بدھ، 3 مارچ، 2021

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

 










کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

ازقلم:  محـــمد طاسین ندوی

دن کی روشنی  ہو ہا شب دیجور انسان ہر آن ولحظہ اپنی خواہش،ہوس رانی، آرزو، تمنا،امید بَر کیسے آئے اسی چکی کے اردگرد حیران و سرگرداں نظرآتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو؟ ہم نے اپنے صفت حیوانیت کو غالب اور ملکیت کو مغلوب کررکھا ہے ہم ہوس کے دیوی دیوتا کہ بےباک پجاری بنے اپنے معاشرہ میں بھیڑئیے کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں ہمیں ایسا بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ ہماری شان تو بہت ہی بلند اور ہمارا کام تو بہت ہی اعلی وارفع تھا لیکن ہمیں تو دنیا طلبی، احسان فراموشی،ظلم و جور نے قعر مذلت میں ایسا ڈھکیلا کہ آج انسانی شکل میں شیر اور چیتا سے کم نہیں سوسائٹی برباد ہوتی چلی جارہی ہماری دوشیزائیں، نوجوان کے کرتوت و اعمال ایسےہوگئے کہ انسانیت شرمسار ہوکر اپنی ناک رگڑنے پر مجبور ہے.

ابھی گذشتہ کل کا  دل دوز،جاں گسل،روح فرسا عائشہ عارف کا حادثۂ خودکشی سے ہر خاص و عام واقف ہیں کہ عائشہ کیوں عارف کی بھینٹ چڑھ گئی یقینا اسکا جواب سبہوں کے پاس ہوگا لیکن کیا ہمیں  اس کے بعد بھی یہ یہ فکر دامنگیر ہوئی کہ ہمارے سماج میں بے شمار عائشہ اسی لعنت جہیز کی وجہ سے زیست و موت سے نبرد آزماہیں اور ان گنت عارف نما حریص بے ضمیر سسرالی ٹکرے پر پلنے والے بھیڑیے دندناتے پھر رہے ہیں اسی وجہ سے


 کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا      

 بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا      

  عارف جیسے پلید کو راہ راست پر لانے کی فکر کریں یا ان جیسے حریص درندے کو انکی اوقات یاد دلانے کی ہم  کوشش کریں اور ایسے ہوس کے پجاری جو سسرالی ٹکرے پر دم ہلاتے ہیں اس کی دم کو کاٹنے کی ہر ممکن کوشش ہو اس کا سماجی بائیکات کیا جائے ایسے درندوں کی  فرحت وانبساط غم و اندوہ کے موقع سے بالکل اپنے کو جدا رکھے تاکہ اس پلید مشت خاکی کو اپنی اوقات کا پتہ چلے کہ کتنا نکمی اور بے یار ومددگار ہیں ہم .

قارئین کرام! یہ فقط ایک عائشہ عارف کا مسئلہ نہیں ہے ہر روز و شب کتنی دوشیزائیں جہیز کے طعنے اور تیر و تفنگ کی زد میں آکر اپنی جان کی بازی ہار رہی ہیں آئے دن اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں لیکن ہمارے سماج میں رہنے والے ناسور کو اس سے کیا لینا دینا جان جس کی جانی ہو جائے انہیں تو اپنی جیب و پیٹ کی فکر آن پڑی ہے بچیاں اپنے والدین کے گھر بن بیاہے ہیں اس سے کوئی سروکار نہیں انہیں تو سونے اور نقد کتنے ملیں گے اس کی فکر پریشان کیا ہوا ہوتا ہے یہ ہمارے سماج کے لوگ بھول گئے کہ حسن ومال سے مقدم  دینداری ہے ہمیں بحیثیت مسلمان کس امر کو فوقیت دینا چاہئیے اس جانب تو شاید  ہمارا ذہن و دماغ کا گزر بھی نہیں چہ جائیکہ اس پر ہم توجہ دیں ہم تو دیکھتے اپنے معاشرے کے ان لوگوں کو جن کے لئے دنیا کو جنت بتائی گئی ہے ہماری اصل زندگی تو اخروی زندگی ہے 

اگر ہم علماء و دانشوران نے اس فتنہ کے سدباب کی کوشش نہیں کی تو اللہ تعالی ہم سے یہ ضرور دریافت کریں گے کہ تم نے اپنی ذمہ داری و فرض منصبی کو کما حقہ ادا نہ کیا تم بھی مجرم ہو سینکڑوں عائشہ لقمہ اجل ہوتی رہیں اور تم تماشہ بیں بنے رہے جبکہ تمہیں شریعت نے منکَر سے روکنے کا اہل بنایا تھا 

اللہ سے دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی کار خیر کی توفیق بخشے اور جہیز جیسی  لعنت سے ہم سبہوں کو محفوظ فرمائے آمین یارب المستضعفین

جمعہ، 5 فروری، 2021

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے



اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

    ازقلم: محمد طاسين ندوی

دنیا نے بہت بہاریں دیکھی نہ جانے کتنے مصائب و آلام آئے اور چلے گئے لیکن سن عیسوی ۲۰۲۰میں جو مصیبت و آزمائش آئی وہ تا ہنوز جاری ہے اور اللہ کو معلوم کب تک انسان عالم اس المناک بھٹی میں تپتے رہیں گے

یقینا یہ ممکن ہیکہ اس آزمائش سے ضرور نکلیں لیکن کب تک یہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ  اللہ تعالی  کے ہاتھ میں لیل و نہار کا زمام کار ہے فرمان نبوی ہے " وأنا الدهر، بيدي الأمر، أقلب الليل والنهار "متفق علیہ بلاشبہ  وہ جیسا چاہے، جوچاہے،جب چاہے کرسکتا ہے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے چونکہ ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں تو  یہی مقتضائے ایمان بھی ہے. 

لیکن کیا ہم نے غور کیا کہ ایسے پر آشوب دور میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا تو میں بحیثیت ایک مولوی  یہ ضرور کہونگا کہ تعلیم و تعلم سے دوری ہوئی، مدارس بند ہوئے، تنخواہیں بند ہوئیں، لیکن خود اعتمادی ضرور پیدا ہوئی ہمارا بڑا طبقہ جنہوں نے اپنا انحصار مدارس کی تنخواہ پر کیا تھا انہوں  نے اپنی آنکھیں کھولیں، فضا کی رنگینیاں دیکھیں، محنت سے جی چراتے تھے اسکا خون کیا محنت کی طرف قدم بڑھایا اور اپنے کو کسی لائق بنانے کی تگ و دو کیا الغرض جو ہمارا میدان"تجارت" ابتداء سے ہونا چاہئیے تھا -مرتا کیانہ کرتا-اس کی طرف پلٹے تو میں کہونگا کہ یہ  حالات من وجہ ہمارے لئے باعث خیر بھی ہے اور ہو کیوں نہ کہ جبکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے میں اپنے بندوں کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،

. تو کیا اس مالک حقیقی کو ہمارے ایسے حالت زار -جس میں بہت سے  انسان سوکھی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں - پر رحم نہیں آئیگا؟ یقینا آئیگا اللہ نے ہمیں ایک موقع اپنے کو مضبوط کرنے کے لئے عنایت کیا ہے ہم علماء طبقہ کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ہم کبھی مسجد میں امام، مدارس میں استاذہواکرتے تھے پورے معیشت کا انحصار ان معمولی تنخواہوں پر ہوا کرتی تھی تو اب اللہ نے ایسا موقع دیا ہیکہ ہم کچھ کرلیں تاکہ معیشت جو ہمارا بڑا مسئلہ ہے اس کا حل سنت نبوی پر گامزن ہوکر نکالیں کیونکہ تجارت سنت ہے اور اگر امانت داری اور دیانت داری سے کیا جائے تو باعث رحمت و برکت بھی اور ہمیں اس کام کے لئے کمربستہ ہونا چاہئے وساوس شیطان کو منوں مٹی تلے دفن کر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر کا مصداق ہونا چاہئے کہ 

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے 

پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے 

قارئین کرام!ہمارے دلوں  میں یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ اس وقت دنیائے آب وگل ایسے حالات سے دوچار ہیکہ کوئی  قرض بھی نہیں دے سکتا سب کسم پرسی کے عالم میں ہیں راس المال اور پونجی کہاں سے آئے تو یاد رکھئیے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی تجارت کی شروعات دوکیلو پنیر سے کیا تھا لیکن جب اس دار فانی سے رحلت کر گئے اسوقت ان کے خزانے سیم زر سے بھرے تھے

اللہ نے اتنا مال و منال سے سرفراز کیوں کیا،ایسا اسلئے ہوا کہ انہوں نے اپنا ایک مستحکم اصول بنایا تھا کہ سامان ادھار نہیں خریدنا ہے اور ناہی ادھار فروخت کرنا ہے اور ادخار بھی نہیں کرنا ہے چاہے ایک روپے منافع ہو فروخت کردینا ہے نہ کہ دس روپے منافع کے انتظار میں عوام الناس کو ایذا پہنچانا ہے ،ہمیں چاہئیے کہ ہم بھی اپنا ایک منظم و مستحکم اصول پر کار بند ہوکر تجارت کی طرف پیش رفت کریں ان شاء اللہ  ایک دن کامیابی ضرور قدم بوسی کریگی 

اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہم علماء اسلام کی  دستگیری فرمائے معاشرے میں معزز و بھلا انسان بنائے  آمین یارب العالمین 


ہفتہ، 30 جنوری، 2021

کیوں ہم زباں نہ کھولیں....؟




کیو
ں ہم زباں نہ کھولیں ....؟
ازقلم:  محمد طاسین ندوی 

اللہ تعالی نے دنیائےفانی کو وجود بخشا پھر اسے زیب و زینت سےآراستہ کرنے کے لئے بے شمار مخلوق کی تخلیق فرمائی ان مخلوقات میں بنی آدم کو ہر مخلوق سے بالا تر بنایا اورمختلف رنگ و نسل کو برپا کرنے کے بعد رہنے سہنے برتنے، ٹٹولنے کا ڈھنگ و سلیقہ سے روسناش کیا مخلتف قبائل و نسل کو محض بہتر اور عمدہ طریقہ سے بود وباش کرنے اور آپس میں تال میل والی زندگی کے لئے وجود بخشا چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا" الحجرات ۱۳
اے لوگوں ہم نے تجھے مردو زن بناکر پیدا کیا اور ہم نے ہی جماعت و قبائل بنائے تاکہ آپس میں معرفت و تال میل ہو، لیکن کیا ہم اس پر عمل پیرا ہیں یا اس حد کو پار کرکہ بہت دور نکل گئے ہیں یہ ایک سوال ہے جو انسانی ذہن ودماغ کے پردے سے بار بار ٹکراتا ہے اور زبان حال سے گویا ہیکہ اے مخلوق خدا کہاں جارہے ہو؟ ہے کوئی جو اپنی چپی توڑے اور انسانیت کے تحفظ و بقاء کے لئے عمل پیہم اورجہدمسلسل کرے اور بے سرو پا کے سوالات اور فروعی اختلافات سے بچ بچا کر خالص اسلام کی دعوت پیش کرے تو یقینا ہر خاص و عام یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ بات تو بالکل پتے کی ہے آخر انسانیت کس سنار کے تجوری میں بند ہیکہ  ذرہ برابر ترس نہیں آتا کہ آخر انسانیت کی بقاء اور تحفظ کی فکر ہمیں یعنی ہم حاملین علَمِ اسلام کو کرنی چاہئیے تھی لیکن یہ ہماری از حد کمی ہے کہ ہم خواص میں شمار ہونے والے طبقہ نے بھی تعلیمات اسلامی کو طاق نسیاں پر ایسا رکھا کہ تعلیم گرد آلود ہوچکی اور ہم اس خوش فہمی میں ہیں کہ ہم ٹھیکیدار قوم ملت ہیں اور بس،جبکہ قائد کا فرض منصبی یہ ہیکہ اپنی مسؤلیت و ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دینے کی جتن و کوشش کرے کیا ایسا ہوتا نظر آرہا ہے جی ایسا کرنے والوں کا اگر حساب لگایا جائے تو معدود  چند کے علاوہ کوئی نہیں لیکن واہ واہی اور دادو تحسین مبارکبادی کے ہم سب خواہاں ایسا کیوں؟ اس کا جواب شافی ہمارے پاس ہے لیکن ہم اپنی طبیعت کو آمادہ کرنے کوسوں دور ہیں.
قارئین عظام ! ہم جس بھول بھلیاں  کی چادر دراز کئے عیش کوشی میں سر گرداں ہیں اس چادر کو تن سے جدا کرنا ہوگا اور اپنے ملک و ملت، سماج و معاشرہ کی فکر اوڑھنی ہوگی ورنہ وہی ہوتا رہیگا  جو ابھی حالیہ دنوں میں وطن عزیر ملک نیپال کے آٹھویں کلاس کے سوشل مواد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق منفی مواد پر مبنی مضامین داخل کتاب کیاتاکہ نونہالان اسلام کے سینے میں جو عظمت اسلام و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  ہے اس سے یکسر بیزار کیا جائے کیونکہ علماء و دانشوران نے کہا ہیکہ جب کسی قوم کو ذلیل و خوار اور رسوا کرنا ہوتو اس قوم کےنوجوانوں کے سینے کو منفی رسائل و پیغامات سے بھر دو تب وہ قوم وہ معاشرہ وہ سماج اپنی موت خود مر جائیگا یہ مقام عبرت ہے لیکن ہم طبقہ علماء فقط انگشت بدنداں و متحیر ہوئے اور ہم نے اپنی زبان و قلم کو ایسے تالوں سے لاک کیا کہ شاید وہ نہ کھلے بلکہ ہونا یہ تھا کہ جمہوری ملک میں آئین ملک کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرنا چاہئیے تھا کہ کیا اکثریت میں رہنے والے افراد اقلیت میں رہنے والے لوگوں کے دلوں پرآرا  چلاتے  رہیں گے اور یہ واقعہ دفعتا نہیں پیش آیا بلکہ متعدد آرٹیکلس سے پتہ چلا کہ گذشتہ دنوں میں بھی ایسے حادثات رونما ہوتے رہے ہیں. اور ایسا ہو کیوں رہا ہے؟ اس لئے کہ علماء و دانشوران اسلام نیپال نے اس سے نمٹنے کے لئے کوئی مناسب لائحہ عمل اور ٹھوس منصوبہ بندی نہیں بلکہ بہت ہی ہلکے انداز میں لیکر ہم نے ہی اپنے عقائد وعقیدت کو کند چھری سے ذبح کرنے کا ماحول فراہم کیا ہے. اور یاد رہے کہ یہ مسئلہ کسی ذات، برادری کا نہیں بلکہ عام مسلمانان نیپال کاہے سبہوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر زبان کھولنے کی جرأت رندانا کرنے کا ہے تاکہ مستقبل میں اس شنیع امر کا سد باب ہوسکے .کس شاعر نے کیا خوب عکاسی کیا ہے 
متحد ہوتو بدل ڈالو نظام عالم 
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو 
اللہ تعالی ہمیں راہ راست پر گامزن رکھے اور ایک بنادے تاکہ ہماری کمزوری کیوجہ سے ہماری تسخیر نہ ہو ہم آمین بالجہر والسر سے باہر آکر اپنے عقیدے پر شب خوں مارنے والوں کے دانت کھٹے کردیں اور تیری عبادت و احکام پر کارپند ہوکر پر عزم باہمت زندگی گزاریں. *آمین یارب المستضعفین*

