پیر، 3 اکتوبر، 2022

رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا



رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا          
از قلم:  محمد طاسین ندوی 
اللہ تعالی آدم و حوا کو وجود بخشا تاکہ انہیں خلیفۃ الارض بنا کر اپنی بندگی اور اپنی مرضیات پر چلنے کی مشق کروائے اور ان سے  نسل انسانی کی بقاء کو عبارت فرمایا.
ہر زمانے میں چاہے وہ ماقبل اسلام کا دور ہو یا مابعد اسلام نسل کو تحفظ فراہم کرنے اور انساب کی حفاظت کی غرض سے زواج و نکاح کا طریقہ احکم الحاکمین نے مقرر کیا تاکہ نسل انسانی کو بقاء اور تحفظ ملے تاکہ اس سے اسباق انسانیت عام ہو اورانسان  اوج کمال کو  پہنچے آئین قرانی و دستور حدیثی پر گامزن ہونے کی سعی پیہم اور جہد مسلسل کے طرف آمادہ و راغب ہو لیکن کیا ایسا ہے  جس ہدف منشود کے لئے ہمیں وجود بخشاگیا؟ 
اگر ہمیں بغیر کسی تکلف و ہچکچاہٹ کے یہ ضرور کہیں گے کہ ہماری ذات کمیوں سے پر ہے 
اس کو اپنے سے جدا کرنے کا کوئی حل تلاش بسیار کے بعد بھی میسر نہ آسکا کیوں کہ ہم نے فطرت ثانیہ بنالی کے ہمارا نفس ہی فیصل ہے جبکہ باری تعالی کا ارشاد عالی ہے  *"إن النفس لأمارة بالسوء إلا مارحم ربي* " نفس عيار  ہے مکاری، عیاری، برائی پر ہی آمادہ کرنے میں پیش پیش رہتا ہے مگر ایسے لوگوں کے نفس کے علاوہ جن پر مہربان الہی ہو ..اور ان کا نفس تابع فرمان ہوگیا ہو.
 *قارئین عظام* . آئیے ہم ایک جائزہ سرسری طور پر شروع کرتے ہیں اور طائرانہ نظر ڈالتے ہیں کہ کیا ہم جس کے ماتحت ہیں ہم انکی اطاعت کررہے ہیں یا ہمارا نفس حاکم ہے اور ہم محکوم جبکہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے " *اسمعوا وأطيعوا، وإن استُعمل عليكم عبد حبشي، كان رأسه زبيبة"* رواه البخارى
کیا ہمارا شیوہ یہ ہے؟ یا ہم باتوں باتوں پر اپنی زبان سے مردار کا مزہ لیتے ہیں اور اپنی نیکیاں کی زنبیل خالی کررہے ہیں اور علم بغاوت بلند کرنے ہر ممکن کوشش و تگ و دو کی فکر کچھ اس طرح اوڑھ لیتے ہیں کہ ہمیشہ  مضطرب و پریشان خاطر دلبرداشتہ ہوئے  جارہے ہیں اچھی باتیں نرم گفتگو بھی تیر تفنگ بھالا و برچھا سے زیادہ تکلیف کا باعث بنتی ہو اور ہماری عمر عزیز کا سورج رفتہ رفتہ مغرب کے سمت برق رفتاری سے رواں دواں ہے یہ جا وجا گھٹاٹوپ اندھیرا..
کیا یہی ہمارا طرۂ امتیاز ہے؟  یقینا نہیں تو ہمیں کسی بھی جگہ معاشرہ مدارس و مکاتب کے جو منظم اصول ہیں اس سے گریزاں و رو گرداں کیوں کیا خروج و عدول ہی ہمارا مقدر ہے کسی شاعر نے کیا دلپذیر انداز میں دلکشی کیا ہے.
 *اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا* 
 *رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت کرنا* 
آئیں مدعیاں اتحاد و اتفاق کے اصول پر گامزن رہنے والے اور قرآن و حدیث کو حرز جاں بنانے والے جیالے اس دن کی تیاری میں بھی اپنے کو مصروف عمل کریں جس دن نامہ اعمال اگر دائیں ہاتھ میں ہے تو آفتاب و ماہتاب سب اپنے اور اگر بائیں ہاتھ میں ہے نامۂ اعمال خورشید و قمر کی روشنی ٹمٹماتا چراغ 
ہماری یہ کوشش ہو کہ ہم جہاں بھی فروکش ہوں  قوانین و اصول آئین و ضوابط پر عمل کرنے والوں کے زمرے شامل رہیں  اور یہ خدائے وحدہ لاشریک کے لئے بالکل متعذر دشوار نہیں
صرف ہمارے نیات و عزائم درست ہوں کیونکہ فرمان محمدی صلی اللہ علیہ وسلم *انما الاعمال بالنیات* ...
اخیر میں دعاگوہوں کے اللہ جل جلالہ ہمیں قانون شکنی اور حکم عدولی سے محفوظ فرمائے اور مؤمنانہ صفات سے ہمیں لیس فرمادے .. *.واللہ علی کل شئی شھید*

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...