منگل، 15 ستمبر، 2026

اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب


 اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب

از :محمد طاسین ندوی 
​دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری جاتی تھیں، پھر یہ سفر طے ہوتا ہوا کپڑوں اور کاغذوں تک پہنچا۔ آج ہم ایک ایسے دور میں قدم رکھ چکے ہیں جہاں ڈیجیٹلائزیشن نے دنیا کی کایا پلٹ دی ہے اور پرانی روایتیں قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ آج بچے، جوان اور بوڑھے سبھی ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی سے مستفید ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات سے بھی دوچار ہیں۔
​اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل رسا اور صلاحیتوں سے نوازا ہے، لیکن آج بڑے بڑے مسائل کا حل انسان اپنی عقل سے تلاش کرنے کے بجائے ایک "چٹکی" میں مصنوعی ذہانت (AI)کے ذریعے حاصل کر رہا ہے۔ اس کا استعمال اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مبصرین نے یہاں تک خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آنے والے چند سالوں میں یہ رجحان انسانوں کو فکری طور پر مفلوج اور بے بس کر دے گا، یہاں تک کہ انسان محض ایک اپاہج بن کر رہ جائے گا۔
​حالیہ دور میں دیکھا جا رہا ہے کہ ہمارے انشاء پرداز، کتاب و مقالہ نگار بھی اس کے اسیر ہوتے جا رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ قلم اٹھانے سے پہلے اے آئی سے مشورہ لینا لازم سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر یہی حال رہا تو ان کی اپنی خداداد صلاحیتیں اور تخلیقی جوہر دم توڑ دیں گے اور وہ اپنے ہی افکار و نظریات سے کوسوں دور ہو جائیں گے۔ اس کے پیچھے ایک گہری سازش یہ بھی لگتی ہے کہ انسانوں کو اس قدر غلام بنا لیا جائے کہ وہ دنیا پر قابض ایک مخصوص ٹولے کے محتاج بن کر رہ جائیں۔
​غضب تو یہ ہے کہ طالب علم بھی اب لغات اور قاموس سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں۔ استاد جب کوئی سوال یا عبارت حل کرنے کے لیے دیتے ہیں، تو طلبہ اپنی عقل کا استعمال کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی غلامی میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ اس روش کی وجہ سے تعلیمی میدان میں بیزاری بڑھ رہی ہے اور تخلیقی لیاقت کا معیار گرتا جا رہا ہے۔
میری پرخلوص گزارش ہے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی کے اسیر نہ بنیں، بلکہ اپنی خداداد عقل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے ہرگز دریغ نہ کریں۔ معاون آلے کے طور پر اس کا استعمال یقیناً درست ہے، لیکن اس پر مکمل انحصار کرنا خود کو ہلاکت کے منہ میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب

  اے آئی کی لت ایک خاموش عذاب از :محمد طاسین ندوی  ​دنیا نے رنگ و آہنگ کے کتنے ہی بدلتے روپ دیکھے ہیں۔ ایک وقت تھا جب تحریریں چمڑے پر اتاری ...