہ واقف ہوتا ہے اور انکی زبانیں اس فرد و بشر کی رحلت کے بعد انکے ذکر اور یاد سےرطب اللسان رہتی ہیں خود کو چلے گئے لیکن انہوں نے لوگوں کے دل و دماغ پر ایسی مہر ثبت کیا ہیکہ کہ صبح و شام ان کا چرچہ اور ان ہی کا تذکرہ .اسی کی ایک کڑی ہمارے استاذ مکرم جناب مولانا عبدالقدیر ندوی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ کی اہلیہ مرحومہ تھی جو نہایت ہی خلیق. ملنسار ,ہنس مکھ کسی سے ملتی تو خندہ پیشانی اور تپاک سے میں بھی اسی محلہ کو رہنے والا ہوں جس میں مولانا محترم کا دولت کدہ ہے لیکن مجھے قطعا اس کا علم نہ تھا لیکن ان کی اہلیہ کی وفات کے بعد چند ایسے مردو خواتین سے میری گفتگو ہوئی کہ جب میں نے ان کی صفات سے آگاہ ہواتو دل سے آواز آئی اچھے افراد بہت جلد رحلت کرجاتے ہیں اور طبیعت نے آمادگی ظاہر کی کہ ان کے محاسن کو سپرد قرطاس کیا جائے کیونکہ فرمان نبوی ہے" أذكروا محاسن موتاكم " الله تعالى مرحومہ کی مغفرت فرمائے. بشر تھی کچھ نہ کچھ کمی کوتاہی ہوئی ہونگی اس سب کو دور فرماکر انبیاءو صالحین اور اتقیاء کے زمرے میں شامل کردے. آمین یارب العالمین .
قارئین کرام ! یہ تو پہلی کڑی تھی جس کا ذکر کیا گیا اب آئیے آپ کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو بہت فعال, متحرک مدرسۃ الحرمین کاٹھمنڈو کے بانی و مہتمم اور سینکڑوں لوگوں کے دل میں بسنے والے نہایت ہی بااخلاق مہمان نواز غریبوں کا بھر پور خیال رکھنے والا جناب الحاج حافظ حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے جس کے بارے میں ایک صاحب نے فون پر بتایا غریبوں کا مسیحا جاتا رہا یقین جانئیے مجھے قطعا اس کا اندازہ نہیں کہ کون کس بھیس میں کونسا کارہائے نمایاں انجام دینے کے لئے سرگرداں و کوشاں ہے ابھی بھی عیدالفطر کے لئے ضرورتمندوں اور بیواؤں کے لئے سامان عید و پوشاک کا انتظام اس بندہ خدا نے کروایا تھا
اللہ تعالی ان کو اس کا اجر جزیل عطاء فرمائے.
حافظ حسین صاحب مرحوم .مزاح پسند تھے اگر ان کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھتے تو مجلس اختتام تک ہر بھری رہا کرتی تھی .
بہر حال موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کس کو رستگاری ہے لیکن موت العالم موت العالم یہ بھی ایک حقیقت ہے
مرحوم کئی دہائیوں سے مدرسۃ الحرمین کاٹھمانڈو جس کے بانیان میں سےتھے اور اس کے اہتمام کے منصب پر فائز بھی تھے سینکڑوں نونہالان اسلام تک فیض پہنچایا جو انکے لئے صدقہ جاریہ ہیں .
بہت صبر آزما مصائب و آلام نے بھی دستک دیا جس کا اس شیر دل شاہیں صفت مرد آہن نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے وجود کو منوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑا لیکن ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیکہ موقت شئی برحق ہے اور اس کا وقت متعین
موت نے انہیں آپنے آغوش میں لے لیا ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے انمٹ نقوش ہیں کہ انسانوں کو انکے ذکر پر برانگیختہ کرتے ہیں اور ان کے تذکرے سے دل بھر جاتا ہے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور بے ساختہ دل سے یہ نکلتا ہیکہ
"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے"
اللہ حافظ حسین صاحب کےسییئات کو حسنات سے بدل دے اور جنت الفردوس نصیب فرمائے آمین.
اخیر میں سبہوں سے یہ درخواست ہے کہ حالات بہت ہی پر خطر ہیں .ہر طرف شور وگل ہے. موت ہی موت کی صدائے بازگشت کانوں سے ٹکرارہی ہے اپنوں اور پرائیوں کو دفن کررہے ہیں ہم حراساں نہ ہوں بلکہ ایسے واقعات و حالات میں ہمیں کمربستہ ہونے کی اشد ضرورت ہے اور اپنے کو سفر آخرت کے لئے تیار رکھنے کی طرف توجہ دینے کی نہ جانے اگلی باری کس کی ہو . بہت ہی پر آشوب حالات ہیں .کرونا نے وبائی شکل اختیار کرلیا ہے سینکڑوں افراد لقمۂ اجل ہورہےہیں. اب بھی ہمیں ہوش کا ناخن لینا چاہئیے
اے مالک ارض و سماء اس آزمائش و امتحان سے ہم سبہوں کو محفوظ رکھ ہم نہایت ہی کمزور ہیں تو ہی سراپا طاقت و قوت والا ہے اپنے حکم سے اس وباء کو ختم فرما سکتا ہے. اس کو ختم کردے.آمین یارب المستضعفین
جمعرات، 29 اپریل، 2021
دہکتی آگــ اور جھلستی دنیا
دہکتی آگ اور جھلستی دنیا
ازقلم: محمد طاسين ندوي
ابھی ایک برس مکمل ہوئے ہی کہ دنیائے فانی نے اپنی تاریخ میں شاید ایسا منظر نہیں دیکھا .وقت گزرے، دن بیتے،ماہ و سال تمام ہوا، عیش و عشرت کے دن گئے لیکن ایک ذرۂ جو واقعی ذرہ ہے اس نے عالم انسانیت کے اوسان خطا کردیے ہزاروں ہزار برس عالم فانی کے وجود کو ہوگئے تاریخ نے عجیب و غریب قسم کا یو ٹرن لیا لیکن اس وقت جو دنیا کی پوزیشن ہمارے سامنے ہے شاید کبھی دنیا نے ایسے دن دیکھے ہوں اگر عالمی منظرنامہ پر نگاہ مرکوز کیا جائے تو سب سے پہلے ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان سے چشم پوشی نہیں کیا جاسکتا روز افزوں وبائی مرض کوروناکے مریض کا لامتناہی سلسلہ اور اس سے لقمۂ اجل و جاں بحق ہونے والوں کے لامحدود اعداو شمار نے ہمارے عقلوں کو ایسا للکارا ہے کہ ہے کوئی وحدہ لاشریک لہ کے علاوہ کہ اس سسکتی، دم توڑتی انسانیت کو اپنے سارے آزمودہ نسخے اور حربے سے بچانے کی تدبیر کرے؟ تو دل گویا ہوتا ہے نہیں،بالكل نہیں "الملك لله الأمر لله " شہنشاہیت اللہ تعالی کی ہے اور ان کا ہی حکم قابل عمل ہے وہ دھاڑنے والے شیر اور زمین پر اکڑ کر چلنے والے افراد انگشت بدنداں ہیں سارے وسائل ختم ہوتے نظر آرہے ہیں عالمگیر سطح پر اپنے مدد کی گوہار لگارہے ہیں . ہے کوئی جو ہمارے درد کا ساماں کرسکے ہمارے دفن ہوتے لاشوں، جلتے چتاؤں کی سانس روکنے کےلئے آکسیجن فراہم کرسکے تو اس دنگل میں جہاں بہت سارے ممالک اترتے ہیں ان میں سے ایک بڑا نام سعودی عرب کا بھی ہے جس نے ۸۰ میٹرک ٹن لیکوڈ آکسسیجن ہندوستان بھیجے دیے ہیں لیکن کچھ غلط عناصر نے اس انسانیت کی بقا کی فکر کرنے والے اور اس نوازش پر بھی پھبتیاں کستے نہیں رک رہے. آخر ایسا کیوں کررہے ہیں؟ اسی لئے ناکہ ایک مسلم ملک نے انکے بچنے کے سامان مہیا کیا ہے تاکہ روز مرہ جو ہزاروں نفس دینا چھوڑ رہی ہے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ہندوستان میں خاص طور پر اور عالمی منظر نامہ میں عام طور پر نفسا نفسی کا عالم ہے ہندوستان کے قبرستان اور چتا جلانے کی جگہیں زبان حال سے کہ رہی ہیں اے حکمراں میں وقت میں وسعت کے باوجود تنگ پڑ رہی ہوں انسانیت کو بچانے کی فکر دامن گیر کرو اور اپنی اکڑ سے باز آؤ اگر اب بھی اس پر توجہ نہیں دی تو یاد رکھو اللہ کی پکڑ بہت ہی سخت ہے خوب کودو ,راگ الاپو لیکن ایک نہ ایک دن تابعِ فرمان ہونا پڑے گا تمہیں نہیں معلوم کے کتنی بیوبیاں بیوہ، کتنے بچے یتم ہورہے ہیں, اور کتنی دوشیزاؤں کے خواب اجڑ رہے ہیں
کچھ تو شرم کرو انسانیت کو بچانے کی فکر کرو دفن ہوتے لاش، جلتے چتاؤں سے کچھ تو عبرت لو
اور اپنے کو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار کرو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی
اس وقت پرآشوب میں بھی تمہارے پالتو کتے اپنا الو سیدھا کرنے میں سر گرداں و حیراں ہیں
انہیں مسلمان دوست نہیں، پھاڑ کھانے والے درندے سمجھ رہے ہیں ایسا اس لئے ہےکہ جس عینک سے ایسے انسانیت دشمن افراد دیکھتے ہیں ان کے عینک ہی کالے ہیں عقلوں پر دیبز قسم کے پردے پڑے ہیں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دیکھنا انکی فطرت ثانیہ ہے ایسے بدزبان اور بدگو دریدہ دہن کو حقیقت سے کیا سروکار، انہیں بس بھونکنے کی عادت ہوتی بے بھونکتے چلے جاتے ہیں چاہے نقصان پر نقصان ہوتا چلا جائے ..
قارئین کرام! ایسے دل دہلانے والے واقعات و ستم سے ایسے لوگ بالکل سبق نہیں لیتے ان کے ہوش ضرور اڑے ہوتے ہیں مگر دوسروں کی تکلیف سے انہیں راحت ملتی ہے ایسے حالات و وقت میں گفتگو اور بات چیت کورونا سے نپٹنے کی کرنے کے بجائے انگارے میں پٹرول ڈالنے کا کام کیا جارہا ہے اور حکومت وقت کو بالکل شرم نہیں آرہی کہ ایسے افراد و جماعت اور ہفوات, ہزیان بکنے والے کو سلاخوں کے پیچھے کیوں نہیں ڈھکیلتے ... یہ اس لئے نہیں ہوپارہا ہے کہ دونوں ایک ہی راہ کے مسافر نظر آرہے ہیں.
اے انسانیت کی فکر کرنے والو! انسانیت کی بقاءو تحفظ کا سامان فراہم کرنے والو اپنا کام کیے جاؤ ان شاء اللہ تاریخ تجھے یاد رکھے گی اور تمہارا مرتبہ ضرور بلند ہوگا ان کا جو فرض ہے وہ جانے
لیکن ہمارا پیغام محبت جہاں تک پہنچے. ہم اپنی کو ہلکان کرنے کے بجائے باہمت اور جوانمردی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے قدم آگے بڑھاتے چلیں کامیابی اللہ ضرور مقدر فرمائے گا. ایسے نازک وقت و حالات میں کسی کے لئے تعاون کا ہاتھ بڑھانا اللہ جل جلالہ کے پاس مقتدر اور مقرب ہونے کی واضح علامت ہے
اللہ تعالی انسانیت کو اس آزمائش سے جلد نجات دے اور ہر مصائب آلام سے دور رکھے اور ہمیں کچھ ذخیرۂ آخرت کی توفیق بخش دے کیونکہ تو ہی قادر مطلق اور مختار کل ہے ..آمین .
وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین
بدھ، 3 مارچ، 2021
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
ازقلم: محـــمد طاسین ندوی
دن کی روشنی ہو ہا شب دیجور انسان ہر آن ولحظہ اپنی خواہش،ہوس رانی، آرزو، تمنا،امید بَر کیسے آئے اسی چکی کے اردگرد حیران و سرگرداں نظرآتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ ہم نے اپنے صفت حیوانیت کو غالب اور ملکیت کو مغلوب کررکھا ہے ہم ہوس کے دیوی دیوتا کہ بےباک پجاری بنے اپنے معاشرہ میں بھیڑئیے کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ہمیں ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ ہماری شان تو بہت ہی بلند اور ہمارا کام تو بہت ہی اعلی وارفع تھا لیکن ہمیں تو دنیا طلبی، احسان فراموشی،ظلم و جور نے قعر مذلت میں ایسا ڈھکیلا کہ آج انسانی شکل میں شیر اور چیتا سے کم نہیں سوسائٹی برباد ہوتی چلی جارہی ہماری دوشیزائیں، نوجوان کے کرتوت و اعمال ایسےہوگئے کہ انسانیت شرمسار ہوکر اپنی ناک رگڑنے پر مجبور ہے.
ابھی گذشتہ کل کا دل دوز،جاں گسل،روح فرسا عائشہ عارف کا حادثۂ خودکشی سے ہر خاص و عام واقف ہیں کہ عائشہ کیوں عارف کی بھینٹ چڑھ گئی یقینا اسکا جواب سبہوں کے پاس ہوگا لیکن کیا ہمیں اس کے بعد بھی یہ یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ ہمارے سماج میں بے شمار عائشہ اسی لعنت جہیز کی وجہ سے زیست و موت سے نبرد آزماہیں اور ان گنت عارف نما حریص بے ضمیر سسرالی ٹکرے پر پلنے والے بھیڑیے دندناتے پھر رہے ہیں اسی وجہ سے
کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
عارف جیسے پلید کو راہ راست پر لانے کی فکر کریں یا ان جیسے حریص درندے کو انکی اوقات یاد دلانے کی ہم کوشش کریں اور ایسے ہوس کے پجاری جو سسرالی ٹکرے پر دم ہلاتے ہیں اس کی دم کو کاٹنے کی ہر ممکن کوشش ہو اس کا سماجی بائیکات کیا جائے ایسے درندوں کی فرحت وانبساط غم و اندوہ کے موقع سے بالکل اپنے کو جدا رکھے تاکہ اس پلید مشت خاکی کو اپنی اوقات کا پتہ چلے کہ کتنا نکمی اور بے یار ومددگار ہیں ہم .
قارئین کرام! یہ فقط ایک عائشہ عارف کا مسئلہ نہیں ہے ہر روز و شب کتنی دوشیزائیں جہیز کے طعنے اور تیر و تفنگ کی زد میں آکر اپنی جان کی بازی ہار رہی ہیں آئے دن اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں لیکن ہمارے سماج میں رہنے والے ناسور کو اس سے کیا لینا دینا جان جس کی جانی ہو جائے انہیں تو اپنی جیب و پیٹ کی فکر آن پڑی ہے بچیاں اپنے والدین کے گھر بن بیاہے ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں انہیں تو سونے اور نقد کتنے ملیں گے اس کی فکر پریشان کیا ہوا ہوتا ہے یہ ہمارے سماج کے لوگ بھول گئے کہ حسن ومال سے مقدم دینداری ہے ہمیں بحیثیت مسلمان کس امر کو فوقیت دینا چاہئیے اس جانب تو شاید ہمارا ذہن و دماغ کا گزر بھی نہیں چہ جائیکہ اس پر ہم توجہ دیں ہم تو دیکھتے اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو جن کے لئے دنیا کو جنت بتائی گئی ہے ہماری اصل زندگی تو اخروی زندگی ہے
اگر ہم علماء و دانشوران نے اس فتنہ کے سدباب کی کوشش نہیں کی تو اللہ تعالی ہم سے یہ ضرور دریافت کریں گے کہ تم نے اپنی ذمہ داری و فرض منصبی کو کما حقہ ادا نہ کیا تم بھی مجرم ہو سینکڑوں عائشہ لقمہ اجل ہوتی رہیں اور تم تماشہ بیں بنے رہے جبکہ تمہیں شریعت نے منکَر سے روکنے کا اہل بنایا تھا
اللہ سے دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی کار خیر کی توفیق بخشے اور جہیز جیسی لعنت سے ہم سبہوں کو محفوظ فرمائے آمین یارب المستضعفین
جمعہ، 5 فروری، 2021
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
ازقلم: محمد طاسين ندوی
دنیا نے بہت بہاریں دیکھی نہ جانے کتنے مصائب و آلام آئے اور چلے گئے لیکن سن عیسوی ۲۰۲۰میں جو مصیبت و آزمائش آئی وہ تا ہنوز جاری ہے اور اللہ کو معلوم کب تک انسان عالم اس المناک بھٹی میں تپتے رہیں گے
یقینا یہ ممکن ہیکہ اس آزمائش سے ضرور نکلیں لیکن کب تک یہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں لیل و نہار کا زمام کار ہے فرمان نبوی ہے " وأنا الدهر، بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار "متفق علیہ بلاشبہ وہ جیسا چاہے، جوچاہے،جب چاہے کرسکتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے چونکہ ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں تو یہی مقتضائے ایمان بھی ہے.
لیکن کیا ہم نے غور کیا کہ ایسے پر آشوب دور میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا تو میں بحیثیت ایک مولوی یہ ضرور کہونگا کہ تعلیم و تعلم سے دوری ہوئی، مدارس بند ہوئے، تنخواہیں بند ہوئیں، لیکن خود اعتمادی ضرور پیدا ہوئی ہمارا بڑا طبقہ جنہوں نے اپنا انحصار مدارس کی تنخواہ پر کیا تھا انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں، فضا کی رنگینیاں دیکھیں، محنت سے جی چراتے تھے اسکا خون کیا محنت کی طرف قدم بڑھایا اور اپنے کو کسی لائق بنانے کی تگ و دو کیا الغرض جو ہمارا میدان"تجارت" ابتداء سے ہونا چاہئیے تھا -مرتا کیانہ کرتا-اس کی طرف پلٹے تو میں کہونگا کہ یہ حالات من وجہ ہمارے لئے باعث خیر بھی ہے اور ہو کیوں نہ کہ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے میں اپنے بندوں کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،
. تو کیا اس مالک حقیقی کو ہمارے ایسے حالت زار -جس میں بہت سے انسان سوکھی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں - پر رحم نہیں آئیگا؟ یقینا آئیگا اللہ نے ہمیں ایک موقع اپنے کو مضبوط کرنے کے لئے عنایت کیا ہے ہم علماء طبقہ کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ہم کبھی مسجد میں امام، مدارس میں استاذہواکرتے تھے پورے معیشت کا انحصار ان معمولی تنخواہوں پر ہوا کرتی تھی تو اب اللہ نے ایسا موقع دیا ہیکہ ہم کچھ کرلیں تاکہ معیشت جو ہمارا بڑا مسئلہ ہے اس کا حل سنت نبوی پر گامزن ہوکر نکالیں کیونکہ تجارت سنت ہے اور اگر امانت داری اور دیانت داری سے کیا جائے تو باعث رحمت و برکت بھی اور ہمیں اس کام کے لئے کمربستہ ہونا چاہئے وساوس شیطان کو منوں مٹی تلے دفن کر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر کا مصداق ہونا چاہئے کہ
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
قارئین کرام!ہمارے دلوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ اس وقت دنیائے آب وگل ایسے حالات سے دوچار ہیکہ کوئی قرض بھی نہیں دے سکتا سب کسم پرسی کے عالم میں ہیں راس المال اور پونجی کہاں سے آئے تو یاد رکھئیے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی تجارت کی شروعات دوکیلو پنیر سے کیا تھا لیکن جب اس دار فانی سے رحلت کر گئے اسوقت ان کے خزانے سیم زر سے بھرے تھے
اللہ نے اتنا مال و منال سے سرفراز کیوں کیا،ایسا اسلئے ہوا کہ انہوں نے اپنا ایک مستحکم اصول بنایا تھا کہ سامان ادھار نہیں خریدنا ہے اور ناہی ادھار فروخت کرنا ہے اور ادخار بھی نہیں کرنا ہے چاہے ایک روپے منافع ہو فروخت کردینا ہے نہ کہ دس روپے منافع کے انتظار میں عوام الناس کو ایذا پہنچانا ہے ،ہمیں چاہئیے کہ ہم بھی اپنا ایک منظم و مستحکم اصول پر کار بند ہوکر تجارت کی طرف پیش رفت کریں ان شاء اللہ ایک دن کامیابی ضرور قدم بوسی کریگی
اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہم علماء اسلام کی دستگیری فرمائے معاشرے میں معزز و بھلا انسان بنائے آمین یارب العالمین
ہفتہ، 30 جنوری، 2021
کیوں ہم زباں نہ کھولیں....؟
اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب
اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب از :محمد طاسین ندوی دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری ...
-
اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...
-
اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب از :محمد طاسین ندوی دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری ...
-
✍️ लोकतान्त्रिक देश नेपाल र नेपाली मुसलमान विश्लेषण र केही प्रस्ताव ✍️ मुहम्म्द तासीन नदवी नेपाल भूगोलिक हिसाबले तीन खण्डमा विभाजन ग...



















