ہمیں کچھ خبر بھی ہے ؟
از قلم: محمد طاسین ندوی
اللہ رب العزت نے جہاں بہت سارے انبیاء ورسل بھیجے اور ان کے متبعین و مطیعین کو ان کا پیروکار بنایا اور دستور حیات سے نوازا عین اسی طرح جب جناب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمر کی چالیسویں بہار میں داخل ہوئے تو اللہ تبارک وتعالی نے نبوت کی دولت سے سرفراز فرمایا اور خاتم النبین جیسا عظیم الشان لقب سے ملقب فرماکر یہ باور کردیا کہ محمد مصطفی کے بعد اب کوئی نبی نہیں، باب نبوت بالکل مقفل جو خود بزبان محمد سے یہ کہلوایا کہ " *لانبی بعدي وانا خاتم النبیین* " انکو عطاکرہ شریعت پہلی ساری شریعتوں کو نسخ کرنے والی ٹھری بنا بریں ہمارے کاندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوئی کہ ھدایات و مناہج محمدی کو اپنی اس چندروزہ زندگی میں ملحوظ خاطر رکھ کر اپنی صبح و شام تمام کریں لیکن ان دنوں ربیع الاول ۱۴۴۴ ھجـ کے ایام میں ہم لوگ گزر رہے ہیں محبت رسول کے نام پر رقص و سرود اور ناچ گانے کی محفلیں ایسی سجا جارہی ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم مؤمن اور مسلم کے زمرے سے بالکل خارج ہیں. جن باتوں کا ہمیں احساس بھی نہیں ،کیا ہم مشرکین قدامی کے نقش پا پر اپنی زندگی تمام نہیں کررہے؟ اگر سینے میں زندہ دل ہوگا تو دل ضرور پکارکر اور چیخ کر یہ کہے گاکہ اے امت محمدیہ تم اپنے ھدف ومشن میں کہاں کامیاب ہو ؟ کیا تم اس لئے نہیں برپاکئے گئے تھے کہ دوبٹی کشتی کو کنارہ لگاؤ ؟ لیکن کیا ہمیں کچھ خبر بھی ہے؟
ہمارا منشود کیا ہے اور ہم کسی طرفہ و تماشہ اور خرافات کے طرف رواں دواں ہیں کیا رسول خدا محمد مصطفی نے نہیں فرمایا " *من أحدث في امرنا ماليس منه فهو رد* " جو کوئی بھی شریعت کے اصول و ضوابط کے علاوہ کچھ بھی انجام دے وہ شئی مردود ہے تو آجکل ہم اپنے محفلوں و مجالسوں پر طائرانہ نظر ڈالیں تو اس کا اندازہ ہو گا کہ اس دور پر آشوب میں مدعیان دین اسلام تو ہم ضرور ہیں لیکن قول و عمل میں یکسر تضاد ہے جس بنا پر ہمارے احوال وکوائف روز بروز بد سے بدتر ہوتے نظر آرہے ہیں اور پسپائی و ذلت ہمارا مقدر ہوتا نظر آرہا ہے.
*قارئین کرام!*
اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہوش کا ناخن لیں اور شریعت کی سنہری جالی کے اندر اپنے کو محض اس لئے قید کرلیں کے ہم اپنے ہدف میں کامیاب ہوسکیں جو مرضیات الہی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو ہم اپنی خیر منائیں اور دشمنان اسلام تو گھات میں ہے ہم مزید موقع فراہم کرنے والے ہونگے اور زمین میں فساد و بگاڑ کا ضامن بھی ہم ہی ہونگے اور ایسا کیونکر نہ ہو جبکہ امت وسط اور خیر امت جیسے القاب سے ہم کوسوں دور ہیں اور غیروں کے مشن کو فروغ دینے میں ہر طرح کا ہمارا تعاون پیش ہورہا ہے .
ہم ذرا غور کریں کہ اللہ نے ہمیں کتنا عظیم المرتبت دین کا علم بردار بنایا اور فرمایا: *إن الدين عند الله الإسلام* " اللہ کی ذات اقدس کو دین اسلام ہی محبوب ہے اس کے ماسواء سارے ادیان و ملل باطل و خارج ہیں اور ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ مرغوبات یونہی میرے ہاتھ آجائے نہ کوئی تگ ودو ہو اور نہ ہی کوئی محنت کار فرما ہو جبکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان جب مہیب و ہولناک راہ کو طے نہیں کرتا اس وقت تک مرغوبات و محبوبات سے لطف اندوز ہونا دشوار و مشکل ہے.
آئیے! اس ماہ بابرکات میں جس میں ہمارے آخری نبی کی ولادت باسعادت ہوئی عہد جدید کریں کے ہم ان کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے پابند ہو کر اعلاء کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کا ذریعہ ہوکر اپنا اور اپنے معاشرہ و سماج کے لئے باعث خیرو نجات بن سکیں .اللہ سے دعا ہیکہ اللہ ہمیں دین اسلام کی سر بلندی کا ذریعہ بنائے . *واللہ ولی التوفیق والھادی الی الصراط السوي*

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں