جمعرات، 11 جون، 2020

حیراں ہوں کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں


حیراں ہوں کہ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومیں
 ـ ـ ـ ـــــ ـ ـ ـ ـــــ ـ  ـ ـ ــــــــــ ـ ـ ـ ـــ    
آہ! اس چمنستان  مونگیری شبلی و سیلمانی کی حالت زار کیا بیان کروں مصلحت کی اتنی دبیز چادر میں ارباب ندوہ نے اپنی عقل کو لپٹ رکھا ہیکہ جس ندوہ سے توحید خالص و رسالت مآب کی گلکاریاں روزو شب سنائی دیتی تھی ہمیشہ  باطل کے سامنے سینہ سپر ہوتا تھا اس کے سپوت باطل کی آنکھوں میں آنکھیں  ڈال کر ایسا دندان شکن جواب دیتے تھے کہ باطل اور فسطائی پاور اپنے آپ کو سیلینڈر کئے بغیر نہ رہ سکتا. اس کو کس کی نظر لگ گئی 
کہاں گئی باغِ بوالحسن کی وہ جرأت رندانہ وہ بے باکی وہ دین کی رعنائی اور دوربینی وہ دوررسی،کیا ندوہ کے مؤسسین و بانیان  نے اپنے اصول و ضوابط میں یہ رقم کیا تھا کہ جب جب کوئی ایسے ظالم  و مشرک حکمراں- جس نے ہندوستان کی پوری مسلم برادری کو بےکل و  بے چین کر رکھا ہے - کی ہاں میں ہاں ملانا عین مصلحت ہے.؟
وہ عظیم دانشگاہ جسے عالمی شہرت حاصل ہے جس کے فضلاء وعلماء نے ہمیشہ توحیدِ خالص و رسالت مآب پر گفتگو کی ہےاور الجمع بین قدیم الصالح والجدید النافع کا راگ الاپا ہے ، آج وہاں کے زمام کار سنبھالنے والے کو ہوا کیا ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم مودی- اللہ اسے ہدایت دے -نے یہ کیا کہا کہ دیس باسیوں۵اپریل کو رات نو بجے نو منٹ تک سارے لوگ اپنے گھروں کے لائٹس بند کر کہ دیا ، موم بتیاں، ٹارچیز ،فلاش جلا کر رکھنا تاکہ کورونا جو ایک وبائی وائریس ہے ہندوستان سے بھاگ نکلے گا. 
پھر کیا تھا جس کا ایسا کرنا عین مذہب و دین تھا اسی کے ساتھ ذمہ داران ندوہ نے بھی رخت سفر باندھا اور ندوہ کو بھی  مودی ٹوٹکے کا بھینٹ چڑھایا اور یہ نہ سوچا کہ اگر ہم نے اس عمل کو انجام دیا تو ہمارے برادران اسلام، ہماری قوم، ہم سے بحیثیت علماء فضلاء دین کے سوالات کہ لامتناہی سلسلہ شروع کر بیٹھیں گے جسکا جواب سوائے حسرت اور منھ چھپانے کے اور کچھ نہ ہوگا .
اور ایسا محسوس ہورہا کہ ندوہ جو گہوارۂ علم و عرفاں تھا بے جا مصلحت کیوجہ سے اکھاڑا ہوتا جارہا ہے. 
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں 
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں 
ـــــــــــــــــــــــــــــ
یکے از فرزند ندوہ 
٦ اپریل ۲۰۲۰ء

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...