ہفتہ، 30 مئی، 2020

چل رے خامہ بسم اللہ

 باسمہ تعالی
چل رے خامہ بسم اللہ
از: محمد طاسین ندوی 
اللہ رب العالمین نے دنیا کو وجود میں لانے کے بعد یونہی نہیں رکھا بلکہ اس دنیاوی دسترخوان کو انواع واقسام کے گل و لالہ سے مزین فرماکر بنی نوع انسان کو اس برپا کیا اور  کنتم خیر امۃ أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر کا درس دیا کہ اے آدم زادو تمہیں اللہ عز وجل نے زمین پر برپا فرماکر بلا کسی مسؤلیت و ذمہ داری کہ آزاد نہ چھوڑا بلکہ تمہارے کندھوں پر ایک بہت عظیم المرتبت اور مہتم بالشان کام کا بار گراں بھی رکھا وہ یہ تم ہی بہترین امت ہو اس عالم رنگا رنگ میں اللہ تمہیں اوروں کی فکر کے لئے بھی وجودمیں لایا تو انہیں بھلی باتوں  کا حکم دو اور  منکرات سے روکو 
اب ہمیں بحیثیت خیر امت کہ یہ جائزہ لینا ہیکہ آیا ہم اس فرمان باری تعالی پر کھرے اتر رہے ہیں یا ہم بھی اس بے حس و ناسمجھ و بعقل چوپایوں کہ فہرست میں اپنا شمار کروا رہے ہیں واقعی اس دور میں ہر بشر کو بس اپنی ہی فکر ہے اور اسی میں صبح و شام ہورہی عمر کا اکثر حصہ نکلا چلا جارہا ہے یہاں تک کہ ہم نے اپنے ہمسایہ جس کی فضیلت اور اہمیت سے  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ عظام کق روسناش کریا تو کئی صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہمہیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے میراث میں ان ہمسایوں کا نصیبہ نہ متعین فرمادے اور کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں گویا ہوئے کہ جب تم سالن پکاؤ تو اس میں پانی کا مقدار زیادہ کردو اور اپنے پڑسیوں کو ضرور بھیجو گرچہ پڑوس میں رہنے والے مسلمان کہ علاوہ ہی لوگ کیوں نہ ہو.
قارئین کرام. پڑھا آپ نے کہ ہمسایہ کے کیا فضائل و اہمیت ہیں لیکن افسوس اور صد افسوس کے ہم میں سے اکثر اگ تعلیم نبوی سے بالکل ہی روگرداں ہی‍ں بلکہ ہم نے تو اس کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اپنے ہمسایہ کو بات بات پردانستہ یا نادانستہ  انواع و اقسام
 کی اذیت و تکلیف دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے .
تو آئیے تعلیم نبوی کو سیکھیں سمجھیں اور اسکی یاد دہانی ہوکہ ہم اپنے ہمسایہ اور انسایت کی دل آزاری سے باز آنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور اگر کوئی صاحب ثروت ہوں اور اسکا کا پڑوسی  مسلم ہو یا کافر حاجت مند مفلوک الحال مفلس یا مسکین ہی کیوں نہ ہو اس کی دل آزاری سے حتی المقدور اجتناب کی سعی پیہم کریں تاکہ عنداللہ جب جب ہم سب اکٹھا ہونگے تو اپنا اپنا منھ چھپاتا نہ پھریں بلکہ بے ضرر بننے کی کوشش کریں اگر نفع نہ پہنچاسکتے ہوں تو انکو نقصان پہچانے کی بھی نہ سوچیں اگر کنجائش ہوتو انکا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں.
اللہ رب العالمین ہمیں بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق دے. آمین 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محمد طاسین ندوی 
۳ اپریل ۲۰۲۰ء 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...