ہفتہ، 30 مئی، 2020

مدارس اسلامیہ اورمالی بحران


   بسم اللہ الرحمن الرحیم
     مدارس اسلامیہ اور مالی بحران
از:  محمد طاسین ندوی 
ہم صاحب ایمان کو اس بات سے بخوبی واقف ہونا چاہئیے  کہ ہمارے درمیان مدارس اسلامیہ کا کیا مقام و مرتبہ کیا ہے یہی وہ  مدارس نہیں ہیں جو ہمارے وجود کی بنیاد ، اسلام کے پاور ہاؤس اورہمارے قیمتی اثاثے و شعائر ہیں جہاں سے علم کی بجلی پیدا ہوتی ہے جہاں سے ہم مسلمان اپنے دین پر گامزن رہنے کا صحیح سلیقہ و ڈھنگ سیکھتے ہیں  اگر یہ مدارس نہ ہوں تو ہمارے نونہالان نہ جانے کیا کچھ کربیٹھے کیوں؟ امور دینیہ نماز،  زکاۃ، روزہ، حج، نکاح و طلاق جنازہ  الغرض ہر وہ میدان جہاں ادنی یا اعلی دینی امر پیش آیا وہاں  اسلامی علوم کے علمبردار اور طالبان علوم بنوت کی تلاش کی ابتداء ہوتی ہے اگر کوئی اس معاشرہ اور سماج میں دینی علوم سے ہم آہنگ ہے تو بہتر ورنہ کہیں دوسرے علاقے سے انہیں لانے اور بلانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے غور کیجئے اگر مدارس کا فقدان ہو تو یہ علماء اور اسلامی اسکالرس کہاں سے آئیں گے کون ہوگا جوہمیں بھولا بسرا سبق کی یاددہانی کروائیگا ،صراط مستقیم پر چلنے  ہنر دیگا فسق و فجور اور لایعنی چیزوں سے اجتناب کرنے کی تلقین کریگا اور کون ہوگا جو ہمارے دینی اور ملی شعائر کی بدرجہ اتم حفاظت کریگا کیا یہی وہ مدارس نہیں جہاں کے فیضیافتہ انسانیت کو عموما اور امت محمدیہ کو خصوصا ان ہولناک اور پر خطر راہوں سے رخ موڑ کر ایک خوشگوار اورپر بہار زندگی کی نوید مسرت سناکر حیات ابدی کی فکر پیدا کردیتے ہیں .
قارئین محترم!  ہم بچشم خود ملاحظہ کررہے ہیں کہ عالمی منظر نامہ کیسا بدلتا ہوا نظر آرہا پے، ایسے پر فتن ، ناساز گار حالات و ماحول میں  عالمی آبادی کو مشاکل سے گھری ہے ہی اس کے ساتھ مدارس اسلامیہ بھی مالی بحران وزبوں حالی کا یکسر شکارہے اور ایسا ہو کیوں نہ کیونکہ اسکا بھروسہ اور تکیہ اللہ تعالی کے بعد مخیرین متبرعین  اور اصحاب الخیرات والصدقات پر ہوتا ہے.اور یہ روز روشن کیطرح عیاںو بیاں کہ مدارس کے خزانے خالی ہورہے ہیں ذمہ داران اور منسوبین سب کی زبان زد ہیکہ کے آنئدہ سال مدارس کا کیا ہوگا اور یہ بشری تقاضہ ہیکہ ایسے سوالات اور باتیں پیدا ہوں کیونکہ بظاہر سارے راستے مسدود نظرآرہے ہیں.اور جن پر تکیہ کئے بیٹھے تھے وہ ایام بھی ہاتھ سے نکلتے چلے جارہے ہیں  دنیاکے حالات نے ایسا یوٹرن لیا ہیکہ غریب تو غریب امیروں اور صاحب مال و زر کے بھی بھی ہوش اڑتے نظر آرہے ہیں لیکن کیا ہمارے دین کے قلعے یونہی واہی تباہ کا شکار ہوکر رہ جائیں گے یا اس چمن لالہ زار کی آبیاری کی فکرتمام امت محمدیہ کو ہوگی؟  یقینا جواب اثبات میں ہوگا کیونکہ ابھی اسلام کا رمق باقی ہے تو آئیے ملکر مدارس کو اس بھنور سے نکالنے کی فکر اوڑھیں اور کوئی ایسا لائحہ عمل لائیں جس سے مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے نادار، غریب، مفلس،یتم طالبان علوم نبوت کا کچھ بھلا ہوسکے جہاں ہم ہزار دوہزار سے تعاون کرتے حالات حاضرہ کے تناظر میں اس کم ہی سہی لیکن ضرور یاد رکھیں اور اپنا مال اور اپنی قربانی مدارس کو فروغ اور تحفظ فراہم کرنے
لگائیں کیونکہ فرمان باری تعالی  " ماعندكم ينفد وما عندالله باق" سورۃالنحل۹٦ 
يعنی جو مال و دولت ہمارے پاس ہے یقینا وہ ختم ہونے والا ہے جو اللہ کے کھاتہ میں جمع ہوگیا وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہے 
تو آئییے ہم عہــد کریں کے اپنے غریب و نادار اعزہ و اقارب اور ہمسایہ کا خیال کرتے ہوئے
مدارس کو بھی مالی بحران اور زبوں حالی سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیونکہ اگر پڑوس سماج اسلامی قلعے کی ہر طرح کی دیکھ ریکھ نہیں کریگا خیال نہ رکھے گا   تو دور دراز والے کتنا خیال رکھیں گے یہی ہماری نسل نو جو ہمارے قیمتی سرمایہ ہیں انکو بال وپر دینے پرواز کی تعلیم دینےوالے مدارس ہیں نہ کہ ان دور دراز کے مخیرین  متبرعین کے نونہالان کوجو شاید کبھی اگر توفیق الہی سے آجائیں اور مشاھدہ کرلیں 
اللہ تعالی ہمیں مدارس اسلامیہ جس کی ہمارا تشخص قائم ہے اسکا قدرداں بنائے اور اسکے لئے کار آمد بنائے.
إن الله لايضيع أجرالمحسنين

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...