مسلمانان نیپال اورانکی ذمہ داری
✍️محمد طاسين ندوي
ہم مسلمانان نیپال اگر اپنا جائزہ لیتے ہیں تو سوائے حسرت و ندامت کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا اور یہ کیوں نا ہو ؟ہم تومٹھی بھر مسلمان ہوکر بھی اپنی اپنی الگ پہچان بنانے اور سکہ جمانے کی تگ و دو اور فکر میں سرگردان، حیران و پریشان ہیں لیکن ان کوشش کے باوجود بھی ہماری کوئی پہچان نہیں تو ہم کیوں نہ ایک جوٹ ایک ساتھ اور ایک جان ہوکر اپنی پہچان بنانے کی فکر اوڑھیں تاکہ مختلف مزاج و دماغ کوئی عمدہ اور بہتر لائحہ عمل لاکر ہماری نسل نو کی آبیاری کریں اور اسکے مستقبل کی تابناکی میں چار چاند لگائیں جیل جدید اس طرف اپنے کان نگاہ لگائے انتطار میں ہے کہ کب آئے وہ دن کہ ہمارے علماء، مصلحین، قائدین،دانشوران ،تنظیمات و جمعیات ہمیں کہنہ مشق بنانے ہماری خوابیدہ صلاحتیوں کو مہمیز لگانے اور اس کو جلا بخش کر مسلمانان نیپال کو سربلندی عطا کرے ۔ ایسا ہونا ایک امر مسلم ہے ہر چھوٹا، طالبعلم، اپنے بڑوں اور استاذ کی راہ پر خود کو گامزن کرنے کی سعئ پہیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اگر اس کی اس مثبت فکر، تازگی، رعنائی، دلکشی میں یکسانیت ہوجاتی ہے تو افق عالم پر کمندیں ڈالتا ہے اور حوصلہ پاتا ہے جس میدان میں بھی اپنے کو اتارتا ہے اسے سیر کرکے ہی دم لیتا ہے. اس زبوں حالی و مسلمانان نیپال کی حالت زار میں ہمیں ضرورت ہے ایسے راہبر،رہنماء، پیش رو کی
جو ہماری نسل نو کے زخم کا مرہم کرنے والا ہو اور نمونہ و آئیڈیل ہو اسے مرجعیت حاصل ہو۔
جو ان چھوٹوں اورمسقبل کے معماروں کو نیپال کے حق اور ہمارے معاشرہ کے انسجام و اتحاد ملک نیپال ، نیپالی قوم و مسلمان کے لئے مؤثر بنائے، ضرورت اس بات کی ہیکہ ہمارے علماء دانشوران مسلمان طلبہ وطالبات کی رخ کو ملکی و سرکاری زبان و قواعد کی طرف موڑے اس کی ترغیب دے اور اس کی افادیت سے روشناس کرائے اور اس کے لئے اسکول، کالج، ڈگری کالج ،ایسے جامعات عمل میں لائے جائیں کہ ہمارے بچے دینی علوم میں مہارت کے ساتھ ساتھ ایڈوکیٹ ہوں ، پروفیسیر اورلکچرر ہوں نیپال کے آئین و قوانین کو پڑھ کر سمجھے، پرکھے، بولے، لکھے اور اپنے حقوق کا مطالبہ میں شرمندگی نہ محسوس کرے کیونکہ ان کے پاس بھی زبان وایجوکیشن ہے ۔
اگر ہم جائزہ لیں تو ہم سمیت اکثر علماء فضلاء نیپالی زبان سے کوسوں دور ہیں ، کسی آفس یا سرکاری دفاتر جائیں تو یہ فکر رہتی کہ کوئی آئے میری ترجمانی کردے اسلئے کہ ہم خود تو نابلد ہیں۔
ہم فکر کریں سوچیں ہم تو جیسے تیسے اپنی زندگی کے بھاگم بھاگ سے نکل گئے نکلنے کی کوشش ہورہی لیکن ہمارا کل کا معمار کو یہ دن نہ دیکھنا پڑے بلکہ وہ فراٹے سے اپنی باتیں نیپالی آئین و قوانین کے حدود میں رہ کر کر سکیں اور مسلمان جسے ابھی پسماندہ سمجھا جاتا ہے ایک باغیرت مہذب شہری کا لیبل لگے ۔ناخواندگی ،اجڈ پن دور ہو سنجیدگی، متانت، دانشمندی اس کی قدم بوسی کرے اور وہی لوگ جو انگشت نمائی کرنے والے تھے آج دادو تحسین اور خراج عقیدت پیش کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھے ۔
یہ ساری چیزن ممکن ہیں مگر ان کو حاصل کرنے کے لئے اپنی فکر کے اندر وسعت بحر عطاء کرنی ہوگی اور جو بہتر اور مناسب ہو اسے اخذ کرلو اور جو بے کار و نقصان دہ اس سے باز رہو کو حرز جان بنانی ہوگی پھر ملاحظہ کریں گے کہ ہمارا اقبال کا ستارہ کتنی بلندی پر پہنچ کر باتیں کرتا اور میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو لوہے کا چنا چبواتا ہے ان سب کو حاصل کرنے کے لئے ہم سب کی قربانیاں درکار ہیں جو بے سروسامنی کے عالم میں ہم سانس لے رہے ہیں اسی میں اس لائحہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے
ہمیں بحیثیت ایک نیپالی شہری ہونے کہ اپنی بقاء اور روشن مستقبل کے لئے قربانیاں پیش کرنی ہونگی پھر جاکہ میدان سر کرنے کے لائق ہونگے.
مت سہل ہمیں جانو پھرتا فلک برسوں،
تب خاک کے پردہ سے انسان نکلتا ہے۔
اللہ تعالی ہمیں بھی عمل کی توفیق دے.آمین یارب المستضعفین
ــــــــــــــــــــــــ
۱۰ مئی ۲۰۲۰ء

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں