جمعرات، 7 مئی، 2026

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟




 اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟

از قلم: محمد طاسین ندوی  

آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے کا واحد پیمانہ شمار کیا جانے لگا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال اسمارٹ فون کی لی جائے اور معاشرے کے نوجوان مرد و خواتین کا طائرانہ جائزہ لیا جائے؛ اگر ہمارے ہاتھ میں بیش بہا اور جدید ترین اسمارٹ فون نہیں ہے، تو ہمیں یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ شاید ہم تہذیب و تمدن کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہیں اور بہت ہی پسماندہ ہیں۔ یہ احساسِ کمتری اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے آلے کی قیمت کو انسان کی قدر و قیمت سمجھ لیا ہے۔

​اسمارٹ فون کو جہاں آج کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل ہے اور اس کے بغیر بہت سے انتظامی و علمی کام ناممکن معلوم ہوتے ہیں، وہیں اس کے منفی پہلو بھی کم نہیں ہیں۔ فون کا صحیح یا غلط ہونا اس کی قیمت یا ورژن پر منحصر نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک تعمیری ذہنیت کا حامل فرد اس بات پر توجہ دے گا کہ اس آلے کا استعمال انسانی اخلاق و اقدار کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہو رہا ہے یا اسے مثبت مقاصد کے لیے برتا جا رہا ہے۔

​اگر صارف پاک طینت ہے اور اسے اپنے اوقات اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں، تو وہ یقیناً اس فون کو محض لہو و لعب کا ذریعہ نہیں بنائے گا، بلکہ اسے ایک مقدس علمی ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ وہ اسمارٹ فون کے ذریعے جہاں عربی خطاطی، گرافک ڈیزائننگ اور جدید علوم کی مہارتیں حاصل کر سکتا ہے، وہیں اسے تعلیمی تحقیق اور مثبت دعوت و اصلاح کا ذریعہ بھی بنا سکتا ہے۔ ایسا شخص اسمارٹ فون کی غلاظتوں کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتا اور اپنے نصب العین کی کامیابی کے لیے اس سے بہترین مدد لیتا ہے۔

​اس کے برعکس، وہ افراد جنہیں اسمارٹ فون کی ایسی "لت" لگ چکی ہے کہ وہ صحیح اور غلط کی تمیز سے عاری ہو چکے ہیں، وہ دراصل اپنے روشن مستقبل کو اپنے ہی ہاتھوں ذبح کر رہے ہیں۔ جب نوجوان نسل کو یہ خبر نہ رہے کہ عقل و دماغ کے لیے بہترین غذا کیا ہے اور بدترین زہر کیا، تو پورا معاشرہ بگاڑ کی سمت چل پڑتا ہے۔ اسمارٹ فون کا بے ہنگم استعمال فرصت کے انمول لمحات کو فضولیات کی نذر کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف کیریئر متاثر ہوتا ہے بلکہ ذہنی صلاحیتیں بھی مفلوج ہو جاتی ہیں۔

​آج کے نوجوان کو عقل کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ سمجھنا چاہیے کہ ٹیکنالوجی ہماری خادم ہے، مخدوم نہیں۔ ہمیں اپنے کیریئر اور روشن مستقبل کے لیے اسمارٹ فون کو ایک سیڑھی بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔ اللہ تعالیٰ تمام نوجوانوں کو درست سوچ سمجھ اور وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

​وما ذلک علی اللہ بعزیز

ہفتہ، 12 جولائی، 2025

ماں کی یاد

آج باد صبح گاہی  میں کچھ ایسا لمس و سرور تھا جو ماں کےہاتھوں کے  لمس و شفقت میں  محسوس کیا جاتا ہے  جیسے ہی آنکھیں کھلی دل نے بے اختیار کہاکاش ماں پاس ہوتیں

وہ نرم لہجہ وہ دعا بھری نگاہیں وہ بے لوث محبت۔۔۔ سب کچھ یاد آنے لگا۔

ماں تو وہ ہستی ہے جو خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کو کھلاتی ہے، جو خود جاگ کر ہماری نیندوں کی حفاظت کرتی ہے

آج جب دن کی مصروفیتوں میں ایک لمحہ سکون کا آیا، تو دل کے کسی کونے میں ماں کی وہ پیار بھری آواز گونج اُٹھی بیٹا، تھک گیا ہوگا، آجا، کچھ کھا لے، کچھ دیر آرام کرلے کافی دھوپ ہے 

اس برقرار زندگی  میں ہم بہت  کچھ بھول جاتے ہیں، لیکن ماں ایسی ہستی ہے جنکو نہیں بھول پاتے۔

کیونکہ ماں صرف رشتہ نہیں، ماں احساس ہے، ماں دعا ہے، ماں جنت کا دروازہ ہے۔


آج ماں کی یاد زوروں سے آئی...

کاش وہ لمحے لوٹ آئیں جب ماں پاس تھیں،

ہاتھ تھامے ہوئے، دعائیں دیتی ہوئی،

اور دنیا کی ہر پریشانی اُن کے آغوش میں آ کر ختم ہوجاتی تھی ۔

اللہ والدہ ماجدہ کے قبر کو نور سے بھر دے اعلی علیین میں  جگہ عنایت فرمائے ۔آمین یارب العالمین 


جمعہ، 8 نومبر، 2024

رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی






 *رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی* 

_از قلم: محمد طاسین ندوی_ 

آج کا دن تاریخی لحاظ سے ہمیں ایسے سنگم پر لاکھڑا کیا ہے کہ ایک طرف فرحت انبساط و شادمانی سے اہل محلہ سرشار ہیں تو دوسری طرف نہایت رنج و الم اور حزن و ملال سے چور ...

 قصہ کچھ یہ کہ آج ہماری مرکزی جامع مسجد جلپاپور ۶ کا افتتاحی اجلاس جو نہایت تزک واحتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور سالوں کی آرزو اور زمانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر آیا،  

ایسی پرشکوہ اور دلکش مسجد کہ جو دیکھے واہ واہ ماشاء اللہ کہے بغیر رہ نہ سکے، ساری سہولیات سے مزین ، مرقع دیدہ زیب فرش و بہترین لائٹس خوشنما محراب نگاہوں کو خیرہ کرنے والے رنگ وروغن ،  اللہ تعمیر میں شریک ہونے والے  کی شرکت کو عرشِ بریں پر قبول فرمائے ..آمین 

دوسری طرف غم و اندوہ اور حزن و ملال یہ کہ استاذ الاساتذہ مخدومی حضرت مولانا محمد علی ندوی رحمة الله عليه  جو کہ اسی جامع مسجد کی افتتاحی تقریب میں نہایت ہی سبک رفتاری سے  جاپہنچے تاکہ علماء کے مواعظ حسنہ کو سن سکیں، لیکن مالک کائنات کا منشاء کچھ اور ہی تھا مخدومی ابھی ایک گھنٹہ بھی محظوظ نہ ہوسکے کہ اللہ کا بلاوا آ دھمکا اور انہیں آغوشِ رحمت میں لے لیا... اناللہ وانا الیہ راجعون 

مولانا مرحوم نہایت ہی خلیق اور متواضع سادگی پسند دنیاوی تام جھام اور نام و نمود سے میلوں دور رہنے والا ایک ولی کامل تھے ، 

مرحوم  دارالعلوم نورالاسلام کے سب سے قدیم و مؤقر استاذالاساتذہ سابق نائب ناظم  اور مدرسة البنات تابع دارالعلوم نورالاسلام کےانچارج تھے ، اس سے بڑھ کر یہ کہ مادر علمی کے بے لوث و مخلص خادم ہمہ وقت دارالعلوم پر جان قربان کرنے کا جذبۂ صادق سے مؤجزن رہنے والے اپنی مثال آپ تھے ، دارالعلوم کی فکر ہمیشہ پیش نظر رکھنے والے اور دارالعلوم سے حقیقی محبت کرنے والے سپوت تھے ،

ایک دفعہ کا واقعہ ہے دفتر اھتمام دارالعلوم  نے اگہنی کی وصولی کے لئے اساتذۂ دارالعلوم کی میٹنگ بلالی ، گفتگو شروع ہوئی تو محصلین نے یہ بات رکھی کہ ہمیں محنت کے عوض کچھ ملنا چاہیئے تو مولانا علیہ الرحمہ نے بے ساختہ یہ فرمایا کہ ایک نیا باب کھول کر دارالعلوم کو حرج میں نہ ڈالیے ...

آنجناب کا سینہ ہر طرح کی آلائش وگندگی سے پاک و صاف تھا،  کسی نے اگر کچھ غلط کہہ دیا تو ایسا نہیں کہ گرہ باندھ لیں بلکہ انکی عفو صفح کی چاردر نہایت ہی دارز تھی، فوراً ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید کچھ ہوا ہی نہ ہو ، ان ہی اسباب کی وجہ موت بھی ایسی پیاری کہ سبحان اللہ، جمعہ کی پوری تیاری اور تلاوتِ قرآن باری کے بعد تقریب افتتاح مسجد میں شرکت فرمارہے ہیں دنیا کی بہترین جگہ بہتریں روح قفس عنصری سے پرواز کررہی، ایسی موت اللہ ہر فردو بشر کو میسر فرمائے آمین ۔


ماشاء اللہ مولانا نے ایک لمبی زندگی پائی اور انکی جو خواہش تھی کہ "ہماری موت ایسی ہوکہ ہم کسی کے لئے بوجھ نہ بنیں "

عرش والے نے ان کی دعا سن لی اور بہترین دن جمعہ کو اندرون مسجد اپنے پاس بلا لیا  آہ!

 آج بروزِ جمعہ  مورخہ ۵ جمادی الاولی ۱۴۴۶ھ موافق ۸ نومبر ۲۰۲۴ ء کو حضرت الاستاذ جناب مولانا محمد علی ندوی سفر آخرت پر چل پڑے۔!! 


رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی 

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی 


اللہ تعالی پسماندگان کو صبر جمیل عطاء کرے اور مادر علمی جو ایک گوہر نایاب سے محروم ہوگیا اللہ اس کے خلا کو پر فرمادے اور مولانا کو اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت کرے آمین ثم آمین ۔۔!


 *ان اللہ علی کل شئی قدیر*

x


اتوار، 17 دسمبر، 2023

رکھیواس تلخ نوائی میں معاف




 رکھیو...اس تلخ نوائی میں معاف 

اس دنیائےآب و گل کی عجیب کہانی ہے صبح ہورہی، شام ہورہی ہے اور عمر عزیز تمام ہورہی ہے، کوئی جارہا ہے کوئی آرہا ہے وہ سینہ کوبی کررہا ہے یہ قہقہے کی مجلس سجائے رقص و سرود میں مست و مگن ہے، 

ادھر انفاس قدسیہ کے ساتھ گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے تو ادھر سارے نام نہاد اپنے ڈیل مکمل کرنے کی تگ و دو میں حیران و سرگرداں ہیں، کبھی ہاں میں ہاں ملا کر بھی فہرست کی زینت بن رہے ہیں تو کبھی مصلحت و مفاد کی دبیز چادر سے اپنے کالے کرتوت اور ضمیر فروشی کو مکمل ڈھانپنے کی جان توڑ کد وکاوش میں جٹے ہیں، اللہ رب العزت نے اگر کسی صاحب قلب و نظر اور بصیرت کے لئے یہ کام ارزاں کردیا کہ ان کے تعاون ومساعدہ کے لئے صف بستہ ہو جائیں تو دوسرے ہم نوالہ و ہم پیالہ نے ایسا دے پٹکا کہ وہ چاروں شانے چت ہوتے نظر آئے،


 *قارئین کرام:* 

شش و پنج میں مبتلا نہ ہوں کہ کونسی کہانی اور کیسا افسانہ ہے جو سپرد قلم ہورہا ہےایسا بالکل نہیں ہے بلکہ فلسطینی صاحب ایمانِ کامل اور یقین غیر مضمحل کی حالت زار  کو کیسے اور کس پیرائے میں قلم  بیان کریں اس پر اسے  سکوت طاری  ہے نوک قلم جنبش میں آنے سے گریزاں ضرور ہے،  لیکن دل ناداں نے اسے  ایسا مہمیز کیا ہیکہ اپنی کمیاں،  کمزوریاں اور کوتاہیاں  کے باوجود زبان نہ کھولے تو خدشہ ہیکہ ایمان  قلب سے کوچ کرجائے اور ہم ویسے ہی دینا طلب ,مفاد پرست ,کوتاہ نظر اور عجب وتکبر سے سرشار ہوکر رہ جائیں قضیۂ فلسطین ایمان و کفر کا قضیہ ہے، معرکۂ حق و باطل ہے مسلمانان عالم کے قبلۂ اول کا شرف اللہ جل جلالہ اسی سرزمین کو بخشا ہے بہتیرا انیباء عظام کی آرام گاہ،  مسرئ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کا شرف عظیم بھی  اسی  سر زمین کے  نصیبے میں آیا ہے،.

چشم فلک نے دیکھا کہ آئے دن  کیسے حادثات و واقعات سے ہمارے ایمانی برادران دوچار ہیں، کیسے کیسے کشنجے کسے جارہے ہیں، کیا ہماری غیر ت کو  آنچ آتی ہےکہ ہم  فرمان مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم  *"مثل المؤمنیین في توادهم وتراحمهم وتعاطفهم كمثل الجسد الواحد "* کا عکس جمیل ثابت ہوسکیں اگر ایسا نہیں چہ ماند مسلمانی؟

اسد اللہ خان غالب نے درست وبجا کہا ہے 

*رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف* 

*آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے*

اتنے نام نہاد مسلم حکمراں کس بل میں دم دبا کر بیٹھے ہیں کیا انہیں سانپ نے سونگھ لیا ہے کس چشمہ سے قضیہ فلسطین کو دیکھ رہے ہیں کہ انہیں معرکۂ حق و باطل محض ایک خانہ جنگی سے زیادہ کچھ بھی نہیں سمجھ میں  آرہا  کہیں دلوں سے  ایمان کے رخصت ہونے کا وقت تو نہیں آن پہنچا؟ہمیں بحیثیت ایک مسلمان کے عالمی اور آفاقی فکر کا حامل ہونا چاہیے اور ہمیں اللہ سے اسکی توفیق مانگنی چاہئیے کہ اے اللہ رب العزت ہمارے خانہ دل میں جو بت پروان چڑھ رہا اسے ہمارے تابع فرمان کر دے تاکہ یوم الحساب آپ کی گرفت سے ہمیں نجات مل سکے اگر ایسا نہ ہوا تو کہیِں اللہ کی ذات اس ہولناک، پیپ و خون سے لبالب کھائی میں منھ کے بل گھسیٹ کر نہ ڈال دے جو نہایت ہی باعث ننگ و عار ہو ،، اللہ ولي التوفیق

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

ماہ صفرنحوست سے پاک

 



 

ماہ صفرالمظفر نحوست سے پاک  

از قلم:  محمد طاسین ندوی

ماہ صفر المظفر میں  ہماری زندگی رواں دواں ہے اسلامی کلینڈر کے مطابق اس ماہ کو اسلامی مہینوں میں دوسرا مقام حاصل ہے یہ ایک مہتم بالشان مہینہ ہے لیکن  جہالت کے زمانہ میں اس زمانے کو بدشگونی و بدفالی کے لئے خاص کرلیا گیا تھا جہالت کی چادر تلے اس دور میں بھی جو اپنی زندگیاں تمام کررہے ہیں وہ ان جاہلین سے کچھ کم نہیں وہ بھی بلائیں اور مصائب وآلام سے پر ماہ ماہ صفر کو گرداننے میں پیچھے نہیں جبکہ فرمان نبوی اس گمراہ کن افکارو نظریات کی تردید یوں کرتا ہے .

عَنْ أبي ھُرَیْرَةَ رضي اللہُ عنہ قال:قال النبيُّ ﷺ :”لا عَدْوَیٰ ولا صَفَرَ ولا ھَامَةَ" حضرت امام بخاری نے اپنی جامع میں نقل کیا کہ مرض متعدی نہیں مگر اللہ کے حکم سے ماہ صفر بالکل منحوسیت سے پاک اور کسی پرندہ سے فال بد اور بدشگونی سراسر جہالت پر مبنی عمل ہے 

حدیث بالا سے یہ بات اظہر من الشمس ہوگئی کے ہم جس  اوھام و خرافات کے دلدل میں پھنسے ہیں اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں اور دین اسلام میں اس طرح کے باطل عقائد ونظریات کی رتی برابر گنجائش نہیں .

قارئین کرام!

ماہ صفر کے تعلق سے بے شمار  توھمات و موضوع اور من گڑھت باتیں ہمارے معاشرے میں زباں زد خاص و عام ہے جس کا کوئی ثبوت ودلیل موجود نہیں ایسے موقع سے ہمیں اپنے علماء اور ائمہ سے رابطہ کرکہ اس کی حقیقت سے روسناش ہونے کی حتی المقدور کوشش کرنی چاہئیے تاکہ ہم اپنے معاشرے کو اس دلدل میں پھنسنے سے بچانے کی فکر کر سکیں اور جو اس رو میں بہے جارہے ہیں ان کو راہ راست پر لانےکی  سعئ پیہم کرکہ پکا سچا مؤمن بنانے کی جتن کرسکیں جو ہمارے وجود کا اولین مقصد ہے اور تعاون على البر والتقوي بھی ہے 

 فرمان باری تعالی ہے" کنتم خیر امة أخرجت للناس " اور "تعاونوا علی البر والتقوی " ان نصوص سے ہمیں یہی آگاہ کیا جارہا ہیکہ ہم اصول خداوندی پر رہکر اپنی زندگی کی صبح و شام کریں  اور اپنے گردونواح کا بھی جائزہ لیں کہ ہماری قوم کہاں جارہی ہے  تاکہ  تعاون علی البر والتقوی اور خیر امت کا  خطاب  ہم پر منطبق ہوسکے   

دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی  اس کار خیر کا زریں موقع عنایت کرے. آمین

  وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین

ہفتہ، 11 فروری، 2023

روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

 


 روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

 از قلم:  محمد طاسین ندوی

 جب سے انسان کو اللہ تعالی نے وجود بخشا، اسی وقت سے  انسان مختلف انواع و اقسام کے قدرتی آفات و آزمائش سے دوچار ہوتا چلا آیا ہے،  جسکی وجہ سے کبھی جانی نقصانات تو کبھی مالی، کبھی املاک  تباہ اور انفاس بھی ہلاک و برباد ہوئے  گو ہر طرح کی آزمائش سے حضرت انسان دوچار ہورہے ہیں، اور یہ سلسلہ روز قیامت تک دراز رہیگا، لیکن غور طلب امر یہ ہیکہ ایسے حالات کیوں بن پڑتے ہیں؟  تو سائنسداں حضرات اپنے نقطۂ نظر سے دنیا والوں بتاتے ہیں  ، دانشوران اپنے اعتبارسے ، اور علماء اسلام آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ کو ملحوظ خاطر رکھ کر جنش قلم دیتے ہیں اور لوگوں کو اسی کی ہولناکی اور تباہی کے اسباب سے آگاہ کرتے ہیں.    *قارئین عظام!*  اسلام ایک منظم و مستحکم ہمہ جہت انقلاب  کے ساتھ ساتھ دین کامل بھی ہے، دین اسلام میں  ہر چیز کی خبر دی گئی اور ہر معمولی اور غیر معمولی اشیاء کو نہایت خوش اسلوبی اور عمدگی کے ساتھ دنیا والوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے، چنانچہ فرمان نبوی ہے *"لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ" رواہ البخاری*   قرب قیامت علم اٹھالیا جائیگا، زلزلوں کا دور دورہ ہوگا، نوع بنوع کے فتنے فساد جنم لیں گے۔  آج اگر ہم اپنے گرد نواح کا جائزہ لیں تو ہم پر یہ اسرار کھل جائیں گے کہ ہم مدعیان دین و ایمان کہاں ہیں؟ کیا ہمارا سماج ،ہماری سوسائٹی، ہم اور ہمارے اعزاء واقرباء قرآن و سنت کی پاسدار کررہے ہیں؟   یقینا ہچکچاتے ہوئے جواب یہ دیا جائیگا کہ ہمارے اندر بہت ساری کمیاں ہیں،  اگر ان کمییوں کو ہم نے مزید فروغ دیا تو اللہ زمین میں دھنسا دیگا، پھر ورز محشر اٹھائے گا  اور نیکو کار کو نیکوں کے ساتھ کھڑا کریگا، اور بدکار کو بدوں کے ساتھ، حالیہ واقعات کے پس منظر میں ذرا غور تو کریں کہ شام و ترکی جو اسوقت زلزلہ کے ستم ظریفی سے دوچار ہے، اور بیس  ہزار سے زائد جانیں جا چکی ہیں، خدشہ ہنوز باقی ہیکہ ہو نہ ہو ملبے تلے اور بھی جانیں دبی ہونگی ، وہ فلک بوس عمارتیں  پلک چھپکتے ہی آن کے آن میں زمیں بوس ہوگئیں، عیش و عشرت میں مست و مگن لوگ اس بات کو سوچنے سے قاصر ہونگے کہ ارے یہ کیا ہوگیا ...؟ ابھی تو ابتداء عشق ہے انجام تو اللہ کو معلوم ہے کہ کیا ہونا ہے؟ اس ایک جھٹکا سے اللہ نے ہمیں متنبہ کیا ہے تاکہ  ہم مدعیان اسلام کو سنبھلنے کا موقع مل جائے  اور یہ صداء بازگشت گونجے کہ اے امت محمدیہ ہوش کا ناخن لو اپنے انجام سے بے خبر نہ رہو، اپنے مالک کو یاد کرو اور یہ بھول جاؤ کہ اللہ کے سامنے کوئی سائنس اور کسی بھی طرح کی ٹکنالوجی ٹک  سکتی، سارا سسٹم فیل سارا نظام درہم برہم، اگر کرنے والا کوئی ہے تو وہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات عالی صفات ہے اب بھی موقع ہے سنبھل جاؤ،  اگر نہ سنبھلے تو اپنے کو ہولناکی اور تباہی سے دوچار ہونے کے لئے مستعد وتیار رکھو   *قارئین محترم !* ابھی ہم سبہوں نے دیکھا کہ کیسے پیر و نوجوان مرد و زن بچے و بچیاں اس تباہ کن زلزلہ کے زد میں آکر اپنے جان کی بازی ہار گئے  ہیں، کتنے املاک تباہ  وبرباد ہوئے ہیں، جن کے یہاں پیسے کاانبار تھا وہ بھی ایک بالشت کے پیٹ کو بھرنے اور تن بدن کو چھپانے سے یکسر قاصر ہیں، اس لئے ابھی ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اور  انسانی حقوق کے علمبردارن سامنے آئیں،  اور ترکی و شام کے برادرن کے لئے ید تعاون دراز کریں، اسلئے کہ فرمان نبوی ہے *"ومن فرج عن مسلم كربة، فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة"* جس نے صاحب ایمان و اسلام کے الم و مصیبت کو دور کرنے کی تگ ودو کیا، اللہ تعالی روزقیامت اس کے عوض انکی مصیبت و الام کو دور فرمائیگا .... اور ارشاد باری تعالی ہے *" وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون "* خیر کے کاموں کو گلے لگاؤ شاید تم سب کامیاب ہوسکو،  ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ جس کے خاندان و گھر اجڑ گئے ہم ان کے دردو غم میں شریک ہوکر انکے درد کا درماں بنیں. کسی شاعر نے کیا خوبصورت عکاسی کیاہے   

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے  میری دعا ہیکہ جو لوگ جاں بحق ہوئے اللہ انہیں اعلی علیین میں جگہ دے، اور لواحقین کو صبر و تحمل سے نوازے ........*(آمین ثم آمین)*

اتوار، 30 اکتوبر، 2022

ملک نیپال اور ہندوستانی زرخرید

نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو


 ملک نیپال اور ہندوستانی زرخرید میڈیا 

تحریر: محمد طاسین ندوی 

ملک نیپال  جغرافی اعتبار سے ایسے محل وقوع پر ہے جس کے سہ جہات ہندوستانی جیسا عظیم ملک ہے جہاں آئے دن  رنگ و نسل ذات و پات ،چھوت چھات ، مار کاٹ اور لنچنگ جیسے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں، جو ہندوستانی میڈیا کا عمدہ اور بہتر خوراک ہے

ایسا اسلئے کہ میڈیا نے اپنا اصل ھدف سے کنارہ کشی اختیار کر پٹرول میں زہر ڈالنے کا کام بحسن خوبی انجام دے رہا یہ اس لئے کہ ہندوستان کی اکثر میڈیائی نظام BJP اور  RSS اور وشو ہندوپریشد کا زر خرید غلام ہے وہ جو چاہے اس سے ہیڈ لائن تیار کروالے جہاں چاہے زہر افشانی کروالے -جبکہ یہ کام بالکل غیر مناسب اور غیر انسانی ہے - ابھی حالیہ دنوں میں اس زہریلے موالیوں کی ایک ٹولی جو وطن نیپال میں کسی طرح اپنے پاؤں  پسارنے کی بھر پور کوشش میں کوشاں ہے ضلع مہوتری کے ایک گاؤں کی مسجد اور دیگر مسلمان ہم وطنوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے میں کامیاب اس طور پر رہا کہ کسی کے گھربار کو نقصان پہنچایا تو کسی کی گاڑیوں کو نذر  آتش کرتے نظر آئے اور یہ سب کے سب ہندو سمراٹ نامی سنگٹھن کے جھنڈے تلے بل کھاتے اتراتے اکڑتے  سنگ بازی کرتے نعرے دلخراش و جاں گسل لگاتے  نظر آئے جس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وطن عزیر تو فقط ان مافیاؤں اور ماوالیوں کا ہے جبکہ اس وطن کے پوروج کے کہا تھا کہ ہمارا ملک نیپال ایک حسین وجمیل باغ کے مانند ہے جس میں انواع و اقسام اور نوع بنوع کے پھول کھلتے ہیں اورباغ وگارڈن کی  رعنائی اور جمال تو اس کے اندر ہونے والے متعدد النوع گلاب و بیلا یاسمین و چمبیلی و نسترن کی وجہ سے ہی پائی جاتی ہے اس کی رعنائی اور دلکشی کو محفوظ رکھنے کی ہمہ جہت کوشش کریں 

قارئیں کرام.

ہم مواطن باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے ساتھ وطن عزیز میں اپنی زندگی کی صبح شام کررہے ہیں یہ باتیں کچھ شتر بے مہارسنگٹھن  و میڈیا کو سوفیصد ناگوار گزرہی اور اسکی یہ پلید خواہش کہ جس طرح ہندوستان کو آپسی تنازع و اختلافات و انتشار کا اکھاڑا بنادیا ہے جہاں پر حق گوئی جرم عظیم کے مترادف ہے اسی طرح نیپال کے عوام کو آپس میں دست و گریبان کردیا جائے تاکہ اس ہوس پرست تنظیمات اور گودی اور خبیث  ہندوستانی میڈیا اپنے ہوس پوری کرنے میِ کامیاب ہوسکے ممکن ہیکہ قارئین نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہندوسانی درشن tv کے اینکر نے کیا ہفوات اور بکواس کیا ہے مسلمانان نیپال کو ہائی لائٹ کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں ذرا میں دریغ نہیں کیا مسلمانوں اور مولاناؤں کے بارے میں کیا نہیں کہا بلکہ اس باطل پرست نے یہ بھی کہا کہ نیپالی مسلم  آیوگ کے سربراہ نے تو ملک نیپال جو ایک ہندو ملک تھا  اسے اسلامک اسٹیڈ بنانے کی بھر پور کوشش میں ہے. جبکہ ایسا کچھ نہیِں ہے معاملہ کو ختم کرے اور اس طرح کے واقعات نہ دوہرانے جانے کی اپیل کی گئی ہے ہندوستانی میڈیا اور ہندوستانی ہندوتوا کی یہ انتھک کوشش ہیکہ نیپال کو دوبارہ سے ایسے غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرے جس طرح جمہوریت پہلے کے ایام تھے 

ہم مسلمانان نیپال پر ایسے پر آشوب کو پر فتن موقع سے جند ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں جو کو انجام دینا ہمارا فرض منصبی ہے 

ایسے نفرتی اور ہفوات بکنے والے لوگوں کے باتوں کو ریورٹ کیا جائے تاکہ اس کی اکڑ ونفرت دفن ہو 

ہم اس سے نپٹنے کے لئے ایسے لائحہ عمل تیار کریِں  جو ہمارے لئے ممدو معاون ہو 

ہمیں چاہئیے کہ ہم ایسے ہندوستانی ٹیلی ویزن کے خلاف ہندوستانی ایمبیسی کو گیاپن پتر دیں جو ہمارے وطن عزیز کے مان مریادہ کو داغدار کرنے کوشش میں ہے 

ہندوسٹانی چیلنز کا بائیکاٹ کریں 

اگر کہیں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجائے sp dm اور جو بھی اسطرح کے رہنماہ و نمائندہ ہیں اس سے مل کر اظہار خیال کریں اور جبر و تشدد کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں اور کٹھور سے کٹھور سزا کامطالبہ کریں کیوں کہ اس ملک نیپال ہم وطنوں کا حقوق یکساں ہیں ، اللہ سے دعا ہے کہ شرپسند عناصر کےشرور وفتن سے ملک نیپال کی حفاظت فرمائے ـ

منگل، 11 اکتوبر، 2022

نام محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے







نام محمد وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
از قــلم: محـــــمــد طاســــــین ندوی
دنیا کی تخلیق کے  بعد اللہ عزوجل نے بے شمار مخلوقات کو برپا کیا متعدد ادوار گزرے ہر دور میں خاص گروہ و جماعت کے ایک خاص نبی و رسول محض اس لئے مبعوث فرمایا کہ وہ اپنی گروہ کو توحید الہی کی طرف بلائے اور اپنی شب و روز کو عطاکردہ اصول و ضوابط پر گامزن رکھے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
 "وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ"النحل ۳۶ 
ہم نے ہر امت و گروہ میں اس پیغام کے ساتھ قاصد مبعوث کیا کہ اللہ عز وجل کی وحدانیت
کو گلے لگاؤ اس کی پرستش کرو اور شیطان سے بچو " 
دوسری ارشاد باری تعالی ہے:  :" وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ "ابراہیم ۴
اور ہم نے ہر قاصد  کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے.
ان گذشتہ اقوام وادیان کے بعد سب سے اخیر میں اللہ عز وجل نے نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فر کر ارشادفرمایا"وماارسلنک الا رحمة للعالمين" ہم نے تو آپ کو دونوں جہاں  کے لئے باعث رحمت بنایا آپ سے پچھلی امتوں نے جو کیاہمیں ان سب سے دست بردار ہوکر اقوال محمدی پر عمل پیرا ہونے کا بگل  دیدیا گیا اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں نبوت کا دروازہ بالکلیہ مقفل کسی طرح کی کوئی کمی نہیں "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"مائدہ ۳
میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا  اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا  اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا.
قارئین عظام!  اب ہمارے کندھوں پر  بحیثیت امت محمدیہ کے کیا ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں اس کا اندازہ ہمارے گفتار،نشست و برخاست، آپسی معاملات و تعامل سے واشگاف ہوگا کہ کیا ہم نے فرستادہ خدا کے عطا کردہ اصول و ضوابط پر رہ کر اپنی زندگی کی منزلیں طے کرنے میں کوشاں ہیں یا نام محمد ورد زباں ضرور ہے لیکن ہمارے سارے کام و کاج اصول پیغمری سے بیزار انکے بتائے ہوئے شب و روز سے یکسر نابلد ہیں دعوہ کرتے ہیں کہ ہم محمدی ہیں لیکن ان کے بتائے ہوئے راستوں سے کوسوں و میلوں دور ہیں اسی دوری اور عدم توجہی کیوجہ سے ہم مسلمانان آج دنیائے آب و گل میں رسوا و ذلیل اپناسا منھ لے کر دردر کی  ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ہمیں انتساب محمدی میں ذرا بھی دریغ نہیں .
چغلی، عیاری،مکاری،چالبازی، زناکاری،قمار بازی نوع بنوع کی کمی و کوتاہی سے ہماری زندگی اٹی ہوئی ہے اور ہم بے خوف و خطر دندنارہے ہیں جس طرح شیر جنگل میں دندناتاہے اور اسے اپنی عاقبت کی انجام بالکل نہیں ہوتی اور کیونکر ہو وہ تو اپنے کو جنگل کا راجہ باور کراتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ حکمرانی اس کی ہے ہوبہو یہی معاملہ ہم مدعیان اسلام کا ہے 
کہ ہم نبوت و رسالت کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن دل و دماغ بالکل ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کسی شاعر نے ہماری اس حالت زار کی عکاسی کیاہےکہ 
نامِ محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے

اتوار، 9 اکتوبر، 2022

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو

 

 

 نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

شعرو سخن بھی عجیب شئی ہے زیر نظر  مصرعہ شاعر مشرق  کی ایک ایسی نظم کا  ہے جسمیں شاعر اسلام نےہسپانیہ کی سرزمین اور  بالخصوص  قرطبہ میں سپرد کیا اور اس کی تاریخی حقائق اور پہلو کو خاطر خواہ اجاگر کرنے کی کوشش کیا ہے اور بہترین و عمدہ اصول کی یاد دہانی بھی کی ہے کہ ہم بندۂ مؤمن جب ایک دوسرے سے مخاطب ہوں تو ہمارا طرز گفت و شنید کیسا ہو ایا ہم بالکل عبوسا قمطریرا بن جائیں یا خوفناک و ہولناک نظر آنے لگیں یا ہمارے گفتار دلنیش، شیریں، دلپذیر اور سوز گذاز سے لبریز ہو تو علامہ اقبال نے اشارہ کیا کہ 

جب آپس میں کوئی ایسا امر رونماہوجائے جس سے بظاہر بات بگڑتی نظر آرہی ہو تو ہمارے چہروں کے ملاحت ختم نہ ہو بلکہ ہم مزید خوش اسلوبی اور خوش خوئی کا مظہر نظر آنے لگیں تاکہ سامنے کھڑا دندناتا ہوا فرد ہمارےاس معززانہ اسلوبِ گفتار اور دلنشیں انداز سے ہمارے دام محبت میں جاگرے اور ہمیں  انہیں  رام کرنے اور گرویدہ بنانے میں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے،  ایک مومن دوسرےمومن کے لہجہ مکالمہ سے ایسا گرویدہ ہوجائے کہ شفقت و محبت کی مثال بن کر عالم افق پر چمکے اور حق و سچ کی تلاش و جستجو میں نہایت ہی سر گرمی اور بہتر و ٹھوس اسلوب کا مظاہرہ کرے یہ صرف اپنوں تک محدود نہ رہے بلکہ اغیار سے بھی خندہ پیشانی سے ملیں پاک دلی اور پاک طینتی سے کام لیں چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ " لا تحقرنَّ من المعروف شيئًا، ولو أن تلقى أخاك بوجه طَلْق " معرف اشياء کو حقارت بھری نگاہ سے مت دیکھو اور اگر تم اپنے بھائی سے ملو تو خندہ پیشانی سے ملوجبین نیاز خم کردو . 

     شاعر مشرق نے ان باتوں کو اپنے اشعار میں نہایت ہی  دلپذیراسلوب میں بیان فرمایا؛

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز.

جب مسلمان اپنوں سےبات کرے یا غیروں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کرے، سننے والے کومحسوس ہوکہ ان کے منھ پھول جھڑرہے ہیں اللہ تعالی نے حضرت موسی و ہارون علیھماالسلام کو جب فرعون کےپاس بھیجا تو نرمی سے بات کرنے کاحکم دیاچنانچہ  ارشاد باری تعالی  ہے

"فَقُولا لَهُ قَوْلا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى" سورة طــه ۴۴

 "اے موسی و ہارون آپ دونوں فرعون کے پاس جاکر اس سےنرمی سےبات کریں ،شایدوہ نصیحت قبول کرے یاڈر جائے"

دوسرے مقام پر باری تعالی  اپنے بندوں کے بارے میں یوں  ارشادفرمایا   "

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا" الفرقان ۶۳

 اوررحمن کے بندے وہ جو زمین پر آہستہ نرم اندز سے قدم رکھتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں  تووہ  سلامتی کی بات کرتے ہیں "  

آیت مذکورہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بدکلامی اور سب و شتم  کاجواب برے الفاظ میں دینے کےبجائے شریفانہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ جواب دیا جائے. 

اللہ سے دعا ہے ہمیں  نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو والی صفات سے متصف فرمادے جو عین دستور حیات کے مطابق ہے  ـ آمین یارب العالمین

بدھ، 5 اکتوبر، 2022

ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟


محمــد طاســــين ندوي


ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟

از قلم:  محـــمد طاســین ندوی 

دین اسلام ایک مستحکم و مکمل دین ہے جس میں کوئی شئی حقیر نہیں ہر شئی کا مقام و مرتبہ اس کی افادیت و اہمیت کے تناظر میں  ملحوظ رکھا گیا ہے تن بدن کی صفائی سے لیکر سیم و زر کی پاکی و صفائی بھی اس میں شامل ہے جسے کبھی  زکاة توکبھ صدقات يا خيرات کے نام سے مسموم کیا جاتا رہا ہے کبھی زکاة وصدقات واجبی ہوتے ہیں تو کبھی نفلی و تطوعی صدقات و زکاة کی اہمیت وافاديت  کو نبی آخر الزماں نے جا بجا اس انداز میں اجاگر کیا ہے فرمایا: " صدقة السر تطفئ غضب الرب "

بالکل خاموشی اور بلااعلان صدقہ کرنا اللہ کے غیض وغضب کو ماند کرتا ہے، کہیں فرمایا: الصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار " صدقه و خيرات گناہ کو ایسے ہی ختم کردیتا جیساکہ آگ کو پانی ختم کردیتا ہے ،

اور کہیں فرمایا:" إذا اديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك " اگر تم نے اپنے مال كی  زکاة ادا کر دیا تو تم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے اور بھی اس طرح کی بہت سی احادیث ہیں جو ہم مسلمانان عالم سے یہ تقاضہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے مال کو صاف شفاف کریں، اس کا میل کچیل بشکل صدقہ و زکاة اس طرح نکال باہر کریں اور اس طرحچمچماتا ہوا  بنادیں کہ سو فیصد حلال  ہوجائے  .

 قارئین کرام! ہم انسان دو صفتوں سے متصف ہیں، پہلی فرشتوں جیسے ستودہ صفات اور دوسری  جو بالکل پہلی کا عکس شیطانی صفات ہیں اگر ملکیت غالب ہوجائے تو نفس خیر، بھلائی،فلاحی، رفاہی  کاموں کی تلقین کرتا ہے اور اگر شیطنت غالب ہوتو ہم فرائض و ارکان ،وجوب سے بھی منھ موڑ لیتے ہیں اور یکسر اس امر کو بھولا دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ہمارے اوپر جو احسانات و انعامات فرمایا ہے انکے تقاضے کیا ہیں اتنا ہی نہیں ہم میں جو اثریا و اغنیاء طبقہ ہے وہ تو زکاة و خيرات کی اشیاء محصلین اور حاجت مندوں کو دیکر یہ زعم باطل میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہم نے سائل یا محصل پر احسان کیا.

اے امت مسلمہ کے غیور لوگوں اس بات کو یاد رکھئیے کہ جس اللہ تعالی نے آپ کو اس عظیم الشان و بیش بہا اشیاء سے سرفراز کیا ہے کیا بعید ہیکہ یک لخت بھسم کردے اور آپ بھی اسی زمرے میں آجائیں جو آپ کے سامنے دست سوال دراز کررہا ہے کل کو کس نے دیکھا ہے کہ کل ہماری استطاعت و پوزیشن کیسی اور کس حال میں ہوگی، مفلوک الحال ، بے بس ولاچار، مجبور و گداگر کچھ بھی ہوسکتے ہیں 

ابھی وقت ہے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ اندوزی کا اپنی گردن کو بلند کروانے کا یہ دنیا توچند دن کی ہے اور

آخرت تو سرمدی اور ابدی ہے ـ حیات اخروی کوجلابخشیں اور بہترین 

عمدہ  سے  عمدہ بنانے اور سنوارنے کے لئے اس دار فانی میں کچھ خیر کا کام کرجائیں اور اس اعمال خیر صدقہ و زکاة کے مصرف کو ملحوظ خاطر رکھیں ایسا نہ ہو کہ جو مستحق ہو اس کو نہ مل سکے اور جو غیر مستحق ہو وہ زکاة وصدقات سے موج اڑاے اور ڈنڈ پیلے زکاة و صدقات  تقسیم کرنے والوں پر یہ ذمہ داریاں عائد ہوتیں ہیں

کہ اپنے مستحقین  اعزہ و اقارب کو ترجیح دیا جائے   اپنے صدقات یتیموں  ،بیواؤں اورحاجت مندوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے  دور حاضر میں خوب بحث تحقیق کے بعد ہی زکاة و صدقات كسی محصلین کے حوالے کئے جائیں

ایسا اس لئے کہ دھوکا فریب حرام و حلال پر عدم توجہی عام بیمار ہوتی نظر آرہی ہے ہمیں چاہئیے کہ ہم ذخیرۂ آخرت کے لئے نیک کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے والےبنیں تاکہ 

ہماری زنبیل گدائی نیکیوں سےلبریز ہوں اور فرشتے یہ سوال کرنے سے گریز کرے کہ کیا ساتھ لایا ہے 

شاعر نے اس کی کیا عمدہ تصویر کشی کی ہے 

 اس دنیاۓ فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے

برسوں کے جو رشتے تھے سبھی توڑ گیا ہے

 ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟ 

 اور فکر عزیزوں کو ہے کیا چھوڑ گیا ہے

اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مرضیات پر چلنے اور ہمیں صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق بخشےتاکہ  اخروی زندگی میں ہماری کامیاب و کامرنی یقینی ہو سکے

 آمین یاربنا الرحمن المستعان

منگل، 4 اکتوبر، 2022

ہمیں کچھ خبر بھی ہے؟





ہمیں کچھ خبر بھی ہے ؟  
از قلم: محمد طاسین ندوی 

اللہ رب العزت نے جہاں بہت سارے انبیاء ورسل بھیجے اور ان کے متبعین و مطیعین کو ان کا پیروکار بنایا اور دستور حیات سے نوازا عین اسی طرح جب جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر کی چالیسویں بہار میں داخل ہوئے تو اللہ تبارک وتعالی نے نبوت کی دولت سے سرفراز فرمایا اور خاتم النبین جیسا عظیم الشان لقب سے ملقب فرماکر یہ باور کردیا کہ محمد مصطفی کے بعد اب کوئی نبی نہیں، باب نبوت بالکل مقفل جو خود بزبان محمد سے یہ کہلوایا کہ " *لانبی بعدي وانا خاتم النبیین* " انکو عطاکرہ شریعت پہلی ساری شریعتوں  کو نسخ کرنے والی ٹھری بنا بریں ہمارے کاندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوئی کہ ھدایات و مناہج محمدی کو اپنی اس چندروزہ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھ کر اپنی صبح و شام تمام کریں لیکن ان دنوں ربیع الاول ۱۴۴۴ ھجـ کے ایام میں ہم لوگ گزر رہے ہیں محبت رسول کے نام پر رقص و سرود اور ناچ گانے کی محفلیں ایسی  سجا جارہی ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم مؤمن اور مسلم کے زمرے سے بالکل خارج ہیں. جن باتوں کا ہمیں احساس بھی نہیں ،کیا ہم مشرکین قدامی کے نقش پا پر اپنی زندگی تمام نہیں کررہے؟  اگر سینے میں زندہ دل ہوگا تو دل ضرور پکارکر اور چیخ کر یہ کہے گاکہ اے امت محمدیہ تم اپنے ھدف ومشن میں کہاں کامیاب ہو ؟ کیا تم اس لئے نہیں برپاکئے گئے تھے کہ دوبٹی کشتی کو کنارہ لگاؤ  ؟ لیکن کیا ہمیں کچھ خبر بھی ہے؟
ہمارا منشود کیا ہے اور ہم کسی طرفہ و تماشہ اور خرافات کے طرف رواں دواں ہیں کیا رسول خدا محمد مصطفی نے نہیں فرمایا " *من أحدث في امرنا ماليس منه فهو رد* " جو کوئی بھی شریعت کے اصول و ضوابط کے علاوہ کچھ بھی انجام دے وہ شئی مردود ہے تو آجکل ہم  اپنے  محفلوں و مجالسوں  پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس کا اندازہ ہو گا کہ اس دور پر آشوب میں مدعیان دین اسلام تو ہم ضرور ہیں لیکن قول و عمل میں یکسر تضاد ہے جس بنا پر ہمارے احوال وکوائف روز بروز بد سے بدتر ہوتے نظر آرہے ہیں اور پسپائی و ذلت ہمارا مقدر ہوتا نظر آرہا ہے.
 *قارئین کرام!*  
اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہوش کا ناخن لیں اور شریعت کی سنہری جالی کے اندر اپنے کو محض اس لئے قید کرلیں کے ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوسکیں جو مرضیات الہی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اپنی خیر منائیں اور دشمنان اسلام تو گھات میں  ہے ہم مزید موقع فراہم کرنے والے ہونگے اور زمین میں فساد و بگاڑ کا ضامن بھی ہم ہی ہونگے  اور ایسا کیونکر نہ ہو جبکہ امت وسط اور خیر امت جیسے القاب سے ہم کوسوں دور ہیں اور غیروں کے مشن کو فروغ دینے میں ہر طرح کا ہمارا تعاون پیش ہورہا ہے .
ہم ذرا غور کریں کہ اللہ نے ہمیں کتنا عظیم المرتبت دین کا علم بردار بنایا اور فرمایا: *إن الدين عند الله الإسلام* " اللہ کی ذات اقدس کو دین اسلام ہی محبوب ہے اس کے ماسواء سارے ادیان و ملل باطل و خارج ہیں  اور ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ مرغوبات یونہی میرے ہاتھ آجائے نہ کوئی تگ ودو ہو اور نہ ہی کوئی محنت کار فرما ہو جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جب  مہیب و ہولناک راہ کو طے  نہیں کرتا اس وقت تک مرغوبات و محبوبات سے لطف اندوز ہونا دشوار و مشکل ہے.
آئیے! اس ماہ بابرکات میں جس میں ہمارے آخری نبی کی ولادت باسعادت ہوئی عہد جدید کریں کے ہم ان کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے پابند ہو کر اعلاء کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کا ذریعہ ہوکر اپنا اور اپنے معاشرہ و سماج کے لئے باعث خیرو نجات بن سکیں .اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہمیں دین اسلام کی سر بلندی کا ذریعہ بنائے . *واللہ ولی التوفیق والھادی الی الصراط السوي*

پیر، 3 اکتوبر، 2022

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا



رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا          
از قلم:  محمد طاسین ندوی 
اللہ تعالی آدم و حوا کو وجود بخشا تاکہ انہیں خلیفۃ الارض بنا کر اپنی بندگی اور اپنی مرضیات پر چلنے کی مشق کروائے اور ان سے  نسل انسانی کی بقاء کو عبارت فرمایا.
ہر زمانے میں چاہے وہ ماقبل اسلام کا دور ہو یا مابعد اسلام نسل کو تحفظ فراہم کرنے اور انساب کی حفاظت کی غرض سے زواج و نکاح کا طریقہ احکم الحاکمین نے مقرر کیا تاکہ نسل انسانی کو بقاء اور تحفظ ملے تاکہ اس سے اسباق انسانیت عام ہو اورانسان  اوج کمال کو  پہنچے آئین قرانی و دستور حدیثی پر گامزن ہونے کی سعی پیہم اور جہد مسلسل کے طرف آمادہ و راغب ہو لیکن کیا ایسا ہے  جس ہدف منشود کے لئے ہمیں وجود بخشاگیا؟ 
اگر ہمیں بغیر کسی تکلف و ہچکچاہٹ کے یہ ضرور کہیں گے کہ ہماری ذات کمیوں سے پر ہے 
اس کو اپنے سے جدا کرنے کا کوئی حل تلاش بسیار کے بعد بھی میسر نہ آسکا کیوں کہ ہم نے فطرت ثانیہ بنالی کے ہمارا نفس ہی فیصل ہے جبکہ باری تعالی کا ارشاد عالی ہے  *"إن النفس لأمارة بالسوء إلا مارحم ربي* " نفس عيار  ہے مکاری، عیاری، برائی پر ہی آمادہ کرنے میں پیش پیش رہتا ہے مگر ایسے لوگوں کے نفس کے علاوہ جن پر مہربان الہی ہو ..اور ان کا نفس تابع فرمان ہوگیا ہو.
 *قارئین عظام* . آئیے ہم ایک جائزہ سرسری طور پر شروع کرتے ہیں اور طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ کیا ہم جس کے ماتحت ہیں ہم انکی اطاعت کررہے ہیں یا ہمارا نفس حاکم ہے اور ہم محکوم جبکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے " *اسمعوا وأطيعوا، وإن استُعمل عليكم عبد حبشي، كان رأسه زبيبة"* رواه البخارى
کیا ہمارا شیوہ یہ ہے؟ یا ہم باتوں باتوں پر اپنی زبان سے مردار کا مزہ لیتے ہیں اور اپنی نیکیاں کی زنبیل خالی کررہے ہیں اور علم بغاوت بلند کرنے ہر ممکن کوشش و تگ و دو کی فکر کچھ اس طرح اوڑھ لیتے ہیں کہ ہمیشہ  مضطرب و پریشان خاطر دلبرداشتہ ہوئے  جارہے ہیں اچھی باتیں نرم گفتگو بھی تیر تفنگ بھالا و برچھا سے زیادہ تکلیف کا باعث بنتی ہو اور ہماری عمر عزیز کا سورج رفتہ رفتہ مغرب کے سمت برق رفتاری سے رواں دواں ہے یہ جا وجا گھٹاٹوپ اندھیرا..
کیا یہی ہمارا طرۂ امتیاز ہے؟  یقینا نہیں تو ہمیں کسی بھی جگہ معاشرہ مدارس و مکاتب کے جو منظم اصول ہیں اس سے گریزاں و رو گرداں کیوں کیا خروج و عدول ہی ہمارا مقدر ہے کسی شاعر نے کیا دلپذیر انداز میں دلکشی کیا ہے.
 *اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا* 
 *رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت کرنا* 
آئیں مدعیاں اتحاد و اتفاق کے اصول پر گامزن رہنے والے اور قرآن و حدیث کو حرز جاں بنانے والے جیالے اس دن کی تیاری میں بھی اپنے کو مصروف عمل کریں جس دن نامہ اعمال اگر دائیں ہاتھ میں ہے تو آفتاب و ماہتاب سب اپنے اور اگر بائیں ہاتھ میں ہے نامۂ اعمال خورشید و قمر کی روشنی ٹمٹماتا چراغ 
ہماری یہ کوشش ہو کہ ہم جہاں بھی فروکش ہوں  قوانین و اصول آئین و ضوابط پر عمل کرنے والوں کے زمرے شامل رہیں  اور یہ خدائے وحدہ لاشریک کے لئے بالکل متعذر دشوار نہیں
صرف ہمارے نیات و عزائم درست ہوں کیونکہ فرمان محمدی صلی اللہ علیہ وسلم *انما الاعمال بالنیات* ...
اخیر میں دعاگوہوں کے اللہ جل جلالہ ہمیں قانون شکنی اور حکم عدولی سے محفوظ فرمائے اور مؤمنانہ صفات سے ہمیں لیس فرمادے .. *.واللہ علی کل شئی شھید*

منگل، 23 اگست، 2022

عہــد رفتہ کی آواز سننا




 عہد رفتہ کی آواز سننا  

از:  محمد طاسین ندوی 

اس نیل گگن تلے بود وباش کرنے والے آدم زادے ، بل کھاتی ندیاں، فلک بوس عمارت و پہاڑ ، دامن پہاڑ میں چہچہاتے پرند اور تلاش معاش میں سرگرداں چوپائے جسے دیکھ کر فہم و فراست کا پیکر یہ غور کرنے پر یقینا آمادہ ہوتا ہیکہ اس جہان فانی کا ہے کوئی خالق و موجد لیکن نفس عیار کو بھیس بدلتے ذرا دیر نہیں لگتی ان کےاوپر اتنی دبیز چادر تنی ہیکہ کے کفر و شرک کی بھی تمیز جاتی نظر آرہی  ایسا اس لئے کے دارالبقاء اور دارالقرار کو یکسر بھول جانا اور دنيا دنی کے چکر میں اپنی اصلیت کو کھودینا، جس کاز و مہم کے لئے تخلیق فرمائی گئی اس سے سرگرداں ہونا پہلو تہی کرنا. 

 ائیے ذرا غور کرتے ہیں اس فرمان باری تعالی پر " إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا"نساء ١١٦

باری تعالی نے وضاحت فرمادی کچھ گناہ و بغاوت انکی مشیت سے یک لخت ختم لیکن ان کی ذات و صفات خاصہ  میں کسی طرح کی کوئی آمیزیش پائی گئی تو لاکھ سر پٹخاجائے حاصل صفر کیونکہ اسے رب العزت نے  ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے، ظالم و جابر کو اللہ تعالی بالکل برداشت نہیں فرماتا ،.

قارئین عظام!  اس مضبوط ومستحکم اصول کے تناظر میں اگر ہم اپنا اور اپنے معاشرہ و مجتمع کا جائزہ لیں ،غور کریں تو یہ عیاں ہوگا کہ کچھ ایسے لوگ بھی رہتے بستے ہیں جنہیں اس کا مطلق علم نہیں کہ وہ مشرکین قدامی  کے راہ پر گامزن ہیں اور انہیں اسکا  احساس تک نہیں ایسی صورتحال میں علماء اسلام کی ذمہ داریاں دو گنی ہوجاتی ہیں لیکن ہم بھی اس دنیاء فانی کے ٹیپ ٹاپ اور تام جھام میں ایسے گم ہوئے جارہے کہ  عمر رفتہ کی ساری باتیں  عجیب محسوس ہورہی ہیں-  پناہ خدا- جبکہ ہمیں عہد رفتہ و عمر رفتہ کی پکار پر لبیک کہنا چاہئیے تھا 

آئییے اللہ تبارک وتعالی سے تجدید عہد کریں اور اس عہد و معاہدہ کو  حتی المقدور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی سعی پیہم کریں  پھر ان شاء اللہ  کچھ سکون و اطیمنان نصیب ہو 

اللہ تعالی ہمیں بھی اس  قیمتی نسخہ  پر عمل کی توفیق بخشے اور شرک و بدعات ،خرافات و رسومات  سے محفوظ فرمائے آمین  قادر مطلق ہی مہربان ہے.

جمعہ، 19 اگست، 2022

وہ ہونہ سکا جوسوچا تھا





 وہ ہو نہ سکا جو سوچاتھا 

ازقلم:  محمد طاسین ندوی 

بنی آدم  اس جہان رنگ و بو میں  آنکھیں کھولنے کہ بعد کچھ ایسے ارادے و عزائم کے بار گراں تلے دبے ہوتے ہیں کہ اگر نکلنا چاہے تو نکلنا مشکل ہر طرح کی تگ ودو کہ بعد باری تعالی کے حضور اپنی ساری بازی ہارجاتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو خالق کائنات ہی تو قادر مطلق وذات عالی صفات ہے جس کے سامنے بڑے دقاق و ماہر علماء اور دانشوران سب حقیر کسی کی کوئی نہ حیثیت اور نہ ہی اوقات کے اپنے بارے میں بھی کوئی حتمی بات کرسکے ان ساری باتوں سے واقفیت کے بعد بھی ہم حضرت انسان کھار دار وادی میں آبلہ پا ہورہے ہیں اور ذرا بھی ہوش کا ناخن نہیں لیتے کہ ہم کس لئے برپا کئے گئے تھے کہا ہمارا منشود و ہدف تھا اور کس طرف ہم بہے جارہے ہیں اگر ہم اپنا محاسبہ کریں تو یقینا یہ صدائے بازگشت  زبان قال سے نہیں تو زبان حال سے ہی سہی سنائی دے گئی وہ ہو نہ سکا جو سوچا تھا.

قارئین کرام!  

ہماری عمریں رفتہ رفتہ سفر آخرت کی طرف رواں دواں ہیں  ہمیں یہ نہیں معلوم کے کب کاتب اجل کا بلوا آئے اور ہم آخرت سدھار جائیں اسی لئے ہم بندگان خدا کو یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہئیے اور دنیا سے زیادہ آخرت کو سنوارنے کی فکر دامنگیر کرلینا چاہئیے کہ ہمارے اعمال کیا ہیں اگر  درست و موافقِ کتاب سنت ہیں تو ہمارے وارے نیارے، ہاں اگر شریعت سے روگردانی ہماری فطرت ثانیہ ہے تو ہم اپنی خیر منائیں یا پر توبہ، استغفار اور انابت الی اللہ کے لئے اپنے قدم کو بڑھائیں کیونکہ فرمان رسول اللہ ہے "التائب من الذنب کمن لاذنب لہ " 

گناہوں سے تائب ہوجانے والا ایسا ہے جیسا ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو 

اے علمبرداران توحید ومدعیان اسلام ہم  اپنی انکھیں کھولیں اور اپنا محاسبہ کریں اور جائزہ لیں کہ کیا کھویا اور کیا پایا قبل اس کے کہ باری تعالی کے سامنے ہماری حاضری ہو اور ہم نادم و پشیمان ہوں جب کہ اس وقت کی ندامت سے کوئی فائدہ نہیں.

تعلیمات نبوی کو اپنا حرز جاں بنائیں کتاب و سنت کو اپنا آئیڈیل و نمونہ بنائیں اور اپنا محاسبہ ازخود کریں پھر دیکھیں کہ کیا لطف ہے زندگی جینے میں ..وماذلك على الله بعزيز.

منگل، 10 اگست، 2021

سال نو اور ہم امت مسلمہ






 سال نو اور ہم امت مسلمہ
ازقلم: محمد طاسین ندوی 
نیا سال ہجری1443 کی شروعات ہے ہر طرف سے نیا برس کی صدائے بازگشت سماعت سے ٹکرا کر یہ ضرور یاد دلارہی ہیکہ تیری زندگی پہلے سفر کی آخری منزل سے قریب تر ہوتی جارہی ہے ارے بندئے خدا تم کس چیز میں  مست و مگن  ہو ذرا ٹہرو اور اپنا جائزہ لو محاسبہ کرو کہ کیا کھویا اور کیا پایا. لیکن عقل عیار کو یہ بات کہاں سمجھ میں آتی بس وہ یہ کہتی ہیکہ چلو نئے سال کی ابتداء ہوگئی اور ہماری عمریں دراز ہوئیں لیکن اس طرف بالکل ہی توجہ نہیں کہ ہم نے بحیثیت امت دعوہ و امت مسلمہ کہ اپنے اوپر عائد ذمہ داریاں کو بحسن و خوبی انجام دیا یا رقص و سرود ، مٹر گشتی، کھان پان ،عیش و عشرت، گل چھرے اور بدمستی میں اپنے حیات مستعار کو رائیگاں و برباد کیا .عقل عیار فورا یہ راگ الاپے گی کہ یہ کیا؟ ہم نے تو اپنی زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے میں تمام کیا لیکن یہ صد فیصد صحیح کہاں حقیقت تو یہ ہیکہ ہم نے مرضیات الہی کی پرواہ کئیے بغیر اپنی زندگی کے ایام مست و مگن بیتاتے چلے گئے اور یہ احساس تک نہ ہوسکا کہ ہماری دیوار عمر کی ایک انیٹ گری اور دیوار کمزور ہوچلی ماضی قریب و بعید کو ہم نے جیسے تیسے تو گزارا گزار لیا لیکن اب بھی عہد وعزم کریں کے ہم اپنے کو سنوار کر اپنے سینوں کو بغض و عناد حسد و کینہ سے صاف و شفاف کرنے کی فکر دامنگیر کریں اور بے ضرر اور مثبت سوچ کہ ساتھ زندگی گزار کر ایک ایسی مثال قائم کریں کہ بنی آدم کے دلوں میں ہماری عظمت جاگزیں ہوجائے  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنا اوڑھنا پچھونابنالیں احکام خداوندی پر مکمل گامزن رہیں دنیاوی امور میں اپنے سے نیچے طبقے پر نظر ڈالیں کتاب و سنت کو ہم اپنا حرز جاں بنائیں دلبرداشتہ، احساس کمتری کا شکار ہونے سے اپنے کو دور رکھیں اور پھر دیکھیں کہ زندگی جینے کا مزہ کیا ہے .
قارئین کرام!  ہم امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہیکہ اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے برادران کی بھی فکر کریں کیوں کہ باری تعالی کا فرمان ہے .."کنتم خیر امة أخرجت للناس "  تم ایک بہتریں امت ہو اور لوگوں کے لئے برپا کئے گئے ہو تو ہم چاہئیے کہ یہ یاد رکھیں  کہ سن ۱۴۴۲ھ   جس طرح گزرا گزار لیا اب لوٹیں اپنے اصل کی طرف اور بچائیں اپنے کو ہر ممنوع ومحرم اشیاء سے ماہ محرم کے خرافات و بدعات جھڑنی و تازیہ بازی  کھچڑا و بیہودگی سے کیونکہ یہ سراپا زحمت روح  ہے اور ہلاکت و بربادی اس سے عبارت ہے اور ہمارا اصل مشن سے کوسوں دوری کی بین دلیل ہے اور یاحسین اور بےتکے نعروں سے اپنے کو بچائے رکھیں اور ہوش کے ناخن لیں کہ ہم سے پہلی امتیں اپنے ہٹ دھڑمی کیوجہ سے ہلاک ہوئیں اور قعر مذلت کے دلدل میں ایسے لت پت ہوئیں کہ آئینہ کے سامنے کبھی نہ آسکیں 
ہمارے لئے اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنے پچھلے گناہوں سے توبہ استغفار کریں انابت الہی کو مقصد زندگی،  عفو و درگزر کو اپنا وطیرہ بنالیں خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سیکھیں سینہ کو پاک لرلیں بے ضرر بنکر اپنی زندگی کی شام کریں ان شاء اللہ العزیز ہم کامیاب وکامران ہونگے 
 

اتوار، 30 مئی، 2021

مسلمانان نیپال اور ان کی ذمہ داریاں





 موضوع: مسلمانان نیپال اور ان کی ذمہ داریاں

تحریر: حضرت الاستاذ محمد طاسین الندوی

بآواز: محمد عمران نیپالی

(خود بھی سماعت فرمائیں اور دوسروں تک بھی شیئر کریں)

مزید اسی طرح علماء کرام کی دینی و اصلاحی مضامین و مقالات،حمد و نعت نظم، اور مؤقر علماء کرام کی بیانات سننے اور دیکھنے کے لئے ہمارا یوٹیوب چینل MD Imran Nepali Official کو ضرور سبسکرائب فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ،  (اشکرالله تعالیٰ شکراً عظیما وأشکرکم)  

PLZ SUBSCRIBE OUR CHANNEL MD IMRAN NEPALI OFFICIAL,  AND PRESS BELL ICON , 

LIKE AND COMMENTS THE VIDEO CLIPS AND SHARE,. ( THANKS FOR YOU SO MUCH 💘)


https://youtu.be/CaqjIzN-OpU

پیر، 17 مئی، 2021

یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ تجھے

 





یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ تجھے 

ازقلم محمد طاسین

اس نیل گوں آسمان تلے جتنے بھی مخلوقات نظر آرہے ہیں ان سب کو فنا ہونا ہے اور ہمیشہ رہنے والی ذات اگر کوئی ہے تو اللہ جل جلالہ وعم نوالہ کی ہے کیونکہ  ان کی ذات ابدی ہے لم یزل ولایزال حیی قیوم ہے کبھی ختم ہونے والی نہیں پورے  کائنات کا نظام ان کے ہی زیر نگوں ہے موت و حیات کا مالک کل ہے جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا جلاتا ہے لیل ونہارکی گردش ان کے ہی تابع فرمان ہے چنانچہ فرمان نبوی ہے "انا الدھر اقلب اللیل والنہار "کتنے رت بدلے ،آندھی اور طوفان آئے، دنیا تہ وبالا ہوئی بنی بگڑی متعدد و نوع بنوع کے مخلوقات خداوندی معرض وجود میں آئے ..اور چلے گئے کیونکہ کوچ کرنا یہ جزء لاینفک ہے دوام تو صرف اور صرف ذات وحدہ لاشریک لہ کی ذات کو ہے موت و حیات اسی کے حکم پر مأمور ہے 

قارئین کرام! مورخہ ۳ شوال المکرم ۱۴۴۲ھـ بروز اتوار بوقت مغرب ایک روح فرسا خبر میرے کانوں تک پہنچی کہ استاذ گرامئ قدر جناب مولانا صدرالعالم ندوی صاحب- جو عرصۂ دراز سے بستر مرگ پر تھے اعضاء و جوارح ازکاررفتہ ہوچکے تھے -اس دار فانی سے کوچ کر گئے اوراپنے خالق حقیقی کے آغوش میں چلے گئے خبر سن کر دکھ ہوا جو انسانی صفت ہے لیکن دوسری طرف زبان سے یہ نکلا کہ اللہ نے اپنے پاس بلا لیا بہت بہتر ہوا کیونکہ مولانا علیہ الرحمہ بڑے دنوں سے صبرو ضبط ایوبی کے ساتھ بیماری برداشت کئے جارہے تھے  اور ان کی شریک حیات بحسن و خوبی انکی ساری خدمات انجام دے رہی تھی لیکن دھیرے دھیرےان کے لئے بھی مولانا کی خدمت قدرت سے باہر ہوتی نظر آرہی تھی کیونکہ وہ بھی کمزور اعصاب رکھتی ہے. مولانا علیہ الرحمۃسے مجھے کئی سالوں  تک کسب فیض کا موقع ملا ہدایة النحو، كليه دمنة او ر معلم الإنشاء کے اسباق مجھے مولانا سے پڑھنے کاشرف حاصل رہا نماذج من حیاة الصحابه کے بھی چند اسباق انکی رہنمائی میں مطالعہ کیا مولانا نہایت رقیق القلب تھے جب بھی کسی انبیاء، صحابہ،تابعین،صلحاء  غرض یہ کہ اسلاف میں سے جنکا ذکر آتا ان کے مصائب و آلام کاتذکرہ ہوتا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں اور روتے روتے کبھی ہچکیاں بندھ جاتی اور کبھی حالت دیگرگوں ہوجاتی بہت ہی مشکل سے اپنے کو قابو کرپاتے اللہ تعالی نے اتنا نرم دل اور نرم خو بنایا تھا   لیکن اسوقت ہمارا لڑکپن یہ کہ ہم اس ولی اللہ کے دوررسی اور فراست سے نابلد ہونے کی وجہ سے قدر جس طرح ہونی تھی نہ کر سکے  مولانا محترم نہایت ہے نیک دل  خلیق ، ملنسار ، مہمانواز اور متحرک و فعال استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مربی طلبہ سے حد درجہ محبت کرنے والا اخلاق عالیہ، مستحکم اصول ،بلند عزائم و حوصلہ کے مالک تھے اللہ تعالی نے  مولانا کو انہیں چنیدہ صفات و خوبیوں کی بنیاد پر  دارالعلوم نورالاسلام کے  ذمہ داران نے اہتمام کی کرسی بھی سونپی تھی ماشاء اللہ انکی مدت کارکردگی بہت عمدہ اور مثالی ثابت ہوئی.

 مولانا علیہ الرحمہ بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے

"یاد کرکہ روئیں گے یاران میخانہ تجھے"

یہ چند غیر مرتب سطور راقم نے آپ کے سامنے سپرد کیا انکی زندگی کے بہت سارے پہلو باقی ہیں  راقم جتنا بھی سپرد قرطاس کرے ان کا حق ادا کرنہیں سکتا 

اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کے یا اللہ  بشری خطاؤں کو درگزر فرماکر انبیاء، شھداء، صالحین کے زمرے میں شامل فرمادے اور  جنت الفردوس میں اعلی مقام دے آمین یارب العالمین  

 

ہفتہ، 15 مئی، 2021

اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے




 اے موت ذرا رک جاہوش کا ناخن لینے دے

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

اس کرۂ ارضی پر جتنے بھی ذی روح رہتےبستے ہیں سب کو ایک دن لقمۂ اجل ہونا ہے اور یہی نظام الہی ہے اور تاقیامت یہ نظام جاری وساری رہیگا لیکن کچھ ایسے افراد امت جو گمنام ہوکر بھی بہت ہی نامور اور معروف ہوتے ہیں اور انکی ناموری سے امت مسلمہ کا ایک خاص گروہ اور طبقہ واقف ہوتا ہے اور انکی زبانیں اس فرد و بشر کی رحلت کے بعد انکے ذکر اور یاد سےرطب اللسان رہتی ہیں خود کو چلے گئے لیکن انہوں نے لوگوں کے دل و دماغ پر ایسی مہر ثبت کیا ہیکہ کہ صبح و شام ان کا چرچہ اور ان ہی کا تذکرہ .اسی کی ایک کڑی ہمارے استاذ مکرم جناب مولانا عبدالقدیر ندوی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ کی اہلیہ مرحومہ تھی جو نہایت ہی خلیق. ملنسار ,ہنس مکھ کسی سے ملتی تو خندہ پیشانی اور تپاک سے میں بھی اسی محلہ کو رہنے والا ہوں جس میں مولانا محترم کا دولت کدہ ہے لیکن مجھے قطعا اس کا علم نہ تھا لیکن ان کی اہلیہ کی وفات کے بعد چند ایسے مردو خواتین سے میری گفتگو ہوئی کہ جب میں نے ان کی صفات سے آگاہ ہواتو  دل سے آواز آئی اچھے افراد بہت جلد رحلت کرجاتے ہیں اور طبیعت نے آمادگی ظاہر کی کہ ان کے محاسن کو سپرد قرطاس کیا جائے کیونکہ فرمان نبوی ہے" أذكروا محاسن موتاكم " الله تعالى مرحومہ کی مغفرت فرمائے. بشر تھی کچھ نہ کچھ کمی کوتاہی ہوئی ہونگی اس سب کو دور فرماکر انبیاءو صالحین اور اتقیاء کے زمرے میں شامل کردے. آمین یارب العالمین .

قارئین کرام ! یہ تو پہلی کڑی تھی جس کا ذکر کیا گیا اب آئیے آپ کو ایک ایسی شخصیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو بہت فعال, متحرک مدرسۃ الحرمین کاٹھمنڈو کے بانی و مہتمم اور سینکڑوں لوگوں کے دل میں بسنے والے نہایت ہی بااخلاق مہمان نواز غریبوں کا بھر پور خیال رکھنے والا  جناب الحاج حافظ حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے جس کے بارے میں ایک صاحب نے فون پر  بتایا غریبوں کا مسیحا جاتا رہا یقین جانئیے مجھے قطعا اس کا اندازہ نہیں کہ کون کس بھیس میں کونسا کارہائے نمایاں انجام دینے کے لئے سرگرداں و کوشاں ہے ابھی بھی عیدالفطر کے لئے ضرورتمندوں اور بیواؤں کے لئے سامان عید و پوشاک کا انتظام اس بندہ خدا نے کروایا تھا 

اللہ تعالی ان کو اس کا اجر جزیل عطاء فرمائے.


حافظ حسین صاحب مرحوم .مزاح پسند تھے اگر ان کے ساتھ کسی مجلس میں بیٹھتے تو مجلس اختتام تک ہر بھری رہا کرتی تھی .

بہر حال موت ایک اٹل حقیقت ہے اس سے کس کو رستگاری ہے لیکن موت العالم موت العالم یہ بھی ایک حقیقت ہے 

مرحوم کئی دہائیوں سے مدرسۃ الحرمین کاٹھمانڈو جس کے بانیان میں سےتھے اور اس کے اہتمام کے منصب پر فائز بھی تھے سینکڑوں نونہالان اسلام تک فیض پہنچایا جو انکے لئے صدقہ جاریہ ہیں .

بہت صبر آزما مصائب و آلام نے بھی دستک  دیا جس کا اس شیر دل شاہیں صفت مرد آہن نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنے وجود کو منوانے میں کوئی کسر نہ چھوڑا لیکن ہم سب اس سے بخوبی واقف ہیکہ موقت شئی برحق ہے اور اس کا وقت متعین 

موت نے انہیں آپنے آغوش میں لے لیا ابدی نیند سوگئے لیکن ان کے انمٹ نقوش ہیں کہ انسانوں کو انکے ذکر پر برانگیختہ کرتے ہیں اور ان کے تذکرے سے دل بھر جاتا ہے آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں اور بے ساختہ دل سے یہ نکلتا ہیکہ 

"ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے"

اللہ حافظ حسین صاحب کےسییئات کو حسنات سے بدل دے اور جنت الفردوس نصیب فرمائے آمین.

اخیر میں سبہوں سے یہ درخواست ہے کہ حالات بہت ہی پر خطر ہیں .ہر طرف  شور وگل ہے. موت ہی موت کی صدائے بازگشت کانوں سے ٹکرارہی ہے اپنوں اور پرائیوں کو دفن کررہے ہیں ہم حراساں نہ ہوں بلکہ   ایسے واقعات و حالات میں ہمیں کمربستہ ہونے کی اشد ضرورت ہے  اور اپنے کو  سفر آخرت کے لئے تیار رکھنے کی طرف توجہ دینے کی نہ  جانے اگلی باری کس کی ہو . بہت ہی پر آشوب حالات ہیں .کرونا نے وبائی شکل اختیار کرلیا ہے سینکڑوں افراد لقمۂ اجل ہورہےہیں. اب بھی ہمیں ہوش کا ناخن لینا چاہئیے 

اے مالک ارض و سماء اس آزمائش و امتحان سے ہم سبہوں کو محفوظ رکھ ہم نہایت ہی کمزور ہیں تو ہی سراپا طاقت و قوت والا ہے اپنے حکم سے اس وباء کو ختم فرما سکتا ہے. اس کو ختم کردے.آمین یارب المستضعفین

جمعرات، 29 اپریل، 2021

دہکتی آگــ اور جھلستی دنیا

 



دہکتی آگ اور جھلستی دنیا

ازقلم: محمد طاسين ندوي  

ابھی ایک برس مکمل ہوئے ہی کہ دنیائے فانی نے اپنی تاریخ میں شاید ایسا منظر نہیں دیکھا .وقت گزرے، دن بیتے،ماہ و سال تمام ہوا، عیش و عشرت کے دن گئے لیکن ایک ذرۂ جو واقعی ذرہ ہے اس نے عالم انسانیت کے اوسان خطا کردیے ہزاروں ہزار برس عالم فانی کے وجود کو ہوگئے تاریخ نے عجیب و غریب قسم کا یو ٹرن لیا لیکن اس وقت جو دنیا کی پوزیشن ہمارے سامنے ہے شاید کبھی دنیا نے ایسے دن دیکھے ہوں اگر عالمی منظرنامہ پر نگاہ مرکوز کیا جائے تو سب سے پہلے ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان سے چشم پوشی نہیں کیا جاسکتا روز افزوں وبائی مرض کوروناکے مریض کا لامتناہی سلسلہ اور اس سے لقمۂ اجل و جاں بحق ہونے والوں کے لامحدود اعداو شمار نے ہمارے عقلوں کو ایسا للکارا ہے کہ ہے کوئی وحدہ لاشریک لہ کے علاوہ کہ اس سسکتی، دم توڑتی انسانیت کو اپنے سارے آزمودہ نسخے اور حربے سے بچانے کی تدبیر کرے؟ تو دل گویا ہوتا ہے نہیں،بالكل نہیں "الملك لله الأمر لله " شہنشاہیت اللہ تعالی کی ہے اور ان کا ہی حکم قابل عمل ہے وہ دھاڑنے والے  شیر اور زمین پر اکڑ کر چلنے والے افراد انگشت بدنداں ہیں سارے وسائل ختم ہوتے نظر آرہے ہیں عالمگیر سطح پر اپنے مدد کی گوہار لگارہے ہیں . ہے کوئی جو ہمارے درد کا ساماں کرسکے ہمارے دفن ہوتے لاشوں، جلتے چتاؤں کی سانس روکنے کےلئے آکسیجن فراہم کرسکے تو اس دنگل میں جہاں بہت سارے ممالک اترتے ہیں ان میں  سے ایک بڑا نام سعودی عرب کا بھی ہے جس نے ۸۰ میٹرک ٹن لیکوڈ آکسسیجن ہندوستان بھیجے دیے ہیں لیکن کچھ غلط عناصر نے اس انسانیت کی بقا کی فکر کرنے والے  اور اس نوازش پر بھی پھبتیاں کستے نہیں رک رہے. آخر ایسا کیوں کررہے ہیں؟  اسی لئے ناکہ ایک مسلم ملک نے انکے بچنے کے سامان مہیا کیا ہے  تاکہ روز مرہ جو ہزاروں نفس دینا چھوڑ رہی ہے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ہندوستان میں خاص طور پر اور عالمی منظر نامہ میں عام طور پر نفسا نفسی کا عالم ہے ہندوستان کے قبرستان اور چتا جلانے کی جگہیں زبان حال سے کہ رہی ہیں اے حکمراں میں وقت میں وسعت کے باوجود تنگ پڑ رہی ہوں انسانیت کو بچانے کی فکر دامن گیر کرو اور اپنی اکڑ سے باز آؤ اگر اب بھی اس پر توجہ نہیں دی تو یاد رکھو اللہ کی پکڑ بہت ہی سخت ہے خوب کودو ,راگ الاپو لیکن ایک نہ ایک دن تابعِ فرمان ہونا پڑے گا تمہیں نہیں معلوم کے کتنی بیوبیاں بیوہ، کتنے بچے یتم ہورہے ہیں, اور کتنی دوشیزاؤں کے خواب اجڑ رہے ہیں 

کچھ تو شرم کرو انسانیت کو بچانے کی فکر کرو دفن ہوتے لاش، جلتے چتاؤں سے کچھ تو عبرت لو 

اور اپنے کو انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار کرو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی 

اس وقت پرآشوب میں بھی تمہارے پالتو کتے اپنا الو سیدھا کرنے میں سر گرداں و حیراں ہیں 

انہیں مسلمان دوست نہیں، پھاڑ کھانے والے درندے سمجھ رہے ہیں ایسا اس لئے ہےکہ جس عینک سے ایسے انسانیت دشمن افراد دیکھتے ہیں ان کے عینک ہی کالے ہیں عقلوں  پر دیبز قسم کے پردے پڑے ہیں سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دیکھنا انکی فطرت ثانیہ ہے  ایسے بدزبان اور بدگو دریدہ دہن کو حقیقت سے کیا سروکار،   انہیں بس بھونکنے کی عادت ہوتی بے بھونکتے چلے جاتے ہیں چاہے نقصان پر نقصان ہوتا چلا جائے ..

قارئین کرام!  ایسے دل دہلانے والے واقعات و ستم سے ایسے لوگ بالکل سبق نہیں لیتے ان کے ہوش ضرور اڑے ہوتے ہیں مگر دوسروں کی تکلیف سے انہیں راحت ملتی ہے ایسے حالات و وقت میں گفتگو اور بات چیت کورونا سے نپٹنے کی کرنے کے بجائے انگارے میں پٹرول ڈالنے کا کام کیا جارہا ہے اور حکومت وقت کو بالکل شرم نہیں آرہی کہ ایسے افراد و جماعت اور ہفوات, ہزیان بکنے والے کو سلاخوں  کے پیچھے  کیوں نہیں ڈھکیلتے  ... یہ اس لئے نہیں ہوپارہا ہے کہ دونوں ایک ہی راہ کے مسافر نظر آرہے ہیں.

اے انسانیت کی فکر کرنے والو! انسانیت کی بقاءو تحفظ کا سامان  فراہم کرنے والو اپنا کام کیے جاؤ ان شاء اللہ تاریخ تجھے یاد رکھے گی اور تمہارا مرتبہ ضرور بلند ہوگا ان کا جو فرض ہے وہ جانے 

لیکن ہمارا پیغام محبت جہاں تک پہنچے. ہم اپنی کو ہلکان کرنے کے بجائے باہمت اور جوانمردی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے قدم آگے بڑھاتے چلیں کامیابی اللہ ضرور مقدر فرمائے گا. ایسے نازک وقت و حالات میں کسی کے لئے تعاون کا ہاتھ بڑھانا اللہ جل جلالہ کے پاس مقتدر اور مقرب ہونے کی واضح علامت ہے 

اللہ تعالی انسانیت کو اس آزمائش سے جلد نجات دے اور ہر مصائب آلام سے دور رکھے اور ہمیں کچھ ذخیرۂ آخرت کی توفیق بخش دے کیونکہ تو ہی قادر مطلق اور مختار کل ہے  ..آمین .

وماتوفیقی الاباللہ رب العالمین 

بدھ، 3 مارچ، 2021

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

 










کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

ازقلم:  محـــمد طاسین ندوی

دن کی روشنی  ہو ہا شب دیجور انسان ہر آن ولحظہ اپنی خواہش،ہوس رانی، آرزو، تمنا،امید بَر کیسے آئے اسی چکی کے اردگرد حیران و سرگرداں نظرآتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ ہم نے اپنے صفت حیوانیت کو غالب اور ملکیت کو مغلوب کررکھا ہے ہم ہوس کے دیوی دیوتا کہ بےباک پجاری بنے اپنے معاشرہ میں بھیڑئیے کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ہمیں ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ ہماری شان تو بہت ہی بلند اور ہمارا کام تو بہت ہی اعلی وارفع تھا لیکن ہمیں تو دنیا طلبی، احسان فراموشی،ظلم و جور نے قعر مذلت میں ایسا ڈھکیلا کہ آج انسانی شکل میں شیر اور چیتا سے کم نہیں سوسائٹی برباد ہوتی چلی جارہی ہماری دوشیزائیں، نوجوان کے کرتوت و اعمال ایسےہوگئے کہ انسانیت شرمسار ہوکر اپنی ناک رگڑنے پر مجبور ہے.

ابھی گذشتہ کل کا  دل دوز،جاں گسل،روح فرسا عائشہ عارف کا حادثۂ خودکشی سے ہر خاص و عام واقف ہیں کہ عائشہ کیوں عارف کی بھینٹ چڑھ گئی یقینا اسکا جواب سبہوں کے پاس ہوگا لیکن کیا ہمیں  اس کے بعد بھی یہ یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ ہمارے سماج میں بے شمار عائشہ اسی لعنت جہیز کی وجہ سے زیست و موت سے نبرد آزماہیں اور ان گنت عارف نما حریص بے ضمیر سسرالی ٹکرے پر پلنے والے بھیڑیے دندناتے پھر رہے ہیں اسی وجہ سے


 کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا      

 بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا      

  عارف جیسے پلید کو راہ راست پر لانے کی فکر کریں یا ان جیسے حریص درندے کو انکی اوقات یاد دلانے کی ہم  کوشش کریں اور ایسے ہوس کے پجاری جو سسرالی ٹکرے پر دم ہلاتے ہیں اس کی دم کو کاٹنے کی ہر ممکن کوشش ہو اس کا سماجی بائیکات کیا جائے ایسے درندوں کی  فرحت وانبساط غم و اندوہ کے موقع سے بالکل اپنے کو جدا رکھے تاکہ اس پلید مشت خاکی کو اپنی اوقات کا پتہ چلے کہ کتنا نکمی اور بے یار ومددگار ہیں ہم .

قارئین کرام! یہ فقط ایک عائشہ عارف کا مسئلہ نہیں ہے ہر روز و شب کتنی دوشیزائیں جہیز کے طعنے اور تیر و تفنگ کی زد میں آکر اپنی جان کی بازی ہار رہی ہیں آئے دن اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں لیکن ہمارے سماج میں رہنے والے ناسور کو اس سے کیا لینا دینا جان جس کی جانی ہو جائے انہیں تو اپنی جیب و پیٹ کی فکر آن پڑی ہے بچیاں اپنے والدین کے گھر بن بیاہے ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں انہیں تو سونے اور نقد کتنے ملیں گے اس کی فکر پریشان کیا ہوا ہوتا ہے یہ ہمارے سماج کے لوگ بھول گئے کہ حسن ومال سے مقدم  دینداری ہے ہمیں بحیثیت مسلمان کس امر کو فوقیت دینا چاہئیے اس جانب تو شاید  ہمارا ذہن و دماغ کا گزر بھی نہیں چہ جائیکہ اس پر ہم توجہ دیں ہم تو دیکھتے اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو جن کے لئے دنیا کو جنت بتائی گئی ہے ہماری اصل زندگی تو اخروی زندگی ہے 

اگر ہم علماء و دانشوران نے اس فتنہ کے سدباب کی کوشش نہیں کی تو اللہ تعالی ہم سے یہ ضرور دریافت کریں گے کہ تم نے اپنی ذمہ داری و فرض منصبی کو کما حقہ ادا نہ کیا تم بھی مجرم ہو سینکڑوں عائشہ لقمہ اجل ہوتی رہیں اور تم تماشہ بیں بنے رہے جبکہ تمہیں شریعت نے منکَر سے روکنے کا اہل بنایا تھا 

اللہ سے دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی کار خیر کی توفیق بخشے اور جہیز جیسی  لعنت سے ہم سبہوں کو محفوظ فرمائے آمین یارب المستضعفین

جمعہ، 5 فروری، 2021

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے



اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

    ازقلم: محمد طاسين ندوی

دنیا نے بہت بہاریں دیکھی نہ جانے کتنے مصائب و آلام آئے اور چلے گئے لیکن سن عیسوی ۲۰۲۰میں جو مصیبت و آزمائش آئی وہ تا ہنوز جاری ہے اور اللہ کو معلوم کب تک انسان عالم اس المناک بھٹی میں تپتے رہیں گے

یقینا یہ ممکن ہیکہ اس آزمائش سے ضرور نکلیں لیکن کب تک یہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ  اللہ تعالی  کے ہاتھ میں لیل و نہار کا زمام کار ہے فرمان نبوی ہے " وأنا الدهر، بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار "متفق علیہ بلاشبہ  وہ جیسا چاہے، جوچاہے،جب چاہے کرسکتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے چونکہ ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں تو  یہی مقتضائے ایمان بھی ہے. 

لیکن کیا ہم نے غور کیا کہ ایسے پر آشوب دور میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا تو میں بحیثیت ایک مولوی  یہ ضرور کہونگا کہ تعلیم و تعلم سے دوری ہوئی، مدارس بند ہوئے، تنخواہیں بند ہوئیں، لیکن خود اعتمادی ضرور پیدا ہوئی ہمارا بڑا طبقہ جنہوں نے اپنا انحصار مدارس کی تنخواہ پر کیا تھا انہوں  نے اپنی آنکھیں کھولیں، فضا کی رنگینیاں دیکھیں، محنت سے جی چراتے تھے اسکا خون کیا محنت کی طرف قدم بڑھایا اور اپنے کو کسی لائق بنانے کی تگ و دو کیا الغرض جو ہمارا میدان"تجارت" ابتداء سے ہونا چاہئیے تھا -مرتا کیانہ کرتا-اس کی طرف پلٹے تو میں کہونگا کہ یہ  حالات من وجہ ہمارے لئے باعث خیر بھی ہے اور ہو کیوں نہ کہ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے میں اپنے بندوں کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،

. تو کیا اس مالک حقیقی کو ہمارے ایسے حالت زار -جس میں بہت سے  انسان سوکھی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں - پر رحم نہیں آئیگا؟ یقینا آئیگا اللہ نے ہمیں ایک موقع اپنے کو مضبوط کرنے کے لئے عنایت کیا ہے ہم علماء طبقہ کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ہم کبھی مسجد میں امام، مدارس میں استاذہواکرتے تھے پورے معیشت کا انحصار ان معمولی تنخواہوں پر ہوا کرتی تھی تو اب اللہ نے ایسا موقع دیا ہیکہ ہم کچھ کرلیں تاکہ معیشت جو ہمارا بڑا مسئلہ ہے اس کا حل سنت نبوی پر گامزن ہوکر نکالیں کیونکہ تجارت سنت ہے اور اگر امانت داری اور دیانت داری سے کیا جائے تو باعث رحمت و برکت بھی اور ہمیں اس کام کے لئے کمربستہ ہونا چاہئے وساوس شیطان کو منوں مٹی تلے دفن کر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر کا مصداق ہونا چاہئے کہ 

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے 

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے 

قارئین کرام!ہمارے دلوں  میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ اس وقت دنیائے آب وگل ایسے حالات سے دوچار ہیکہ کوئی  قرض بھی نہیں دے سکتا سب کسم پرسی کے عالم میں ہیں راس المال اور پونجی کہاں سے آئے تو یاد رکھئیے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی تجارت کی شروعات دوکیلو پنیر سے کیا تھا لیکن جب اس دار فانی سے رحلت کر گئے اسوقت ان کے خزانے سیم زر سے بھرے تھے

اللہ نے اتنا مال و منال سے سرفراز کیوں کیا،ایسا اسلئے ہوا کہ انہوں نے اپنا ایک مستحکم اصول بنایا تھا کہ سامان ادھار نہیں خریدنا ہے اور ناہی ادھار فروخت کرنا ہے اور ادخار بھی نہیں کرنا ہے چاہے ایک روپے منافع ہو فروخت کردینا ہے نہ کہ دس روپے منافع کے انتظار میں عوام الناس کو ایذا پہنچانا ہے ،ہمیں چاہئیے کہ ہم بھی اپنا ایک منظم و مستحکم اصول پر کار بند ہوکر تجارت کی طرف پیش رفت کریں ان شاء اللہ  ایک دن کامیابی ضرور قدم بوسی کریگی 

اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہم علماء اسلام کی  دستگیری فرمائے معاشرے میں معزز و بھلا انسان بنائے  آمین یارب العالمین 


ہفتہ، 30 جنوری، 2021

کیوں ہم زباں نہ کھولیں....؟




کیو
ں ہم زباں نہ کھولیں ....؟
ازقلم:  محمد طاسین ندوی 

اللہ تعالی نے دنیائےفانی کو وجود بخشا پھر اسے زیب و زینت سےآراستہ کرنے کے لئے بے شمار مخلوق کی تخلیق فرمائی ان مخلوقات میں بنی آدم کو ہر مخلوق سے بالا تر بنایا اورمختلف رنگ و نسل کو برپا کرنے کے بعد رہنے سہنے برتنے، ٹٹولنے کا ڈھنگ و سلیقہ سے روسناش کیا مخلتف قبائل و نسل کو محض بہتر اور عمدہ طریقہ سے بود وباش کرنے اور آپس میں تال میل والی زندگی کے لئے وجود بخشا چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا" الحجرات ۱۳
اے لوگوں ہم نے تجھے مردو زن بناکر پیدا کیا اور ہم نے ہی جماعت و قبائل بنائے تاکہ آپس میں معرفت و تال میل ہو، لیکن کیا ہم اس پر عمل پیرا ہیں یا اس حد کو پار کرکہ بہت دور نکل گئے ہیں یہ ایک سوال ہے جو انسانی ذہن ودماغ کے پردے سے بار بار ٹکراتا ہے اور زبان حال سے گویا ہیکہ اے مخلوق خدا کہاں جارہے ہو؟ ہے کوئی جو اپنی چپی توڑے اور انسانیت کے تحفظ و بقاء کے لئے عمل پیہم اورجہدمسلسل کرے اور بے سرو پا کے سوالات اور فروعی اختلافات سے بچ بچا کر خالص اسلام کی دعوت پیش کرے تو یقینا ہر خاص و عام یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ بات تو بالکل پتے کی ہے آخر انسانیت کس سنار کے تجوری میں بند ہیکہ  ذرہ برابر ترس نہیں آتا کہ آخر انسانیت کی بقاء اور تحفظ کی فکر ہمیں یعنی ہم حاملین علَمِ اسلام کو کرنی چاہئیے تھی لیکن یہ ہماری از حد کمی ہے کہ ہم خواص میں شمار ہونے والے طبقہ نے بھی تعلیمات اسلامی کو طاق نسیاں پر ایسا رکھا کہ تعلیم گرد آلود ہوچکی اور ہم اس خوش فہمی میں ہیں کہ ہم ٹھیکیدار قوم ملت ہیں اور بس،جبکہ قائد کا فرض منصبی یہ ہیکہ اپنی مسؤلیت و ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دینے کی جتن و کوشش کرے کیا ایسا ہوتا نظر آرہا ہے جی ایسا کرنے والوں کا اگر حساب لگایا جائے تو معدود  چند کے علاوہ کوئی نہیں لیکن واہ واہی اور دادو تحسین مبارکبادی کے ہم سب خواہاں ایسا کیوں؟ اس کا جواب شافی ہمارے پاس ہے لیکن ہم اپنی طبیعت کو آمادہ کرنے کوسوں دور ہیں.
قارئین عظام ! ہم جس بھول بھلیاں  کی چادر دراز کئے عیش کوشی میں سر گرداں ہیں اس چادر کو تن سے جدا کرنا ہوگا اور اپنے ملک و ملت، سماج و معاشرہ کی فکر اوڑھنی ہوگی ورنہ وہی ہوتا رہیگا  جو ابھی حالیہ دنوں میں وطن عزیر ملک نیپال کے آٹھویں کلاس کے سوشل مواد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق منفی مواد پر مبنی مضامین داخل کتاب کیاتاکہ نونہالان اسلام کے سینے میں جو عظمت اسلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ہے اس سے یکسر بیزار کیا جائے کیونکہ علماء و دانشوران نے کہا ہیکہ جب کسی قوم کو ذلیل و خوار اور رسوا کرنا ہوتو اس قوم کےنوجوانوں کے سینے کو منفی رسائل و پیغامات سے بھر دو تب وہ قوم وہ معاشرہ وہ سماج اپنی موت خود مر جائیگا یہ مقام عبرت ہے لیکن ہم طبقہ علماء فقط انگشت بدنداں و متحیر ہوئے اور ہم نے اپنی زبان و قلم کو ایسے تالوں سے لاک کیا کہ شاید وہ نہ کھلے بلکہ ہونا یہ تھا کہ جمہوری ملک میں آئین ملک کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرنا چاہئیے تھا کہ کیا اکثریت میں رہنے والے افراد اقلیت میں رہنے والے لوگوں کے دلوں پرآرا  چلاتے  رہیں گے اور یہ واقعہ دفعتا نہیں پیش آیا بلکہ متعدد آرٹیکلس سے پتہ چلا کہ گذشتہ دنوں میں بھی ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں. اور ایسا ہو کیوں رہا ہے؟ اس لئے کہ علماء و دانشوران اسلام نیپال نے اس سے نمٹنے کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل اور ٹھوس منصوبہ بندی نہیں بلکہ بہت ہی ہلکے انداز میں لیکر ہم نے ہی اپنے عقائد وعقیدت کو کند چھری سے ذبح کرنے کا ماحول فراہم کیا ہے. اور یاد رہے کہ یہ مسئلہ کسی ذات، برادری کا نہیں بلکہ عام مسلمانان نیپال کاہے سبہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر زبان کھولنے کی جرأت رندانا کرنے کا ہے تاکہ مستقبل میں اس شنیع امر کا سد باب ہوسکے .کس شاعر نے کیا خوب عکاسی کیا ہے 
متحد ہوتو بدل ڈالو نظام عالم 
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو 
اللہ تعالی ہمیں راہ راست پر گامزن رکھے اور ایک بنادے تاکہ ہماری کمزوری کیوجہ سے ہماری تسخیر نہ ہو ہم آمین بالجہر والسر سے باہر آکر اپنے عقیدے پر شب خوں مارنے والوں کے دانت کھٹے کردیں اور تیری عبادت و احکام پر کارپند ہوکر پر عزم باہمت زندگی گزاریں. *آمین یارب المستضعفین*

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...