اتوار، 9 اکتوبر، 2022

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو

 

 

 نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

ازقلم: محمد طاسین ندوی 

شعرو سخن بھی عجیب شئی ہے زیر نظر  مصرعہ شاعر مشرق  کی ایک ایسی نظم کا  ہے جسمیں شاعر اسلام نےہسپانیہ کی سرزمین اور  بالخصوص  قرطبہ میں سپرد کیا اور اس کی تاریخی حقائق اور پہلو کو خاطر خواہ اجاگر کرنے کی کوشش کیا ہے اور بہترین و عمدہ اصول کی یاد دہانی بھی کی ہے کہ ہم بندۂ مؤمن جب ایک دوسرے سے مخاطب ہوں تو ہمارا طرز گفت و شنید کیسا ہو ایا ہم بالکل عبوسا قمطریرا بن جائیں یا خوفناک و ہولناک نظر آنے لگیں یا ہمارے گفتار دلنیش، شیریں، دلپذیر اور سوز گذاز سے لبریز ہو تو علامہ اقبال نے اشارہ کیا کہ 

جب آپس میں کوئی ایسا امر رونماہوجائے جس سے بظاہر بات بگڑتی نظر آرہی ہو تو ہمارے چہروں کے ملاحت ختم نہ ہو بلکہ ہم مزید خوش اسلوبی اور خوش خوئی کا مظہر نظر آنے لگیں تاکہ سامنے کھڑا دندناتا ہوا فرد ہمارےاس معززانہ اسلوبِ گفتار اور دلنشیں انداز سے ہمارے دام محبت میں جاگرے اور ہمیں  انہیں  رام کرنے اور گرویدہ بنانے میں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے،  ایک مومن دوسرےمومن کے لہجہ مکالمہ سے ایسا گرویدہ ہوجائے کہ شفقت و محبت کی مثال بن کر عالم افق پر چمکے اور حق و سچ کی تلاش و جستجو میں نہایت ہی سر گرمی اور بہتر و ٹھوس اسلوب کا مظاہرہ کرے یہ صرف اپنوں تک محدود نہ رہے بلکہ اغیار سے بھی خندہ پیشانی سے ملیں پاک دلی اور پاک طینتی سے کام لیں چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ " لا تحقرنَّ من المعروف شيئًا، ولو أن تلقى أخاك بوجه طَلْق " معرف اشياء کو حقارت بھری نگاہ سے مت دیکھو اور اگر تم اپنے بھائی سے ملو تو خندہ پیشانی سے ملوجبین نیاز خم کردو . 

     شاعر مشرق نے ان باتوں کو اپنے اشعار میں نہایت ہی  دلپذیراسلوب میں بیان فرمایا؛

نرم دم گفتگو گرم دم جستجو 

رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک باز.

جب مسلمان اپنوں سےبات کرے یا غیروں سے محبت بھرے انداز میں گفتگو کرے، سننے والے کومحسوس ہوکہ ان کے منھ پھول جھڑرہے ہیں اللہ تعالی نے حضرت موسی و ہارون علیھماالسلام کو جب فرعون کےپاس بھیجا تو نرمی سے بات کرنے کاحکم دیاچنانچہ  ارشاد باری تعالی  ہے

"فَقُولا لَهُ قَوْلا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى" سورة طــه ۴۴

 "اے موسی و ہارون آپ دونوں فرعون کے پاس جاکر اس سےنرمی سےبات کریں ،شایدوہ نصیحت قبول کرے یاڈر جائے"

دوسرے مقام پر باری تعالی  اپنے بندوں کے بارے میں یوں  ارشادفرمایا   "

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلامًا" الفرقان ۶۳

 اوررحمن کے بندے وہ جو زمین پر آہستہ نرم اندز سے قدم رکھتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں  تووہ  سلامتی کی بات کرتے ہیں "  

آیت مذکورہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ بدکلامی اور سب و شتم  کاجواب برے الفاظ میں دینے کےبجائے شریفانہ اور سلیقہ مندی کے ساتھ جواب دیا جائے. 

اللہ سے دعا ہے ہمیں  نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو والی صفات سے متصف فرمادے جو عین دستور حیات کے مطابق ہے  ـ آمین یارب العالمین

1 تبصرہ:

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...