نام محمد وردِ زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے
از قــلم: محـــــمــد طاســــــین ندوی
دنیا کی تخلیق کے بعد اللہ عزوجل نے بے شمار مخلوقات کو برپا کیا متعدد ادوار گزرے ہر دور میں خاص گروہ و جماعت کے ایک خاص نبی و رسول محض اس لئے مبعوث فرمایا کہ وہ اپنی گروہ کو توحید الہی کی طرف بلائے اور اپنی شب و روز کو عطاکردہ اصول و ضوابط پر گامزن رکھے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے:
"وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ"النحل ۳۶
ہم نے ہر امت و گروہ میں اس پیغام کے ساتھ قاصد مبعوث کیا کہ اللہ عز وجل کی وحدانیت
کو گلے لگاؤ اس کی پرستش کرو اور شیطان سے بچو "
دوسری ارشاد باری تعالی ہے: :" وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ "ابراہیم ۴
اور ہم نے ہر قاصد کو اس کی قوم کی زبان میں پیغمبر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکے.
ان گذشتہ اقوام وادیان کے بعد سب سے اخیر میں اللہ عز وجل نے نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فر کر ارشادفرمایا"وماارسلنک الا رحمة للعالمين" ہم نے تو آپ کو دونوں جہاں کے لئے باعث رحمت بنایا آپ سے پچھلی امتوں نے جو کیاہمیں ان سب سے دست بردار ہوکر اقوال محمدی پر عمل پیرا ہونے کا بگل دیدیا گیا اور یہ بھی واضح کردیا گیا کہ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں نبوت کا دروازہ بالکلیہ مقفل کسی طرح کی کوئی کمی نہیں "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"مائدہ ۳
میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تمام کردیا اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا.
قارئین عظام! اب ہمارے کندھوں پر بحیثیت امت محمدیہ کے کیا ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں اس کا اندازہ ہمارے گفتار،نشست و برخاست، آپسی معاملات و تعامل سے واشگاف ہوگا کہ کیا ہم نے فرستادہ خدا کے عطا کردہ اصول و ضوابط پر رہ کر اپنی زندگی کی منزلیں طے کرنے میں کوشاں ہیں یا نام محمد ورد زباں ضرور ہے لیکن ہمارے سارے کام و کاج اصول پیغمری سے بیزار انکے بتائے ہوئے شب و روز سے یکسر نابلد ہیں دعوہ کرتے ہیں کہ ہم محمدی ہیں لیکن ان کے بتائے ہوئے راستوں سے کوسوں و میلوں دور ہیں اسی دوری اور عدم توجہی کیوجہ سے ہم مسلمانان آج دنیائے آب و گل میں رسوا و ذلیل اپناسا منھ لے کر دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ہمیں انتساب محمدی میں ذرا بھی دریغ نہیں .
چغلی، عیاری،مکاری،چالبازی، زناکاری،قمار بازی نوع بنوع کی کمی و کوتاہی سے ہماری زندگی اٹی ہوئی ہے اور ہم بے خوف و خطر دندنارہے ہیں جس طرح شیر جنگل میں دندناتاہے اور اسے اپنی عاقبت کی انجام بالکل نہیں ہوتی اور کیونکر ہو وہ تو اپنے کو جنگل کا راجہ باور کراتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ حکمرانی اس کی ہے ہوبہو یہی معاملہ ہم مدعیان اسلام کا ہے
کہ ہم نبوت و رسالت کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن دل و دماغ بالکل ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کسی شاعر نے ہماری اس حالت زار کی عکاسی کیاہےکہ
نامِ محمد ورد زباں ہے ناؤ مگر منجدھار میں ہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں