![]() |
| نیپالی جامع مسجد کاٹھمنڈو |
ملک نیپال اور ہندوستانی زرخرید میڈیا
تحریر: محمد طاسین ندوی
ملک نیپال جغرافی اعتبار سے ایسے محل وقوع پر ہے جس کے سہ جہات ہندوستانی جیسا عظیم ملک ہے جہاں آئے دن رنگ و نسل ذات و پات ،چھوت چھات ، مار کاٹ اور لنچنگ جیسے واقعات رونماہوتے رہتے ہیں، جو ہندوستانی میڈیا کا عمدہ اور بہتر خوراک ہے
ایسا اسلئے کہ میڈیا نے اپنا اصل ھدف سے کنارہ کشی اختیار کر پٹرول میں زہر ڈالنے کا کام بحسن خوبی انجام دے رہا یہ اس لئے کہ ہندوستان کی اکثر میڈیائی نظام BJP اور RSS اور وشو ہندوپریشد کا زر خرید غلام ہے وہ جو چاہے اس سے ہیڈ لائن تیار کروالے جہاں چاہے زہر افشانی کروالے -جبکہ یہ کام بالکل غیر مناسب اور غیر انسانی ہے - ابھی حالیہ دنوں میں اس زہریلے موالیوں کی ایک ٹولی جو وطن نیپال میں کسی طرح اپنے پاؤں پسارنے کی بھر پور کوشش میں کوشاں ہے ضلع مہوتری کے ایک گاؤں کی مسجد اور دیگر مسلمان ہم وطنوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے میں کامیاب اس طور پر رہا کہ کسی کے گھربار کو نقصان پہنچایا تو کسی کی گاڑیوں کو نذر آتش کرتے نظر آئے اور یہ سب کے سب ہندو سمراٹ نامی سنگٹھن کے جھنڈے تلے بل کھاتے اتراتے اکڑتے سنگ بازی کرتے نعرے دلخراش و جاں گسل لگاتے نظر آئے جس سے یہ اندازہ ہورہا تھا کہ وطن عزیر تو فقط ان مافیاؤں اور ماوالیوں کا ہے جبکہ اس وطن کے پوروج کے کہا تھا کہ ہمارا ملک نیپال ایک حسین وجمیل باغ کے مانند ہے جس میں انواع و اقسام اور نوع بنوع کے پھول کھلتے ہیں اورباغ وگارڈن کی رعنائی اور جمال تو اس کے اندر ہونے والے متعدد النوع گلاب و بیلا یاسمین و چمبیلی و نسترن کی وجہ سے ہی پائی جاتی ہے اس کی رعنائی اور دلکشی کو محفوظ رکھنے کی ہمہ جہت کوشش کریں
قارئیں کرام.
ہم مواطن باہمی ہم آہنگی اور بھائی چارگی کے ساتھ وطن عزیز میں اپنی زندگی کی صبح شام کررہے ہیں یہ باتیں کچھ شتر بے مہارسنگٹھن و میڈیا کو سوفیصد ناگوار گزرہی اور اسکی یہ پلید خواہش کہ جس طرح ہندوستان کو آپسی تنازع و اختلافات و انتشار کا اکھاڑا بنادیا ہے جہاں پر حق گوئی جرم عظیم کے مترادف ہے اسی طرح نیپال کے عوام کو آپس میں دست و گریبان کردیا جائے تاکہ اس ہوس پرست تنظیمات اور گودی اور خبیث ہندوستانی میڈیا اپنے ہوس پوری کرنے میِ کامیاب ہوسکے ممکن ہیکہ قارئین نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہندوسانی درشن tv کے اینکر نے کیا ہفوات اور بکواس کیا ہے مسلمانان نیپال کو ہائی لائٹ کرتے ہوئے الفاظ کے انتخاب میں ذرا میں دریغ نہیں کیا مسلمانوں اور مولاناؤں کے بارے میں کیا نہیں کہا بلکہ اس باطل پرست نے یہ بھی کہا کہ نیپالی مسلم آیوگ کے سربراہ نے تو ملک نیپال جو ایک ہندو ملک تھا اسے اسلامک اسٹیڈ بنانے کی بھر پور کوشش میں ہے. جبکہ ایسا کچھ نہیِں ہے معاملہ کو ختم کرے اور اس طرح کے واقعات نہ دوہرانے جانے کی اپیل کی گئی ہے ہندوستانی میڈیا اور ہندوستانی ہندوتوا کی یہ انتھک کوشش ہیکہ نیپال کو دوبارہ سے ایسے غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرے جس طرح جمہوریت پہلے کے ایام تھے
ہم مسلمانان نیپال پر ایسے پر آشوب کو پر فتن موقع سے جند ذمہ داریاں عائد ہورہی ہیں جو کو انجام دینا ہمارا فرض منصبی ہے
ایسے نفرتی اور ہفوات بکنے والے لوگوں کے باتوں کو ریورٹ کیا جائے تاکہ اس کی اکڑ ونفرت دفن ہو
ہم اس سے نپٹنے کے لئے ایسے لائحہ عمل تیار کریِں جو ہمارے لئے ممدو معاون ہو
ہمیں چاہئیے کہ ہم ایسے ہندوستانی ٹیلی ویزن کے خلاف ہندوستانی ایمبیسی کو گیاپن پتر دیں جو ہمارے وطن عزیز کے مان مریادہ کو داغدار کرنے کوشش میں ہے
ہندوسٹانی چیلنز کا بائیکاٹ کریں
اگر کہیں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوجائے sp dm اور جو بھی اسطرح کے رہنماہ و نمائندہ ہیں اس سے مل کر اظہار خیال کریں اور جبر و تشدد کے خلاف مضبوط آواز بلند کریں اور کٹھور سے کٹھور سزا کامطالبہ کریں کیوں کہ اس ملک نیپال ہم وطنوں کا حقوق یکساں ہیں ، اللہ سے دعا ہے کہ شرپسند عناصر کےشرور وفتن سے ملک نیپال کی حفاظت فرمائے ـ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں