یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ تجھے
ازقلم محمد طاسین
اس نیل گوں آسمان تلے جتنے بھی مخلوقات نظر آرہے ہیں ان سب کو فنا ہونا ہے اور ہمیشہ رہنے والی ذات اگر کوئی ہے تو اللہ جل جلالہ وعم نوالہ کی ہے کیونکہ ان کی ذات ابدی ہے لم یزل ولایزال حیی قیوم ہے کبھی ختم ہونے والی نہیں پورے کائنات کا نظام ان کے ہی زیر نگوں ہے موت و حیات کا مالک کل ہے جسے چاہتا ہے مارتا ہے اور جسے چاہتا جلاتا ہے لیل ونہارکی گردش ان کے ہی تابع فرمان ہے چنانچہ فرمان نبوی ہے "انا الدھر اقلب اللیل والنہار "کتنے رت بدلے ،آندھی اور طوفان آئے، دنیا تہ وبالا ہوئی بنی بگڑی متعدد و نوع بنوع کے مخلوقات خداوندی معرض وجود میں آئے ..اور چلے گئے کیونکہ کوچ کرنا یہ جزء لاینفک ہے دوام تو صرف اور صرف ذات وحدہ لاشریک لہ کی ذات کو ہے موت و حیات اسی کے حکم پر مأمور ہے
قارئین کرام! مورخہ ۳ شوال المکرم ۱۴۴۲ھـ بروز اتوار بوقت مغرب ایک روح فرسا خبر میرے کانوں تک پہنچی کہ استاذ گرامئ قدر جناب مولانا صدرالعالم ندوی صاحب- جو عرصۂ دراز سے بستر مرگ پر تھے اعضاء و جوارح ازکاررفتہ ہوچکے تھے -اس دار فانی سے کوچ کر گئے اوراپنے خالق حقیقی کے آغوش میں چلے گئے خبر سن کر دکھ ہوا جو انسانی صفت ہے لیکن دوسری طرف زبان سے یہ نکلا کہ اللہ نے اپنے پاس بلا لیا بہت بہتر ہوا کیونکہ مولانا علیہ الرحمہ بڑے دنوں سے صبرو ضبط ایوبی کے ساتھ بیماری برداشت کئے جارہے تھے اور ان کی شریک حیات بحسن و خوبی انکی ساری خدمات انجام دے رہی تھی لیکن دھیرے دھیرےان کے لئے بھی مولانا کی خدمت قدرت سے باہر ہوتی نظر آرہی تھی کیونکہ وہ بھی کمزور اعصاب رکھتی ہے. مولانا علیہ الرحمۃسے مجھے کئی سالوں تک کسب فیض کا موقع ملا ہدایة النحو، كليه دمنة او ر معلم الإنشاء کے اسباق مجھے مولانا سے پڑھنے کاشرف حاصل رہا نماذج من حیاة الصحابه کے بھی چند اسباق انکی رہنمائی میں مطالعہ کیا مولانا نہایت رقیق القلب تھے جب بھی کسی انبیاء، صحابہ،تابعین،صلحاء غرض یہ کہ اسلاف میں سے جنکا ذکر آتا ان کے مصائب و آلام کاتذکرہ ہوتا تو ان کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں اور روتے روتے کبھی ہچکیاں بندھ جاتی اور کبھی حالت دیگرگوں ہوجاتی بہت ہی مشکل سے اپنے کو قابو کرپاتے اللہ تعالی نے اتنا نرم دل اور نرم خو بنایا تھا لیکن اسوقت ہمارا لڑکپن یہ کہ ہم اس ولی اللہ کے دوررسی اور فراست سے نابلد ہونے کی وجہ سے قدر جس طرح ہونی تھی نہ کر سکے مولانا محترم نہایت ہے نیک دل خلیق ، ملنسار ، مہمانواز اور متحرک و فعال استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مربی طلبہ سے حد درجہ محبت کرنے والا اخلاق عالیہ، مستحکم اصول ،بلند عزائم و حوصلہ کے مالک تھے اللہ تعالی نے مولانا کو انہیں چنیدہ صفات و خوبیوں کی بنیاد پر دارالعلوم نورالاسلام کے ذمہ داران نے اہتمام کی کرسی بھی سونپی تھی ماشاء اللہ انکی مدت کارکردگی بہت عمدہ اور مثالی ثابت ہوئی.
مولانا علیہ الرحمہ بے پناہ خوبیوں کے مالک تھے
"یاد کرکہ روئیں گے یاران میخانہ تجھے"
یہ چند غیر مرتب سطور راقم نے آپ کے سامنے سپرد کیا انکی زندگی کے بہت سارے پہلو باقی ہیں راقم جتنا بھی سپرد قرطاس کرے ان کا حق ادا کرنہیں سکتا
اللہ تعالی سے دعاگو ہوں کے یا اللہ بشری خطاؤں کو درگزر فرماکر انبیاء، شھداء، صالحین کے زمرے میں شامل فرمادے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام دے آمین یارب العالمین

اللہ تعالی مرحوم کو غریق رحمت کرے.
جواب دیںحذف کریں