بدھ، 6 جنوری، 2021

سال نو اور ہم مسلمانان نیپال کے لئے لمحۂ فکریہ





 باسمہ تعالی 

 سال نو اور ہم مسلمانان نیپال کے لئے لمحۂ فکریہ  

از قلم: محمد طاسین ندوی 


اس دنیائے آب وگل میں بے شمار ادیان و فرق ہیں سب کے آشیانے الگ الگ، سب کے  قبلے جدا جدا ہیں    ہندو ،مسلم ،سکھ،عیسائی،جین،پارسی اور ایسے لاتعداد دھرم کا وجود ہے جو سب مست و مگن ہی  لیکن ہم مسلمان ہی کیوں نشانے پر ہیں ؟

اس طرف توجہ کریں تو جواب ازھر من الشمش ہوجائیگا کہ ہمارے خلاف پروپیگنڈے اور دسیسہ کاریاں  بے جا الزامات کے تانے بانے اپنے لئے دانستہ یاناداستہ ہم خود تیار کروا رہے ہیں سالہاسال سے ارض نیپال پر مسلمانوں کا وجود ہے لیکن کیا ہمارے پاس کوئی مستحکم پلیٹ فارم یامستحکم ثبوت ہے کہ ہم ابتداء سے ہیں ہماری جلوہ سامانیاں اور ہمارے کارنامے بھی ہیں تو شاید ہم مسلمانوں کو اس کا علم خال خال ہو ۔

یہی وجہ ہیکہ ہمارے حقوق ہڑپے جارہےہیں ، ہمیں دہشت گردی کی چادر اوڑھائی جارہی ہے ،ہر لحظہ و ہرآن ہمیں ذہنی پریشانی میں مبتلا رکھنے کی بھر پور سازشیں سامنے آرہی ہیں ابھی سن عیسوی جدید 2021 کی ابتداء ہی ہوئی کہ ایک ہندوستانی ٹی وی چینل tv9 بھارت ورش نے سراپا ایک جھوٹی رپوٹینگ چوکانےاور رونگٹے کھڑے کر دینے والی کی ہے کہ یوپی سے جڑے نیپال باڈر کے قریب جو مدارس ہیں یا نئےمدارس وجود میں آررہے ہیں ان سب کا تار داعش سے جڑتا ہے اور عرب ممالک کے فنڈنگ پر یہ مدارس وجود میں آرہے ہیں یہ ہم مسلمانان نیپال کے لئے لمحۂ فکریہ ہے ہمیں ہوش کا ناخن لیتے ہوئے حکومت وقت سے ان پروپیگنڈوں پر روک لگانے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئیے ورنہ وہ دن دور نہیں کہ اس غلط عناصر کا لاوا پھوٹے اور ہمیں خاکستر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے نیپال کے باشندگان کے دل ملے ہوئے ضرور ہیں لیکن انہیں ورغلا کر، پھسلا کر ایک ایسے محاذ پر  لے جانے کی ٹھانی ہوئی کچھ انڈین گودی  میڈیا جس سے ماحول اور حالات خراب ہوں اور وہ مداری بندر کا ناچ دیکھانے میں مکمل کامیاب ہو ایسے پر آشوب وقت میں میری درخواست ہیکہ غیر مسلم برادران سے ان کذاب نامہ نگاروں کی رپوٹینگ اور  بےجا باتوں پر کان نہ دھرتے ہوئے بچشم خود  مدارس اسلامیہ کو دیکھیں بھالیں اور پرکھیں کہ کیا واقعی مدارس اسلامیہ کے سرے کسی ٹریرسٹ سنگٹھن یا دھشت گرد گروہ سے جڑتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ان کے خلاف کارروائیاں ہوں ایسے مراکز و دانش گاہ پر تالے ڈالے جائیں ،اسکی جڑیں کاٹی جائیں  اور اگر ایسا نہیں ہے تو ان غلط عناصر، اور باطل طاقت اور کذاب میڈیا کو کیفرے کردار تک پہنچائے جائیں اور اسطرح سے غلط باتیں پھیلانے والے نیوز اینکر جو سال نو ۲۰۲۱ ء کو بھی بالکل پراگندہ کرنے کی کوششیں کررہے پیں اسکو سخت سے سخت سزادی جائے جو اورں کے لئے نشان عبرت ہو.لیکن ایسا کیسے ممکن ہوگا کیونکہ دونوں ایک ہی راہ کے مسافر ہیں تو یہ ذہن نشین رہے کہ ایسا ہمارے لئے اسی وقت ممکن ہوگا جب  ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں گے  نیپال کے قوانین و ضوابط سے روشناس کریں گے، نیپالی زبان و قلم سے مسلح کریں گے ،   اور اگر ہم  ہندی  تہذیب و ثقافت ولسانیات کے لبادے سے اپنے کو دور نہ کیا تو ہمارے اوپر شوکت و رعب داب بنانے میں دوسرے برادران کامیاب ہونگے اور ہم اپنی شناخت و پہچان سے کوسوں دور ہوکر نت نئے آزمائش سے دوچار ہونگے .

ایسے پر فتن، روح فرسا حالات میں ہمیں نیپالی صحافت ولسانیات کے طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی زبان و ادب کے شناور ہوسکیں اور اپنے مسائل و مشکلات سے نجات حاصل کرنے کی سعی کرسکیں اور نیپالی صحافت میں بھی اپنا مقام پیدا کرنے کہ راستے ہموار ہوں اور پروپیگنڈہ کرنے والے  باطل میڈیائی طاقت کو مسکت جواب دے کر مات دے سکیں کیونکہ 


الوالعزمان دانشمند جب کرنے پہ آتے ہیں 

سمندر پاٹتے ہیں کوہ سے دریا بہــاتے ہیں 


ہم علماء، فضلاء، دانشوران کو چاہئیے کہ تعلیم  سے اپنے اور قوم کے نونہالان کو جوڑیں تعلیمی مہم چلائیں تاکہ ہمارا وجود اور مستقبل تابناک ہوسکے ورنہ شب دیجور میں بھٹکتے پھریں گے 

اللہ ہم سب کو اس عمل صالح کی توفیق بخشے آمین 

وماذلك على الله بعزيز....

جمعہ، 7 اگست، 2020

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دےمارا

 

باسمہ تعالی 

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دےمارا

از:محمد طاسین ندوی

باری تعالی نے ہمیں اشرف و اکرم بنا کر جہاں اس صفحۂ ہستی پر رہنے بسنے والے دیگر اقوام و انسان کے مقابلے اپنی شفقت و احسانسے نمایاں کیا ہے ,اور ایک ایسا گائیڈ لائن اور دستور حیات دیا جس پر چلنے سے ہم بام عروج و اوج کمال کوپہنچ سکتے ہیں ,آسمان پر کمندیں ڈال سکتے ہیں آفاق و انفس کی سیر بڑے ہی سکون و اطمینان سےکرسکتے ہیں ,ایسا ہوا یا نہیں تاریخ اس پر شاہد ہے ,ہمارے اسلاف نے جب اس دستور حیات کو اپنایا تو کامیابیاں نے اپنے تمام تر تانے بانے سمیت ان کے سامنے ڈیرہ ڈالدیا اوران کی قدم بوسی کو اپنے لئے صد افتخار وطرہ امتیاز سمجھا کیونکہ ہمارے آئمہ و علماء اسلاف نے اپنے کو کندن بنایا تھا اپنی زبان کو پابند شریعت کیا تھا غیبت, الزام تراشی, چغلخوری اور انواع و اقسام کے ہتک آمیز افکار سے اجتناب کیا تھا اپنے نفس کو مغلوب اور حکم الہی کو غالب رکھا تھا تو بھلا کیونکر تاریخ ان کے اسماء کو اپنے سینے میں محفوظ نہ کرتی ,لیکن جوں جوں اسلاف سے ہماری دوریاں بڑھتی گئیں ہم نے اپنے کو ہی عقل کل کا مالک گرداننا شروع کیا تو ہم خائب و خاسر, شکستہ و درماندہ ہوتے چلے گئے آج نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ہمارے وطن کے لوگ اجنبی سمجھنے لگے  اور اجنبیت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ عداوت و دشمنی کے راہ پر گامزن ہوئے اور ہمارے آثار قدیمہ مساجد و مکاتب کو تاراج و سبوتاژ کرنے کی کوشش شروع کی اور اس میں وہ لوگ کامیاب ہوئے بغداد جو علوم اسلامیہ کا مرکز تھا اسے ہم سے چھینا گیا اور اس جیسے اور بھی اسلامی قلعے تھے جسے ہمیں اپنے غیر دانشمندانہ فکر و نظر کی وجہ سے کھونا پڑا اور حالیہ دنوں میں  اسکی ایک بین و واضح دلیل مسجد بابری اور اس جیسے کئی مساجد پر غاصبانہ و ظالمانہ قبضہ اور مسجد کے اعمال ناپید اس کی جگہ گائے بھینسے اونٹ و گھوڑے کا اصطبل بنایا گیا  اور کہیں مندر تو کہیں میوزیم  و گرجا گھر کہیں چرچ و گردوارہ سے تبدیل کیا گیا .آخر ایسا کیوں ہوا کبھی ہم نے غور کیا؟اگر ہم نے غور کیا ہوتا تو ہمیں جواب بڑی آسانی سے مل سکتا تھا ...وہ یہ کہ ہم نے اپنی زندگی کے سنہرے ایام کو عیش وعشرت رقص و سرود آسائش و زیبائش میں تمام کیا ہم نے کل کی فکر ہی نہیں کی,  نہ حکم الہی  فرمان نبوی کے مطابق  بادشاہت و حکمرانی کیا نہ اپنے عاقبت کو ملحوظ خاطر رکھا, اگر ہمیں یہ فکر دامن گیر ہوتی تو آج ہم بالکل دو ٹکے کے لوگ نہ ہوتے ہمارا ملک وہ بھی سیکولر ملک  میں عزت و احترام کیا جاتا جملے چست نہ کئے جاتے مسجد و مدارس نہیں توڑے جاتے ہمارے گھروں محلوں کو ویران نہ کیا جاتا ,ہم اپنے حقوق کے مطالبے پر دیس دروہ جیسا طعنہ نہ دیا جاتا اور نہ ہمارے دانشوران, قائدین کو پس زنداں کیا جاتا.ہم تو اپنے مرغوبات کی بازیابی میں محو منہمک رہے کبھی یہ خیال آیا ہی,نہیں کہ بادشاہت تو اللہ کی ہے تو الملك لله والحكم لله .ہم نے اپنی زندگی کے قیمتی و بیش بہا سرمایہ کو  داد عیش دینے  میں  عالیشان باغات و محل بنانے میں خاکستر کردیا رہے دیناوی رنگینیاں میں ایسے کوشاں ہوئے کہ اپنی بھی فکر نہ رہی چہ جائیکہ عام مسلمان کی فکر رہتی اور ایسا اس لئے کہ  جو قوت و طاقت ایمانی جذبہ ایثار و قربانی و انفاق و اکرام ,فقر و استغناء ہم نے اپنے اسلاف علیھم الرحمہ سے مستعار لیا  اس کو منوں مٹی تلے ایسا دبا دیا دفن کردیاکہ اس کی کمر بالکل ازکار رفتہ ہو گئی ٹوٹ گئی  اور دوبارہ اٹھنے کے قابل نہ رہی.

قارئین کرام ! اسلامی شعار اور ہندوستانی مسلمانوں کی آئینی ملکیت مسجد بابری کی اگر بات کی جائے تو اس کی جگہ تو عدلیہ غیر منصفہ نے ہندتوا کے حوالے بغیر کسی ثبوت و دلیل کے سونپ ہی دیا تھا  ابھی گذشتہ کل 5 اگست 2020ء کو مسجد بابری کی جگہ رام مندر کا شیلانیاس ہوا جو ایک بہت ہی شدید  رنج و الم وتکلیف و کوفت والا عمل تھا ہم مسلمانوں کے لئے کیونکہ یہ  خبیث عمل بالکل غیر آئینی طور پر عمل میں آیا اس پر مسلم پرسنل لاء نے  بھی مخلتف زبانوں میں یہ لکھا  اور باور کیا کہ بابری مسجد پہلے بھی مسجد تھی,اب بھی مسجد ہے اورہمیشہ مسجد رہیگی .ہاں وہی مسلم پرسنل لاء بورڈ جو ہندوستانی مسلمانوں کی ایک مہتم بالشان اور نمائندہ فاؤنڈیشن سمجھا جاتا ہے اس نے پھر بعد میں انگریزی ٹویٹ مٹا کر ایک طفلانہ عمل کیا یا اسے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا یہ خود ایک سوال ہے  اب یہ نہیں معلوم کہ کیسا پریشر اور کیسی دباو تھی کہ جس کی وجہ سے  جس  نے ایمانی جذبہ سے سرشار ہوکر یہ لکھا تھا کہ بابری مسجد پہلے مسجد تھی اور مسجدہے اورمسجد رہیگی پھر ایک دن بعد  اس جذبہ کا خون کیونکر کیا ایا بی جے پی حکومت نے اپنی سرخ آنکھ دیکھائی یا کسی آقا کو خوش کرنے اور مسلمانان ہند کو بے وقوف بنانے کا  ڈھونگ رچایا گیا  یہ اپنی جگہ مستقل موضوع بحث ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ بورڈ کو  وجہ مسح بھی واضح کر دینا چاہیے کہیں ایسا تو نہیں کہ  یہ  ہماری نمائندہ یونٹ و فاونڈیشن و پرسنل لاء بورڈ صرف ایک مسخرہ ہو کر رہ گیا ہے اس کا علم تو اللہ کو ہے لیکن مساجد و مدارس کا ہم سے چھین جانا  صرف اور صرف ہماری ناعاقبت اندیشی اور منہج اسلاف سے دوری کے نتائج ہیں اورہم یاد رکھیں ہم مسلمانوں عالم  جب اپنا محاسبہ کرنا شروع کریں گے

اس کے بعد قدرت کا کرشمہ ضرور نظر آئیگا.

چاہے ہم جتنا چیخیں چلائیں کمی تو ہمارے اندر بہت ہے  ہم جادہ حق سے رو گرداں ہورہے ہیں جو ہمارے اسلاف کا نصب العین و مقصد حیات تھا

علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے کیاخوبصورت تصویر کشی کی ہے

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

اللہ ہمیں دین اسلام پر گامزن رہنے کی توفیق دے ہمارے اندر جو بزدلی نے اپنے لاو لشکر کے ساتھ پڑاو ڈالے ہیں اس کا خاتمہ فرما کر اسد اللہ الغالب بنادے آپس میں انسجام پیدا فرمادے . آمین.

بدھ، 5 اگست، 2020

اے بابری مسجد ! ہم مایوس نہیں ہیں

 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 اےبابری مسجد! ہم مایوس نہیں ہیں 
ازقلم : محمد طاسین ندوی 
اللہ تبارک تعالی نے اس روئے زمین پر مسلمانوں کو پیدا کیا اور ان پر انواع و اقسام کا انعام فرمایا بعض کا تعلق رہنے بسنے سے ہے تو بعض کا معاملات و عبادات سے چونکہ یہ امت اجابت ہے پچھلی امت کی طرح ان پر بھی نماز کو فرض کیا لیکن خاص خصوصیت کے ساتھ کہ اس امت محمدیہ کے لئے روئے زمین کا چپہ چپہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت کیا مسلمانان جہاں چاہیں  جس جگہ چاہیں اپنی نماز ادا کریں کوئی مضائقہ نہیں البتہ اس جگہ و مکان کا پاک و صاف ہونا ضروری ہے .
قارئین کرام ! آئیے بابری یا میر باقی مسجد کی باتیں کریں مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے حکم سے سن ١٥٢٧ء میں میر باقی کے ذریعہ ریاست اتر پردیش کی مشہور جگہ اجودھیا میں تعمیرکروائی گئی تھی , یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹے گنبد تھےگنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلاسٹر کیا گیا تھا مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند  بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لیے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا مختصر یہ کہ یہ مسجد اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھی .
١٩٤٩ء میں مسجد کو بند کرا دیا گیا اور ٤٠ سال سے زائد عرصے تک یہ مسجد متنازع رہی  BJP نے LK ADWANIکی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی اور  تحریک کے دوران ٦دسمبر١٩٩٢ء  كوہزاروں ہندوکارسیوکوں نے BJP اور وشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں اس اسلامی شاہکاراور تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا گیا جس کے بعد دہلی و ممبئ اور  ہندوستان کے دیگر شہروں میں تقریباً دو ہزار سے زائد مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا
پھر کیا ہوا ہم سبہوں نے پڑھا سنا اور دیکھا مقدمہ کورٹ تک پہنچا لیکن  ہندوستانی عدلیہ نے بھی اپنا بھرم کھویا کیونکہ ہندوستانی عدلیہ بھی BJP حکومت ساز باز رکھنے والا ٹھہرا اسلام و مسلمان دشمنی یہاں بے نقاب ہوا اور  فیصلہ ہندو وادکے حق میں دیا گیا .
موجودہ BJP دور اقتدار نے وہ سب کچھ کیا جس سے مسلمانیت ہی نہیں بلکہ انسانیت سر مشار ہورہی ہے 
آج مورخہ٥ اگست بروز بدھ ٢٠٢٠ء رامندرکا شیلانیاش ہونے جارہا ہے اور ہندوستان کا یہ عالم ہیکہ ہر طرف وبائی بیماری کو رونا سے رہائشی پریشان ہیں کام کاج بالکل معطل  ہے ایسا محسوس ہورہا کہ دنیا بالکل تھم اور سہم سی گئی ہو .جہاں حکومت وقت نے سوشل ڈسٹائنسنگ والا اصول وضابطہ بنایا تھا آج بخود اس کا خون کرنے والا ہے 
کہاں ہیں WHO کے لوگ اور اس کے ترجمان جس نے اس بیماری سے بچنے کا حل اس سماجی دوری کو بتایا تھا کیا اسے یہ سری گتی قیدیوں نظر نہیں آرہی ہے .یقینا آرہی ہوگی لیکن الکفر ملة واحدة  بالکل بجا اور درست ہے اسوقت سارے اندھے اور بہرے ہوگئے ہیں اور خواب آور گولیاں کھا کھا کر سو رہے ہیں  اگر مسلمان کچھ کرنے پر آمادہ ہوں تو سب کے سب خواب خرگوش سے بیدار ہوجائیں گے کو رونا کا خطرہ بڑھتا نظر آئیگا 
فرمان نبوی الدنیاسجن المؤمن وجنة الكافر یقینا ایک جامع حدیث ہے کفار داد عیش دے رہے ہیں ایمان والے مظلوم و مقہورہیں نہ کوئی داد رسی کرنے والا اور نہ ہی کوئی کچھ سننے والا ہے 
لیکن پھر بھی ہم ہی راہ حق والے ہیں ہماری بابری مسجد کو مسمار کردیا جانے سے یا اس کی جگہ پر غاصبانہ قبضہ کرلینے سے یہی ہوا کہ رام مندر کی بنیاد رکھ دی گئ, مندر کی تعمیر کی کوشش ہورہی ہے لیکن وہ جگہ مسجد کے حکم میں ہے اور رہے گی ..
ہم حوصلہ بلند رکھیں آج نہیں تو کل, یہاں نہیں تو وہاں ,ہماری  ہی بالادستی ہوگی ان شاءاللہ تعالی بس ہم اپنی حقیقت کو جانیں اور پہچانیں.
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اے اللہ ہمارے حالات کو بہتر کردے ہمارا ایمان جو مردہ ہوتا نظر آرہا ہے پھر سے  روح ڈال دے تو ہی ظاہر وباطن سے باخبر ہے ہمارا ظاہر وباطن اچھا کردے.آمین

منگل، 21 جولائی، 2020

عشرۂ ذی الحجہ اور قربانی حقیقت کے آئینہ میں

عشرۂ ذی الحجہ اور قربانی حقیقت کے آئینہ میں
 محمد طاسین ندوی 
اس صفحۂ ہستی میں مختلف ادیان و ملل،مسلم و ہندو،بدھ وجین،عیسائی ونصرانی  رہتے بستے ہیں سبہوں کے ملت و مذھب میں کچھ نہ کچھ فرحت وانبساط کے ایام طے شدہ ہیں چاہے وہ ایام و ساعات فرحت وسرور خود ساختہ ہو یا منزل من اللہ، البتہ دین اسلام ایک ایسا دین سماوی ہے جسے کہ بارے میں فرمان خداوندی ہے "إن الدين عند الله الإسلام"سوره آل عمران۱۹ بلاشبہ، واقعی دین الہی تو اسلام ہی ہے .دین اسلام کے متبعین کو اللہ تبارک و تعالی نے پورے سال میں صرف دو یوم فرحت و مسرت کے عطاء کئے ہیں جبکہ کے خود ساختہ ،ادیان باطلہ میں بے شمار ایسے دن طے ہیں جس میں علمبرداران دین خوشیاں،رنگ ریلیاں، رقص وسرود کی مجالس لگاتے ہیں اگر کوئی خصوصیت و طرۂ امتیاز حاصل ہے تو دین اسلام ہے اللہ کو یہ دین مرغوب ہے اور عید الفطر جو پورے ایک ماہ پے درپے روزہ رکھنے کے بعد آتی ہے اور عیدالاضحی جو بالکل ماہ رمضان مبارک کے  دوماہ دس دن بعد آتی ہے جس دن کے بارے میں ارشاد ربانی ہے "ولیال عشر "سورہ فجر ۲
قسم ہے دس راتوں کی 
اللہ جل جلالہ نے قسم کھائی دس راتوں کی تو علماء تفسیر نے لکھا ہیکہ ان دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کے ہی دس دن ہیں 
اللہ تعالی کا قسم کھانا اس بات پر غماز ہیکہ اس ایام کے واقعی بڑے اعلی وارفع مقام ہیں اور باری تعالی کسی مہتم بالشان ہی شئی کی قسم کھاتا ہے چنانچہ اس کی وضاحت  فرمان نبوی یوں کیا  ہے "أفضل أيام الدنيا أيام العشر "يعني عشر ذي الحجة 
 رواه البزار وصححه الالباني 
دنیا افضل ترین دنوں میں سے ماہ ذی الحجہ کے دن دن ہیں 
ان بہترین ایام میں بروئے کار لانے کہ اعمال حج ہر مسلمان جن کے سینے میں ایمان جوش اور رمق ہو اسکی آخری خواہش  ہوتی ہے جس کو رکن اسلام کا درجہ حاصل ہے فرمان رسول اللہ "بنی الاسلام علی خمس شھادہ أن لا إله إلا الله .......إلى الحج "متفق عليه
اسلام کی بنیاد پانچ ستون پر ہے جن میں سے ایک حج بیت اللہ بھی ہے اور حج کی ادائیگی ماہ ذی الحجہ کے عشر اوئل ہی میں ہوتی ہے ،اور ذی الحجہ کی مزکورہ تاریخ میں ہی سنت ابراہیمی پر عمل کرنا ہر صاحب نصاب و ثروت مسلمان پر عمل کرنا واجب ہے 
فرمان باری تعالی ہے "فصل لربك وانحر "سورہ کوثر ۲
اے مومنو تم اپنے پالنہار خالق و مالک کی رضاو خوشنودی کے لئے نماز پڑھ اورذبح  کر 
وہ عمل ذبح ہی کا نام  قربانی ہے راہ خدا میں ایک چھوٹا جانور بکرا، بکری،بھیڑ،مینڈھا،دنبہ،وغیرہ یا بڑا جانور اونٹ،گائے،بھینس،کا ساتواں حصہ کا نذرانہ پیش کرنا
 قربانی کے بیش بہا فضائل ہیں جن میں سے چند  مندرجہ ذیل ہیں
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ سے روایت ہے کہ ایک بار صحابہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا :یا رسول اﷲ!یہ قربانی کیا ہے ؟  یعنی قربانی کی کیا حیثیت ہے ؟آپ نے نےجواب دیا  : تمہارے باپ حضرت ابراہیم کی سنت اور منہج ہے صحابہ  نے عرض کیا ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ فرمایا  ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی .صحابہ نے عرض کیا . یا رسول اﷲ!اون کے بدلے کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اون کے ہر بال کے بدلے بھی نیکی ملے گی۔ سنن ابن ماجہ ۲۲۶باب ثواب الاضحیہ
دوسری جگہ فرمان نبوی ہے عید الاضحی کے دن کوئی نیک عمل ﷲ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں ،قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے بالوں ، سینگوں اور کھرون کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اﷲتعالیٰ کے نزدیک قبولیت حاصل کر لیتا ہے .لہٰذاخوش دلی سے قربانی کیا کرو.جامع ترمذی ۲۷۵/۱باب ما جاء فی فضل الاضحیہ 
قربانی کے معاشی اور سماجی فائدے بھی ہیں اگر کوئی صاحب ثروت عمل قربانی کو انجام دیتا ہے تو ان کے اندر دوسروں کے بارے میں فکر پیدا ہوتی ہے جس سے معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے
اگر قربانی کے گوشت کو عمدہ ڈھنگ سے تین حصوں میں تقسیم کیا جائے توایک حصہ ایسے لوگوں تک بھی پہنچےگا جو بالکل غریب و نادار ہیں اور اپنی عزت نفس کی وجہ سے دست سوال دراز نہیں کرتے ہیں
فرمان باری تعالی ہے "... فكلوا منها واطعموا البائس الفقير "سوره حج 
قربانی کے گوشت میں سے تم بھی کھاؤ اے راہ خدا میں قربان کرنے والو اور محتاج و نادار و فقیر کو بھی کھلاؤ 
اور جانور کی کھال کو رفاہی ادرہ کے حوالے کیا جائے جس سے سماج کے نادار و دیا جائے یا عوام کی فلاحو بہبود کے لئے خرچ کئے جائے.
نہ کہ ہم گوشت کو اپنی فریج میں رکھ کر ماہ و سال تک خوب کھائیں اور محلہ کے غریب و نادرا کو ایک بوٹی بھی میسر نہ ہو. 
اللہ تعالی سے دعا ہیکہ اللہ ہمیں دین کی درست سوجھ بوجھ عطاء کر تاکہ ہم میں سے صاحب نصاب وثروت لوگ اس کار خیر و فلاح میں خوب دلچسی لیں  اور نادار و فقیر جو قربانی نہیں کرسکتے ان کے دلوں میں اور اہل وعیال کےلئے فرحت و شادمانی کا سامان مہیا کرسکیں . وما توفیقی الاباللہ .

جمعرات، 16 جولائی، 2020

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں؟

باسمہ تعالی

ڈاکٹرکفیل خان پس زنداں کیوں ؟

ازقلم:  محمد طاسین ندوی
ڈاکٹر کفیل خان بھی ہمارے ہی طرح ایک بشر ہیں انہوں نےاپنی زندگی کی مختلف بہاریں دیکھی، مخلتف ادوارگزارے، کبھی خوشیاں نے قدم بوسی کی تو کبھی مصائب و آلام نے ستایا ،کبھی جہد پیہم کے پیکر ہوکر عرق میں ڈوبے ہوئے پائے گئے،تو کبھی سیلاب زدگان کے علاج و معالجہ کی فکر نے ان کی نیند اڑادی، کبھی صوبۂ بہار جاکر ہندوستانی پیر و جوان بچے و بچیاں، ان پڑھ اور تعلیم یافتہ کی داد رسی کی ،تو کبھی گورکھپور کے  ہاسپیٹل میں دم توڑتی انسانیت کو اپنے نحیف و ناتواں کندھے سے سہارا دیا اور سسکتی بلکتی ماؤں کو دلاسہ دیا اور ان کے بچوں کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کیا یہان تک کہ اپنی کار پر آکسیجن کے سیلینڈر لاد لاد کر لائے اور ان بے گناہ، معصوم، نونہالوں کی جان بچانے کی فکر میں سر گرداں و پریشان رہے، اورجب ہندوستانی کی بی جے پی حکومت نے CAA,NRC,NPRجیساکالا و زہریلا قانون لاکر  اپنا پھن پھیلایا تو اس پھن کو توڑنے کی کوشش تقریبا ہندوستان کی ساری جنتا نے کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ساز چھیڑا اور پورے ہندوستان نے یہ باور کروایا کہ ابھی بھی زندہ دل افراد باقی ہیں جنہیں سکون اس وقت ملتا ہے جب قوم و ملت کو سکون میسر ہو ،ادھر مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ  کے اسٹوڈینٹ یونین نے اس کالے قانون کے خلاف اپنا جمہوری حق کا استعمال کیا تو جناب ڈاکٹر کفیل خان- جن کی زندگی امن و امان، غریبوں کی فکر، بچوں کے علاج و معالجہ،  رفاہی سرگرمیاں اور دیگر کام سے عبارت ہے - انہوں نے بھی اس کالے قانون کی بھر پور مذمت و مخالفت کی اور انہوں نے ملک و دیس کے خلاف کوئی نفرت و ہنسا کی بات بالکل نہیں کیابلکہ اپنا جمہوری حق کا استعمال صحیح ڈھنگ سے کرنے کی کوشش کا  اس کے باوجود وہ پس  زندان کئے گئے جہاں  اپنی زندگی کے شب و روز بہت ہی تکلیف و پریشانی کے عالم میں گزار رہے ہیں ایسا اسلئے ہواکہ یوگی حکومت ان پر شکنجہ سخت کرنے کے تگ ودو میں ہر لمحہ وہر آن کوشاں تھی.جبکہ اس حادثہ جانکاہ سے پہلے بھی انہیں پس زنداں کیا گیا تھا یوگی جیسی بدمعاش، بدباطن،بدخصلت وبدطینت حکومت کی وجہ سے دوبارہ انہیں پھر جیل میں ڈالا گیا اور جب عدالت کی شنوائی کے بعد ان کو ضمانت ملی تو اس ناپاک اور خبیث حکومت نے سخت ترین دفعہ لگا کر انہیں  یاس و قنوطیت کا دوبارہ شکار کرنے کی بھر پور کوشش کی لیکن واہ  رے مرد قلندر ڈاکٹر کفیل خان، اللہ  تمہیں خوب ہمت وحوصلہ  دے،  مرد خرد مند نے جیل سے ایک پیغام عام کیا  جس میں لکھا کہ جیل میں انہیں کن چیزوں کا سامنا ہے، کیا فیس کرنا پڑرہا ہے، انہوں نے یہ بھی لکھا کہ  کیا ڈاکٹر کفیل خان ایک کمزور طبیعت کا بزدل انسان ہے جو خودکشی کرلیگا یا راز کچھ اور ہے . انہوں نے ان دو چند صفحات پر جیل کے حالت زار کے ساتھ یہ بھی تحریر کیا ہیکہ انہیں خدشہ ہیکہ  ان کا انکاؤنٹر کردیا جائے ،اور راقم کو  یوگی سرکار کی نیت پر شک ہے کیونکہ کتنے ایسے بے گناہ یا جو سرکار کی قلعی کھولنے والے ہوں ان کو صفحۂ ہستی سے چلتا کیاجا چکا ہے ابھی حالیا واقعہ وکاس دوبے کانپور والا سے ہم سب بخوبی واقف ہیں اور سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں ایسا کھیل کھلاگیا.
قارئین کرام: ہمیں  اچھی طرح واقفیت ہیکہ ڈاکٹر کفیل خان نہ تو کوئی دہشت گرد ہیں اور نا ہی ڈکٹیٹ و لٹیرے بلکہ وہ ایک بری،  بے گناہ اور غریب و فقیر انسانوں کے مسیحا, داد رس،  جس مسیحائی وداد رسی  کے پاداش میں بطور صلہ کے انہیں جیل کی کال کوٹھری ملی ہے، کیا ہم حضرت انسان انہیں یونہی چھوڑدیں یا اس ظلم و سفاکیت و بربریت مرکزی و یوگی حکومت کے خلاف آوز حق بلند کرکہ انہیں حق و انصاف دلائیں ، کیونکہ یہ ظلم و ستم صرف ڈاکٹر کفیل خان پر نہیں بلکہ پوری انسانی برادری پر کیا جارہا ہے حق بولنے والوں کے گلے کو گھونٹنے کی پالیساں ایوان میں بیٹھنے والے بنارہے ہیں کیا اس کے اس پالیسی کا پردہ چاک نہیں کیاجائےگا؟ ہاں بالکل کیا جائےگا، تو اب ضروت ہے اس بات کی کہ ہم بلاتفریق دین و ملت، مذہب و مسلک،جوان و پیر سمبیدھان کے حدود میں رہ کر ڈاکٹر کفیل اور ان جیسے بےشمار بے گناہ اور سجن لوگوں کی رہائی کے لئے اپنی طاقت بھر بستی بستی، قصبہ قصبہ  بھر پور انداز میں جمہوری حق کو ملحوظ رکھتے ہوئے آواز بلند کریں کہ ایوان بالا اور یوگی حکومت لرزہ بر اندام ہوجائے اور ان بے گناہوں کو رہا کرنا ہی پڑے پھر اس حکومت کی عقل ٹھکانےپر آئے گی اور سمجھے گی کے عوام اور جمہور کیا چیز ہے.
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کہ اللہ ڈاکٹر کفیل خان اور ان جیسے بے شمار انسان جو پس زنداں ہیں ان کے گلوخلاصی کا سبیل نکال دے جو انسانی برادری ان کے لئے دعائیں کررہے ہیں ان کو قبول کرلے،  کیونکہ تیری ہی ذات عالی صفات ہر چیز پر قادر ہے.وما توفیقی الا باللہ

بدھ، 15 جولائی، 2020

رسم جہیز اور ہمارا معاشرہ

رسم جہیز اور        ہمارا معاشرہ        
 محمد طاسین ندوی
جس سماج میں ہم نے پروش پائی ہے، رہتے, بستے ہیں وہ یقینا ایک محترم، معزر، عظیم،مجتمع اور سماج ہے اللہ نے دین اسلام کے پیرو کار ہی کو دنیا کی اعلی و ادنی، بیش بہا و ارزاں ہر چیز سے مہتم بالشان ، معزز،محترم بناکر اس دنیاء آب و گل میں وجود بخشا اور کھرا و کھوٹا،حق وباطل،جائزومباح،حرام و حلال کے بارے میں بہت ہی ارفع و اعلی دستور سے نوزا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما : كتاب الله وسنتي " رواه مالك 
 میں نے تمہارے مابین دوچیزیں چھوڑی ہیں تم ان دونوں کو تھامے رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے. وہ کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور احادیث رسول مجتبی ہیں ,ہاں اگر اس اصول نبوی کو بھلادیاجائیگا،احادیث کی کتابوں میں ہی بند کردیا جائیگا تو یقینا وہ ساری کمیاں، خرابیاں،بگاڑ،بدامنی،ہمارے سماج،مجتمع،ومعاشرے میں لاعلاج بیماریاں کی طرح عریاں اپنی بزم سجائیں گی ،نہ جانے کتنے لوگ اس کے لقمۂ تر ہوجائیں گے، 
کیونکہ نکاح انسانی فطرت کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے  سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر اس جائز طریقے پر رکاوٹیں عائد کی  جائیں روڑے اٹکائے جائیں یا اس کو مشکل بنایا جائے تو  اس کا  لازمی نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے  جائز راستے مسدود  پائے گا تو اس کے دل میں ناجائز راستوں کی طلب پیدا ہوگی،  جو انجام  کار معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بنے گی حدیث رسول ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا‘‘رواہ الترمذی
 اور ہم بحیثیت ایک مثقف و مھذب، تعلیم یافتہ و عالم فرمان رسول فرد کے مجتمع بھی اس لاعلاج بیماری سے بچ سکیں گے ؟ذہن میں ضرور سوال پیدا ہورہا ہوگا وہ بیماری ہے کونسی، اور کیسی تو صرف طائرانہ نظر ڈالیں اپنا جاں بلب معاشرہ پر، سسکتی بلکتی والدین پر جن کے گھروں میں صنف نازک ہیں کیا پوزیشن ہیں ایسے افراد مجتمع کی، اگر صاحب ثروت ہیں اور ان کے پاس بیٹاں ہیں تو وہ کیا کچھ نہیں دیتے اپنے ہونے والے داماد کو اور اگر ایک غریب و لاچار فرد جس کے پاس بیٹاں ہیں وہ کیا کرے اپنی ساری جائداد جو بہت مختصر ہوتی ہیں ان ناعاقبت اندیش بھیکھاری پر بھینٹ چڑھادے یا شادی کے بعد مفلوک الحال، محتاج و درماندہ ہوکر کاسئہ گدائی لیے اپنے بچوں کی پروش و پرداخت، تعلیم و تعلم کے لئے چندہ بٹورے.   ہم تو یہ ضرور کہیں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن کیا ہماری اس بول سے یا اتنا کہ دینے سے یہ بدامنی ختم ہوجائیگی؟ نہیں ہرگز نہیں.  اور یہ  یاد رکھئیے! صاحب ثروت ہوں یا فقیرو مسکین اپنے ہونے والے داماد کو یونہی نہیں دیتے بلکہ یہ بھیکاری سمدھی،  داماد ،یا ان کے متعلقین مطالبہ کرتے ہیں کہ مجھے یہ یہ سامان تعیش چاہئیے، اتنے مال و زر چاہئیے پھر جاکر رشتہ پکا ہوگا،اورجب اس طرح کے بھیک منگے کی مانگ پوری نہیں ہوتی یا کچھ کسررہ جاتی ہے تو اس وجہ سےیا تو رشتہ نہ ہو پاتا ہے اگر ہوگیا تو طلاق کی نوبت آجاتی ہے اخباروں کی یہ خبرسرخیاں بنی رہتی ہے کہ فلاں نےاپنی بیوی فلانۃ کوصرف گاڑی یا بھرپورجہیزنہ ملنےپر قتل کردیا،اوراس بےچاری کو ان کےسسرال والوں نےمار پیٹ کر بدحال کردیا تو کہیں آگ میں جلادیا. روزمرہ  اس طرح کی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں ،کتنی پشیمانی کی بات ہے کیا یہی شادی و نکاح ہے جسکے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ہے "إن أعظم النكاح بركة أيسره مؤنة" رواه النسائي ٩٢٢٩
سب سے عمدہ بہتر نکاح برکت کے اعتباروہ جو اسراف ابذار سے پاک ہو  
جن رسموں سے ہمارامعاشرہ دوچار ہے اسکی شریعت میں کوئی نظیر و دلیل نہیں بلکہ 
اس معاشرہ کو جہنم بنانے والے، شادیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنادینے والے ڈکیٹ، اچکے ،بدمعاش نےکبھی یہ سوچا کہ اگر ہم نے جہیز کے لئے دست درازی کیا تو معاشرہ کہاں تک بدحال ہوگا، نہیں بالکل نہیں اگر یہ دوسروں کے ٹکڑے پرجینے والے، دست سوال دراز کرنے والے ناسور، بھیگ منگے   اپنے بارے میں بھی سوچا ہوتا تو معاشرہ کی بیٹاں شادی کی آس لیے اپنی عمر کی اکثر دہائیاں یونہی نہ بتاتیں.  ایک  بڑا المیہ یہ کہ جاہل و ان پڑھ تو درکنار اب علماء دین،مفتیان شرع متین، مدعیان عالمِ قرآن وحدیث  بھی ان کے سُر میں سُر اور تال میں تال ملانے کی جہد میں سرگرادں و حیراں ہیں پیشکش کرتے ہیں کہ اگر فلاں ابن فلاں جو کہ ڈاکٹر،انجنئیر،بزنس مین ہے ہمارے جگر پارہ سے شادی کریگا تو فلاں فلاں گراں قدر سامان کے ساتھ ساتھ فور ولیر گاڑی میں ھدیہ کرونگا. افسوس صد افسوس ہے ایسے مدعیان علوم نبوت پر کہ آخر سماج کو قعر مذلت تک ڈھکیلنے اور شادیاں جو بالکل آسان تھی سخت ترین بنانے میں ان پڑھ بھیکاری اور ہم علماء بھی ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں. ہمیں بھی بس اتنی فکر ہوتی ہیکہ کسی طرح میری بیٹی و جگر پارہ کا مناسب اور عمدہ رشتہ لگے اچھی جگہ شادی ہوجائے جو دینا لینا ہوگا دیکھا کر یا چھپا کر کیا جائیگا.
قارئین کرام!  کیا یہی دین پسند اور دیندار لوگوں کا طرہ امتیاز ہیکہ سماج اور سوسائٹی کے افراد کا رخ جہیز کے طرف کریں؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ہمارا شیوہ ہی
یہ ہوکہ  اس کے رخ موڑنے کی بھر پور کوشش کریں اور ایسی شادیاں جس میں شریعت اسلامیہ کے اصول و ضوابط روندے جارہے ہوں اسکا بائیکاٹ کریں لوگوں کو سمجھائیں دین کی تعلیم عام کریں اور شادی جو آج کل بہت ہی بھاری بھرکم چیز بن گئی ہے اسے آسان بنانے کی سعئ پیہم کریں کیونکہ یہی ہماری ذمہ داری ہے اور ہم علماء وارثین انبیاء ہیں ان حضرات نے جو اعمال و افعال انجام دیے اب ان کی ساری ذمہ داری ہمارے ناتواں اور نحیف ولاغر کاندھے پر ہیں اگر ہم نے درست و صحیح باتوں کی ترویج کیا, لوگوں تک پہنچانے کی جتن کی تو ہم کامیاب ہیں ورنہ ہم بھی مجرموں کی فہرست سے باہر نہیں ہوسکیں گے.
اللہ تعالی ہمیں جہیز جو ایک ہندوانہ اور جاہلانہ رسم اور رشوت جیسی لعنت اس سے دور رکھے، معاشرہ و سماج کو بھی اس ناسور سے نجات دے، حفاظت فرمائے تاکہ نکاح وشادی آسان ہوسکے. وماذلک علی اللہ بعزیز.

بدھ، 8 جولائی، 2020

कादियानियत को पिडा र सोझो पहाडी मुस्लिम

 कादियानियत को पिडा र सोझो पहाडी
मुस्लिम
        लेखक : मोहम्मद तासीन नदवी
अनुवादक: मोहम्मद मुजाहिदुल ईस्लाम नदवी 
एकातिर नेपाल यस समय धेरै समस्याहरूको सामना गरिरहेको छ भने अर्को तिर नेपालको पहाडी मुस्लिमहरु कादियानिहरुबाट पिडीत छन् ।  हो, उही कादियानि जो ईस्लामबाट पुर््ण रुुपमा बाहिर छ ।किनकि उनले मिर््जा गुलाम अहमद कादयानिलाई नबी मान्दछन  जबकि इस्लामिक कानूनले त्यस्तो समूहलाई इस्लामबाट बाहिर घोषणा गरेको छ। यस पहाडमा बसोबास मुस्लिम हरु लाई भ्रममा पार्ने र उनीहरूबाट इस्लामको अमुल्य  गहना खोस्ने प्रयास गरेेेको छ।  के त्यहाँ कुनै अहले-ए-सुन्नत र जमात इकाई, केन्द्र, समाज, एकेडेमी, जमीयत,  लगायत युवाहरु ले यसलाई गम्भीर रुपमा हेर्ने छैनन्?
हो ! यदि हाम्रो भित्र आस्था  (ईमान), जसमा खिया लागी लागेको छ, पुनः पालिश गरियोस्  भने यो सम्भव छ, अन्यथा, हामी खत्तमे नबुवतको (अन्तिम सन्देेशटा)  सुरक्षाको गीत गाउनेछौं तर के हामी यसमा सफल हुन सक्छौ त ?
हामी सबैको हृदयले भन्नेछ, "यदि हामीले आफैंको ख्याल गर्न सकेन भने अर्को  मानवहरुको कसरी हेरचाह गर्न सक्छिन् ? अल्लाहले हामीलाई यस्तो सम्मान र श्रेष्ठता प्रदान गर्नुभयो जुन असाधारण छैन।"  तर हामी ती हौं जसले हाम्रो आफ्नै गौरव, सम्मान र मर्यादालाई आफ्नै हातले काटिदिएका छौं। हाम्रा नवजात शिशु, युवा र बुढाले आफूलाई कहाँ सम्म इस्लामको गहनाले सुशोभित गरेका छन् कि कादियानवाद भनेको के हो? हामी जस्तै  सेतो पोषाक लगाउने उही अज्ञानता र उदासीनताको कारण आज कादियानियाले आफ्नो खुट्टा मुस्लिममा परिणत गरेका छन भने भोलि यसका प्रतिनिधिहरू राजनीति सभामा देख्न सकिन्छ, र किन छैन?  उन्ले मिहिनेत गरियो, कोरियो, जलाइयो, मर्मत गरियो र त्यसपछि उसले यो गलत झल्काउन सक्षम भयो कि यदि आज छैन भने भोली उसले हामीलाई प्रस्तुत गर्नेछ र हामी अहले-ए-सुन्नत र जमात घुमन्ते भएका छौ। घरेलु कलहले मलाई छोड्दैन।  नक्कल, नक्कलको पर्दामा हामी आफैंलाई यस्तै ढाल्यौं कि इस्लाम धर्मले पनि हामीलाई त्यागेको जस्तो देखिन्छ। كل حزب بما لديهم فرحين  "हामी माथी एक सय प्रतिशत फिट देखिन्छ , त्यसैले हामीले इस्लामको शिक्षामा बढी ध्यान दिनु आवश्यक छ र अल्लाहको  वचनको वाहक हुनु पर्छ।"
प्रिय पाठकहरु!  अल्लाह सर्वशक्तिमानले हामीलाई  मार्गगदर्शक समुुदायको रूपमा पठाएको छ। अहिलेसम्म हामीले आफ्नो  बारेमा सोचेको पनि छैनौं,  कसरी कालो  रातमा भट्किएक मानवतालाई सहयोग गर्र्छौ त? हामीसँग कहिले सोच्ने बुद्धि हुन्छ कि हामी आँफु संगै मुुस्लिमहरुु जस्ललाई मिठो सपना देखााएर धनको लोभ दिएर इस्लाम धर्मबाट अलग पारिएको छ र ट्रेडमार्कमा यो राखिएको छ कि हामी सही मार्गमा छौ र बाँकी मानिसहरु काँढा र बाँझो भएका छन्।  त्यहाँ मरुभूमिमा खुट्टा तापिरहेका छन्।  अल्लाहको सामुन्ने   के जवाफ दिने होला र? हामी लज्जित हुनेछैनौं, तब सर्वशक्तिमान्‌को आदेश कार्यान्वयन हुनेछ।
हाम्रो धर्म र मुस्लिम मानवताको बचाउ र संरक्षणको बारेमा सोच्न अहिले पनि समय छ। हाम्रो प्यारा मातृभूमिमा बसोबास गर्नेहरू आफ्नो भोकापनको कारण कादियानवादको सिकार भइरहेका छन्, तिनीहरूले आफ्नो धर्मको समर्थन गर्नुपर्दछ र आफ्नो आस्थाको रक्षा गर्नुपर्दछ।   र यो समयको आवश्यकता छ।
अल्लाह मेरो ईमान र मुसलमानहरुको ईमान को रक्षा गर्नुस् र कदियानि को टाउको कुचोल्नुस जो फेरि आफ्नो टाउको उठाइरहेछ।आमीन .ذلك على الله يسير

منگل، 7 جولائی، 2020

حالات حاضرہ اور مسلمان

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
حالات حاضرہ اور مسلمان 
تحریر : عبداللہ ندوی
حضرات قارئین کرام!  آج مسلمانان عالم گوناگوں مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں، نت نئے بےشمار مصائب و آلام میں گھرے ہوئے ہیں، پے در پے  مسائل و مشکلات نے مسلمانوں کی کمر توڑ دی ہے ان کو شکست و ریخت میں مبتلا کر دیا ہے، لیڈران قوم کی متعصبانہ ذہنیت، جانبدارانہ سیاست، گندی پالیسیاں، فرقہ پرستانہ فیصلے، و فرقہ بندیاں نے مسلمانوں کو اندر سے نہایت ہی خستہ،کمزور، اور کھوکھلا کر دیا ہے، ہر شخص اپنی دنیا میں مگن ہے، اتحاد و اتفاق، یکجہتی واتحاد، مودت و محبت، خلوص و اپنائیت، عدل و انصاف کا خون کردیا گیا ہے، خود غرضی، عیش پرستی،ہوس رانی اور دنیا طلبی نے ایسا ڈیرہ جمالیا ہے کہ ہر آن، ہرلحظہ, ہرلمحہ ایک کو دو اور دو کو چار کرنے کی کوشش اور فکر دامنگیر رہتی ہے، نہایت ہی کم مدت میں ڈھیر ساری دولت دنیا حاصل کرنے اور سمیٹنے کی حرص، طمع،آز اور لالچ حد سے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، راتوں رات غربت و افلاس کی دنیا سے باہر نکل کر امیری کے خواب سجانے میں مست ہیں، جائز وناجائز کا جنازہ اٹھ گیا ہے چند دنوان میں اچھی خاصی دولت سے مالا مال ہو کر سماج و معاشرہ میں ظالم و جابر کی دبیز چادر زیب تن کرلیتے ہیں الغرض یہ کہ قلیل عرصہ میں دنیا کے امیر ترین شخص کی فہرست میں شامل ہو نے جاتے ہیں . چاہے  طریقہ کار جو بھی ہو، تڑپتی، بلکتی، سسکتی، جاں بلب، سوختہ، شکستہ خاطر انسانیت سے انہیں دور دور تک کوئی واسطہ اور سروکار نہیں،اور ان کا یہ نعرہ مستانہ ہوتا ہے ,ہمیں کسی سے کوئی مطلب نہیں، ہمیں مطلب ہے تو صرف اور صرف اپنی ذات سے اور داد عیش سے اسی لئے" بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست " کا منظر اور مظہر انکی  زندگی سے جھلکتا نظر آرہا ہے، یہی وہ مرض و گھن ہیکہ ہم  کثرت کے باوجود دنیا کے ہر خطے، ہر گوشے اور ہر میدان میں حیران و پریشان ہیں،ششدر و درماندہ اپنی حیثیت و وقعت کھو چکے ہیں، غلامی، پستی، اور رذالیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، حالانکہ اللہ تعالٰی نے مسلم قوم کو بے انتہا مال و دولت، بےشمار قیمتی اور نایاب خزانوں, بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے، باوجود اسکے ہم پوری دنیا میں ذلیل و رسوا، حقیر اور کمتر بن چکے ہیں، ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا نے کی ہر ممکن کوششیں ہو رہی ہیں، باطل فرقہ پرست اور طاغوتی طاقتیں پھن پھیلائے بیٹھے ہوئے ہیں، ساری دنیا کو چھوڑیں ہم اپنے ملک، سماج، سوسائٹی، اور معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائیگی کہ ہمارے ہی درمیان بھیڑیا صفت کچھ ایسے لوگ رہتے بستے ہیں جن کی داداگیری اور ظلم و جبر  سے انسانیت تڑپتی اور کراہتی نظر آرہی ہے ، اخوت و مساوات کا گلا گھونٹا جارہا ہے، آہ و بکاء ,نالہ وفریاد، کرب و اضطراب سے پورا ماحول و معاشرہ مکدر ہوچکاہے، انسانیت ہانپتی اور دم توڑتی نظر آ رہی ہے ، عدل و انصاف کا خون ہو رہا ہے ، مختصریہ کہ معاشرے کا سارا نظام درہم برہم ہوتا نظر آ رہا ہے ، جو قوم تعلیمات نبوی سے دور اور جس قوم میں مفاد پرستی، خود غرضی، مطلب پرستی، اور دنیا طلبی کا مرض پیدا ہو جائے یقینا وہ قوم نکمی اور کمزور ہو جاتی ہے، اس کے اقبال کا ستارہ غروب ہوجاتا ہے، اس کا ڈوبنا اور زوال مقدر ہو جاتا ہے، 
اور پوری انسانیت بے بسی، بے چینی، اور درد و الم کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، طاقتور اور صاحب اقتدار غریبوں، بیکسوں، کمزورں،اور محتاجوں کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے، اللہ کی زمین پر اللہ کے بندوں کے ساتھ ظلم و ستم، جبر و قہر، اور بربریت نہایت ہی قبیح، دلدوز، دلخراش اور قابل مذمت اقدام ہے، اور یہ جاہلانہ و احمقانہ حرکت انسان عام طور پر ہوس پرستی اور سیم و زر کی پوجا کی وجہ سے کرتا ہے، اور دولت و اقتدار کے نشے میں دھت ہو کر ایسی غلیظ حرکتیں کر بیٹھتا ہے جس سے ساری انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے، اسوقت ضرورت ہے کہ ہم اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایسے صاحب اقتدار اور صاحب ثروت کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ وہ ان گھنونے اور انسانیت سوز مظالم سے باز آجائیں، اور تڑپتی، کراہتی، سسکتی انسانیت کو راحت و آرام میسر ہو جائے،
 دعاء گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کی حفاظت فرمائے اور راہ راست پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔07 جولائی 2020

ہفتہ، 4 جولائی، 2020

فتنئہ قادیانیت اور سادہ لوح پہاڑی مسلمان

               
                     بسم اللہ الرحمن الرحیم
      فتنئہ قادیانیت اورسادہ لوح پہاڑی مسلمان    ¤∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽∝∽¤ 
               از قلم:  محمد طاسین ندوی
چھوٹا سے جمہوری ملک نیپال اسوقت جہاں بہت ساری پریشانیوں سے دوچار ہے وہیں نیپال کے اسوقت  پہاڑی مسلمان فتنئہ قادیانیت سے نبرد آزما ہے ،ہاں وہی قادیانیت جو ملت اسلامیہ سے بالکلیہ خارج ہے کیونکہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی قرار دینے والا بزعم خود ایک مسلم جماعت ہے جبکہ شریعت اسلامیہ نے ایسی جماعت کو خارج از ملت اسلامیہ قراد دیا ہے ،پہاڑ میں رہنے بسنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور ان سے زیور اسلام کو چھین لینے کی کوشش اور تگ ودو میں شب و روز گزار کرنے والی یہ ناعاقبت اندیش جماعت کا کیا کوئی اہلسنت والجماعت کی  یونٹ،مرکز،سوسائٹی،اکیڈمی،جمعیت،الغرض مسلم نوجوان خبر لینے والے نہیں؟ ہاں !
اگر ہمارے اندر کا ایمان جو زنگ آلود ہوگیا ہے دوبارہ صیقل ہوجائے تو یہ ممکن ہے ورنہ تحفظ ختم نبوت کا راگ تو ہم ضرور الاپیں گے لیکن کیا ہم اس میں کامیاب ہیں ؟
تو ہم میں سے ہر فرد و بشر کا دل یہ ضرور کہے گا کہ تم نے اپنی فکر بھی نہ کی تو اپنے دوسرے برادران کی کیونکر کرو، اللہ تعالی نے ہمیں ایسی سر بلندی اور برتری عطاء کیا ہے جس کی نظیر نادر ہی نہیں نایاب ہے لیکن ہم ہیں کے اپنی ساری شان و شوکت،عزت و ناموس،رعب و داب کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کیا ہے، ہمارے نونہالان، جوان وپیر نے کہاں تک دین اسلام کے زیور تعلیم سے اپنےکو آراستہ و پیراستہ کیا ہیکہ وہ سمجھیں قادیانیت ہے کیا.اسی جہالت اور ہم سفید پوش باریش مولویان عظام کی بے اعتنائی کیوجہ سے  آج قادیانیت نے اپنے پاؤں کو مسلم روپ دھار کر ایسا جمایا ہیکہ کل اس کے نمائندے اور ممثل ایوان سیاست میں بھی نظر آسکتے ہیں ، اور ایسا کیوں نہ ہو اس نے اپنے کو تپایا،کھپایا،جلایا،سنواراہے تب جاکر وہ اس قابل ہوسکا کہ آج نہیں تو کل وہ ہماری غلط نمائندگی کرے گا اور ہم اہلسنت و الجماعت کے افراد خانہ بدوش بنے بیٹھے ہیں  خانگی جھگڑے ہی نے ابھی مجھے نہیں چھوڑا ہے مسلک، مذھب،تقلید، عدم تقلید کے دبیز پردے میں ہم نے اپنے کو ایسا لپیٹ رکھا ہیکہ دین اسلام بھی ہم سے رخصت ہوتا نظر آرہا ہے تعصب کی بدبو ایس پھوٹ رہی ہے کہ "کل حزب بمالدیہم فرحین "صد فیصد فٹ نظر آرہا ہے، تو ہمیں چاہیئے کہ اسلام کی تعلیمات کی طرف ازسر نو دھیان دیں اور اعلاء کلمۃ اللہ کا علمبردار بنیں.
قارئین کرام! اللہ تعالی نے ہمیں امت دعوت بنا کر بھیجا ہے اب تک ہمیں اپنی فکر بھی پیدا نہ ہوئی چہ جائیکہ شب دیجور میں بھٹکتے انسانیت کی دستگیری کریں آخر ہماری عقل  کب عقل ہوگی کہ ہم اپنی فکر کے ساتھ ان سادہ لوح انسانوں کی بھی فکر کریں گے جسے  حسین خواب دیکھا کر مال و منال کا لالچ دیکر دین اسلام سے دور کرکہ مسلمانوں کو عریاں کیا جارہا ہے  اور اس کہ اوپر یہ ٹریڈ مارکہ لگایا جارہا ہے کہ ہم ہی حق پرست اور حق پر ہیں باقی سارے لوگ  میدان خار دار اور بےآب و گیاہ ریگستان میں آبلہ پاہورہے ہیں ،
کیا اللہ تعالی کے حضور جب ہم داد عیش دینے والے مسلمانان، علماء،صلحاءاور دانشوران کی  پیشی یوگی  تو ہم سے یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ تمہارے درمیان کفرو شرک الحادو لادینی قادیانیت و عیسائیت اپنا سر ابھارتا نظر آرہا تھا اور تم سارے تعلیمات نبوی کوعمدہ جزدان میں رکھ کر طاق نسیاں کی نذر کرکہ  دنیا طلبی میں سرگرداں و حیراں تھے، تو کیا جواب بن پڑیگا اسوقت ؟یہی نا کہ مارے شرم کے ہم پانی پانی ہونگے ،پھر باری تعالی کا جو حکم ہوگا اسے سر انجام دیا جائیگا.
ابھی بھی وقت ہے اپنی اور مسلم انسانیت کے دین کی بقاء و تحفظ کے بارے میں سوچنے اور فکر لینے کا ہمارے وطن عزیز کے پہاڑی باشندگان سادہ لوحی کی وجہ سے قادیانیت کے بھینٹ چڑھ رہے ہیں انہیں اپنے دین پر قائم رکھنے اور انکے عقائد کو تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت اور وقت کا اہم تقاضہ ہے .
اللہ تعالی  میرے اور عام مسلمانوں کےایمان و عقائد کی حفاظت فرمائے اور فتنئہ قادیانیت جو پھر سر اٹھا رہا ہے اس کا سر کچل دے آمین  ..إن ذلك على الله يسير.



جمعرات، 25 جون، 2020

نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار

محمدطاسين ندوی

     نونہالان کی تعمیرمیں استاذ کا کردار 
ازقلم: محمدطاسین ندوی 
انسان جب کسی بھی عمل و فن اورتعلیم کاآغاز کرتاہےتوایسے ماہر، باذوق،باکمال شخصیت کی تلاش کرتا ہے جس سے نونہالان بھر پور استفادہ کرے اور ہر طرح کا گُر اس سے اخذ کرے نیز ایسی شخصیت جس کاانتخاب بچوں کی تعلیم و تربیت، یا فنکاری کے لئے کیا جاتا ہے  وہ استاد کہلاتے ہیں.
استاذ اگر مخلص،نیک دل،محنتی ہوتے ہیں تو اس سے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے بھی  خوش گفتار،خوش کردار، باغیرت،
خوددار،محنتی، ماہر اور اچھے اخلاق کے  حامل ہوتے ہیں کیونکہ اس نیک اور بااخلاق کی مثال اس عطر فروش کی ہے کہ اگر کوئی اس کے پاس جائیگا کچھ نہیں خریدے گا پھر بھی خوشبوہی  لیکرواپس آئیگا.
اگر استاذ ان صفات مذکورہ سے متصف نہیں تو پھر وہ استاذ تو ہوگا لیکن اپنے شاگردان کو اسی سے لیس کرے گا جو وہ دانستہ یا نادانستہ انجام دے رہا ہوگاکیونکہ اکثر چھوٹے اپنے بڑوں کی نقل کرتے ہیں
وقاص اعوان رقمطراز ہیں کہ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے.خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے استاد میسر آ جاتے ہیں۔ ایک معمولی سی نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں 
قارئیں کرام! استاد قوموں کی تعمیر میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کی وجہ سے اچھا معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور اچھے معاشرے سے ایک بہترین قوم تیار کی جا سکتی ہے۔ اساتذہ اپنےکو آج  قربان کر کے بچوں کے کل کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ دیگر معاشروں اور مذاہب کے مقابلے میں اگر اسلام میں استاد کے مقام کے بارے میں ذکر کیا جائے تو اسلام اساتذہ کی تکریم کا اس قدر قائل ہے کہ وہ انہیں روحانی باپ کا درجہ دیتا ہے
کسی بھی انسان کے والدین اس
پیدا کرنے کا ذریعہ و توسط  توہیں  لیکن استاد اس کی روحانی اور اخلاقی تربیت کے نتیجے میں اسے زمین کی پستیوں سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ طالب علم کو آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے میں  اور اس کی شخصیت کو نکھار نے میں اساتذہ بہت نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار جگہوں پر اساتذہ کے احترام کا حکم دیا۔
دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی  ایک عمدہ و مخلص اور مثالی استاذ بنائے آمین یارب العالمین

پیر، 22 جون، 2020

نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت


  بسم اللہ الرحمن الرحیم 
 نیپالی زبان کی ترویج و اشاعت 
  تحریر : عبداللہ ندوی 
 ہمارا وطن عزیز نیپال جغرافیائی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے، یہاں کے ہرے بھرے اور گھنے جنگلات، بلند پہاڑ، پوری دنیا میں معروف و مشہور ہے، دنیا کی آٹھ بلند ترین چوٹیوں میں سے ماونٹ ایورسٹ ( Mount Everest ) سب سے بلند اور اونچی چوٹی ہے، جو ہمارے وطن عزیز ملک نیپال میں واقع ہے، ملک نیپال میں مختلف نوع نسل و رنگ اور مختلف زبانوں کے بولنے والے لوگ رہتے بستے ہیں، حالانکہ نیپالی زبان یہاں کی "سرکاری"زبان ہے، یہاں کی اقتصادی اور معاشی حالت نہایت ہی خستہ اور کمزور ہے، جس وجہ سے یہاں کے اکثر و بیشتر لوگ بیرون ملک سعودی عرب، قطر، دبئی، بحرین، کویت، اسلامی و غیر اسلامی ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں، تاکہ اپنی اقتصادی و معاشی حالات کو بہتر اور مضبوط بناسکیں، مختصر یہ کہ نیپال چند عرصہ قبل تک ایک ہندو "راسٹ" دیش تھا مگر 2008ء کے انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک میں تبدیل ہو گیا، مگر پھر بھی یہاں کے آئین و قوانین میں کوئی خاص ترمیم اور بدلاو نہیں آیا، مسلمانوں کے حقوق و مطالبات جس طرح راجا مہاراجہ کے دور میں پامال ہورہے تھے وہ ہنوز  ابھی بھی بدستور جاری ہے، یہاں بود و باش اختیار کر نے والے مسلمان عموما نا خواندہ و پسماندہ ہیں، جو یہاں کی سرکاری زبان "نیپالی زبان" سے بالکل ناآشنا اور نابلد ہیں، ان کا اپنا کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، معیاری لائبریری، اسلامی سینئر، میڈیا، نیوز چینل کچھ بھی تو دستیاب نہیں جن سے ان کی اولادیں خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکیں، اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کر سکیں اور نئی نسل کی آبیاری بروقت کر سکیں اور انہیں کوئی مثبت فائدہ مند سوغات یا پیغام دے سکیں، ابھی بھی وقت ہے کہ نیپالی زبان کی  نشر و اشاعت کی جائے اپنی بول چال میں اس کا استعمال کیا جائے سیکھنے اور سکھانے کا ماحول پیدا کیا جائے اپنے افکار و خیالات و نظریات کو بلند کیا جائے، ارباب حل و عقد، ذمے داران مدارس و مکاتب، ذی شعور حضرات، قوم و ملت کے دانشوران و رہنما حضرات، اور اسلامی لیڈران و قائدین بروقت ان باتوں پر توجہ مرکوز کریں، ان شاء اللہ العزیز کامیابی مقدر ہو کر رہیگی، کیونکہ نیپالی زبان کو "سرکاری زبان" ہوئے کے اعتبار سے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، جس کا سیکھنا اور سکھانا وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ ہمیں کسی بھی سرکاری دفاتر، بینک، عدالت، مالپوت ،پولیس اسٹیشن، اور دیگر کسی بھی مقامات پر پریشانیوں اور الجھنوں کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور ہم بلا جھجک ٹیبل ٹھوک کر اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں، اور یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہم نیپالی زبان پر مکمل دسترس حاصل کر یں،تاکہ ہم زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان میں یہاں کے آئین و قوانین کے مطابق کامیابی حاصل کرسکیں، اہل مدارس طلبہ و طالبات پر خوب محنت کریں بالخصوص نیپالی اور انگریزی زبان میں ان کو ماہر بنائیں، تاکہ وہ پست ہمتی اور حوصلہ شکنی کا شکار نہ ہوں، بلکہ بلند خیالات و نظریات کے حامل و مالک ہوں، اور روز افزوں ترقی کے منازل طے کرتے رہے، جس ملک میں ہم رہتے بستے ہیں وہاں کی زبان سے شناسائی وطن پرستی کی دلیل اور علامت ہے، اور اس سے لاعلمی، بے تعلقی، بے فکری، بے خیالی، بے توجہی و بے التفاتی،اور عدم دلچسپی جاہلانہ اور احمقانہ فعل ہے، اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمیں اپنی زبان سیکھنے سکھانے اور اس کی ترویج و اشاعت کی لگن اور محنت شروع کر دینی چاہئے تاکہ ہم اپنی شناخت اور ملی تشخص کو برقرار رکھ سکیں، اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو،آمین

جمعرات، 18 جون، 2020

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ

اسمارٹ فون,سوشل سائٹس, جدید ٹیکنالوجی مفید یا مضر .ایک جائزہ


ازقلم :محمد طاسین ندوی
اللہ تبارک وتعالی نے انسانوں کو پیدا فرماکر انکو زندگی گزارنے اور رہنے سنہے کا سلیقہ بتایا اور ساری تخلیقات اسی حضرت انسان کے لئے فرمائی تاکہ روز بروز انسان راہ ارتقاء کی طرف گامزن رہے ، اس وقت جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی حساس اور پرآشوب دور ہے، جہاں ٹکنالوجی کی ترقیاں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حضرت انسان اپنی دنیا و عاقبت کو چند کوڑی کے عوض فروخت کرنے پر تلے ہیں ۔
اگر ہم اس وقت کارگہ عالم کا جائزہ لیں تو یقینا یہ روز روشن کی طرح عیاں  ہوجائیگا کہ کونسا گھرانہ و کنبہ اور خاندان ایسا نہیں ہے جس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون -دجالِ وقت- نہ ہو اور اگر کسی کے پاس نہیں ہے تو گویا اس کی دنیا تاریک تر ہے اور وہ اپنا وجود کو کوستے اور لعن طعن کرتے ہیں کہ تم کہاں ہو اس دور ترقی میں ایک اسمارٹ فون تیرے پاس نہیں ؟ اگر کسی کے پاس اسمارٹ فون ہے اور وہ یومیہ کمائی سے اپنا اور اپنے اہل وعیال کے خورد ونوش کا انتظام کرتا ہے وہ بھی موبائیل و انٹرنیٹ میں ایسا مستغرق ہیکہ کمائی میں سے ایک بڑی رقم اسی پر صرف کرتا ہے اور جو خوشحال و فارغ البال ہے اسکا کیا کہنا دنیا ان کی مٹھی میں ہوتی ہے انکے کم سن بچے اور بچیاں کے ہاتھ برانڈیڈ اسمارٹ فون سے نیچے نہیں ہوتے اور یہ ایک یہودی پالیسی ہیکہ انسان کو کیسے الجھاکر اپنا الو سیدھا کریں چنانچہ وہ اپنے حربے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے.
ہمارے چھوٹے اور کم سن بچوں کے پاس  موبائیل,انٹرنیٹ نت نئے ایجادات ہیں وہ کرتے کیا ہیں اس نئی ایجادات و اسمارٹ فون کے ذریعہ تو آئیے میں بتاتا ہوں اکثرو بیشتر بچے حیاسوز،اخلاق سوز یہاں تک کے ایمان سوز سیریل و مسلسلات کی طرف اپنا قدم بڑھاتے ہیں اور نہ جانے اس کا یہ قدم بڑھتا ہوا کس قعر مذلت و رذالت میں جاگرتا ہے اس کا مشاہدہ اس روئے زمین پر رہنے بسنے والے خوب کرتے ہیں اور آئے دن ایسے واقعات اور حادثات رونما ہوتے ہی رہتے ہیں ، یہ اوراس جیسے ڈھیرسارے نقصانات ہیں جس کا شمار اس مختصر مضمون میں محال ہے.
البتہ جدید ٹکنالوجی اور سماجی ویب سائٹس کی منفعت سے آنکھیں بند کرلینا تقاضۂ انصاف نہیں۔
*تو اس کے فوائد پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں* ۔۔۔۔۔۔۔
اگر سماجی سائٹس کا صحیح استعمال سکھایا جائے تو وہی نو عمر اور کمسن بچے اس سے بہت استفادہ کر سکتےہیں, چونکہ اسوقت دنیا بالکل بیت عنکبوت کی طرح مربوط ہے اس لئے اس سے جان چھڑانا بہت ہی مشکل اور کٹھن ہے البتہ  اپنے کم سن بچوں کی تربیت کا خاص خیال رکھا جائے اور اپنی نگرانی میں اسے نیٹ وموبائیل کے استعمال کی اجازت دی  جائے. اس کے مثبت و اچھے استعمال سکھائے جائیں کیونکہ نئی ایجادات کے فوائد سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا نیز  اسکے فساد و منفی اثرات اسکے فائدے سے زیادہ ہیں لیکن اس وقت یہ دنیا کی اہم ترین ضرورت ہیکہ ہم اسے استعمال کریں ۔ اس کے اندر کی خوبیاں اخذ کریں اور اسکو اپنی زندگی کے اندر اپنانے کی مساعئ  جمیلہ کریں کیونکہ کوئی بھی چیز دو پہلووں کاحامل ہوتی ہے منفی و مثبت اب اس کے استعمال کرنے اور کروانے والے کو چاہئیے کہ اس کے ذریعہ ایسے پھول سے اپنا دامن بھرے جس سے دامن نہ الجھے اور نہ داغدار ہوں
یہی جدید ٹکنالوجی ہے جس کی وجہ سے انسان کےسالوں، مہینوں اور گھنٹوں کے کام منٹوں میں ہورہے ہیں، ایک تار جو ہفتوں اور مہینوں بعد منزل مقصود تک پہنچتا تھا اب وہ چشم زدن میں آپ کی نگاہوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ انٹرنیت کے فوائد بھی بے شمار اور نقصانات بھی ان گنت ہیں البتہ جو صارف جسطرح کا ہوتا ہے اس سے اسی قدر کسب فیض کرتا ہے اور اس پر تربیت اور تہذیب و ثقافت کا خاصا اثر ہوتا اب یہاں مربیان و اساتذہ اور والدین کاامتحان بھی درپیش ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے نونہالان کی کیا اور کیسی تربیت کی ہے اور ایسا بالکل نہیں کہ کوئی بھی سرپرست، والدین اور ذمہ داران اپنے آل و اولاد کی اچھی تربیت کی فکر نہیں کرتے یقینا کرتے ہیں ان بچوں کی فکر ہمیشہ انہیں دامن گیر رہتی ہے البتہ انسانی نفس ہے جس کہ بارے میں خود باری تعالی نے فرمایا .. وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء
نفس امارة انسانوں تو برائیوں پر بر انگیختہ کرتا ہے جس کی وجہ سےاکثر انسان اسمیں مبتلا ہوتے ہیں سوائے ان نفوس قدسیہ کے جس پر اللہ کا رحم و کرم ہوجائے.
اللہ ہمارے نونہالان کو مثبت فکر، نفس مطمئنہ اور جدید ٹکنالوجی کا مثبت استعمال کرنے والا بنائے. آمین وماتوفیقی الا باللہ رب العالمین۔

منگل، 16 جون، 2020

خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟


 خودکشی کیوں کرتے ہیں ۔۔۔؟؟؟
دراصل دنیا کی کشش انسان کو خواہ اپنی جانب کھینچ لے جائے اور اسے خواہشات کی وادی کا شہزادہ بنا کر پرواز کرادے، اسے یہ بھی محسوس کرادے کہ دنیا اس کی جاگیر ہے، وہ سب کا مالک و آقا ہے، دو عالم اس کی ہیبت سے رائی ہے، پہاڑ ذرہ اور دریا قطرے کے مانند ہے، اسے ہر لمس پر جہاں کی خوشیاں نصیب ہو، کھوٹا کھرا بن جائے، مٹی سونا ہوجائے، چمک دمک کی چوندھیا دینے والی روشنی اس کی آنکھوں کو گھیر لے، زندگی کی رمق اور نبض حیات پر اسے کنٹرول لگنے لگے، اسے یہ بھی باور کرایا جائے کہ اب زمین کی سطح اس کے پیروں کی محتاج ہے، آسمان کی بلندی اس کے سر کو لگتی ہے اس کے بازوؤں قوتوں کا کرنٹ دوڑتا ہے، وہ چلے تو دنیا تھم جائے، نظام عالم پر وہ قابض ہے، وہ ہاروت و ماروت سا جادو پالے، وہ مسیحائی بھی رکھ لے، کرشماتی طاقت اور بالخصوص جوانی کا جوش، گرم خون کی کاوش، تعلیم کی ہوشمند، دم گرم اور دمساز بھی پالے، اپنے ارد گرد شہرت و دولت کا انبار لگا لے، دنیا کی نعمتیں اس کے اشارے کی محتاج ہوں، اسے یہ بھی لگتا ہو کہ اب دنیا اس کے ہاتھوں کی لونڈی ہے، قرب و جوار کی بھیڑ، لوگوں کا ہجوم، اس کی ہر بات پر داد، اس کی مسکان پر چہک، اس کے انداز پر قربان اور اس کی ادا پر مر مٹنے والے ہوں، جسم کی قوت، ذہانت و ذکاوت اور صلاحیت و قابلیت کا ڈھیر ہو، اپنی مرضی سے دنیا کو جو چاہیں پیغام دیں، حسن ادا سے سب کو مسحور کردیں اور خود پر اعتماد بحال کئے بغیر نہ رہیں، اور یہ لازمی بن جاتا ہو کہ اپنی بہتر پیشکش اور اعلی انداز سے ہر کسی کو موہ لیتے ہوں، دنیا کی عمارتیں ان کے نام سے مزین ہوں، کتابوں میں ان کے چرچے ہوں، لوگ تاریخ کو بھی ان سے پہچانتے ہوں، غرض یہ کہ موجودہ دور میں جو کچھ انسانی زندگی کا اعلی ترین معیار ہو اور جسے عوام ایک بہتر زندگی سمجھتی ہو وہ سب کچھ ان کے پاس ہو تب بھی وہ خودکشی کرلے تو اسے کیا کہیں گے؟ زندگی کو ایسے موڑ پر ختم کردینا جب جینے کی توقع ہو تو اسے کس طرح تعبیر کیا جائے؟ دنیا کے سامنے صحیح و غلط کا سبق پڑھاتے ہوں مگر خود ہی زندگی کو دشمن مان کر پھانسی کے پھندے پر لٹادے تو اسے کیا کہیں گے؟*
اب ان سب پر غور کرنے کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھئے:الذين آمَنُوا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (رعد:٢٨) " وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کی یاد سے ان کے دل کو سکون حاصل ہوتا ہے، آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سکون ہے جو انسان کو زندہ رکھتی ہے، اسے دکھ سکھ میں جینے کا ہنر بتاتی ہے، زندگی کو ایک امانت اور رب کے سامنے جوابدہی کا احساس دلاتی ہے، اسے یہ یقین کرواتی ہے کہ اس کی زندگی رائیگاں نہیں ہے، وہ مصائب میں الجھ کر اسے ضائع نہیں کر سکتا، امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتا، دنیا فانی ہے، روشنیاں مٹ جائیں گی، چراغ بجھ جائیں گے مگر خالق و مالک کا تذکرہ باقی رہے گا، اور وہی دلوں کو تھامے رکھے گا، ذرا سوچئے! اگر کسی کے اندر یہ جذبہ ہو تو وہ کیوں کر خود کشی کر سکتا ہے، لیکن افسوس دنیا کی تیز و تند ترقی اور مصنوعی دل نے انسان کو سب کچھ دینے کے باوجود یاد الہی سے محروم کردیا، جو سب سے بڑی دولت تھی، جو مقصد اور زندگی کا لب لباب ہے، استاد گرامی فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی مدظلہ نے بہت خوب لکھا ہے: " عام طور پر مادی سہولتوں کو سکون و اطمینان کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اطمینان دل کی اس کیفیت کا نام ہے کہ جس میں انسان کو قرار آجائے اور آگے کی لالچ باقی نہ رہے، جیسے ایک شخص کو کسی خاص شہر تک جانا ہے تو اس شہر کو پہونچنے کے بعد وہ مطمئن ہوجاتا ہے، اس سے پہلے خواہ اسے اچھے سے اچھا اور خوبصورت سے خوبصورت شہر نظر آجائے، انسان بے اطمینانی سے دوچار رہتا ہے، اور اپنی منزل پہنچنے کیلئے طبیعت مضطرب رہتی ہے، مادی چیزوں کی حرص جن لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالیتی ہے، ان کی منزل کبھی آتی ہی نہیں، وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بے چین رہتے ہیں؛ لیکن جن لوگوں کو اللہ پر یقین ہوتا ہے، اللہ کی یاد سے ان کے دلوں کوطمانینت حاصل ہوجاتی ہے، اگر اس نے کم دولت بھی حاصل کی تو یہ سوچ کر کہ چونکہ اللہ کا یہی فیصلہ ہے اور ہم اس پر راضی ہیں، اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے__" (آسان تفسیر قرآن مجید)

✍ محمد صابر حسین ندوی ۔

پیر، 15 جون، 2020

کیوں زیاں کار بنوں....

کیوں زیاں کار بنوں.....                                      

   ๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
                                    ☜ محمد طاسين ندوي
باری تعالی نے امت محمديہ کو  برپافرمایا اور یونہی نہیں چھوڑدیا بلکہ دستور حیات سے نواز کر اپنی اجتماعی معاشرتی و خانگی زندگی گزارنے کا ایسا سیلقہ وطریقہ  دیا جس کی نظیر کسی ادیان قدیمہ میں موجود نہیں پہلا قران مجید جو مکمل گائڈ لائن ہے  اور دوسرا احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ قران مجید کی توضیح و تشریح ہے  اسی حدیث رسول میں ان بنیادوں کا ذکر بھی فرمایا جو دین اسلام کے اصل و جڑ ہے، چنانچہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے " بني الإسلام على خمس شهادة لاإله إلاالله وأن محمد رسول الله  وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة ..."الحديث. متفق عليه
اسلام کی بنیاد پانچ عمودو ستون پر ہے ..جن میں سے سب سے پہلا اور عظیم الشان کلمہ شھادت کی گواہی ہے دوسرا عظیم شیئ نماز پنج گانہ کا قیام  اور تیسرا زکاۃ کی ادائیگی ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں جس کاحدیث رسول میں ذکر ہے چونکہ یہ تحریر زکاۃ ہی پر ہے اس لئے آئیے اس سے روشناس ہوتے ہیں

علماء لغت زکاۃ کے معنی اضافہ،پاکی،بڑھوتری اور نما کے بتائےہیں
شریعت اسلام میں زکاۃ کی تعریف ہے: مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ  کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا،
زکاۃکو صدقہ بھی کہتے ہیں امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تحریر فرمایا ہے
صدقہ کو صدقہ اسلیئے کہتے ہیں کے اسکا دینے والاگویایہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اپنے قول و فعل میں صادق ہے.معارف القرآن ۳۹۵
زکاة کی فرضیت سن ۲ ہجری میں ہوئی
جس معاشرے میں ہم سانس لیتے ہیں اس میں دو طرح کے افراد ہیں ایک صاحب ثروت اور مال و منال والا جسے شریعت کی اصطلاح میں صاحب نصاب کہتے ہیں  اور دوسرا ایسے افراد جو صاحب ثروت کے زمرہ سے خارج ہوں جسے شریعت کی اصطلاح میں۔غیر صاحب نصاب کہتے ہیں
البتہ ہر صاحب نصاب مردو زن پر زکاۃکی ادائیگی اپنے حدود قیود کے ساتھ واجب ہوگی
زکاۃ کو زکاۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان مال کے ساتھ مشغول ہوتا ہے تو اس کا دل میں  مال کی محبت جاگزیں ہوجاتی ہے دل کے اس جھکاؤ اور میلان  کی وجہ سے مال کو مال کہا جاتا ہے اورمال کے ساتھ اس درجہ مشغولیت و محبت  کی وجہ سے انسان کئی روحانی و اخلاقی بیماریوں اور گناہوں میں مبتلاہو جاتا ہے مثلامال کی بے جا محبت، حرص اور بخل و غیرہ ان گناہوں سے حفاظت اور نفس و مال کی پاکی کے لیے زکاۃ و صدقات کو مقرر کیا گیا ہےاس کے علاوہ زکاۃ سے مال میں ظاہری یا معنوی بڑھوتری اور برکت بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے بھی زکاۃ  کا نام زکاۃ رکھا گیا آیا کیا زکاۃ ہر کس و ناکس پر فرض ہے یا مخصوص افراد پر شریعت نے اس کی بھی حد بندی کی ہے ادائیگی زکاۃکے فرض ہونے کی کچھ شرائط بتائے ہیں.جو مندرجہ ذیل ہیں
1 مسلمان ہوناکافر پر زکاۃ واجب نہیں
۲۔ بالغ ہونا نابالغ پر زکاۃ فرض نہیں
۳۔ عاقل ہونامجنون و دیوانہ پر زکاۃ فرض نہیں جبکہ اسی حال میں سال گذر جائے اور کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے تو فرض ہے
٤۔ آزاد ہوناغلام پر زکاۃ نہیں اگرچہ اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو
٥۔ مال بقدرِ نصاب اس کی ملکیت میں ہونا اگر نصاب سے کم ہے تو زکاة نہیں
٦۔ پورے طور پر اس کا مالک ہونا یعنی اس پرمکمل قابض ہونا " تملیک کا پایا جانا"
۷۔ نصاب کا  قرض سے زیادہ ہونا
۸۔ نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے زیادہ ہونا
۹۔ مال کا نامی ہونا یعنی بڑھنے والا خواہ حقیقتہً ہو یاحکماً.
۱۰۔ نصاب پر ایک پورے  سال "حولان حول " کا گذر جانا 
اگر سماج میں ایسے افراد ہوں جو ان شرائط پر اتر رہے ہوں تو ان کے اوپر واجب ہیکہ اپنے  مال میں سے اموال زکاۃ"سونا چاندی نقد پیسہ مال تجارت جانور کاایک متعیں مقدار زکاۃ نکال کر مصارف زکوٰۃ تک پہنچائیں
       اور جو لوگ اس رکن کے منکر ہیں وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے جس نے  دینے میں سستی وکاہلی اور بخل سے کام لیا اور اس فریضہ کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لیا  اس کے سلسلے میں بڑی سخت وعید ہیں اللہ رب العزت کا فرمان ہے" یَوۡمَ یُحۡمَىٰ عَلَیۡهَا فِی نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكۡوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمۡ وَجُنُوبُهُمۡ وَظُهُورُهُمۡ هَـٰذَا مَا كَنَزۡتُمۡ لِأَنفُسِكُمۡ فَذُوقُوا۟ مَا كُنتُمۡ تَكۡنِزُون َالقرآن"التوبة ۳۵
جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس دن ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغے جائیں گی اوران سے کہا جائے گا یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا، پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو.
مزید یہ کہ زکاۃ ادا نہ کرنے اور اس کی فرضیت کا انکار کرنے والوں کے لئےسب سے سنگین وعید یہ ہے کہ ایسے انسان کے اموال کو طوق کی شکل دی جائے گی اورپھر قیامت کے دن وہ طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا.چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ‘‘ آل عمران ۱۸۰
یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ نواز رکھا ہےوہ اس میں کنجوسی کو اپنے لئے بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے حددرجہ بدتر ہے، عنقریب قیامت کے دن جس میں کنجوسی سے کام لیا ہے اسکاطوق پہنائے جائیں گے.
زکاۃ تو ایک ایسا امر ہے جو اپنے تمام تر شرائط و ضوابط کے ساتھ سماج کا صاحب ثروت طبقہ ہی پر واجب ہے جس پر عمل کرنا ہر کس و ناکس پر ضروری نہیں.
لیکن جہاں شریعت نے بہت چیزوں کو فرض  واجب،  سنت کے درجہ میں رکھا ہے وہیں اس پر بھی امت مسلمہ کو برانگیختہ کیا اور ابھارا "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ" آل عمران ٩٢
تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو.
مفسرین نے لکھا ہیکہ اس آیت میں بھلائی سے مراد تقوی اور فرمانبرداری ہے اور خرچ کرنے کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ’’ یہاں خرچ کرنے میں واجب اور نفلی تمام صدقات داخل ہیں.
امام حسن بصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا: جو مال مسلمانوں کو محبوب ہو اسے رضائے الہی کے لیے خرچ کرنے والا اس آیت کی فضیلت میں داخل ہےخواہ وہ ایک کھجورہی ہو. تفسیرخازن
کیونکہ ہمارے اموال میں شریعت نے صرف زکاۃ واجبہ ہی نہیں بلکہ اور بھی حقوق وابستہ کیا ہے جسکو صدقہ یاخیرات کہا جاتاہے
چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے وأما السائل فلاتنهر ..سوالی دست سوال اسلئے دراز کیا ہیکہ ان کا بھی ہمارے اس اموال ـ چاہے ہم صاحب ثروت ہوں یا نہ ہوں ـ میں ان کا حق اللہ نے دے رکھا ہے اسلئے ہمیں سوچنا، سمجھنا،اورغور کرناچاہئیے کہ اگر کوئی بھی سائل حاجت مند آئے مانگے تو انکی حاجت روائی ہو ان کے قلوب کو اپنے مال سے ٹھنڈا کرنے کی سعی پہیم کریں کل جب  مالک ارض و سماء کے دربا میں پیشی ہو اور ہم سے کہا جائیگا
"یہ گھڑی محـشر کی ہے تو عرصۂ محشر میں ہے
پیش کا غافل عمل گر کوئی دفتر میں "
تو اگر کوئی ایسا عمل ہمارے کشکول گدائی میں ہوگا جو عنداللہ قابل عنایت و توجہ و مقبول ہو تو ان شاء اللہ ہماری کشتی گرداب سے محفوظ رہیگی .
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
اللہ ہمیں اور ہمارے معاشرے کے افراد کو دین کا ذوق ومذاق عنایت فرما تاکہ کار خیر و فلاح میں لذت و ذائقہ محسوس کریں اور اس کےثواب سے لطف اندوزہوسکیں.
      وماذلك على الله بعزیز..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
۳۰ اپریل ۲۰۲۰ ء

ہفتہ، 13 جون، 2020

سماج کا بڑا المیہ


 سماج کا بڑا المیہ
از قلم:  محمد طاسین ندوی 
اللہ تعالی کی بے شمار کھیتیاں ہیں ان میں بنی آدم باری تعالی کی سب سے افضل و اشرف کھیتی ہے، ہم حضرت انسان کی آسائش و آرام کے لئے ہر وہ چیز پیدا کیا جسکی ہمیں احتیاج ہوتی ہے ایک بہت ہی معمولی سے لیکر بہت غیر معمولی چیز کو وجود بخشا 
رہنے سہنےکا ڈھنگ بتایا چھوٹے پر شفقت کرنے کا اور بڑوں کی عزت ،پاس ولحاظ کا مکمل درس دیا معاشرہ و مجتمع میں کس طرح سے اپنے زندگی کی صبح و شام ہو، کونسی جگہیں بےخوف وخطر جائیں کن متعلقین رشتہ داران سے کس درجہ احتیاط سے ملاقات ،نششت و برخاست ہو کون ہمارے محرم اور کون نامحرم ہیں الغرض زندگی گزارنے کا مکمل دستور سے اللہ تعالی نے ہم امت محمدیہ کو سرفراز کیا.ایسا اس لئے کیا گیا کہ اللہ تعالی بڑا رحیم و کریم ہے اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے راہ راست پر رکھنا چاہتا ہے ایسی جنت جس کے بارے میں حدیث میں ہے"مالا عین رأت ولاأذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر " اس امت کے نام کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا سے تھک ہار کر ہماری مرضیات کو ترجیح دے کر جب ہماری بارگاہ قدم رکھے تو ساری دنیاوی کلفت و مصیبت سب کہ سب ایک ہی آن میں ختم ہوجائے . 
ان  بے شمار وان گنت نعمتوں کے بعد کیا ہم انعام دینے والے کے احکام ،گائیڈ لائن پر عمل پیرا ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ہر فرد و بشر، مجتمع و سماج،عالم و جاہل، سرمایہ دار و مفلوک الحال،کو دینا ہوگا اور حساب چکانا ہوگا تب ہی جاکر ہماری کشتی پار اتر سکتی ہے.
قارئین کرام ! اب ہم اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو یہ ہواس باختہ،بے رحم،بے حیا معاشرہ  نظر آتاہے،ہم احکام الہی کو یکسر بھلا کر اپنی دنیا سنوارنے اور دنیا کی رنگ ریلیاں میں مصروف ہیں جب کہ ہمیں دنیا کے مرغوبات سے روگردانی کرنے کو کہا گیا ہے اسی قدر اس عالم رنگ و بو سے فیضاب ہونے کی اجازت ہے جس سے ہمارے اندر ہر وہ چیزیں نہ جنم لے جو کفار کہ اندر ہیں لیکن ہم ہیں کہ سارے ضوابط و قوانین کو طاق نسیان پر رکھ کر دینا کے خون سے ہولی منا رہے ہیں اس کے رنگ میں اپنے کو رنگ لیاہے، اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ غیبت، چغل خوری،حسد،زناکاری،چوری جیسے مہلک مرضِ مُزْمِن و مُقْعِد میں مبتلا ہے، نوجوان چھپی آشنائی کرتے ہیں اور اسکی ویڈیو بناکر یوٹیوب اور سوشل ویب سائڈ پر اپلوڈ کرتے ہیں اور یہ بھی احساس نہیں کہ ہم نے تو نہایت ہی غلط اقدام کیا ہے نہیں بالکل نہیں اگر بات گاؤں اور محلوں کے چودھری، سرپنچ تک پہنچتی تو وہاں دوگروپ میں لوگ تقسیم ہوتے ہیں اور مجرم و مفسد جس کی سرزنش ضروری تھی وہ چند ہزار روپیے کے عوض اپنے کو جرم سے دھولیتا ہے اور پھر دندناتا چوکڑیاں بھرتا پھرتا ہے، اس عمل سے ماحول کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہوتی ہے غلطی کے عوض پیسے اور اس کے بعد جرم کا صفایا ،
اس عمل سے دوسرے نوجوان عبرت نہیں لیتے بلکہ ان نوجوانوں کی شیطانیت مزید آگے بڑھتی ہے کل جاکر کوئی دوسرا جوان اسی عمل کو دھرا تا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے نسب محفوظ نہیں، عـزت و ناموس سر عام رسوا ہوکر معاشرہ بگڑتا چلا جاتا ہے اور اسکا سد باب بمشکل تمام ہوپاتا ہے .
اے امت مسلمہ اب بھی ہم نہ جاگ سکے اور  ہمارا یہی حال رہا تو ابھی تو ہم کورونا سے پریشان ہیں کل چل کر نہ جانے اللہ تعالی کن آزمائش وامتحان میں ڈالے گا کیونکہ ہم نے دستورالہی اور تعلیمات نبوی کو حرف غلط کی طرح اپنے ذہن دماغ سے مٹانے کی کوشش کی ہے شادی کو مشکل ترین کردیا ہے زنا،سود خوری،حسد، چغل خوری، فریب، مکاری عام ہوگئی ہے ،آداب و پاس لحاظ کا جنازہ پڑھ دیا گیا ہے.
اللہ تعالی سے دعاء گو ہوں کہ اللہ ہمارے معاشرے کو کتاب و سنت والا معاشرہ بنا کر ہر آزمائش و امتحان سے محفوظ فرمادے اور ہمیں درست سوچ و سمجھ نصیب فرما. آمین 

اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب

  اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب از :محمد طاسین ندوی  ​دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری ...