بدھ، 5 اکتوبر، 2022

ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟


محمــد طاســــين ندوي


ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟

از قلم:  محـــمد طاســین ندوی 

دین اسلام ایک مستحکم و مکمل دین ہے جس میں کوئی شئی حقیر نہیں ہر شئی کا مقام و مرتبہ اس کی افادیت و اہمیت کے تناظر میں  ملحوظ رکھا گیا ہے تن بدن کی صفائی سے لیکر سیم و زر کی پاکی و صفائی بھی اس میں شامل ہے جسے کبھی  زکاة توکبھ صدقات يا خيرات کے نام سے مسموم کیا جاتا رہا ہے کبھی زکاة وصدقات واجبی ہوتے ہیں تو کبھی نفلی و تطوعی صدقات و زکاة کی اہمیت وافاديت  کو نبی آخر الزماں نے جا بجا اس انداز میں اجاگر کیا ہے فرمایا: " صدقة السر تطفئ غضب الرب "

بالکل خاموشی اور بلااعلان صدقہ کرنا اللہ کے غیض وغضب کو ماند کرتا ہے، کہیں فرمایا: الصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار " صدقه و خيرات گناہ کو ایسے ہی ختم کردیتا جیساکہ آگ کو پانی ختم کردیتا ہے ،

اور کہیں فرمایا:" إذا اديت زكاة مالك فقد قضيت ما عليك " اگر تم نے اپنے مال كی  زکاة ادا کر دیا تو تم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگئے اور بھی اس طرح کی بہت سی احادیث ہیں جو ہم مسلمانان عالم سے یہ تقاضہ کرتی ہیں کہ ہم اپنے مال کو صاف شفاف کریں، اس کا میل کچیل بشکل صدقہ و زکاة اس طرح نکال باہر کریں اور اس طرحچمچماتا ہوا  بنادیں کہ سو فیصد حلال  ہوجائے  .

 قارئین کرام! ہم انسان دو صفتوں سے متصف ہیں، پہلی فرشتوں جیسے ستودہ صفات اور دوسری  جو بالکل پہلی کا عکس شیطانی صفات ہیں اگر ملکیت غالب ہوجائے تو نفس خیر، بھلائی،فلاحی، رفاہی  کاموں کی تلقین کرتا ہے اور اگر شیطنت غالب ہوتو ہم فرائض و ارکان ،وجوب سے بھی منھ موڑ لیتے ہیں اور یکسر اس امر کو بھولا دیتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ہمارے اوپر جو احسانات و انعامات فرمایا ہے انکے تقاضے کیا ہیں اتنا ہی نہیں ہم میں جو اثریا و اغنیاء طبقہ ہے وہ تو زکاة و خيرات کی اشیاء محصلین اور حاجت مندوں کو دیکر یہ زعم باطل میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہم نے سائل یا محصل پر احسان کیا.

اے امت مسلمہ کے غیور لوگوں اس بات کو یاد رکھئیے کہ جس اللہ تعالی نے آپ کو اس عظیم الشان و بیش بہا اشیاء سے سرفراز کیا ہے کیا بعید ہیکہ یک لخت بھسم کردے اور آپ بھی اسی زمرے میں آجائیں جو آپ کے سامنے دست سوال دراز کررہا ہے کل کو کس نے دیکھا ہے کہ کل ہماری استطاعت و پوزیشن کیسی اور کس حال میں ہوگی، مفلوک الحال ، بے بس ولاچار، مجبور و گداگر کچھ بھی ہوسکتے ہیں 

ابھی وقت ہے اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ اندوزی کا اپنی گردن کو بلند کروانے کا یہ دنیا توچند دن کی ہے اور

آخرت تو سرمدی اور ابدی ہے ـ حیات اخروی کوجلابخشیں اور بہترین 

عمدہ  سے  عمدہ بنانے اور سنوارنے کے لئے اس دار فانی میں کچھ خیر کا کام کرجائیں اور اس اعمال خیر صدقہ و زکاة کے مصرف کو ملحوظ خاطر رکھیں ایسا نہ ہو کہ جو مستحق ہو اس کو نہ مل سکے اور جو غیر مستحق ہو وہ زکاة وصدقات سے موج اڑاے اور ڈنڈ پیلے زکاة و صدقات  تقسیم کرنے والوں پر یہ ذمہ داریاں عائد ہوتیں ہیں

کہ اپنے مستحقین  اعزہ و اقارب کو ترجیح دیا جائے   اپنے صدقات یتیموں  ،بیواؤں اورحاجت مندوں تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے  دور حاضر میں خوب بحث تحقیق کے بعد ہی زکاة و صدقات كسی محصلین کے حوالے کئے جائیں

ایسا اس لئے کہ دھوکا فریب حرام و حلال پر عدم توجہی عام بیمار ہوتی نظر آرہی ہے ہمیں چاہئیے کہ ہم ذخیرۂ آخرت کے لئے نیک کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے والےبنیں تاکہ 

ہماری زنبیل گدائی نیکیوں سےلبریز ہوں اور فرشتے یہ سوال کرنے سے گریز کرے کہ کیا ساتھ لایا ہے 

شاعر نے اس کی کیا عمدہ تصویر کشی کی ہے 

 اس دنیاۓ فانی سے جو منہ موڑ گیا ہے

برسوں کے جو رشتے تھے سبھی توڑ گیا ہے

 ہے کھوج فرشتوں کو کہ کیا ساتھ ہے لایا؟ 

 اور فکر عزیزوں کو ہے کیا چھوڑ گیا ہے

اللہ سے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں اپنی مرضیات پر چلنے اور ہمیں صدقہ وخیرات کرنے کی توفیق بخشےتاکہ  اخروی زندگی میں ہماری کامیاب و کامرنی یقینی ہو سکے

 آمین یاربنا الرحمن المستعان

2 تبصرے:

اسمارٹ فون تعمیر یا تخریب؟

  اسمارٹ فون .تعمیر یا تخریب؟ از قلم: محمد طاسین ندوی   آج کے اس پرآشوب دور میں دنیا نے ایسی مادی ترقی کی ہے کہ اب اسی ترقی کو اچھے اور برے ...